New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 02:39 AM

Urdu Section ( 17 Sept 2013, NewAgeIslam.Com)

Criticising Islam is Islamic اسلام پر تنقید اسلامی ہے

 

 زین ازلی  

15 اگست، 2013

مجھے  دھمکیاں  دی گئی اور مجھے میرے پیچھے  دیکھنے کے لئے خبردار کیا گیا اس لئے کہ  میں نے اسلام کے متعلق چند مسائل کے بارے میں  استفسار کرنے کی  ہمت کی تھی  ۔ اور اندازہ لگائیں کہ کون لوگ  مجھے دھمکی دے رہے ہیں ؟ یقیناً میرے ساتھی مسلمان!

ظاہر ہے، صرف انہیں لوگوں کو مذہب کے معاملے میں گہرائی کے ساتھ تحقیق و تفتیش کرنے کی اجازت ہے جن کے پاس بے بناہ  مذہبی علم اور قابلیت ہے  اور باقی ہم سب کو  بس چپ رہنا  اور سننا چاہئے۔

مجھے لگتاہے کہ مجھے ان لوگوں کو نہیں سننا  چاہئے اس لئے مجھے اس بات کا پختہ یقین ہے کہ وہ غلط ہیں ۔ دراصل اسلام بہت ہی اچھا مذہب ہے، اور مجھے یہ یقین نہیں ہوتا کہ  یہ ایسی کسی چیز کی تبلیغ کرے  گا۔

سورہ لقمان میں اس بات کا ذکر ہے کہ  قرآن اور اسلام سب کے لئے ہیں:

"الٓم، یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں،نیکوکاروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے،جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰة دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں "(4-1 :31)۔

اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر قرآن کا پہلا لفظ جو نازل کیا  گیا تھا وہ ' اقراء ' تھا  جس کا مطلب ہے ‘پڑھو’۔ سورہ العلق میں اس طرح ذکر ہے :

" (اے محمد صلی للہ علیہ وسلم) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا ،  جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا،  پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے،  جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا ۔ "

اور سورہ طٰہٰ میں یہ بیان ہے  :

" اور دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے! "

آہ ۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ  اسلام دراصل لوگوں کو علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ اور اگر آپ  سوال تنقید اور تجزیہ نہیں کرتے تو پھر علم حاصل کرنے کا کون سا طریقہ بچتا ہے ؟

مجھے لوگوں کو مسلسل سوال کرنے  اور اپنے علم میں اضافہ کرنے کی کوشش کرنے  کے لئے  حوصلہ افزائی کرنے  کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہے، اور خاموش نہیں رہناکتنا اہم ہے :

"جو شخص علم کو چھپا تا ہے  قیامت کے دن آگ سے اس کا چہرہ مسخ کر دیا جائے گا ۔ "

لہٰذا اگر ہم  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ  دراصل احتساب  غیر اسلامی!

آپ دیکھتے ہیں کہ ہر کسی کو،  رسمی یا غیر رسمی تعلیمی پس منظر سے قطع نظر علم حاصل کرنے اور اپنی  افہام و تفہیم میں اضافہ کرنے کا حق حاصل ہے  ۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ  آپ نے  پی ایچ ڈی کی ہے  یا  آپ کے پاس سیکنڈری اسکول کی سرٹیفکیٹ ہے یا آپ کو اسکول جانے کا  کبھی موقع میسر ہی نہیں ہوا ۔ اگر آپ علم حاصل کرنا  چاہتے ہیں تو آپ کو علم حاصل کرنے کا حق ہے۔

اور لوگوں کے لئے مسائل کے بارے میں جاننے  اور سمجھنے کے لئے واحد راستہ سوال کرنا چیلنج دینا بحث اور تبادلہ خیال کرنا ہی  ہے ۔ اگر لوگ خاموش ہو جائیں تو مقصد ہی فوت ہو جائے گا  ۔

