New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 12:16 AM

Urdu Section ( 12 Dec 2014, NewAgeIslam.Com)

Muslims Participation in the Knowledge of Science – Part-1 (علوم سائنس میں مسلمانوں کی حصہ داری ( حصہ اوّل

 

ظفر دارک قاسمی

12 دسمبر، 2014

تعلیم کی ضرورت ہر معاشرے اور سماج کو ہے تعلیم کاحصول تہذیب و ثقافت کی روشنی پر گامزن کراتا ہے بے راہ روی ،جہالت نادانی کےغا ر سے نکالتا ہے۔ جو معاشرے تعلیم کو اوڑھنا بچھونا بناتا ہے وہ یقیناً غربت و افلاس تشدد بربریت سماجی نا ہموار لسانی  قومی تفاخر اور عصبیت و انانیت جیسی برائیوں سے پاکیزہ ہوتا ہے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ تعلیم  کے فروغ اور اس کے حصول پر توجہ دیں ۔ دینی علوم کے ساتھ  ساتھ عصری علوم کو بھی حاصل کرناہماری تہذیب کا حصہ رہاہے۔ اگر ہم تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو اندازہ ہوتاہے کہ مسلم قوم میں قد آور اساطین علم پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے علم کی روشنی سے مغرب و مشرق دونوں کو سیراب کیا ہے  اور انہوں نے سائنسی ایجادات عصری  علوم پر اپنے گہرے تقوش  چھوڑے ہیں۔ جنہیں تاریخ کبھی محو نہیں کرسکتی چنانچہ سطور ذیل میں چند ائمہ علم و فن کا تعارف پیش کیا جائے گا تاکہ اندازہ  ہوکہ عصری علوم و فنون ہماری گود سے نکلے ہیں مغرب نےتو اسے اپنالیا مگر مسلمانوں نے بھلا ڈالا۔ جس کی بنا پر مسلم قوم پس ماندہ ، شکست و ریخت کی شکار ہے۔

خوار زمی :ان کا نام عبداللہ بن محمد بن موسیٰ خوار زمی تھا ۔ آپ مشہور علم دوست او رعلم  پرر خلیفہ ‘ مامون’ کی سرپرستی میں ان کے قائم کردہ ادارے ‘‘ بیت الحکمت ’’ میں علمی  خدمات انجام دیتے تھے ۔ خوارزمی نے عالمگیر شہرت پائی ان کی شہرت کی ایک اہم وجہ ان کی مشہور زمانہ ریاضی کی کتاب ‘‘ المختصر فی حساب الجبر و المقابلہ ’’ ہے۔ ان کی علم جغرافیہ کیلئے انجام دیئے  جانے والی خدمات کی ایک طویل فہرست ہے۔ جن کا ذکر یہاں طوالت کا باعث ہے اس میں سے ایک کارنامہ ( صوۃ الارض) نامی کتاب کی تصنیف بھی ہے جس میں انہوں نے مختلف قدرتی اور آدم ساز ( انسانو کے بنائے ہوئے) خطے مثلاً پہاڑوں سمندروں،  جزیروں ، دریاؤں نہروں اور شہروں کو ان کے ناموں کی ترتیب کے اعتبار سے ارضیاتی نقشہ جات میں وقت اور تصحیح  کے ساتھ  ذکر کیا ہے ۔ اس کے لئے انہوں نے ‘‘ علم الفلکیات ’’ کے ایک اہم ترین مفروضے یعنی کرۂ ارض کی سات براعظموں میں تقسیم کا سہارا لیا  ہے اور نقشہ سازی کے فن میں علیحدگی اور جدت طرازی کی ایک مثال قائم کی ۔ بعض مغربی مصنفین نے ان کی کتاب پر ان  الفاظ میں تبصرہ کیا ہے ۔ ‘‘ پوری مغربی تہذیب اس کتاب کےمقابلے میں کوئی ایک تصنیف پیش نہیں کر سکتی کہ جس پر وہ فخر کر سکے ۔ بلاشبہ اس کتاب نے علم الجغرافیہ پر بڑا گہرا اثر ڈالا  ہے۔’’

