New Age Islam
Fri May 01 2026, 11:12 PM

Urdu Section ( 5 May 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Ulema Refuse To Let Women Exercise Their Rights in Matrimony and Divorce قرآن اور احادیث کے برعکس علمائے کرام نے عورتوں کو نکاح اور طلاق کے معاملے میں ان کے حقوق سے محروم رکھا ہے

 ضیاء السلام

 29 نومبر 2022

 قرآن اور احادیث میں اس کے برعکس موجود ہو سکتا ہے، لیکن علمائے کرام نے عورتوں کو نکاح اور طلاق کے معاملے میں ان کے حقوق سے محروم رکھا ہے

  -----

 مسلم علما کا ایک مضبوط طبقہ ایک بار پھر خلع کے بارے میں اپنے مضبوط اور یک طرفہ بیانات کے ساتھ قوم کو موت کے دہانے کی طرف لے جا رہا ہے، جو کہ ایک مسلم عورت کا طلاق کا ناقابل انکار حق ہے۔ ایک ایسے اقدام میں جو پدرسرانہ نظام کی طرف اشارہ کرتا ہے، علمائے کرام یہ محسوس کرتے ہیں کہ ایک مسلمان عورت، ایک بار جب وہ کسی مرد کے ساتھ نکاح کر لیتی ہے، تو اس کے پاس اس عقد کو تحلیل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے جب تک کہ مرد اسے طلاق نہ دے دے یا خلع کے لیے اس کی تجویز پر راضی نہ ہو جائے۔ تیسرا طریقہ فسخ یا عدالتی طلاق ہے۔ یہاں تک کہ اگر مرد جبر کرے، جہیز کے لیے اس پر تشدد کرے، اور اسے اس کے والدین سے ملنے یا اس کے پیشہ ورانہ خوابوں کو پورا کرنے سے روکے، تب بھی وہ شادی ختم نہیں کر سکتی جب تک کہ شوہر خلع کی رضامندی نہ دے دے۔

 اسلام پر مردوں کی اجارہ داری

 خواتین کے حق کے بارے میں علمائے کرام کی تشریح قابل اعتراض ہے، اور اشتعال انگیز بھی ہے، جیسا کہ طلاق ثلاثہ کے معاملے میں تھا، اس سے پہلے کہ سپریم کورٹ خلیفہ حضرت عمر کے فیصلے پر قرآن کی بالادستی کو بحال کرنے کے لیے قدم اٹھایا۔ طلاق کے معاملے میں بھی علماء نے ایک ہی بار میں تین طلاق کے ذریعے عقد نکاح ختم کرنے کے مردوں کے حق پر اصرار کیا تھا۔ اس سے بہت سے ہندوستانی مولویوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ درجنوں مسلم ممالک نے طلاق کے اس طریقے کو مسترد کر دیا ہے۔ اور یہ کہ قرآن جو کہ سورۃ البقرہ اور سورۃ الطلاق کی منتخب آیات کے ذریعے طلاق کے اختیارات اور طریقہ کار کی وضاحت کرتا ہے، اس میں کہیں بھی فوری تین طلاق کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اور اسے تفسیر مان کر ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔ 2017 میں فوری طور پر تین طلاق کو کالعدم قرار دینے کو عدالت پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ ججوں نے قرآن کی آیات اور علمائے اسلام کا حوالہ دیا تاکہ وہ اپنی بات کو مضبوط کرسکیں۔ علمائے کرام نے کچھ مزاحمت کی، لیکن بالآخر اسے تسلیم کر لیا۔

 عدلیہ کو ایک بار پھر علمائے کرام کی توجہ قرآن و حدیث کی طرف مبذول کرانی پڑسکتی ہے کیونکہ عقلمند علماء خلع کو لے کر مذہب پر اپنی گرفت کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔ اسلام کو عملی طور پر مردوں کی اجارہ داری میں بدلتے ہوئے، جہاں خواتین کے ہر عمل، حق اور استحقاق کو علمائے کرام کے ذریعے دبایا جاتا ہے اور اس کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) نے حال ہی میں خلع پر کیرلا ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔نظرثانی کی درخواست پر، عدالت نے کہا، "کسی بھی میکانزم کی غیر موجودگی میں... بیوی کے مطالبے پر عقد نکاح کی تحلیل پر جب شوہر رضامندی دینے سے انکار کرتا ہے، تو عدالت کے پاس یہ کہنے کے علاؤہ اور کوئی راستہ نہیں بچتا کہ خلع شوہر کی رضا مندی کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔ ... یہ ایک عام جائزہ ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ مسلم خواتین اپنے مرد شوہروں کی مرضی کے تابع ہیں... [یہ] ایک معمول معلوم ہوتا ہے ... علماء اور قوم مسلم میں پدر سرانہ نظام کے حامی یکطرفہ طور پر خلع کے مسلم خواتین کے حق کو ہضم کرنے سے قاصر ہیں... ۔ یہ فیصلہ ایک مقالے کی یاد دلاتا ہے، 'Extra-Judicial Khul Divorce in India’s Muslim Personal Law'، جس میں سلویا وٹوک نے لکھا تھا، "1917 کا خاندانی حقوق کا عثمانی قانون پہلا تھا جس نے خواتین کو مخصوص حالات میں عدالت کے ذریعے طلاق حاصل کرنے کے قابل بنایا۔ اس کے بعد سے، زیادہ تر ممالک جو حنفی فقہ کو مانتے ہیں... انہوں نے ان دفعات میں ڈھیل دی، ان میں ترمیم کیا یا انہیں ختم کر دیا ہے جن کے تحت بیوی کو طلاق دینے کے لیے اپنے شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے۔ ہندوستان نے یہ کام 1939 میں مسلم میرج ایکٹ کی تحلیل کے ساتھ کیا تھا جس کے تحت ایک مسلم عورت کو عدالت میں اپنے ناپسندیدہ یا غیر دستیاب شوہر کو طلاق دینے کی اجازت ملتی ہے۔

