New Age Islam
Mon Jun 15 2026, 01:16 AM

Urdu Section ( 3 Apr 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Extensive Study Is Essential For Quality Research معیاری تحقیق و تدوین کے لیے کثرت مطالعہ ناگزیر

ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی ، نیو ایج اسلام

3 اپریل 2025

یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ معاشرتی ترقی اور سماجی فلاح و بہبود نیز تحمل و انگیز کو مستحکم  کرنے کے لیے علم و دانش نظریاتی توسع کی بنیادی ضرورت ہے ۔ یعنی وہ معاشرے  ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں جن کا شوق و ذوق علمی و تحقیقی قدروں کو پروان چڑھانا ہوتا ہے ۔ جدید ایجادات و اختراعات اور نئی معلومات  و انکشافات کو وہ اپنے لیے فال نیک سمجھتے ہیں اور پھر اپنی نوجوان نسل کو اس جدید علم و ادب اور فن کو حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں ۔ بالفاظ دیگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ترقی کی بلند ترین منازل طے کرنا ان کا نصب العین ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سماج میں اگر کوئی فرد علم و تحقیق کے شعبہ میں انفرادیت اور امتیازی مقام حاصل کرلیتا ہے تو اس کے عمل و کردار اور شوق و جذبہ کی  سب توصیف  کرتے ہیں ۔ بلا تفریق ایسے فرد کا کردار سب کے لیے نمونہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ علمی و فکری موضوعات ہوں یا تحقیق و تدوین کے مسائل ہوں، مسلم معاشرے میں ابھی تک اس کا رجحان بہت کم ہے  بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ تعلیم کے حوالے سے جو تنزلی  مسلم کمیونٹی میں پائی جاتی ہے وہ پوری طرح عیاں ہے۔ جہاں تک معیاری تحقیق و تدوین اور ریسرچ و بحث کے مسائل ہیں ان سے تو ہمارا معاشرہ اور بھی دور ہے ۔ ہاں ہمارے یہاں روایتی  تصنیف و تالیف کا زور زیادہ ہے،  معیاری کتب و مقالات اور مضامین و تحریریں کا وجود بہت کم ملتا ہے ۔ جب کہ سچ یہ ہے کہ علم و ادب کا کوئی بھی گوشہ اس وقت تک معیاری نہیں کہا جاسکتا ہے جب کہ اس میں کام کرنے والے افراد و اشخاص تحقیق و تدوین کے جملہ تقاضوں کو ملحوظ نہ رکھیں ۔ تحقیق کی قدریں یا تدوین کے مسائل سے عدم واقفیت کی بناء پر بھی معیاری ادب ترتیب و تبویب کے زیور سے آراستہ نہیں ہوپاتا ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مطالعہ کا فقدان ہے ۔ محقق کو مطالعہ کا خوگر ہونا چاہیے ۔ کثرت مطالعہ سے نہ صرف علم و فضل میں اضافہ ہوتاہے بلکہ شعور و آگہی اور ادراک و احساس میں بھی پختگی  آتی ہے ، لہذا معیاری اور بامقصد ادب تخلیق کرنے کے لیے بنیادی اور  پہلا اصول یہ ہے کہ مطالعہ کی اہمیت و افادیت پوری طرح ذہن نشین رہے ۔ خواہ اس کا تعلق کسی بھی موضوع سے ہو ، جو چیزیں بغیر مطالعہ اور بلا  سوچے سمجھے وجود میں آرہی ہیں ان کا فائدہ نہ ہی تو مصنف کو ہوگا اور نہ اس سماج کے لیے جس کی خاطر یہ سب لوازمات اختیار کیے جارہے ہیں ۔ لہذا معیاری اور بامقصد ادب تخلیق و تدوین  کرنے کا بنیادی اصول مطالعہ اور کتب بینی ہے ۔

یہ ایک صداقت ہے کہ آج کثرت سے تصنیف و تالیف کا کام ہو رہا ہے چار کتابوں کو سامنے رکھ کر پانچویں کتاب تیار ہوجاتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایسی تالیف سے معاشرے کو کیا فیض پہنچ رہا ہے یہ خود صاحب تالیف اور ان اداروں کو سوچنا ہوگا جو اس طرح کے کام کو کراتے ہیں ؟ کمال یہ نہیں کہ ہم صاحب تصنیف و تالیف ہوجائیں یا ہماری مارکیٹ میں زیادہ کتابیں آجائیں ۔ بلکہ اہم یہ ہے کہ اگر چہ پوری زندگی میں ایک ہی کتاب لکھی جائے لیکن وہ اپنے معیار اور موضوع کی مناسبت سے سند و متن کا درجہ رکھتی ہو ۔ جس میں تدبر و تفکر اور فکر و نظر کے اعتبار سے بھی افادیت کی حامل ہو اور اس کے مباحث و مضامین معاشرے کے تئیں بھی سود مند ہوں ۔

