New Age Islam
Fri Apr 17 2026, 11:32 AM

Urdu Section ( 13 Jun 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Religion And, Politics In The Modern Era مذہب اور سیاست عہد حاضر میں

ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی ، نیو ایج اسلام

13 جون 2025

مذہب اور سیاست دونوں انسان اور سماج کی ضرورت ہیں۔ یعنی بغیر دین کے کوئی بھی سماج اور اس میں رہنے والے افراد حق و باطل میں امتیاز نہیں کرسکتے ہیں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ مذہب کے خوف کی وجہ سے آ ج معاشرے میں  بہت سارے مکروہ اور قبیح امور انجام نہیں دییے جاتے ہیں۔ معاشرے سے مذہب کا خوف نکل جائے اور انسانوں کو یوں ہی آ زاد چھوڑ دیا جائے تو یقین جانیے ایسے معاشرے میں انسانوں کی چلت پھرت تو نظر آ ئے گی لیکن ایسا معاشرہ کسی بھی طرح کی حساسیت ،انسانی ہمدردی، بصیرت و بصارت سے پوری طرح محروم کہلائے گا۔ مذہب انسان کو انسانیت کا درس دیتا ہے ، اچھے برے کی تمیز سے آ شنا کرتا۔ صدق، وفا ،حب الوطنی اور قومی ہم آہنگی کے تقاضوں سے متعارف کراتا ہے۔  گویا مذہب نوع انسانی کے لیے ایسی ضرورت ہے کہ اس کے بغیر انسان دوقدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ مذہب کی ضرورت معاشرے کے لیے کیوں ہے؟ اور کس قدر ہے؟ اس کا اندازہ آج تقریبآ ہر شخص کو بخوبی ہے۔ اسی طرح معاشرے کو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ سیاست اور جدید احوال و کوائف، علوم و فنون سے نہ صرف واقفیت حاصل کی جائے بلکہ اس کے جملہ شعبوں، تقاضوں کے متعلق پوری دسترس حاصل کی جائے۔ باقاعدہ معاشرے میں ایسے ماہرین تیار کیے جائیں جو مذہبی تعلیمات سے مسلح ہونے کے ساتھ ساتھ عصری تحدیات، سیاسی اتار چڑھاؤ سے بھی پوری طرح واقف ہوں۔ جو قومیں اور معاشرے مذہبی امور کو ضروری تصور کرتے ہیں مگر وہ سیاسی شعور و آگہی سے واقف نہیں ہوتے ہیں تو یقین جانیے وہ عالمی منظر نامے پر اپنی شناخت تک نہیں بنا پاتے ہیں۔  اس لیے بڑے وثوق سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کسی بھی سماج کے لیے مذہب اور سیاست یا عصری تقاضوں سے بیداری کی یکساں ضرورت ہے۔  یعنی سماج کی ترقی اور خوشحالی کے لیے جہاں مذہب کا اہم کردار ہے تو وہیں سیاسی نظام اور اس کے صالح اسلوب کے رول کو بھی قطعی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

مگر آج ہمارے درمیان مذہب وسیاست کے حوالے سے جو آراء و افکار پائے جاتے ہیں وہ افراط و تفریط کا شکار ہیں ۔ ایک طبقہ کا خیال یہ ہے کہ معاشرے کو مذہب سے پوری طرح آزاد رکھا جائے یہی نہیں بلکہ یہ گروہ معاشرتی عروج و ارتقاء میں مذہب کو بندش محسوس کرتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح ایک طبقہ سیاست کو اور اس کے لوازمات سے دوری بنانے میں معاشرتی ترقی کے دلائل و براہین پیش کرتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ جو یہ نظریات یا خیالات رکھتے ہیں کیا ان کی یہ آراء درست ہیں؟جواب نفی میں ہی ملے گا اس وقت جو سب سے بڑی ضرورت ہے وہ ہے مذہب وسیاست کا درست استعمال یعنی ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ آ ج نہ تو سیاست کا استعمال معاشرتی فلاح و صلاح کے لیے کیا جارہاہے اور نہ ہی مذہب کو اصل منہج پر رکھ کر دیکھا جارہاہے۔ حتی کہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری اور سیکولر ملک میں مذہب کے نام پر سیاسی روٹیاں سیکی جارہی ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ عملی سیاست اور انتخابی سیاست میں بنیادی کردار سماجی عدل، فلاحی منصوبوں کی کامیابی پر منحصر ہونا چاہیے۔ یعنی جو جماعت بھی ملک کے نظام کو درست بنائے، سماج کی ترقی کے تئیں کوشاں ہو ، ایسی تنظیموں، جماعتوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ البتہ مذہب کا استعمال سیاست میں اس لیے کیا جائے کہ اس سے سیاسی نظام میں اصلاح کرنی ہے تو یہ بات کسی حد تک درست ہے۔ یعنی مذہبی اصولوں کو سیاست کے تابع ہر گز نہیں ہونا چاہیے ،ہاں سیاست کو مذہب کے تابع کیا جائے تاکہ معاشرہ پوری طرح کامیابی سے ہم آہنگ ہوسکے۔ مگر اب  اس کے برعکس ہو رہا ہے کہ مذہب کو سیاست میں  اس لیے لایا جاتا ہے کہ اس کے ذریعہ حکمراں طبقہ اپنی ناکامیابیوں پر پردہ ڈال سکے۔ ملکی تناظر میں ذرا دیکھیے کہ کہیں اقلیتوں یعنی مسلم اقلیت کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیئے جارہے ہیں، تو وہیں دوسری طرف ان کے مذہبی مقامات سے چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ مسلمانوں کی حب الوطنی اور ملک کے لیے دی گئیں تمام قربانیوں کو پوری طرح فراموش کرنے کی کوشش جاری ہے۔

