New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 08:27 AM

Urdu Section ( 8 Feb 2015, NewAgeIslam.Com)

Qur'anic teachings -4: Veil and Privacy تعلیمات قرآنی (4) پردہ اور رازداری

 

ضیاء الرحمن، نیو ایج اسلام

9 فروری، 2015

قرآن میں جن امور پر بہت زور دیا گیاہے ان میں پردہ بھی ایک ہے۔ قرآن میں اس موضوع سے متعلق کئی آیتیں ہیں جن سے اسلام میں پردہ ، حیا اور رازداری کا تصور واضح ہوتاہے۔بہرحال، پردہ سے متعلق آیتوں کی مختلف اور متضاد تشریحات پیش کی گئی ہیں جس کی وجہ سے پردہ اسلام میں ایک متنازع موضوع بن گیاہے۔ علما کا ایک طبقہ اس رائے کا حامی ہے کہ پردہ اسلام میں آفاقی ہے اور لڑکیوں، کم عمر بچیوں، شادی شدہ ، عمر دراز بیوہ اور طلاق شدہ اور عمر رسیدہ غیر شادی شدہ عورتوں کے لئے یکساں طور پر لازمی ہے۔ایک طبقہ تو عورتوں کے لئے آواز کا پردہ بھی لازمی قرار دیتاہے

بے شک قرآن حیا داری کی تلقین کرتاہے لیکن یہ تلقین صرف عورتوں کے لئے نہیں ہے بلکہ مردوں کے لئے بھی ہے۔ سورہ نور میں خدا فرماتاہے:

’’مومن مردوں سے کہہ دو کو وہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے۔ اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان سے خبردار ہے۔ ‘‘ (نور : 30)

مسلمان مردوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کی ہدایت دینے کے بعد قرآن اگلی ہی آیت میں عورتو ں سے مخاطب ہوتاہے اور انہیں بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کی تلقین کرتاہے۔

’’ اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔اور اپنی آرائش کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتاہو۔اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر،اور بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں ، اور بھائیوں ،ا ور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوااور ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں اور ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر پنی زینت اور (سنگار کے مقامات ) کو ظاہر نہ ہونے دیں اور اپنے پاؤں زمین پر نہ ماریں کہ ان کاپوشیدہ زیور معلوم ہوجائے ‘‘ (نور: 31)

قرآن عورتوں سے کہتاہے کہ انہیں محرم مردوں کو چھوڑ کر غیر مردوں کے سامنے نہیں آنا چاہئے اور انہیں اپنا سنگار نہیں دکھانا چاہئے مگر وہ انہیں یہ رعایت بھی دیتاہے کہ وہ اپنے طابع مردوں سے یا مرد نوکروں سے جن کو ان میں کوئی جسمانی دلچسپی نہ ہو ضروری معاملات میں روبرو ہو سکتی ہیں ۔اس طرح قرآن عورتوں کو یہ اجازت دیتاہے کہ وہ زندگی کے وسیع تر معاملات اور انتظامی امور میں جہاں ان کے ماتحت مرد کام کرتے ہوںیا تجارت کی غرض سے ان سے رابطے میں آتے ہوں ان سے روبروہوسکتی ہیں جہاں دونوں کے درمیان کوئی جذباتی تعلق یا نفسانی خواہش کا دخل نہ ہو۔قرآن اہل بیت کے سواعام مسلم عورتوں کو چار دیواری میں محدود ہونے کا حکم نہیں دیتا۔

ایک دوسری آیت میں قرآن عمر رسیدہ غیر شادی شدہ عورتوں کو بھی پردہ کے معاملے میں رعایت دیتاہے۔ قرآن کہتاہے

’’ اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی اور وہ کپڑے اتارکر سر ننگا کرلیاکریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں ۔بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ ‘‘ (النور:60)

لہٰذا، غیر شادی شدہ عمر رسیدہ عورتوں کو بھی قرآن یہ رعایت دیتاہے کہ وہ چاہیں تو بے نقاب رہ سکتی ہیں حالانکہ قرآن یہ بھی کہتاہے کہ اگروہ شرم و حیا کا پاس رکھیں تو وہ بہتر ہے۔ یعنی اگر وہ پردہ کریں تو بہتر ہے مگر انہیں یہ آزادی بھی ہے کہ وہ تھوڑی بے نیازی برت سکتی ہیں۔لیکن قرآن ایسی عمر رسیدہ عورتوں پر پردہ نہیں تھوپتا۔اس آیت کی رو سے عمر رسیدہ بیواؤوں اور طلاق شدہ عورتوں کو بھی پردہ سے استثناء حاصل ہوجاتاہے۔

قرآن کی ایک آیت میں مسلم عورتوں سے کہا گیاہے کہ جب وہ باہر نکلیں تو اپنے آنچل کو تھوڑا نیچے کھیچ لیں تاکہ وہ پہچانی جائیں اور لوگوں کی فقرے بازی اور ہراسانی سے محفوظ رہیں۔

’’ اے پیغمبر اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر چادر لٹکالیا کریں۔ یہ امر ان کے لئے موجب شناخت ہوگا اور کوئی ان کو ایذا نہ دیگا ‘‘ (الاحزاب :59)