 اے آئی ایم پی ایل بی کے لیے، کیرلا ہائی کورٹ کا فیصلہ عدالت کے محض مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ 1937 کا ترجمان ہونے کے کردار سے تجاوز کے مترادف ہے۔ اے آئی ایم پی ایل بی نے کہا کہ، مرد اپنی بیوی کی طرف سے پیش کردہ خلع کی تجویز کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کا حق رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ایک عورت اس عقد نکاح کو فسخ نہیں کر سکتی جس سے وہ ناخوش یا اس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے، جب تک کہ مرد اسے جانے نہ دے۔

 اس استدلال میں ہندوستان کی زمینی حقیقت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ یہاں، زیادہ تر خلع کے معاملات اس وقت پیش آتے ہیں جب عورت کو یا تو اپنا ازدواجی گھر چھوڑنے کے لیے کہا جاتا ہے یا وہ اپنے مائیکے چلی جاتی ہے تاکہ اس ہراسانی سے بچ سکے جس کا سامنا اسے ایک اجنبی شریک حیات کے ساتھ رہنے کے بعد ہوتا ہے۔ دونوں صورتوں میں، مرد کو خلع پر رضامندی دینے کے لیے کچھ رقم دی جاتی ملتی ہے، کیونکہ وہ آسانی سے دوسری عورت سے شادی کر سکتا ہے۔ اگر خلع کے ذریعے رہائی سے محروم کر دی جائے تو ایسی خواتین کو چھوڑ دیا جا سکتا ہے۔

 طلاق کا واضح طریقہ کار

 ناخوشگوار یا پرتشدد شادیوں کو ختم کرنے کے لیے قرآن واضح طور پر طلاق کے طریقہ کار کا خاکہ پیش کرتا ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ سورہ البقرہ کی آیت نمبر 229 کے ذریعے قرآن عورت کو یہ حق دیتا ہے کہ اگر وہ اپنی آزادی کے بدلے کچھ دیتی ہے تو وہ شادی ختم کر سکتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، اسے خلع کے ذریعے طلاق حاصل کرنے کے لیے اپنے مہر سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں، ایک عورت، جمیلہ کا ایک مستند معاملہ ہے، جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت بن قیس کے ساتھ اپنا نکاح ختم کرنے کے لیے محض اس لیے مشورہ طلب کیا کہ وہ ان کی شکل کو پسند نہیں کرتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے کہا کہ بدلے میں اس آدمی کو کچھ دو۔ اس نے اپنا باغ سپرد کر دیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے رضامندی کے لیے کہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اجازت نہیں لی اور نہ ہی نہ کہنے کا اختیار دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ طلاق کے معاملے میں پہلے اور دوسرے طلاق کے بعد میاں بیوی کو ایک ساتھ رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ صلح کا موقع مل سکے، عورت کو خلع کی صورت میں فوراً شوہر کا گھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہ اس شخص کے کسی بھی حملے سے بچنے کے لیے کیا جاتا ہے جو اب اس کا شریک حیات نہیں ہے۔

 آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے علاوہ، عمارت شرعیہ کے علماء بھی خلع پر مرد کے اختیار کے نظریہ کو بیان کرتے ہیں۔ یہ مردانہ برتری پر اصرار ہے جس کی وجہ سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی بہت سی خواتین ممبران کو اس کے پورٹلز سے الگ کر دیا گیا ہے، اور قوم مسلم کی دیگر خواتین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ کتاب مقدس اور احادیث میں اس کے برعکس موجود ہو سکتا ہے، لیکن علمائے کرام عورتوں کو ازدواجی اور طلاق میں ان کے حقوق استعمال کرنے کی اجازت ابھی تو نہیں دینے والے۔ خلع نے مسلم علماء کو ایک گرہ میں باندھ دیا ہے۔

 ماخذ:Khula Ties The Muslim Clerics In Knots

English Article: Quran and the Hadiths Might Offer Evidence To The Contrary, but the Ulema Refuse To Let Women Exercise Their Rights in Matrimony and Divorce

 URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/quran-hadiths-ulema-women-matrimony-divorce/d/129708

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..