New Age Islam
Fri Apr 03 2026, 04:38 AM

Urdu Section ( 21 Jun 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Mahatma Gandhi's Study of Hindu Dharma گاندھی جی کا مطالعہ ہندو دھرم

ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی ، نیو ایج اسلام

21 جون 2025

ہندو دھرم اپنی تاریخ ، روایات اور عقائد و نظریات یا رسومات و عبادات کے اعتبار سے دیگر تمام مذاہب و ادیان اور افکار و نظریات میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔

خوشی کی بات یہ ہے ہندو مت یا ہندو مذہب کا تعلق سرزمین ہند سے ہے ۔ سرزمین ہند کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے دامن میں سیکڑوں تہذیبیں اور کئی مذاہب پائے جاتے ہیں جو اپنی اپنی تاریخ و ثقافت اور روایت و تہذیب کے اعتبار سے ایک دوسرے سے ممتاز ہیں ۔ مذاہب و ادیان اور افکار و نظریات یا عقائد و رسومات کا یہ امتیاز ہندوستانی سماج میں تنوع اور رنگارنگی کی روایت کو فروغ دیتے ہیں اور اسی سے ہندوستانی سماج خوبصورت بنتا ہے ۔ اس لیے یہ بات ہندوستان کو پر افتخار بناتی ہے کہ اس کے دامن میں کئی مذاہب و ادیان نے جنم لیا اور یہیں پر نشو و نما بھی پائی۔

رہا ہندو دھرم تو اس کے متعلق ماہرینِ ادیان اور مؤرخین نے مختلف  باتیں لکھی ہیں چنا نچہSatischandra Chatterjeeنے اپنی کتاب   The Fundamentals of Hinduism میں لکھا ہے:

 So we seem to be Justified in taking Hinduism to mean the Hindu religion. To define Hinduism is a delicate and difficult, but not an impossible task. This is so, not because it is a very abstract and mystic religion, but because it is very wide and, in a sense, universal in its scope. It is not based on the message of any single prophet or incarnation of God, nor on the teachings of any one saint, sage or religious reformer. On the other hand, Hinduism is founded on the varied religious and moral experiences and teachings of many ancient, medieval and modern Indian sages and seers, saints and devotees—Munis, Rsis, Acaryas and Bhaktas. Historically speaking, it has its bases in (1) the Sruti consisting of the four Vedas, including the Upanisads (2) the Smrtis or Dharmasastras like those of Manu, Yajfiavalkya, Sankha, Likhita, Parāśara and others, (3) the Puranas and the Upa-purinas numbering 36 in all, (4) the Itihisas like the Ramayana and the Mahabharata including the Bhagavad-gita?,

متذکرہ عبارت کا خلاصہ درج ذیل الفاظ میں پیش کیا جاسکتا ہے کہ ہندو مذہب کی تعریف کرنا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ہے ۔ کیوںکہ یہ مذہب عالمی اور وسیع ہے ۔ ہندو مذہب کسی ایک خدا، ایک تعلیم ، یا ایک نظریہ پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس کے اندر متعدد کتب ، رشی منی اور مختلف تاریخی کتب پائی جاتی ہیں جو ہندو دھرم کو وسیع اور عالم گیر بناتی ہیں ۔ اس تناظر میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ  ہندو مت کوئی ایسا مذہب نہیں جس کی باضابطہ بنیاد پڑی ہو اور اس کی کوئی قطعی اور حتمی تاریخ متعین کی جا سکتی ہو اور نہ ہی وثوق و اعتماد کے ساتھ اس کے بانی کے نام کا تعین کیا جا سکتا ہے۔  ہندومت موجودہ آخری شکل میں صدیوں کے تغیرات کا نتیجہ ہے یہ اسلام اور عیسائیت کی طرح کوئی تبلیغی مذہب نہیں ہے جس کے علمبردار اپنے مضبوط و مستحکم  عقائد اور مخصوص و متعین فرائض و واجبات پر ایمان و عمل کی تلقین کرتے ہوں ۔عیسائیوں کی طرح کوئی کلیسائی نظام یہاں موجود ہے اور نہ ہی کوئی مرکزی عبادت گاہ ہے جو ہندومت کے علمبرداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں معاون و مددگار بنتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہندومت کے مقدس حصار میں داخل ہونے والے تمام علمبرداروں کے اعمال و عقائد کو ہندومت کے عناصر ترکیبی کا درجہ حاصل ہے۔

یعنی ہندو دھرم کا نہ کوئی مرکزی عقیدہ ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات ہے جس پر سب کو ایمان لانا لازمی ہو ۔  ہندو دھرم مختلف عقائد و نظریات اور رسومات کا مجموعہ ہے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی نظریہ، تحریک اور مذہب و دھرم کو سمجھنے  کے لیے ضروری ہے کہ اس مذہب کے ماننے والوں کی آراء اور اور ان کے نظریات کو سمجھا جائے ۔ ہندو دھرم کے متعلق جدید ہندوستان کے معمار گاندھی جی نے ایک  کتاب  Hindu Dharma کے نام سے لکھی ہے اس کتاب کو انہوں نے  ہندو دھرم ، خدا ، عبادت ، مذہبی رسومات روزہ ، برہمچاریہ ، گیتا ، فلسفہ عدم تشدد ،  آشرم  ،  مذاہب کا تصور مساوات ، مذہبی تعلیمات ،  تحفظ گائے ، ذات پات ، ورن دھرم ، برہمن اور غیر برہمن ، بیوہ شادی اور عورت  جیسے اہم موضوعات پر بڑی دلچسپ اور تفصیلی گفتگو کی کی ہے ۔ گاندھی جی اپنی کتاب Hindu Dharma میں لکھتے ہیں:

In my opinion the beauty of Hinduism lies in its all embracing inclusiveness . What the divine author of Mahabharata said of his great creation is equality true of Hinduism. What Substance is contaned in another religion is always to be found in Hinduism and what is not contained in it, is unsubstantial or unnecessary.

