New Age Islam
Fri Apr 03 2026, 04:44 AM

Urdu Section ( 27 Jun 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Concept of Peace In Hindu Dharma ہندو دھرم میں امن کا تصور

ڈاکٹر ظفر دارک قاسمی ، نیو ایج اسلام

27 جون 2025

ہندومت جو دنیا کے قدیم ترین زندہ مذاہب میں سے ایک   ہے، امن کو ایک گہرا روحانی مفہوم عطا کرتا ہے۔ عام خیال کے برعکس، جس میں امن کا مطلب صرف جنگ یا تشدد کا نہ ہونا ہے، ہندو مت امن (شانتی) کو باطنی ہم آہنگی، متوازن طرزِ زندگی اور کائناتی باہمی وجود کی حالت کے طور پر دیکھتا ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ اصل امن انسان کے اندر سے شروع ہوتا ہے اور پھر فرد، معاشرے اور پوری کائنات تک پھیلتا ہے۔

چنانچہ اس مضمون میں  ہندو دھرم کے حوالے ان تعلیمات کو پیش کیا جائے گا جو امن کی علمبردار ہیں ۔

واضح رہے کہ کہ امن و سلامتی اور سکون و اطمینان ہر معاشرے کی ضرورت ہے ۔ امن کا مطلب جہاں ظاہری طور پر سماج پر امن اور سکون سے رہے تو وہیں اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ روحانی ، اخلاقی اور فکری طور پر بھی معاشرہ امن کا گہوارہ بنا رہے ۔ اس لیے ایک صحت مند اور صالح معاشرے کا وجود اسی وقت ممکن ہے جب کہ جسمانی امن کے ساتھ ساتھ ہم روحانی امن کے لیے بھی جد و جہد کریں ۔ ہندو دھرم جسے قدیم ہندو کتابوں میں ویدک دھرم اور سناتن دھرم کے نام سے جانا جاتا ہے ایسی بہت سی تعلیمات ملتی ہیں کہ جنہیں اختیار کرکے معاشرے کو ہر طرح سے امن و امان گہوارہ بنایا جاسکتا ہے ۔ افسوس یہ یہ ہے کہ آج ہندو دھرم کی ان تعلیمات پر قطعی عمل درآمد نہیں ہورہا ہے جو سماج کی فلاح کا ذریعہ ہیں ۔

  شانتی (امن) کا مطلب

سنسکرت زبان میں "شانتی" کے معنی ہیں: امن، سکون، اور اطمینان۔ یہ صرف خاموشی یا جھگڑے کے نہ ہونے تک محدود نہیں بلکہ یہ جسم، ذہن اور روح کے پُرسکون اور ہم آہنگ ہونے کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ہندو فلسفے میں، روحانی ترقی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے امن نہایت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو عبادات اور منتر میں شانتی کو بار بار پکارا جاتا ہے جیسے

اوم شانتی، شانتی، شانتی

(جسم، ذہن اور ماحول – تینوں میں امن ہو)

اندرونی امن اور خود شناسی

ہندو مت سکھاتا ہے کہ حقیقی امن انسان کے باطن سے حاصل ہوتا ہے۔ خود پر قابو، مادی خواہشات سے علیحدگی، اور آتما گیان (روح کی پہچان) کے ذریعے اندرونی سکون حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایک پُرامن ذہن ہی ایک پُرامن زندگی اور دنیا کی بنیاد ہوتا ہے۔

مراقبہ، یوگا، دعا اور جپ (مقدس ناموں کا ورد) جیسے روحانی اعمال انسان کو سکون دیتے ہیں اور اُسے خُدا سے جوڑتے ہیں۔

دھرم – نیک کردار

ہندو ازم میں "دھرم" یا راست زندگی گزارنے کا نظریہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب فرد ایمانداری اور بے غرضی سے اپنے اخلاقی اور سماجی فرائض ادا کرتا ہے، تو وہ نہ صرف ذاتی سکون حاصل کرتا ہے بلکہ معاشرے کی بھلائی میں بھی حصہ ڈالتا ہے۔ دھرم میں سچائی، چوری سے بچنا، مہربانی، اور ذمے داری شامل ہیں۔ جو شخص دھرم کی پیروی کرتا ہے، وہ خاندان، سماج اور فطرت میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

معاشرے میں میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور اور حقوق کا خیال رکھنا بھی امن کا سب سے بڑا داعی اور علمبردار ہے ۔ معاشرتی سطح پر جب ہم دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ بدعنوانی اور بد امنی کی  ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم سماج میں رہتے ہوئے ان حقائق اور تقاضوں سے انحراف کرتے ہیں جو سماج کی انتھک ضرورت ہیں اور جن کو اختیار کرلے سماج میں شانتی کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔۔ اس طرح کی برائیاں آج کسی خاص کمیونٹی میں نہیں ہیں بلکہ تمام طبقات اس برائی میں کسی نہ کسی حد تک ملوث نظر آتے ہیں ۔  ہندو مت میں " دھرم" یعنی نیک کردار کو جو تصور دیا ہے وہ امن کے قیام کے لیے بہت ہی اہم ہے ۔

