New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 10:48 AM

Urdu Section ( 2 March 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islam is Just An Excuse اسلام تو صرف بہانہ ہے

By Zafar Agha

(Translated from Urdu by New Age Islam Edit Desk)

Even as the waves of democratic revolutions are surging ahead in the Arab world and the Muslim countries of the North Africa, the people speaking out against a barbaric law are being killed in Pakistan. Some time ago, the governor of Punjab Salman Taseer was riddled by bullets in broad daylight in a market in Lahore. Today, the Minister for Minority Affairs Shahbaz Bhatti was killed in a market in the capital city of Islamabad. Salman Taseer and Shahbaz Bhatti had committed the same sin. Both were in favour of changes in the blasphemy laws of Pakistan. Both were of the opinion that death sentence under anti-blasphemy laws was a very severe punishment. A modern state demands that such a radical law should not exist in Pakistan. But it seems that there is no place for liberal minds like Salman Taseer and Shahbaz Bhatti. That’s why when the killer bodyguard of Salman Taseer was produced in the court a crowd of lawyers greeted him by showering rose petals on him. 90 lawyers of Lahore High Court signed a petition saying that they would fight his case free of cost. There was jubilation in Pakistan on the death of Shahbaz Bhatti too when he was killed in his car.  What the hell is happening in Pakistan?

The Muslims of India should not find it difficult to understand what is going on in Pakistan behind killings in the name of blasphemy. To understand this you have to leave the scene of Lahore and Islamabad and reminisce the Gujarat of 2002. You may recall that the riots were at its peak. Muslims were being massacred. It was also being reported that the rich people of Ahmadabad were driving around in their cars and looting the shops of Muslims. Not only that the Hindus of Gujarat were considering Narendra Modi the protector of the common Hindus of Gujarat. Modi was honoured with the title ‘Hindu Hriday Samrat’. The Gujarati Hindus were getting solace in this Muslim thrashing.  That is the reason Modi is still the ruler of Gujarat despite the ethnic cleansing of the Muslims. You can call it fanaticism, terrorism or whatever you like.

Whatever has been happening in Pakistan these days has happened in Gujarat a few years ago. That is, politics run on religion has assumed fanatical proportions in Pakistan. This is the same situation that was in India under the wave of Hindutva. It is being branded Islam in Pakistan. Whereas the truth is that it has nothing to do with Islam. It is only politics under the veil of Islam to grab power that is getting dominance in Pakistan in the form of fanaticism.

 The purpose of Hindutva politics in India was not only to crush the Muslims. Its purpose was also to prevent the political advancement of the dalit and backward leaders like Lalu Prasad and Mayawati from reaching Delhi or the Centre in the wake of the Mondal revolution. Similarly, the purpose of the politics being played in the name of Islam in Pakistan is to target the party in power, the PPP.  The PPP is not dominated by the Punjabis. It is not to the liking of the Pakistani system that a Sindhi is the President of the country. That’s why leaders like Salman Taseer or Shahbaz Bhatti are killed in broad daylight.

Political people having a true love for their religion do not exist in any country in the 21st century. Whether they are the soldiers of Hindutva or the so-called flag bearers of Islam, the Taliban, all such forces are the tools of the systems of their respective countries that are maligning the name of religion by using it for their personal political interests. In the world today, religion is generally used for wrong purposes. Currently whatever is happening in Pakistan in the name of the honour of the Prophet (PBUH) has happened in the name of the maryada of Ram in Ayodhya. The religious politics of both the kinds result in bloodshed. Whatever happened in India in 1990s under the veil of building of the Ram Temple is happening now in Pakistan in the name of the honour of the Prophet (PBUH).

Source: Jadeed Mail, New Delhi,

URL: https://newageislam.com/urdu-section/islam-is-just-an-excuse-اسلام-تو-صرف-بہانہ-ہے/d/4219

