New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 09:50 AM

Urdu Section ( 4 Apr 2013, NewAgeIslam.Com)

Security of non-Muslims in Islamic state—3 اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کا تحفط ۔ قسط ۔3

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ظفر دارک قاسمی

29 مارچ، 2013

مساوات عامہ:

اسلام نہ صرف یہ کہ کسی  امتیاز رنگ و نسل کے بغیر تمام انسانوں کے درمیان مساوات  کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اسے ایک اہم حقیقت قرار دیتا ہے ۔ قرآن  میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيّھَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَی وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّہِ أَتْقَاكُمْ ( الحجرات:13) ‘‘ اے انسانوں ہم نے تمہیں  ایک ماں اور ایک باپ سے پیدا کیا ۔( بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام انسان اصل  میں بھائی بھائی ہیں،  ایک ہی ماں اور ایک ہی باپ  کی اولاد ہیں)  اور ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں  میں تقسیم کردیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو’ (یعنی  قوموں اور قبیلوں  میں یہ تقسیم   تعارف کے لیے ہے۔ اس لیے ہے کہ ایک قیبلے یا ایک قوم  کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے واقف ہوں اور باہم تعاون  کرسکیں۔ اس لیے نہیں کہ  ایک قوم دوسری قوم پر فخر جتانے اور اس کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اس کو ذلیل سمجھے اور اس کے حقوق  پر ڈاکے مارے )۔ درحقیقت  تم میں سے معززوہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ خدا  ترس ہے۔ (یعنی  انسان پر انسان کی فضیلت صرف اخلاقی اور پاکیزہ  کردار کی بنا پر ہے نہ کہ رنگ و نسل زبان اوروطن  کی بنا ء پر ) ۔ اور یہ فضیلت  بھی اس غرض کے لیے  نہیں ہے کہ پاکیزہ  اخلاق کے انسان  دوسرے انسانوں  پر اپنی بڑائی  جتائیں  ، کیونکہ  بڑائی جتانا خود ایک برائی   ہے جس کا ارتکاب کوئی خدا ترس  او رپر ہیز گار آدمی نہیں کرسکتا اور یہ اس  غرض کے لیے بھی نہیں ہے کہ نیک آدمی کے حقوق  برے آدمیوں کے حقوق پر فائق ہوں  ، یا اس کے حقوق ان سے زیادہ ہوں، کیونکہ یہ انسانی  مساوات کے خلاف ہے، جس کو آیت  کی ابتدا میں اصول  کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہ فضیلت  دراصل  اس وجہ سے ہے کہ نیکی اخلاقی  حیثیت  سے برائی کے مقابلے  میں بہر حال افضل ہے۔ اسی مضمون کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں بیان  فرمایا ہے۔

لافضل لعربی علی اعجمی  ولا ئعجمی علی عربی و لالا حمر  علی اسود و لالا سود علی  احمر ۔ کلھم  بنو آدم  و آدم خلق  من تراب (سنن  ترمذی  باب فی فضل  الشام  والیمن)‘‘کسی  عربی کو عجمی پر کو ئی فضیلت حاصل نہیں  ہے، نہ عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت  ہے ۔ نہ گورے  کو لالے پر اورنہ کالے  کو گورے پر کوئی فضیلت  ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے تھے ’’۔

اس طرح  اسلام نے تمام نوع انسانی میں مساوات قائم کی اور رنگ نسل ، زبان اور قومیت کی بنا پر سارے  امتیازات کی جڑ کاٹ دی۔ اسلام  کے نزدیک یہ حق  انسان کو انسان  ہونے کی حیثیت  سے حاصل ہے کہ اس کے ساتھ اس کی کھال کے رنگ  یا اس کی پیدائش کی جگہ یا اس کو جنم  دینے والی نسل و قوم کی بنا پر کوئی امتیاز نہ برتا جائے ۔ اسے دوسروں کی یہ نسبت  حقیر نہ ٹھہرایا جائے  اور اس کے حقوق  دوسروں سے کمتر نہ  رکھے جائیں  ۔ امریکہ  کے افریقی النسل لوگوں کا مشہور لیڈر ‘ملیکم  ایکس’ جو سیاہ نسل  کے باشندوں کی حمایت میں سفید نسل  والوں  کے خلاف  مدتوں   شدید کشمکش  کرتا رہا تھا ۔ مسلمان ہونے کے بعد جب حج کے لیے گیا اور وہاں  اس نے دیکھا کہ ایشیاء  افریقہ،  یورپ امریکہ  غرض ہر جگہ کے اور ہر رنگ و نسل کے مسلمان ایک ہی لباس میں ایک ہی خدا کے گھر کی طرف چلے جارہے ہیں ۔ ایک ہی گھر  کا طواف کررہا ہے ۔ ایک ہی ساتھ نماز پڑھ رہے  ہیں  اور ان میں سے کسی  کا امتیاز  نہیں ہے تو وہ پکا راٹھا کہ یہ ہے نسل اور رنگ کا مسئلے  کا حل نہ کہ وہ جو ہم امریکہ میں اب تک کرتے رہے ہیں ۔ آج  خود انہیں مسلم مفکرین بھی،  جو اندھے تعصب  میں مبتلا  نہیں ہیں، یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو جس کامیابی کے ساتھ اسلام نے حل کیا ہے، کوئی دوسرا  مذہب و مسلک  نہیں کرسکا ہے۔ موجودہ دور کے اہل مغرب قانون سازی کی حدتک تو اس مسئلے کو حل کرچکے ہیں مگر سماجی سطح پر بہت کچھ کرنا ان کے ہاں ابھی باقی ہے ۔ مسلم معاشروں  میں  عبادت کی حد تک تو پوری طرح مساوات اب بھی  قائم ہے لیکن افسوس کہ موجودہ  دور کے بہت سے مسلمان ، اپنے  دین کی تعلیمات کے بالکل  برعکس انسانوں  میں رنگ نسل،  قومیت ، زبان ، اسٹیٹ ، او رمذہب و مسلک  کی بنیاد پر سماجی رویوں  میں تعصب  اور امتیاز کا شکار ہیں۔