درج بالا عبارت کا خلاصہ انئ الفاظ میں پیش کیا جا سکتا ہے:

یعنی ہندو دھرم حسین و دلکش مذہب ہے اور اس کی خوبصورتی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ ہر عقیدہ و خیال پر حاوی ہے۔ مہا بھارت کے مصنف نے اپنی اہم تصنیف کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ سب ہندو دھرم کے بارے میں سچ ہے۔ کسی بھی مذہب میں جو جوہر پایا جاتا ہے وہ ہندو مذہب میں ہمیشہ موجود ہے اور جو کچھ ہندومت میں نہیں ہے وہ یا تو کمزور اور غیر مستحکم ہے یا غیر ضروری ہے۔

اسی طرح گاندھی جی آگے تحریر کرتے ہیں:

It is the good fortune or the misfortune of Hinduism that it has no official creed. In order therefore to protect myself against any misunderstanding I have said Truth and Non-violence is my creed. If I were asked to define the Hindu creed I should simply say; search after Truth through non-violent means. A man may not believe even in God and still he may call himself a Hindu. Hinduism is a relentless pursuit after truth and if today it has be¬ come moribund, inactive, irresponsive to growth, it is because we are fatigued; and as soon as the fatigue is over, Hinduism will burst forth upon the world with a brilliance perhaps unknown before. Of course, therefore, Hinduism is the most tolerant of all religions. Its creed is all-embracing.

خواہ اسے خوش قسمتی سے تعبیر کیا جائے یا بدقسمتی سے کہ یہ کسی سرکاری عقیدے کا حامل مذہب نہیں ہے۔ اپنے سلسلے میں کسی غلط فہمی کے ازالے کے سلسلے میں میں نے بارہا یہ کہا ہے کہ سچائی اور عدم تشدد میرا عقیدہ ہے ۔اگر مجھ سے ہندو عقیدے کا تعارف معلوم کیا جائے تو میں غیر متشددانہ ذرائع سے حق کی تلاش جیسے سادہ الفاظ سے اس کی تعبیر کروں گا۔  کسی کے ہندو ہونے کے لیے خدا پر اعتقاد ضروری نہیں ہے۔ فی الواقع یہ تمام مذاہب کے سلسلے میں انتہائی روادار ہے۔ اس کی آغوش میں ہر شخص کے لیے گنجائش ہے۔

مہاتما گاندھی جی کی ہندو دھرم پر بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں انہوں نے  ان تمام موضوعات کو اٹھایا ہے جو ہندو دھرم کی روح ہیں ۔

گاندھی جی نے عدم تشدد اور سچائی کو لازمی عنصر قرار دیا ہے ۔ ظاہر ہے عدم تشدد اور سچائی ایسا عمل اور طریقہ کار ہے جو معاشرتی زندگی کو خوبصورت اور پر امن بناتا ہے، عدم تشدد کے فلسفہ پر عمل کرنے سے صرف کسی خاص کمیونٹی اور معاشرے میں امن نہیں آتا ہے بلکہ سماج کے تمام طبقات میں امن و امان کی فضا ہموار ہوتی ہے۔ سب سے بڑی بات ہندو دھرم کے متعلق گاندھی جی نے یہ کہی ہے کہ غیر متشددانہ طریقہ سے حق کی تلاش کا نام ہندو دھرم ہے ۔ اس لیے آج بھی ضرورت ہے کہ ہم ان خطوط کے مطابق ہندو دھرم پر عمل پیرا ہوں جن تشدد نہیں ہے ۔ عہد حاضر میں ہندو دھرم کی جو تصویر پیش کی جارہی ہے وہ کسی بھی طرح ان روایات سے ہم آہنگ نہی ہے جو ہندو دھرم میں موجود ہیں ۔ متشددانہ طریقہ کار اور عمل و سوچ سے بچنا نیز سماجی رابطوں کو مستحکم کرنا ، انسانیت کے دکھ درد اور اس کی ضرورتوں میں کام ، بھوکے کو کھانا کھلانا اور پیاسے کو پانی پلانا ہندو دھرم میں بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ افسوس آج ہم سماج کی ان بنیادی ضرورتوں سے ہٹ کر کام کررہے ہیں ۔

دوسری بات یہ ہے کہ  گاندھی جی نے Hindu Dharma کے عنوان سے جو کتاب تحریر کی ہے اس کے مطالعہ سے گاندھی جی کے  متعلق پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے ہندو دھرم کے مطالعہ کے لیے کیا طریقہ کار اور طریقہ تحقیق اختیار کیا ہے ۔  نیز اس بات کا بھی انکشاف ہوتا ہے کہ کسی بھی دھرم کا مطالعہ بڑی توسع اور فراخ دلی سے کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب ہم دوسرے مذاہب کی خوبیوں کا اعتراف کریں گے  یکجہتی کے فروغ کے لیے ان خوبیوں کو لازمی گردانیں گے تبھی جاکر حقیقی پر امن سماج کا حقیقی تصور ابھر کر سامنے آئے گا ۔

---------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/mahatma-gandhi-study-hindu-dharma/d/135937

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..