New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 04:47 AM

Urdu Section ( 5 Apr 2016, NewAgeIslam.Com)

Efforts to Spread Ignorance in the Name of Jihad جہاد کے نام پر جہالت پھیلانے کی کوشش

 

 

 

ظفر آغا

5 اپریل، 2016

کیا لکھوں او رکیا کہوں ، سب کچھ لکھ چکا اور سب کچھ کہہ چکا ۔ ابھی پچھلے ہفتہ برسبلز میں جہادی حملے کے خلاف کالم لکھا تھا ۔ لیکن اس کالم کی سیاہی سوکھی بھی نہ تھی کہ لاہور میں ایک پارک بم دھماکے میں لرز اٹھا ، اور دھماکہ بھی کیسا دھماکہ معصوم بچوں کے سر اور بازو جسم سے الگ ہوکر پیڑوں پر لٹک گئے۔ ممتا کی ماری ماؤں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور ان کا دم نکل گیا۔ جھولوں پر جھولنے والے بچے جھلس گئے ۔ ان کا جرم کیا تھا۔

اللہ توبہ ، بس اب کچھ کہنے کے بجائے رب الکریم کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھے ہیں اور پروردگار سے دعاہے کہ اے رب تو اپنے بندوں کو عقل عطا کر انہیں ہوش عطا کر، پروردگار یہ تو وہی آثار ہیں جو تیرے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت سےقبل ایک قبیلہ دوسرے قبیلے کے خون کا پیاسا تھا اسی دور جاہلیت میں عرب اپنی اولاد کو اس لئے زندہ دفن کردیتے تھے کہ انہیں بیٹی کی ولادت معیوب محسوس ہوتی تھی ۔ اس دور جاہلیت میں انسان، انسان کا خون ایسے ہی بے وجہ بہا رہا تھا جیسے آج جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہایا جارہاہے، یہ جہاد نہیں جہالت ہے، یہ جنگ نہیں خود کشی ہے، عالم اسلام کو اس جہالت سےنکلنا ہوگا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مسلمان کو کون عقل دے اور کون سمجھائے ۔ عالم اسلام نے علماء پر صدیوں سے تکیہ کیا ہوا ہے۔

بات یہ ہے کہ مسلم علماء کے نکتہ نگاہ سے وقت تھم چکا ہے ، مسلم معاشرہ ان کے نزدیک اسی دور میں ہے جیسا کبھی خلافت کے دور میں ہوا کرتا تھا وہ بھی خلفا ئے راشدین کا مسلم معاشرہ نہیں بلکہ عباسی اور ترکی کی خلافت کا دور کہ جس میں بادشاہت مطلق العنان ہوتا تھا اور علمائے کرام اس کی خلافت چلانے کےلئے شریعت کے نام پر بادشاہ وقت کے ہر فعل کو صحیح قرار دیتے تھے ۔ بس اسی دور سے عالم اسلام میں مطلق العنان حاکموں اور علماء کرام کے درمیان ایک گٹھ جوڑ پیدا ہوگیا جو تب سے آج تک چلا آرہا ہے۔ دنیا بدل گئی، سارے عالم میں شاہی دور ختم ہوگیا اور جمہوریت نے اپنی جڑیں جمالیں ۔ لیکن عالم اسلام ہے کہ آج بھی جمہوریت سےعاری ہے۔ وہ تو ہم ہندوستانی مسلمان ایسے خود قسمت ہیں کہ آج بھی جمہوریت کے دم پر حکومت بدلنے کا اختیار رکھتے ہیں ۔ باقی تمام عالم اسلام مطلق العنان حاکموں کے جوتوں تلے آج بھی کراہ رہا ہے اور ان مطلق العنان حاکموں کے مظالم کو علماء کا گروہ شریعت کی آڑ میں جائز قرار دیتا رہتا ہے۔ تب بھی عام مسلمانوں میں گھٹن ہے کہ جس کا اندازہ ہم جمہوری ہندوستان میں نہیں لگا سکتے ہیں۔