ظفر آغا

ایک جانب جب کہ عالم عرب اور شمالی افریقہ کے مسلم ممالک میں جمہوری انقلاب کی لہر یں رواں دواں ہیں تو دوسری جانب محمد علی جناح کے پاکستان میں ایک وحشیانہ قانون کے خلاف زبان کھولنے والے گولیوں کانشانہ بنائے جارہےہیں ۔ کچھ عرصے سےقبل پنجاب کے گورنر کو لاہور کے بھرے بازار میں گولیں سے چھلنی کردیاگیا تھا، آج ملک کےدارالخلافہ اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی کو مار کر ابدی نیند سلادیا گیا ۔ سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی دونوں کا گناہ ایک ہی تھا، وہ دونوں ہی پاکستان کے توہین رسالت قانون میں ترمیم کے حق میں تھے سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کا یہ کہنا تھا کہ توہین رسالت قانون میں ترمیم کے حق میں تھے سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کا یہ کہنا تھا کہ توہین رسالت قانون کے تحت سزا ئے موت ایک انتہا ئی سخت گیر سزا ہے ۔ ایک جدید ریاست کے تقاضے یہ ہیں کہ پاکستان میں اس قسم کا قدامت پسند قانون نہیں ہونا چاہئے ۔لیکن سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی جیسے لبرل نظریہ فکر کی جگہ پاکستانی سماج میں نظر نہیں آتی ۔تبھی تو سلمان تاثیر کے قاتل باڈی گارڈ کو جب لاہور کی عدالت میں پیش کیا گیا تو وکلا کے ایک ہجوم نے گلاب کے پھولوں سے اس کا خیر مقدم کیا ۔ لاہور میں 90وکلا نےایک پٹیشن پر دستخط کئے کہ وہ سلمان تاثیر کے قاتل کے مقدمے میں مفت پیروی کریں گے۔ آج صبح جب شہباز بھٹی کو ان کی گاڑی روک کر گولی ماردی گئی تو شہباز بھٹی کے موت پر بھی پاکستان میں خوشی تھی۔آخر یہ پاکستان کو ہوکیا رہا ہے؟ غالباً ہم ہندوستانی مسلمانوں کو یہ سمجھنے میں زیادہ وقت نہیں ہونی چاہئے کہ پاکستان میں توہین رسالت کے نام  پرہونے والے قتل وغارت کے پیچھے کیا ہورہا ہے؟ یہ سمجھنے کے لئے ایک منٹ کے لئے آپ کو لاہور اور اسلام آباد کےپس منظر کو چھوڑ کر سن 2002کے گجرات کاپس منظر تصور کرنا ہوگا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گجرات میں فساد اپنے نقطہ عروج پر تھے۔ مسلمانوں کا قتل عام جاری تھا، مسلم ناموس کی بے حرمتی کی خبریں آرہی تھیں اور اس قتل عام کے ساتھ ساتھ یہ خبریں بھی آرہی تھیں کہ احمد آباد کے رئیس کاروں میں بیٹھ بیٹھ کر مسلم دوکانوں کی لوٹ مار میں  شرکت کررہے ہیں ۔ صرف اتنا ہی نہیں ہزاروں مسلمانوں کے قتل کے بعد نریندمودی کو گجرات کے عام ہند اپنا محافظ مان رہے تھے ۔مودی کو ‘‘ہندو ہردیہ سمراٹ’’ کے خطاب سے نوازا جارہا تھا۔ گجرات میں جاری اسی مسلم دشمنی سے گجراتی ہندوؤں کی تسکین مل رہی تھی تبھی تو مودی مسلم نسل کشی کے باوجود آج تک گجرات کے حاکم ہیں اس کو جنون ، وہشت ،دیوانگی آپ جو سمجھیں وہ کہہ سکتے ہیں۔

پاکستان میں ان دنوں جو کچھ ہورہا ہے وہ وہی ہے جو چند سال قبل گجرات میں ہوا، یعنی مذہب کے نام پر چلائی جانے والی سیاست نے اب پاکستان میں جنون کی شکل اختیار کرلی ہے۔ یہ وہی صورت ہےجو ہندوستان میں کبھی ہندو تو کے نام پر تھی ۔پاکستان میں اس کو اسلام کا رنگ دیا جارہا ہے۔ اس کا اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ یہ صرف اور صرف مذہب کی آر میں اقتدار کی سیاست ہے جو اب جنون کی شکل میں پاکستان پر حاوی ہوتی جارہی ہے۔

ہندوستان میں ہندتو سیاست کا بنیادی مقصد صرف مسلمان کو کچلنا نہیں تھا۔ اس کا مقصد منڈل انقلاب کے بعدلالو پرساد، ملائم سنگھ ،مایاوتی جیسے پسماندہ ذات اوردلت لیڈروں کے سیاسی سیلاب کو دہلی یعنی مرکز تک پہنچنے سےروکنا تھا۔ویسے ہی پاکستان میں اسلام کے نام پر اس وقت جو سیاست ہورہی ہے اس کا مقصد برسراقتدار پی پی پی کو نشانہ بنانا ہے۔ پی پی پی پر ، پنجابیوں کا قبضہ نہیں ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں ایک سند تھی صدر مملکت ہے یہ بات پاکستانی نظام کوپسند نہیں ہے ۔ اسی لئے فوجی اور پنجابی نظام اسلام کی آڑ میں ملک میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ پیدا کررہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ کبھی لاہور میں سلمان تاثیر مارے جاتے ہیں تو کبھی اسلام آباد میں دن دہارے شہباز بھٹی کا قتل کردیا جاتا ہے۔

اس اکیسوی صدی میں اب دنیا میں کہیں بھی کسی بھی مذہب سے سچی عقیدت رکھنے والے سیاسی افراد نہیں بچے ہیں ۔ وہ ہندو تو کے سپاہی ہوں یا اسلام کا پرچم بلند کرنے والے پاکستانی طالبان ایسی تمام قوتیں اپنے اپنے ملک کے نظام کے مہرے ہیں جو ذاتی مفاد کے لئے مذہب کا استعمال کر کے مذہب کو بھی بدنام کررہے ہیں۔آج کے دنیا میں مذہب کا استعمال سیاست میں عموماً غلط مقاصد کے لئے ہوتا ہے ۔فی الحال پاکستان میں ناموس رسالت کی آڑ میں وہی ہورہا ہے جو ایودھیا میں بھگوان رام کی ‘مریادا’ کے نام پر ہورہا تھا ۔مذہب کے نام پر چلنے والی دونوں ہی قسم کی سیاست کا انجام خونریزی ہی ہوتا ہے ۔جو ہندوستان میں سن 1990کی دہائی میں رام مندر بنانے کی آڑ میں ہوا وہی اب پاکستان میں توہین رسالت قانون کی آڑ میں ہورہا ہے۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/islam-is-just-an-excuse-اسلام-تو-صرف-بہانہ-ہے/d/4219

 

Loading..

Loading..