نیک امور میں تعاون  کاحکم:

اسلام نے ایک بڑا اہم قاعدہ  کلیہ  یہ  پیش کیا ہے:

ۘ وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ :2) ‘‘ نیکی  اور پر ہیز گاری میں تعاون  کرو بدی اور گناہ کے معاملے  میں تعاون  نہ کرو’’۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص  بھلائی  اور خدا ترسی  کا کام کرے، قطع نظر اس سے کہ وہ قطب  شمالی  کے رہنے والا  ہو یا قطب  جنوی کا ۔ وہ یہ حق  رکھتا ہے کہ ہم اس سے تعاون کریں اور وہ بجا طور پر یہ توقع  رکھ سکتا ہے کہ ہم اس سے تعاون  کریں گے۔ اس کے برعکس  جو شخص بدی اور زیادتی  کا کام کرے۔ خواہ  وہ ہمارا قریب ترین ہمسایہ یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اس کا نہ یہ حق ہے کہ نسل و وطن یا زبان  و قومیت کے نام پر وہ ہمارا تعاون طلب کرے۔ نہ اسے ہم سے یہ امید رکھتی چاہئے کہ ہم اس سے تعاون کریں گے۔ نہ ہمارے لیے یہ جائز ہے کہ اسے کسی کام میں  اس کے ساتھ  تعاون کریں۔ بدکار ہمارا بھائی ہی کیوں نہ ہو ، ہمارا اور اس کا کوئی ساتھ  نہیں ہیں۔نیک کام کرنے والا خواہ ہم  سے کوئی رشتہ نہ رکھتا ہو ، ہم اس کے ساتھ او رمددگار ہیں ۔ یا کم از کم خیر خواہ  تو ضرور ہی ہیں۔

دوران جنگ احترام نفس:

میں یہ بتا نا چاہتا ہوں  کہ دشمنوں  کے  کیا حقوق اسلام نے بتائے ہیں ۔ جنگ کی تہذیب کے تصور سے دنیا قطعاً  نا آشنا تھی ۔ مغربی دنیا اس تصور سے پہلی مرتبہ ستر ہویں صدی کے مفکر  گرو شیو س (Grotius) کے ذریعے آشنا ہوئی ۔ مگر عملی طور پر بین الاقوامی  قوانین جنگ کی تدوین  انیسویں صدی کے وسط  میں شروع ہوئی ۔ اس سے پہلے جنگ کی تہذیب کا کوئی  تصور اہل مغرب کے ہاں نہیں  پایا جاتا  تھا ۔ جنگ میں ہر طرح  کے ظلم و ستم کیے جاتے تھے ۔ انیسویں صدی  میں اور اس کے بعد سے اب تک جو قوانین بھی بنائے گئے ہیں، ان کی اصل  نوعیت قانون کی نہیں  بلکہ معاہدات کی سی ہے اور ان کی بین الاقوامی  قانون  کہنا در حقیقت لفظ ‘‘قانون’’ کا بے  جا استعمال ہے۔ (جاری)

29 مارچ، 2013 بشکریہ: روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/zafar-darak-qasmi---ظفر-دارک-قاسمی/security-of-non-muslims-in-islamic-state—3--اسلامی-ریاست-میں-غیر-مسلموں-کا-تحفط-۔-قسط-۔3/d/11010

 

Loading..

Loading..