 چند برس قبل بہار عرب نے سر اٹھا یا لیکن نوجوانوں کی آواز کچل دی گئی او رہر جگہ علماء نےحاکموں کا ساتھ دیا۔ یعنی مسلم معاشرہ میں پیدا ہونے والے سیاسی انقلاب کو شریعت کے نام پر کچل دیا گیا ۔ اب سوچئے کہ ساری دنیا کا نوجوان کھلی سیاسی فضاء میں سانس لے رہاہے اور دوسری جانب مسلم نوجوان گھٹ رہا ہے ۔ آخر اس کے یہاں کس قدر جھنجھلاہٹ ہوگی اور وہ کس قدر غم و غصہ کاشکار ہوگا۔ اس کے لئے ہر قسم کا سیاسی راستہ بند ہے۔ اب وہ اپنے جسم پر بم باندھ کر خود کش حملے نہ کرے تو اور کیا کرے۔ اس خود کش حملے میں علماء اس کو جھوٹی امید سہی لیکن ایک امید یہ دلادیتے ہیں کہ اس طرح وہ شہید ہوگا اور شہید ہوتے ہی نہ صرف وہ جنت کا حقدار ہوگا بلکہ جنت میں اس کو خوبصورت حوروں کی صحبت نصیب ہوگی۔وہ یہ سراب ہے جو ابو بکر البغدادی جیسے خلیفہ وقت مسلمانوں کو دکھارہے ہیں اور خود ساختہ خود علماء اس بھرم کو شریعت کے نام پر نوجوانوں کو خود کش بمباری پر آمادہ کررہے ہیں ۔ ایک طرف خود مسلم مطلق العنان حاکم ہیں تو دوسری جانب امریکہ او رمغربی دنیا کے بمبار ہوائے حملے ہیں ۔

 شام میں بشارالاسد جیسے ظالم بادشاہ کو بچانے کےلئے روسی اور امریکی اور بمباروں نے لاکھوں بے گناہوں کی جانیں لے لیں ۔ وہ ابو بکر البغدادی جس کے سر پر اب امریکہ نے 10 ملین ڈالر کا انعام متعین کیا ہے اسی البغدادی کو ایک وقت بشارالاشد کے خلاف سی آئی اے کی جانب سے ہر امداد مل رہی تھی اور پھر البغدادی کو کس نے خلیفہ بنایا ۔ سچ تو یہ ہے کہ ابوبکر البغدادی 2004تک بغداد کی ایک چھوٹی سی مسجد میں پیش امام اور قاری کے فرائض انجام دے رہاتھا ، یہ وہ دور تھا کہ جب امریکی فوج نے عراق میں صدام حسین کا تختہ اُلٹ کر پورے عراق میں لاکھوں معصوم عراقیوں کو موت کے گھاٹ اتار چکاتھا ۔ ایسے ماحول میں محض شک کی بنیاد پر امریکی فوجی ابوبکر البغدادی کو ایک گھر سے اٹھا کر لے گئے اور ایک جیل میں قید کردیا۔ جہاں القاعدہ کے عناصر سے ابوبکر کی ملاقات ہوئی ۔ اسی ماحول میں ابوبکر البغدادی کےدل میں مغرب کے خلاف نفرت کا انکور پھوٹا جو اب تک مغرب دشمن اسلامی خلافت کا تناور درخت بن چکا ہے۔ بھلے ہی البغدادی عراق اور شام کےکچھ علاقے ہار گیا لیکن اس کی مغرب کے خلاف نفرت کی سیاست کی بیماری اب جہادی کی شکل میں محض عالم اسلام ہی میں نہیں بلکہ امریکہ اور ہر یوروپی ملک میں گھوم رہے ہیں۔ یعنی امریکہ نے عراق اور شام میں جو مظالم ڈھائے ہیں اس نے ابوبکر البغدادی کو جنم دیا جو اب دنیا کےلئے خطرہ بن چکا ہے ۔

اب ہو تو کیا ہو ، ہم مسلمان امریکہ اور اسرائیل کو کوستے کوستے تھک گئے لیکن یہ بھول گئے کہ امریکہ اور اسرائیل مسلمان کے خلاف ہر سازش میں اس لئے کامیاب ہیں کہ ہم مسلمان خود زندگی کے ہر شعبہ میں بچھڑ گئے ۔ ہم مسلمانوں نے ہر تبدیلی کو غلط تسلیم کرلیا ہے اور علماء نے ہر تبدیلی کے خلاف فتوے صادر کردیئے ہیں ۔ اس لئے مسلم معاشرہ ایک ایسے گندے تالاب میں تبدیل ہوچکا ہے جس کو تازہ پانی میسر ہی نہیں ہے ۔ آج کا مسلمان مطلق العنان بادشاہوں اور جہادی فکر کے بندھن میں بندھ کر خود اپنے سماج کے لئے خطرہ بن گیا ہے ۔ مسلمان کو تبدیلی ہی نہیں ایک سماجی اور سیاسی انقلاب کی ضرورت ہے جو علماء پیدا نہیں کرسکتے ہیں ۔ اگر مسلمانوں نے اس تبدیلی کو تسلیم نہیں کیا تو نہ جانے کتنے لاہور اور ہوں گے اور دنیا مسلمانوں کی جہالت پر تالی بجائے گی ۔ خدارا دور جہالت سے باہر نکلئیے اور جدیدیت کو تسلیم کیجئے ورنہ بکھر جائیے گا۔

5 اپریل، 2016 بشکریہ : روز نامہ اخبار مشرق ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/zafar-agha/efforts-to-spread-ignorance-in-the-name-of-jihad--جہاد-کے-نام-پر-جہالت-پھیلانے-کی-کوشش/d/106886

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..