New Age Islam
Sat Jun 06 2026, 01:01 AM

Urdu Section ( 26 Jun 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Raja Ram Mohan Roy’s Theory of Monotheism راجہ رام موہن رائے کا نظریہ توحید

 

ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی ، نیو ایج اسلام

26 جون 2025

راجہ رام موہن رائے (1772ء – 1833ء) ہندوستان کے ابتدائی سماجی مصلح، مذہبی مفکر، اور جدید ہندوستان کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ وہ ایک علم دوست، روشن خیال اور کثیر لسانی شخصیت تھے جنہوں نے نہ صرف سماجی اصلاحات کیں بلکہ ہندو مذہب کی ازسرِ نو تعبیر پیش کی۔

رام موہن رائے کا سب سے اہم مذہبی نظریہ توحید (ایک خدا پر ایمان) تھا۔ انہوں نے ہندو دھرم میں رائج بت پرستی، پوجا پاٹھ، اور رسم و رواج کی مخالفت کی اور ویدوں و اُوپنیشدوں کی بنیاد پر خالص توحید کا تصور پیش کیا۔

"خدا ایک ہے، وہ غیر مادی، ازلی، قادرِ مطلق اور تمام مخلوقات کا خالق ہے۔"

انہوں نے بت پرستی کو غیر عقلی اور غیر سائنسی قرار دیا اور اسے ہندو مذہب کی اصل تعلیمات کے خلاف بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل ہندو مت ویدوں اور اُوپنیشدوں پر مبنی ہے، جو توحید کی تعلیم دیتے ہیں۔

رام موہن رائے نے مذہب کو عقل، فطرت اور سچائی کے مطابق سمجھنے پر زور دیا۔ وہ مذہب کو اندھی تقلید کے بجائے عقلی تحقیق کا میدان سمجھتے تھے۔

انہوں نے اسلام، عیسائیت اور بدھ مت جیسے مذاہب کا بھی مطالعہ کیا اور ان میں موجود مشترکہ اخلاقی قدروں کو سراہا۔ وہ تمام مذاہب کے باہمی احترام کے قائل تھے۔

انہوں نے برہمو سماج کے نام سے ایک اصلاحی تحریک قائم کی، جس کا مقصد:توحید کی تعلیم دینا، سماجی برائیوں کا خاتمہ کرنا، خواتین کے حقوق کا تحفظ، مذہبی اصلاح لانا تھا۔

موہن رائے کی درج ذیل کتابیں ملتی ہیں جو ان کے فکری شعور اور علمی سوچ کی آئینہ دار ہیں ۔ ان کی ایک اہم کتاب فارسی زبان میں تحفة الموحدین کے نام سے ہے ۔ یہ راجہ رام موہن رائے کی ابتدائی تصنیف ہے، جو 1803 میں لکھی گئی۔ اس کتاب میں انہوں نے شرک کی مذمت  توحید کی حمایت میں دلائل و براہین پیش کیے ہیں ۔یہ کتاب مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں کو خطاب کرتی ہے، اور ان میں خدا کی وحدانیت کے تصور کو اجاگر کرتی ہے۔ اس میں راجہ صاحب کا عقلی اور فلسفیانہ انداز نمایاں ہے۔

اسی طرح راجہ رام موہن رائے نے کچھ کتابوں کے انگریزی تراجم بھی کیے ہیں مثلاً انہوں نے

Abridgement of the Vedanta  کے عنوان سے ویدانت فلسفہ کا خلاصہ پیش کیا ہے ۔ سچ بات یہ ہے کہ

راجہ رام موہن رائے کی یہ ایک نہایت اہم اور تاریخی کتاب ہے جس میں انہوں نے ہندو مت کے ویدانتی فلسفے کا نچوڑ اور خلاصہ پیش کیا۔ یہ کتاب اُن کے اصلاحی اور سائنسی مزاج کی نمائندہ ہے اور ان کی فکری زندگی کے ایک انقلابی موڑ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کو لکھنے کا مقصد قدیم ہندوستانی فلسفے کی روح کو عام لوگوں تک پہنچانا اور پُر اسرار رسوم و عقائد سے دور رہ کر مذہب کی اصل سچائی کو بیان کرنا تھا۔