اس آیت کا ایک سماجی اور تاریخی پس منظرہے۔اس آیت میں عورتوں سے کہا گیاہے کہ وہ اپنے آنچل کو تھوڑا سا نیچے کھینچ لیں تاکہ وہ پہچانی جائیں اور ہراسانی سے محفوظ رہیں۔ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایک عورت جس نے اپنے چہرے پر آنچل ڈال لیا ہو وہ پہچانی جائے ؟ صرف وہی عورت پہچانی جا سکتی ہے جس نے اپنا چہرہ آنچل سے ڈھانپا نہ ہو اور چہرہ کھلا رکھا ہو۔تو پھر قرآن کے اس جملے کا کیا مطلب ہے؟

دراصل ، دور جاہلیہ میں بد کردار اور فاحشہ عورتیں شام کو عموماً شکار کی تلاش میں کھلے سر اور بناؤسنگار کے ساتھ نکلتی تھیں ۔ اور عیاش مرد ایسی ہی عورتوں کے انتظار میں راستوں میں منتظر رہتے تھے اور جب ایسی کسی عورت پر ان کی نگاہ پڑتی تھی تو وہ ان پر آوازے کستے اور انہیں اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے اور کبھی کبھی زور زبردستی بھی کرتے تھے۔ لہٰذا، قرآن نے مسلم عورتوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے چہروں کو آنچل سے ڈھانپ لیں اوراپنا سنگار غیر مردوں پر ظاہر نہ کریں غیر مردوں کو متوجہ کرنے کے لئے اپنے پیر غیر ضروری طور پر زمین پر نہ پٹکا کریں تاکہ وہ بری عورتوں سے ممیز کی جاسکیں اور لوگ سمجھ لیں کہ وہ اچھے گھرانوں کی نیک عورتیں ہیں۔قرآن کی یہ آیت اسی پس منظر میں ہے۔

زمانہ جاہلیت میں لوگ دوسروں کی رازداری کا احترام نہیں کرتے تھے ۔ اسلام نے اس سلسلے میں واضح احکام پیش کئے۔ لوگوں کو ایک دوسرے کی نجی زندگی کی رازداری کا حق دیا۔ اس نے گھر کے اندر اور باہر فرد کی رازداری کی حفاظت کی ضمانت دی ۔چنانچہ قرآن کہتاہے:

’’ مومنو تمہارے غلام لونڈیاں اورجو ‘بچے ابھی بلوغ کی عمر کو نہیں پہنچے تین اوقا ت میں تم سے اجازت لیا کریں۔نماز صبح سے پہلے ، (دوسرے دوپہر کو ) جب تم کپڑے اتاردیتے ہو اورتیسرے عشاء کی نماز کے بعد۔تین وقت تمہارے پردے کے ہیں۔ان کے پیچھے نہ تم پر گناہ ہے اور نہ ان پر، کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو۔‘(النور :58)

دوسرے لفظوں میں نابالغ افراد اور گھر کے نوکر تین اوقات میں گھر کے بالغ افراد کی اجازت لیں جب وہ کمرے میں آرام کر رہے ہوں ۔ اور جب نابالغ بھی بالغ ہوجائیں تو دوسروں کو بھی چاہئے کہ ان کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ان کی اجازت لیں۔

’’اور جب تمہارے لڑکے بھی بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے لوگ) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔‘‘(النور: 59)

قرآن مومنوں کو یہ بھی ہدایت کرتاہے کہ وہ دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے اہل خانہ کی اجازت لیں اور داخل ہونے پر انہیں سلام کریں۔

’’مومنو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں گھر والوں سے اجازت لیے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو۔‘‘(النور: 27)

اس طرح ، قرآن واضح طور پر پردے اور رازداری کے متعلق احکام پیش کئے ہیں۔اسلام مسلم عورتوں کو گھروں میں قید نہیں کرتا بلکہ انہیں اجازت دیتاہے کہ وہ زندگی کی ضروریات کی تکمیل کے لئے مناسب لباس میں شرم وحیا کا پاس کرتے ہوئے اپنی نگاہوں کو نیچی رکھتے ہوئے باہر نکل سکتی ہیں تاکہ برے لوگ ان پر فقرے نہ کسیں اور ہراساں نہ کریں۔قرآن عورتوں کی مخصوص جماعت کو عمر اور حالات کی بنیا دپر پردے کے معاملے میں رعایت بھی دیتاہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی تلقین کرتاہے کہ اگروہ پردہ کریں تو زیادہ بہترہے۔لیکن ان آیتوں سے یہ بات بالکل صاف ہے کہ قرآن تمام عورتوں پر بلا لحاظ عمر اور حالات پردہ لازم نہیں کرتا جیسا کہ دانشوروں کا ایک طبقہ اصرارکرتاہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/ziaur-rehman,-new-age-islam/qur’anic-teachings-–-4---veil-and-privacy/d/101370

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/ziaur-rahman,-new-age-islam/qur-anic-teachings--4--veil-and-privacy--تعلیمات-قرآنی-(4)-پردہ-اور-رازداری/d/101422

 

Loading..

Loading..