یعقوبی : ان کا نام احمد بن وہب یعقوبی او رکنیت ابو العباس تھی ۔ ان کی پیدائش بغداد میں ہوئی اور 298 ھ ( 891ء) میں وفات  پائی ۔ وہ اپنی جوانی کے ابتدائی زمانے ہی سے سیر و سیاحت او رسفر کے شوقین تھے ۔ ان کو شہروں کے احوال ان کو ملانے والے راستوں اور ان کے درمیان مسافتوں کی پیمائش سے واقفیت  حاصل کرنے کا جنون تھا ۔ ان کی کتاب ‘‘ البلدان ’’ AL- BALDAN کے مخطوطے  کا شمار  ہمارے زمانے میں پائے جانے والے اہم ترین جغرافیائی  مخطوطات میں سے ہوتا ہے ۔ ان کا انداز تحریر آسان، سہل اور سلیس تھا ۔ وہ نہایت خوبصورت انداز میں اپنی معلومات قارئین کے سامنے پیش کرتے تھے ۔ انہوں نے زمین کو جہات اصلیہ اربعہ یعنی مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب کا اعتبار کرتے ہوئے چار اقسام میں تقسیم کیا۔ بر اعظموں کو سلطنتوں اور ملکوں میں تقسیم کے اعتبار سے یعقوبی کو علم جغرافیہ کا  مجدد سمجھا جاتا ہے ۔

ھمدانی : ان کا نام حسن بن احمد بن یعقوب ہمدانی تھا اور کنیت ابو محمد تھی یہ یمنی تھے ۔ یمن میں پیدا ہوئے اور وہیں  پرورش پائی ۔ یمن کے شہر صنعا ء میں 280 ھ میں ولادت اور 334 ھ  میں وفات پائی ۔ وہ علم تاریخ کے بحر پیکراں تھے ۔ جغرافیہ اور فلکیات سے بڑی اعلیٰ درجے کی واقفیت تھی ۔ ان کا شمار ‘‘براعظمی جغرافیہ ’’ پر قلم اٹھانے والے اہم ترین مصنفین کے طور پر ہوتا ہے ۔ اس صنف میں ان کی کتاب صنعۃ جزیرۃ  العرب ’’ اپنی نوعیت کی انوکھی کتاب شمار ہوتی ہے۔ ہمدانی نے اپنی اس کتاب کی ابتدا ء بطور تمہید یا ضیائی جغرافیہ سے کی اور طول البلد کے خطوط اور عرض البلد کے دائروں کے تعین کے مختلف طریقوں کو تفصیل سے بیان کیا اور ‘‘ بطلیموس ’’ کی پیروی کرتے ہوئے زمین کو سات براعظموں میں تقسیم کیا اور آخر میں کتاب کے بنیادی  موضوع  یعنی ‘‘ جزیرۃ العرب کی ارضیاتی تقسیم ’’ کو بیان کرتے ہوئے سرزمین عرب کو نجد ، تہامہ ، حجاز ، عروض اور صیحن پانچ مناطق میں تقسیم کیا اور ہر  کی تفصیل بیان کی ۔