 اہنسا – عدم تشدد کا اصول

اہنسا یعنی "عدم تشدد" ہندو مت کی اعلیٰ ترین اقدار میں سے ایک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی جاندار کو خیال، زبان یا عمل سے نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اہنسا محبت، ہمدردی، رواداری اور تمام زندگی کی عزت سکھاتا ہے۔ گاندھی جی جیسے عظیم ہندو رہنماؤں نے اسی اصول کے تحت معاشرتی انصاف اور امن کو فروغ دیا۔ ماہر لسانیات نے لکھا ہے کہ

سنسکرت لفظ "اہنسا" دو حصوں پر مشتمل ہے

" ا" ( نفی)

" ہنسا" ( نقصان پہنچانا)

یعنی "نقصان نہ پہنچانا"۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ صرف جسمانی نقصان سے روکنے والی تعلیم نہیں بلکہ ذہنی و جذباتی تشدد سے بھی بچنا سکھاتی ہے ۔ اس تناظر میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اہنسا ایک ایسا طرز عمل اور طرزِ  زندگی ہے جو امن ، رواداری ، ہمدردی ،انسان دوستی اور ہم آہنگی پرمبنی ہے ۔ ظاہر ہے یہ تمام وہ اصول ہیں جن کو اختیار کرکے سماج کو حقیقی معنوں میں پر امن بنایا جاسکتا ہے ۔

اہنسا کا اہم پہلو جذباتی تشدد سے بچانا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم جذباتی تشدد کے ہی زیادہ شکار ہیں ۔ اس لیے ہمیں اہنسا پر مکمل طور پر عمل کرنے کے لیے جذباتی تشدد سے بھی بچنا ہوگا ۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اہنسا کی بنیاد: روحانیت اور یکجہتی ہے یعنی

ہندو مت میں یہ مانا جاتا ہے کہ ہر جاندار میں "آتما”  (روح) موجود ہے، اور یہ آتما دراصل "پرماتما" (خدا) کا ہی ایک حصہ ہے۔ جب ہم کسی کو نقصان پہنچاتے ہیں، تو گویا ہم خدا کے مظہر کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی نظریے کی بنیاد پر اہنسا کو ایک روحانی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اہنسا کی تعلیم ہندو دھرم کے مذہبی مصادر میں بخوبی ملتی ہے چنانچہ بھگوت گیتا میں ارجن کو جنگ کے لیے آمادہ کیا گیا، مگر اس کی بنیادی روح یہی ہے کہ کسی بھی عمل میں ذاتی لالچ، نفرت یا جذباتی غصہ نہ ہو۔ اگر جنگ بھی کی جائے تو وہ صرف دھرم کی بحالی اور ناانصافی کے خاتمے کے لیے ہو، نہ کہ بدلے یا ظلم کے لیے۔

پتنجلی یوگ درشن کے مطابق اہنسا یوگ کا پہلا اصول (یَم) ہے۔ جو شخص اہنسا پر عمل کرتا ہے، وہ کسی کو خوف میں مبتلا نہیں کرتا، اور وہ خود بھی کسی خوف کا شکار نہیں ہوتا۔ اہنسا پر کامل عمل انسان کو روحانی طور پر پاک کرتا ہے۔ ہندو مذہبی کتابوں اور ہندو فلسفہ میں اہنسا کے درج ذیل عملی پہلوؤں کا ذکر ملتا ہے۔

خیالات میں اہنسا

کسی کے بارے میں نفرت، غصہ، یا بدلہ لینے جیسے خیالات بھی تشدد کی صورتیں ہیں۔ اہنسا ان سے دوری کا نام ہے۔

زبان میں اہنسا

تلخ، بدتمیز، اور توہین آمیز زبان بھی تشدد ہے۔ اہنسا کا تقاضا ہے کہ انسان نرم، سچّا اور محبت بھرا لب و لہجہ اپنائے۔

عمل میں اہنسا

جسمانی طور پر کسی جاندار کو نقصان پہنچانا، چاہے وہ انسان ہو یا جانور، اہنسا کے خلاف ہے۔

گویا اہنسا کا واضح مطلب یہ ہے کہ کسی بھی طرح سے نقصان نہیں پہنچنا چاہیے ۔ افسوس کہ آج عمدا ایک خاص کمیونٹی کو نقصان پہنچایا جارہا ہے جوکہ ہر اعتبار سے غلط ہے ۔ یہ بات ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ

مہاتما گاندھی نے اہنسا کو اپنی زندگی اور سیاست کا ستون بنایا۔ اُن کے مطابق

(اہنسا  کمزوروں کا ہتھیار نہیں بلکہ بہادروں کا راستہ ہے) ساتھ ہی ساتھ یہ کہنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ

 اہنسا ہندو مت کا بنیادی اصول ہے، لیکن اس کا تصور بدھ مت، جین مت، اور دیگر مذاہب میں بھی ملتا ہے۔ بدھ مت میں بھی ہر جاندار کے ساتھ ہمدردی کی تعلیم دی گئی ہے، اور جین مت تو اہنسا کو مذہبی فریضہ مانتا ہے۔

موجودہ دنیا میں جہاں تشدد، جنگ، نسل پرستی، مذہبی منافرت اور ماحولیاتی تباہی عام ہو چکی ہے، وہاں اہنسا کی تعلیم بہت اہم ہو گئی ہے۔ اگر انسانیت اس اصول کو اپنا لے تو دنیا میں:

جنگیں ختم ہو سکتی ہیں۔

انسان اور فطرت میں ہم آہنگی آ سکتی ہے۔

معاشرتی نفرتیں ختم ہو سکتی ہیں۔

روحانی و ذہنی سکون حاصل ہو سکتا ہے۔

اہنسا، ہندو مت کی سب سے عظیم اخلاقی تعلیم ہے جو انسان کو اندر اور باہر دونوں طرف سے پاک کرتی ہے۔ یہ صرف ایک اصول نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ کیسے محبت، ہمدردی اور عزت سے پیش آئیں۔ آج کے دنیاوی انتشار میں اہنسا ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو امن، انصاف اور روحانیت کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

واسو دھیو کٹمبکم – ساری دنیا ایک خاندان

یہ ویدک تعلیم اس بات پر زور دیتی ہے کہ "پوری دنیا ایک خاندان ہے"۔ یہ نظریہ عالمی بھائی چارے، رواداری، اور مذاہب، نسلوں، اور قوموں کے درمیان باہمی احترام و اعتماد  کی تعلیم دیتا ہے۔ اس تصور سے عالمی سطح پر پرامن بقائے باہمی کو فروغ ملتا ہے۔

کرم اور پُرامن زندگی

ہندو مت میں "کرم" کا قانون بتاتا ہے کہ ہر عمل کا ایک نتیجہ ہوتا ہے۔ نیک اعمال امن و خوشی کا سبب بنتے ہیں جبکہ برے اعمال دکھ اور تکلیف لاتے ہیں۔ اس عقیدے کی بنا پر انسان کو شعور، انصاف، اور ہمدردی کے ساتھ عمل کرنے کی تلقین کی جاتی ہے تاکہ ایک پُرامن معاشرہ قائم ہو۔

ہندو عبادات اور صحیفوں میں امن

ہندو مت میں امن کو صرف ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ ایک الٰہی ہدف سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً ہر دعا اور رسومات کا اختتام امن کی خواہش پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر:

"سروے بھونتو سکھینہ، سروے سنتو نرامیہ..."

(سب خوشحال ہوں، سب بیماریوں سے محفوظ رہیں...)

ویدوں میں پائے جانے والے "شانتی منتر" پوری کائنات – انسان، حیوان، فطرت، اور عناصر – کے لیے امن کی دعائیں ہیں۔

امن اور فرض کا توازن

اگرچہ ہندو مت امن کو بہت اہمیت دیتا ہے، مگر وہ اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ جب دھرم (راستبازی) خطرے میں ہو تو اُس کی حفاظت ضروری ہے۔ "بھگوت گیتا" میں سکھایا گیا ہے کہ اگر پُرامن طریقے ناکام ہو جائیں تو انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کرنا واجب ہو جاتا ہے – لیکن بغیر نفرت اور خود غرضی کے، صرف دھرم کی بحالی کے لیے۔

ہندو مت میں امن ایک گہرا روحانی مقصد ہے، صرف دنیاوی سکون نہیں۔ یہ اندرونی پاکیزگی، نیک طرزِ زندگی، عدم تشدد، اور عالمی بھائی چارے پر مبنی ہے۔ ہندو مت ایک ایسی دنیا کا تصور پیش کرتا ہے جہاں سب مخلوقات ہم آہنگی سے جی رہی ہوں – زبردستی نہیں، بلکہ فہم، محبت، اور روحانی حکمت کے ذریعے۔ اس نظریے میں امن کوئی حتمی منزل نہیں بلکہ خود شناسی، ہمدردی، اور الٰہی تعلق کا ایک مسلسل سفر ہے۔

---------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/concept-peace-hindu-dharma/d/135998

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..