راجہ رام موہن رائے نے یہ کتاب اس وقت لکھی جب وہ بنگال میں برہمو سماج کی بنیاد رکھ چکے تھے اور مذہبی اصلاحات کے میدان میں سرگرم ہو چکے تھے۔ وہ ہندو مذہب کے ویدانتی فلسفے سے بہت متاثر تھے، خصوصاً "اوپنشد" (Upanishads) سے۔ مگر انہیں اس بات کا قلق تھا کہ عام لوگ ان گہرے اور فلسفیانہ افکار تک رسائی نہیں رکھتے۔لہٰذا انہوں نے ان مشکل اور طویل متون کو آسان زبان میں خلاصہ کی شکل میں پیش کیا تاکہ سچائی، وحدت الوجود، توحید اور انسان دوستی جیسے پیغامات عام فہم انداز میں لوگوں تک پہنچ سکیں۔اس کتاب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں مضامین پر بڑی عالمانہ اور محققانہ گفتگو کی گئی ہے ۔

البتہ راجہ رام موہن رائے نے اس کتاب کے سبب تالیف پر روشنی ڈالتے ہوئے درج ذی باتیں رقم کی ہیں:

 THE greater part of Brahmins, as well as of other sects of Hindoos, are quite incapable of justifying that idolatry, which they continue to practise. When questioned on the subject, in place of adducing reasonable arguments in support of their conduct, they conceive it fully sufficient to quote their ancestors as positive authorities! And some of them are become very ill disposed towards me, because I have forsaken Idolatry, for the worship of the true and eternal God! In order, therefore* to vindicate my own faith, and that of our early forefathers, I have been endeavouring, for some time past, to convince my country¬ men of the true meaning of our sacred books ; and to prove, that my aberration deserves not the opprobrium, which some unreflecting persons have been so ready to throw upon me

برہمنوں کی اکثریت، اور ہندوؤں کے دوسرے فرقوں کے بیشتر افراد، اس بت پرستی کا معقول جواز پیش کرنے سے قاصر ہیں جس پر وہ عمل کر رہے ہیں۔ جب ان سے اس بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ اپنی روش کے حق میں عقلی دلائل دینے کے بجائے، صرف اپنے آبا و اجداد کے عمل کو دلیل کے طور پر پیش کرنا کافی سمجھتے ہیں۔

ان میں سے بعض افراد میرے خلاف شدید بدگمانی کاشکار ہو گئے ہیں، صرف اس وجہ سے کہ میں نے بت پرستی ترک کر کے سچے اور ابدی خدا کی عبادت اختیار کر لی ہے۔

اسی لیے، میں کچھ عرصے سے یہ کوشش کر رہا ہوں کہ اپنے مذہب اور اپنے قدیم نیک اسلاف کے عقائد کی وضاحت کروں، اور اپنے ہم وطنوں کو ہماری مقدس کتابوں کا اصل مفہوم سمجھا سکوں۔ میں یہ بھی ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ جس راہ کو میں نے اختیار کیا ہے، وہ کوئی گمراہی نہیں، جیسا کہ بعض ناسمجھ لوگ بے سوچے سمجھے اس پر الزام لگا رہے ہیں۔

متذکرہ اقتباس کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کہ راجہ رام موہن رائے نے ویدانت کا انگریزی ترجمہ اور خلاصہ محض اس لیے کیا تھا کہ ویدانت اور ہندو مذہب کی حقیقی تعلیم سماج کے سامنے آسکیں ۔ راجہ رام موہن رائے نے اس کتاب میں ان مباحث کو شامل کیا ہے جن کا تعلق وحدانیت سے ہے ۔ راجہ رام موہن رائے ویدانت کا تعارف کراتے ہوئے اپنی متذکرہ کتاب میں تحریر کرتے ہیں:

The whole body of the Hindoo Theology, Law, and Literature, is contained in the Yeds, which are affirmed to be coeval with the creation! These works are extremely voluminous; and being written in the most elevated and metaphorical style, are, as may be well supposed, in many passages seemingly confused and contradictory. Upwards of two thousand years ago, the great Byas, reflecting on the perpetual difficulty arising from these sources, composed with great discrimina¬ tion a complete and compendious abstract of the whole ; and also reconciled those texts, which appeared to stand at variance. This work he termed The Veclant , which, compounded of two Suugscrit

words, signifies The resolution of all (he Veds . It has continued to be most highly revered by all the Hindoos ; and in place of the more diffuse arguments of the Yeds, is always referred to as equal authority. But, from its being concealed within the dark curtain of the Sungscrit language, and the Brahmins permitting themselves alone to interpret, or even to touch any book of the kind, the Vedant, although perpetually quoted, is little known to the public : and the practice of few Hindoos indeed bears the least accordance with it’s precepts۔

ہندو مذہب، قانون اور ادب کا مکمل ذخیرہ "ویدوں" میں محفوظ ہے، جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ تخلیقِ کائنات کے وقت ہی وجود میں آ گئے تھے۔ یہ کتابیں نہایت ضخیم اور وسیع ہیں، اور چونکہ بلند پایہ، استعاراتی اور تمثیلی زبان میں لکھی گئی ہیں، اس لیے ان کے بہت سے مقامات بظاہر الجھے ہوئے اور بعض اوقات ایک دوسرے سے متضاد محسوس ہوتے ہیں۔

تقریباً دو ہزار سال قبل، عظیم رشی "ویاس" نے ان مستقل پیش آنے والی الجھنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، بڑی بصیرت اور فہم و فراست کے ساتھ ان ویدوں کا ایک مکمل اور جامع خلاصہ مرتب کیا، اور ان آیات میں باہمی تطبیق پیدا کی جو بظاہر ایک دوسرے کے مخالف معلوم ہوتی تھیں۔

انہوں نے اس تصنیف کو "ویدانت “کا نام دیا جو دو سنسکرت الفاظ سے مرکب ہے، اور جس کا مطلب ہے: "ویدوں کا نچوڑ یا حتمی نتیجہ"۔

یہ کتاب ہندو مذہب میں ہمیشہ سے نہایت محترم و معتبر سمجھی گئی ہے، اور ویدوں کی طویل اور تفصیلی بحثوں کے بجائے اکثر اسی کتاب کو  سند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

مگر چونکہ یہ کتاب سنسکرت کی مشکل زبان میں لکھی گئی ہے، اور برہمنوں نے یہ اصول بنا رکھا ہے کہ صرف وہی ایسی کتابوں کو چھو سکتے یا ان کی تشریح کر سکتے ہیں، اس لیے "ویدانت" اگرچہ اکثر حوالوں میں آتی ہے، پھر بھی عوام کی اکثریت اس کے اصل مضامین سے ناواقف ہے۔

اور حقیقت یہ ہے کہ ہندوؤں کی عملی زندگی بہت کم حد تک ہی اس کی تعلیمات اور اصولوں سے مطابقت رکھتی ہے۔

راجہ رام موہن رائے نے اس کتاب  میں توحید(Monotheism) پر بڑی جامع گفتگو کی ہے ۔

راجہ رام موہن رائے کے مطابق ویدانت کا اصل پیغام صرف ایک خدا (برہمن) کا تصور ہے، جو ہر چیز کا خالق اور واحد حقیقت ہے۔ دیوی دیوتا اس کے مظاہر ہیں، مگر عبادت کے لائق صرف وہی ایک خدا ہے۔ 

 راجہ رام موہن رائے نے لکھا ہے کہ مشہور و معروف رِشی، وِیاس (Byas) نے اپنی مشہور تصنیف 'ویدانْت' میں ابتدا ہی میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسانوں کے لیے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ وہ برتر ہستی کون ہے، جس کا ذکر تمام ویدوں، ویدانت اور دیگر مذاہب کے نظام ہائے فکر میں بار بار آتا ہے۔ لیکن وِیاس نے ویدوں کے مندرجہ ذیل اقتباسات سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس تحقیق کی حدود بہت محدود ہیں:

The Supreme being is not comprehensible by vision, or by any other of the organs of sense ; nor can he be conceived by means of devotion, or virtuous practices!” “ He sees every thing, though never seen : hears every thing, though never directly heard of! He is neither short, nor is he long § inaccessible to the reasoning faculty ; not to be compassed by description ; beyond the limits of the explana¬ tion of the Yed, or of human conception.