البیرونی : ان کا نام ‘‘ محمد بن احمد البیرونی ’’ تھا ۔ یہ بیرون میں 362 ھ ( 973ء) میں پیدا ہوئے ۔ علم المثلث ریاضی ، جغرافیہ ، علم نجوم ، کیمیا او رکئی علوم میں مہارت حاصل کی اور بالآخر ان میں امامت کے  درجہ کو پہنچے ۔ انہوں نے اپنی تصنیفات میں خصوصی طور پر اس نکتے پر زور دیا ہے کہ خط استوا کے جنوب میں واقع علاقوں میں اس وقت سردی کاموسم ہوگا جب ہمارے ہاں یعنی خط استوا کے شمال میں واقع علاقوں  میں گرمی کا موسم ہوتا ہے ۔ بعد میں یہی نکتہ  اس نظریہ کی بنیاد بنا کہ کرہ ارض کے چار مختلف موسم اس کے قطبی محور پر 23.5 درجے کے جھکاؤ کے ساتھ گھومنے کا شاخسانہ ہیں ۔ البیرونی کی جغرافیہ کے عنوان پر تصنیفات میں سے ایک اہم تصنیف ‘‘ تحدید نہایۃ الا ماکن تصحیح  سافات المساکن’’ ہے جو اپنے موضوع پر سند سمجھی جاتی ہے ۔

البکری : ان کا نام عبداللہ اورکنیت ( ابوعبید) تھی ، اندولس کے شہر قطبہ میں 432 ھ میں ولادت اور 487ھ میں وفات ہوئی ۔ ان کو بلا اختلاف بلاد اندلس  کا عظیم ترین جغرافیہ دان مانا جاتا ہے ۔ ان کی علم جغرافیہ میں دو مشہور اور اہم تصنیفات ہیں ۔ ایک کا نام ‘‘ المسالک و الممالک’’ ہے۔ اس کتاب سے بعد کے جغرافیہ دانوں کی ایک بڑی تعداد جیسے یا قوت اور دمشقی وغیرہ نے کافی استفادہ حاصل کیا ۔ دوسری تصنیف میں انہوں نے شہروں کی معجم حروف  تہجی  کے اعتبار سے ترتیب دی ۔ اس کتاب کو بھی اپنی نوع میں ایک بے مثال تصنیفی  کار نامہ سمجھا جاتاہے کیونکہ یہ بیک وقت جغرافیہ ، قدیم عربی تاریخ  اور اشعار جاہلیہ  جیسے موضوعات پر مشتمل ہے۔

ادریسی : ان کا نام محمد  بن عبداللہ بن ادریس تھا، سبتہ کے شہر میں  463ھ ( 1100ء) کو ولادت اور 560 ھ کو انتقال ہوا۔ ‘‘ سبتہ’’ درۂ جبل الطارق کے کنارے واقع مراکش کے مشہور سا حلی شہر ‘‘ طنجہ ’’ کے قریب واقع ہے۔ ادریسی نے سب سے پہلے زمین کانقشہ بنا کر اسے چاندی کی ایک پلیٹ جس کا وزن تقریباً 112 درہم تھا  پر کندہ کروایا۔ اس نقشے میں انہوں نے کرۂ ارض کو سات براعظموں میں عرض البلد کے دائروں کی صورت میں تقسیم کیا تھا علم جغرافیہ میں ان کے 3 کارنامے نہایت اہم سمجھے جاتےہیں ۔ (1) کاغذوں  پرزمین کا ابتدائی نقشہ، (2) زمین کا چاندی کی پلیٹ پر اپنی  نوعیت کا انوکھا  نقشہ، (3) ان کی کتاب ‘‘ المشتاق اخراق الآفاق ’’ جس میں دنیا بھر کے ملکوں اور شہروں کے احوال درج تھے ۔