وہ لوگ جو  زیادہ علم والے ہیں ان کی ذمہ داری یہ ہےکہ وہ ان لوگوں کو علم دیں جو سوالات کر رہے ہیں تاکہ علم  پھیل سکے ۔ اور  مجموعی طور پر ایک تعلیم یافتہ معاشرہ کی تعمیر ہو سکے  ۔

زیادہ علم والوں کے درمیان اور ان  لوگوں  کے درمیان جو علم والے نہیں ہیں زیادہ فاصلہ نہیں ہونا چاہئے۔ علم بانٹیں اس لئے  کہ دانشورانہ حکمرانی ظلم ہے !

آپ کو ایسا  کیوں لگتا ہے کہ اسلام کسی کو بھی  ایک مسجد کے امام بننے اور نماز کی امامت کرنے کی اجازت دیتا ہے (جب وہ سن بلوغ کو پہنچ گیا ہو)؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام انسانوں  کے درمیان اس طرح کی تفریق کو فروغ نہیں دیتا ۔

لہذا میرے پاس اگر چہ الازہر یونیورسٹی کی  ڈگری نہیں لیکن میری طرف سے  ان مسائل کے تعلق  سے سولات کا سلسلہ جاری رہے گا  جن کی تفہیم میں اضافہ کرنے  میں میری دلچسپی ہے ۔

اور میں لوگوں  ایسا ہی کرنے کے لئے کہوں گا ، اگر ان کے ذہن و  دماغ میں طویل  مدت سے کسی بھی چیز کے تعلق سے  سوالات اور  شکوک و شبہات ہیں ۔

کسی شخص کو سوالات کرنے  سے روکنا اس شخص کو  علم اور افہام و تفہیم حاصل کرنے سے روکنا  اور اس سے محروم  کرنا ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ  اسلام کے تعلق سے تنقیدی رویہ اپنا نا  واقعی اچھا ہے ۔ جیسا کہ میرے  پسندیدہ مسلم ادیبوں میں سے ایک ضیاء الدین سردار نے کہا :

" تمام قسم کے اسلام کو  استبدادانہ   مناظر میں  خراب ہونے سے  بچانے کے لئے اسے  شکوک و شبہات کے ایک صحت مند خوراک کی ضرورت ہے۔ "

مذہبی توہین کا لیبل لگائے  جانے سے  نہ ڈریں ۔ اس لئے کہ اب یہ  ایک ایسا الزام ہے جو سطحی سوچ کے مسلمان دوسروں پر ڈالنا پسند کرتے ہیں!

در حقیقت اسلام میں مذہبی توہین کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ صرف تعلیم یافتہ اور انپڑھ لوگوں  کے درمیان دوریوں کو  کنٹرول کرنے اور برقرار رکھنے کے لئے انسان کی تخلیق کردہ ہے ایک اصطلاح ہے ۔

اس کی تخلیق اس لئے کی  گئی تھی کہ  عوام کوئی بہتر بات  نہ جاننے  پائیں اور خوف زدہ رہیں۔ اسے اس لئے بنایاگیا تھا کہ لوگ اٹھ کھڑے نہ ہوں اور اتھارٹی کو چیلنج نہ کر دیں ۔

یہ ان لوگوں کی حفاظت کے لئے بنایا گیا تھا جو اقتدار میں ہیں  اور ان لوگوں پر ظلم کرنے کے لئے جو اقتدار میں نہیں ہیں ۔ یہ کیوں کر غیر اسلامی ہو سکتا ہے  !

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ  ،  نیو ایج اسلام)

ماخذ: http://english.astroawani.com/news/show/criticising-islam-is-islamic-20336

URL for English article:

http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/zan-azlee/criticising-islam-is-islamic/d/13526

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/zan-azlee,-tr-new-age-islam/criticising-islam-is-islamic-اسلام-پر-تنقید-اسلامی-ہے/d/13557

 

Loading..

Loading..