اسی طرح اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ آج زیادہ تر ادب سوانح عمری و حیات و خدمات یا اسی طرح کے دیگر غیر حساس موضوعات پر ترتیب دیا جارہاہے ۔ اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ جو عہد حاضر کے اہم اور ضروری مسائل ہیں ان پر توجہ مبذول نہیں ہوپاتی ہے جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ اہم چیزوں سے ناآشنا رہتا ہے ۔  یہ رویہ بھی علمی و تحقیقی حلقوں میں غیر معتبر اور غیر اہم مانا جاتاہے ۔ البتہ اگر کوئی شخصیت واقعی ایسی ہے جس کے افکار و نظریات اور حیات و خدمات سے ارباب علم و ادب کے  علم میں اضافہ ہوگا یا معاشرے میں ان کے توسل سے  کوئی تحریک پیدا ہوگی تب تو ایسی شخصیات پر کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

معیاری اور بامقصد تخلیق کے لیے دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ مصنف جانب دار نہیں ہو ۔ اگر کوئی مصنف پہلے سے رائے بنا کر یا ایک فکر و نظر پر منحصر ہوکر اسی تناظر میں تحقیق و تدوین کے عمل کو انجام دے رہا ہے تو پھر یقین جانیے وہ معیاری تخلیق نہیں ہوسکتی ہے ۔ جانب داری ایک ایسا کردار ہے جو نہ صرف معاشرتی نظام سماجی اتحاد اور  رواداری میں دراندازی کرتا ہے بلکہ اس سے ہر وہ عمل متاثر ہوتا ہے جو اس رجحان و نظریہ کے ساتھ انجام دیا جائے ۔ تحقیق و تدوین تو ایسا میدان ہے کہ یہاں صرف حقائق و معارف اور براہین و دلائل کو سامنے رکھ کر گفتگو ہونی چاہیے ۔ بلکہ ایک سچے اور امانت دار محقق و مصنف کا یہ فرض ہے کہ وہ سچ کا برملا اظہار کرے گرچہ وہ سچ اس کے اپنے نظریات و افکار اور عقائد و اعمال کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

عہد حاضر میں اگر ہم اس اصول کے تناظر  میں تصنیفات و تالیفات اور مضامین و مقالات کا تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا کہ زیادہ تر ایسی تخلیقات ہیں جو جانب داری کے شکار ہیں ۔ یا پہلے سے کوئی نظریہ قائم کرلیا ،اسی کے تحت دلائل جمع کرلیے، مخالف نظریات کو نہ ایمانداری سے پڑھا اور نہ  اس کی طرف سے دلائل پیش کیے۔ اس  طرح کا کام تحقیق و تدوین اور معیاری تصنیف و تالیف میں ہر گز نہیں ہوتا ہے بلکہ ایسا عمل مناظر انجام دیتا ہے کیونکہ اسے اپنے مخالف کے جملہ دلائل کو رد کرنا ہوتا ہے؛ اس لیے وہ اسی طرح کا مواد جمع کرتا ہے تاکہ اپنی فکر و نظر اور اپنے عقیدہ کو مد مقابل پر غالب کرسکے۔

محقق کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ  سماج و معاشرے کو  مسائل و حقائق سے واقف کرائے اپنے نظریات اور عقیدے کی قطعی رعایت نہ کرے جب اس طرح کی تحقیقات سامنے آئیں گی تو یقین جانیے ان سے صرف ملی و سماجی سطح پر  ہی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ عالمی افق پربھی ایسی تحققیات کے  مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ محقق کی امتیازی شناخت یہ ہے کہ اس عمل و کردار اور عقیدہ فکر اس کی تحقیق  کو ہر متاثر نہ کرے؛ اسی طرح محقق کا اس کی اپنی تحقیق و تدوین کے خلاف فکر و عقیدہ  کا ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہونا  چاہیے۔ 