یاقوت حموی : یا قوت ایک غلام تھے ۔ انہیں ایک حموی تاجر  نے خریدا تھا ۔ ان کی ولادت 575 ھ 1179ء اور وفات 627ھ ( 1229ھ) میں ہوئی ۔ علم الجغرافیہ سے انہیں خصوصی شغف تھا ۔ انہوں نے جغرافیہ کے عنوان پر ایک معجم ترتیب دی  جس کے مقدمے میں دیگر فنون کے علاوہ فن جغرافیہ پر خصوصی  گفتگو کی۔ مقدمے کے بعد انہوں نے   جغرافیے کے مختلف 5 ابواب قائم کیے اور ان میں مندرجہ ذیل باتوں پر سیر حاصل گفتگو ( بحث) کی ۔ (1) جغرافیائی نظریات : جن کا تصور اس بات کو ثابت کرنا تھا کہ زمین گول ہے،  آسمان کے اطراف اسے مقناطیس کی طرح ہر جانب سےکھینچ رہےہیں۔ (2) کرہ ارض کی سات براعظموں میں تقسیم جس کی بنیاد پر 12 برج او ران کے تحت واقع ہونے والے علاقے تھے ۔ (3) طول البلد اور عرض  البلد کے خطوط  اور فلکیاتی جغرافیہ کی بعض اصلاحات ، (4) جن علاقوں میں مسلمانوں نے فتوحات کی تھیں ان کے حالات اور ان میں وقوع پذیر ممالک کی طبعی و سیاسی تقسیم ۔

ابن ماجد : ان کا نام احمد بن ماجد سعدی نجدی اور لقب شہاب الدین تھا ۔ خلیج عمان کے مغربی ساحلی علاقے میں ان کی پیدائش ہوئی ۔ ان کی تاریخ  پیدائش  اور وفات کے بارے میں تاریخ  خاموش ہے۔ بس اتنامعلوم ہے کہ نجدی خاندان کے فرد تھے اور اس میں مہارت بھی تھی ۔ ان کے والد اور دادا کا نام بہتر ین سمندری جہاز رانوں میں ہوتا تھا جو بحری  جغرافیہ کے علوم سےگہری واقفیت  رکھتے تھے ۔ ابن ماجد نے اپنے باپ دادا کے علمی ورثے سے خوب استفادہ حاصل کیا اور اپنے تجر بات کی روشنی میں اس فن پر تصنیفات کاڈھیر لگا دیا ۔  ان کی اہم نثری تصنیف کتاب الفوائد فی اصول علم الجروالقواعد ہے۔ ان کے شعر ی مجموعے  میں سب سے ضخیم  کتاب حاویہ الافتحار فی اصول  علم البحا ر ہے  جس میں تقریباً ایک ہزار اشعار فصلوں کی صورت میں ہیں ۔ وہ سمندری راستوں اور نقشوں کے موجد اور بانی تھے ۔ جن سے بعد میں آنے والے مغربی جہاز رانوں نے اپنی تحقیق اور انکشاف میں خوب کام لیا ۔

 ابن بطوطہ : 1304 ء میں پیدا ہونے والے معروف سیاح ، مورخ اور جغرافیہ دان ابو عبداللہ محمد ابن بطوطہ کا انتقال 1378ء میں ہوا ۔ یہ مراکش کے شہر طنجہ میں پیدا ہوئے ۔ ادب ، تاریخ ، اور جغرافیہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اکیس سال کی عمر میں پہلا حج کیا ۔ اس کے بعد شوق سیاحت نے افریقہ کے علاوہ روس سے ترکی پہنچا دیا۔ جزائر  شرق الہند اور چین کی سیاحت کی ۔ عرب  ،ایران  ، شام ، فلسطین ، افغانستان ، اور ہندوستان  بھی گئے ۔ وہ محمد تغلق  کے عہد میں ہندوستان آئے تھے ۔ سلطان نے ان کی بڑی آؤ بھگت کی اور قاضی  کے عہدے پر سرفراز کیا ۔ یہیں سے ایک سفارتی مشن پر چین جانے کا حکم ملا۔ 28 سال کی مدت  میں انہوں نے 75 ہزار میل کا سفر طے کیا ۔ ( جاری )

12 دسمبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/zafar-darak-quasmi/muslims-participation-in-the-knowledge-of-science-–-part-1--(علوم-سائنس-میں-مسلمانوں-کی-حصہ-داری-(-حصہ-اوّل/d/100457

 

Loading..

Loading..