ان تمام احوال پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ اب اہلیان سیاست  اپنے منفی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مسلم اقلیت کے جذبات سے کھلواڑ کرنے کو روا سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ بات گشت کررہی ہے کہ اب مذہب کو سیاست میں اس لیے لایا جارہا ہے تاکہ اقتدار پر قابض رہا جائے اور پھر اس کے ذریعہ ذاتی منفعت حاصل کی جاسکے۔ اس پر بھی طرفہ تماشا یہ کہ سیاست میں مذہب کے غلط استعمال پر دلائل دیئے جارہے ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ معاشرے وہی کامیاب اور صحت مند کہلاتے ہیں جن میں تمام اکائیوں اور افکار و نظریات سے وابستہ افراد پوری طرح امن و سکون محسوس کریں۔سیکولر معاشرے میں جانبداری کی قواعد پر متواتر عمل آوری نہ ان لوگوں کے لیے مناسب ہے جو اس روایت کو اپنی شناخت سمجھ کر کررہے ہیں اور نہ اس معاشرے کے لیے کسی حد تک مناسب ہے جس میں یہ غیر منطقی امور انجام دیئے جارہے ہیں۔ لہذا یہ بات سمجھنی ہوگی کہ معاشرے میں رونما ہونے والے ایسے واقعات جن سے باہم اقوام و ملل کے مابین نفرت و عداوت یا پرخاش پیدا ہوتی ہے انہیں معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر نابود کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم قومی یکجہتی و معاشرتی ہم آہنگی کو قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو نہ کوئی سیاست داں ہمیں اپنے خودساختہ اصولوں کے ذریعہ گمراہ کر سکے گا اور نہ کوئی نام نہاد مذہبی رہنما اپنے محدود مفادات کے لیے استعمال کرپائے گا۔ اس لیے بیک وقت معاشرے کو اصل مذہب کی تعلیمات اور سیاسی وسماجی نظام کو پوری طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔غور سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ معاشرے میں عموماً ایسے نوجوانوں کو آگے کیا جارہاہےجو نہ تو سیاست کے اصول وقوانین سے آ شنا ہیں اور نہ ہی مذہبی تعلیمات سے کسی طرح دلچسپی رکھتے ہیں۔ بلکہ انہیں مذہب کی افیم چٹا کر ان کے مستقبل اور ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو اکارت کیا جارہا ہے۔ یہ بات خود اب نوجوانوں کو سمجھنی ہوگی اور اپنے مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے متوازن فکر اور مثبت نظریہ پیدا کرنا ہوگا۔ البتہ ںسماجی ترقی اور عوامی بہبود کے لیے جہاں مذہب کی ہدایات ضروری ہیں تو وہیں سیاسی فہم وفراست بھی لازمی شی ہے۔

یہاں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ انسانی حقوق اور عوامی ضروریات کا خیال  وہی معاشرے پوری طرح رکھ پاتے ہیں جن کے اندر قوت برداشت اور اپنے نظریہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کے عقائد و خیالات کا احترام کرنے کا جذبہ صادق ہو۔ یہ بات سب بخوبی جانتے ہیں کہ نہ تو مذہب معاشرے کو تباہ کرتا ہے اور نہ ہی سیاست سماج کو برباد کرتی ہے بلکہ یہ دونوں چیزیں تو معاشرتی اکائیوں کو مستحکم بناتی ہیں۔لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب مذہب کو مذہب کی جگہ رکھا جائے اور سیاست کو سیاست کی جگہ رکھا جائے۔ اگر کسی سیکولر اور جمہوری نظام میں مذہب کے نام پر سیاست کی جاتی ہے تو یہ بات اس لیے بھی درست نہیں ہے کہ ایسے لوگ محض مذہب کو بدنام کرتے ہیں ان کا مذہب سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اس وقت ہندوستانی معاشرے میں جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں وہ نہ ہندوستانی سیاست کا حصہ ہیں اور نہ مذہب کا حصہ۔کیوںکہ کوئی بھی مذہب نفرت کی تعلیم نہیں دیتا ہے اور نہ ہی کسی سیاسی مفکر ومدبر نے اصول سیاست کی کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ مذہبی منافرت کو فروغ دے کر سیاست کی جائے۔ اس لیے جو لوگ بھی ہندوستانی معاشرے میں امن و امان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں انہیں اپنے افکار ونظریات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کہ سیاست کے جو تقاضے اور اس کے بنیادی اہداف ہیں کیا ہم انہیں پوراکرپارہے ہیں یا نہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم معاشرے میں نفرت کا ماحول پروان چڑھائیں یا پھر ان خطوط پر حکمرانی کریں جن سے انسان دوستی، پیار ومحبت، امن و امان اور رواداری جیسی تعلیمات عام ہوں۔ سیکولر جمہوری معاشرے میں مذہبی روایات یا دینی مقامات کے ساتھ جانبداری کا رویہ اپنانا کسی بھی اعتبار سے مناسب نہیں ہے۔ سیاست ومذہب کا مرکب اس طور پر بنا کر پیش نہ کیا جائے کہ اس سے عوام میں بے چینی پیدا ہو بلکہ سیاست ومذہب کا استعال اس طور پر کیا جائے کہ اس کے ذریعے انسانی فکر اور اس کے نظریہ میں توسع و کشادگی پیدا ہو ،یہی مطلوب سیاست سے اور یہی دنیا کی ہر تہذیب اور مذہب چاہتاہے ۔

------------------

URL:  https://newageislam.com/urdu-section/religion-politics-modern-era/d/135854

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..