 یہ واضح رہے کہ علم وتحقیق اور فکرو نظر کی دنیا واحد ایسی دنیا ہے جس میں صرف اور صرف حقائق کا اعتراف و اقرار کیا جاتاہے ، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ عالمی سطح پر لوگ اس کے ساتھ بھی ایمانداری اور دیانت کا رویہ نہیں اپنا رہے ہیں بلکہ اپنے مسلک و مشرب اور محدود مفادات کی خاطر اس کوبری طرح پامال کررہے ہیں۔  یہ پریشانی صرف مسلم  کمیونٹی یا  مسلم اداروں کی ہی میں نہیں ہے بلکہ آج جن اداروں اور جن محققین کو معیاری تحقیق کا ستون سمجھا جاتاہے انہوں نے تو مزید اس کا تیا پانچہ کیا ہے۔ مغربی اداروں اور انجمنوں کی اسلام پر کی جانے والی بیشتر تحقیقات جانب داری اور دیانت و امانت سے پوری طرح خالی ہیں ۔ انہوں نے نہ صرف ایک  نظریہ قائم کرلیا کہ اسلام کے خلاف کام کرنا ہے سو وہ اسی نہج پر چیزوں کو پیش کرتے ہیں حالانکہ کا ان کا نعرہ بڑا خوبصورت اور دلکش ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم علم و تحقیق کی دنیا میں ایسی طرح ڈالیں جو صرف ہمارے لیے ہی باعث افتخار نہیں ہو بلکہ دیگر معاشروں کے لیے بھی وہ نمونہ ہو ۔

غیر جانب دار تحقیق کے بے شمار فوائد ہیں ان میں ایک بنیادی فائدہ یہ ہے کہ ایسی تحققیات معاشروں میں ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دیتی ہیں۔ غلط فہمیوں اور بلا تحقیق رائج سماج سے شکوک وشبہات کا ازالہ ہوتاہے ۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ اگر کوئی تحقیق ایسی سماج میں جائے جس میں جانب داری یا ایک نظریہ کا خیال رکھا گیا ہو اور دوسرے پر الزام و اتہام کی  یورش کی گئی ہو، مخالف نظریات کا ایمانداری سےدفاع بھی نہیں کیا گیا ہو تو واقعی سماج کا ایک گروہ ضرور متاثر ہوگا ۔ علاوہ ازیں علمی و نظریاتی توازن برقرار رکھنا اور اس کا معاشرے میں فروغ دینا بے حد ضروری ہے اس عمل کی انجام دہی کے لیے بھی اسی فلسفہ کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہاں اس کے باوجود علمی حلقوں میں کوئی نظریاتی اور فکری بحث چھڑتی ہے تو وہ نہ صرف اہل علم کے لیے مفید ہے بلکہ اس سے سماج کو بھی فائدہ پہنچتا ہے ۔

ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنی ہوگی کہ آج کا سماج  منطقی اور معقول بنیاد پر چیزوں کو پرکھتا ہے اور سمجھنے کی سعی کرتاہے ہے ایسے میں بحیثیت مسلمان ہمارا کردار جملہ شعبہ حیات اور علمی و تحقیقی میدان میں کس طرح کا ہونا چاہیے یہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں ۔ اس تناظر میں  جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ابو ریحان بیرونی نے ہندو دھرم کا واقعی ایمانداری اور معروضی مطالعہ کرکے مثال قائم کی ہے ۔ انہوں نے ہندو دھرم کی تعلیمات کو پیش کرنے میں کسی بھی طرح کی ڈنڈی نہیں ماری، اگر وہ جانبدار ہوتے اور اپنے عمل میں مخلص نہیں ہوتے تو یقیناً انہیں ایسا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا ۔ کیوں کہ انہوں نے انڈو لوجی پر جو دستاویز تیار کی ہے  جسے کتاب الہند کے نام سے موسوم کیا جاتاہے وہ عربی زبان میں ہے اور جس وقت یہ کتاب لکھی گئی یا  جن  افراد کے درمیان رہ کر یہ کتاب لکھی وہ تو یقیناً عربی نہیں جانتے ہوں گے ۔ ان کی علمی دیانت اور معیاری تحقیق کی ایک واضح علامت یہ بھی ہے کہ انہوں نے باقاعدہ سنسکرت زبان سیکھ کر ہندو دھرم پر کام کیا، اپنے تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر اور اس وقت ہندو دھرم میں جو باتیں رائج تھیں یا جو عقائد و نظریات اور اعمال و احکام ان کے جاری وساری تھے انہیں من وعن بلا کسی لاگ لپیٹ کے پیش کردیا۔

------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/extensive-study-essential-research/d/135048

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..