برتر ہستی کو نہ تو آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے،نہ  کسی اور جسمانی حواس کے ذریعے جانا جا سکتا ہے؛ نہ ہی اُسے عبادت یا نیکیوں کے ذریعے پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے

وہ سب کچھ دیکھتا ہے، مگر اُسے کوئی دیکھ نہیں سکتا وہ سب کچھ سنتا ہے، مگر کسی نے اُسے سنا نہیں؛ وہ نہ چھوٹا ہے، نہ لمبا؛ وہ عقل کی پہنچ سے باہر ہے؛ الفاظ اس کا احاطہ نہیں کر سکتے؛ وہ ویدوں کی تشریح اور انسانی ادراک کی حدود سے ماورا ہے۔

وِیاس نے، مختلف دلائل اور ویدوں کی تعلیمات کی روشنی میں، یہ بھی پایا کہ اس برتر ہستی کا درست اور قطعی علم انسان کے فہم و ادراک کی حدود سے باہر ہے۔ یعنی یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ہستی حقیقت میں کیا ہے اور کیسی ہے ۔

راجہ رام موہن رائے کی کتاب Abridgment of the Vedanta کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انہوں نے اپنی اس کتاب میں توحید  پر بڑی مدلل اور جامعہ گفتگو کی ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے توحید کا واضح تصور ہندو دھرم کی قدیم صحیفوں اور مذہبی کتب ویدانت سے ثابت کیا ہے۔ راجہ رام موہن رائے توحید کے سچے علمبردار تھے اور وہ ان تمام چیزوں کو غلط تصور کرتے تھے جن میں شرک کی آمیزش ہوتی ہے خواہ انظ کا تعلق عبادت ہی سے کیوں نہ ہو ۔ موہن رائے برہمن تھے مگر انہوں نے ہندو دھرم اور دیگر ادیان کا مطالعہ بڑی توسع اور فراخ دلی سے کیا ہے ۔انہوں نے مذاہب کی خوبیوں کا  اعتراف کیا اور مذاہب کے نام پر پائے جانے والے ان تمام ان تمام اعمال و افعال کی سختی سے تردید کی جو شرک میں مبتلا کرتے ہیں ۔ راجہ رام موہن رائے نے مطالعہ مذاہب میں یکسانیت اور مشترکہ اقدار کا بھی مطالعہ کیا ہے اور باقاعدہ اس پر بھی کتاب لکھی ہے ۔ راجہ رام موہن رائے کی اصل پہچا ن یہ ہے کہ ان کی تحریروں میں توحید کے عناصر پائے جاتے ہیں ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے ہندو معاشرے میں ان روایات کے خلاف زور دار تحریک چلائی جو غیر مناسب تھیں مثلا ستی کا رواج ، بیواؤں کی شادی نہ کرنا اسی طرح اور دیگر باتیں جو صدیوں سے رائج تھیں ان کا قلع قمع کیا ۔ راجہ رام موہن رائے کو جدید ہندوستان کا معمار بھی کہا جاتا ہے ۔

راجہ صاحب نے اپنی متوازن فکر اور علمی و تحقیقی کارناموں کے  کے ذریعے سماجی مسائل، ستی کی لعنت، تعلیم کی اہمیت، اور آزادی اظہار رائے پر بھی  وضاحت کے ساتھ لکھا ۔ رام موہن رائے کا  ایک امتیاز یہ ہے کہ وہ بنگالی، فارسی، ہندی، سنسکرت، انگریزی اور عربی زبان میں بھی تحریریں لکھتے تھے ۔ جن میں مذہبی و سماجی اصلاحات کے پہلو نمایاں نظر آتے ہیں ۔

راجہ رام موہن رائے نہ صرف ہندو مذہب کے اصلاح پسند مفکر تھے، بلکہ بین المذاہب مکالمے، مذہبی رواداری، اور عقل و فطرت کی بنیاد پر مذہب کو سمجھنے کے علمبردار تھے۔ ان کی تحریریں اور نظریات آج بھی مذہبی ہم آہنگی، اصلاح اور انسان دوستی کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/raja-ram-mohan-roy-theory-monotheism/d/135987

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

 

Loading..

Loading..