New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 03:02 PM

Urdu Section ( 2 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Defamation of Islam! (Part – 2) (اسلام کی بدنامی! (آخری حصہ

 

 

 

ظفر آغا

1 اکتوبر ، 2014

ایک دور میں ایشیائی اور افریقی قومیں  مغرب کی غلام تھیں ۔ مغرب، ان قوموں کا ایسا دشمن تھا، جیسا کہ آج مسلمانوں کا بنا ہوا ہے ۔ تاہم دیگر قومیں آج ترقی کی دوڑ میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور مسلمان مغرب کے خلاف بوکو حرام و داعش جیسی تنظیمیں  بنا کر نہ صرف مسلمانوں کو دہشت گردی کی امیج دے رہے ہیں ، بلکہ اسلام کا دامن بھی داغدار کررہی ہیں ۔  آخر دنیا کی دیگر قوموں او رمسلمانوں میں یہ فرق کیوں ہے؟ درحقیقت مسلمانوں اور دیگر قوموں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد دیگر قوموں نے مغرب کے ساتھ اپنے  تعلقات قائم کئے۔ ان قوموں نے مغرب کو اپنا سیاسی دشمن سمجھا اور آزادی کے لئے سیاسی جنگیں بھی لڑیں ، لیکن اس کے ساتھ ہی ان اقوام نے یہ بھی  تجزیہ کیا  کہ آخر ان کا مد مقابل اتناترقی یافتہ کیوں ہے؟ ۔ اس تجزیہ سے دنیا کی غیر مسلم اقوام  نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مغرب نے سائنس و ٹیکنالوجی پر قدرت حاصل کرکے صنعتی انقلاب  برپا کیا اور زبردست  ترقی حاصل کی ۔ اس انقلاب  کے ذریعے مغرب نے اپنی سیاسی  اور سماجی قدروں میں بنیادی  تبدیلی  بھی پیدا کی، جس کے سبب مغرب میں انسانی آزادی ، بھائی چارہ ، آزادی  نسواں  اور انسانی حقوق  جیسے وہی  تصور پیدا ہوئے ، جو صدیوں قبل دنیا کو اسلام  نے دیئے تھے ۔ شاید یہی  سبب ہے کہ مغربی دنیا و دیگر قوموں کے مقابل  بہت آگے نکل گئی ۔ لہٰذا  جب غیر مسلم قوموں کو اس بات کا احساس ہوا تو انہوں نے مغرب سے سیاسی  لڑائی کے باوجود ترقی کے لئے مغرب کے نئے سیاسی، سماجی، سائنسی  اور تعلیمی  انقلاب کو اپنایا، جس کے نتیجے  میں آج ہندوستان نہ صرف آزاد  ہے، بلکہ مریخ  جیسے سیارہ پر اپنا راکٹ بھیجنے میں کامیاب ہوا ہے اور ترقی کے اعتبار سے ایشیا کا اہم ترین ملک سمجھا جارہا ہے ۔ اس کے برخلاف  مسلمانوں  نے ساری دنیا میں مغرب کو اپنا مذہبی اور تہذیبی دشمن سمجھا ۔

مسلمانوں کے نزدیک یہ وہی مغرب ہے ، جو صلیبی  جنگوں کے دوران کا دشمن تھا، جس نے اسلام اور مسلم تہذیب کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا ۔ یہی سبب ہے کہ مسلمانوں نے مغرب کو ہمیشہ  اپناسیاسی  اور تہذیبی دشمن سمجھا ، تب ہی  تو انیسویں  صدی کے تمام مسلم  مفکرین نے مغرب کو پوری طرح  سے رد کردیا ۔ دوسرے معنوں  میں یہ کہ مسلمانوں نے سائنسی  ٹیکنالوجی ، تعلیمی اور سیاسی و سماجی انقلاب کو بھی ر دکردیا اور اس کےبرخلاف قرون وسطیٰ کی ان سیاسی و سماجی  قدروں کو اصل اسلام سمجھ لیا، جس میں اس نے سُپر پاور کا رتبہ حاصل کیاتھا ۔ مثلاً  جمہوری  خلافت راشدہ  کی جگہ بادشاہت  کو ہی مسلمانوں نے اصل  اسلامی سیاسی نظام سمجھ لیا،  جو کسی نہ کسی  صورت میں آج بھی زیادہ تر مسلم معاشرہ میں  رائج ہے۔ تب ہی تو داعش جیسی تنظیم لوگوں کو ذبح کررہی ہے ۔ لب لباب یہ کہ مسلمانوں نے مغرب سے سیاسی  جنگ لڑنے کی بجائے اس کے ساتھ تہذیبی جنگ شروع  کردی، جس میں نہ تو آزادی ممکن تھی  اور نہ ہی ترقی کاکوئی امکان ۔ کیونکہ  وہ قرون وسطیٰ کے شاہی  دور اور اس کی قدروں کو اصل اسلام سمجھ کر ایک ایسی  خلافت کے خواہشمند  ہوگئے، جس کا اللہ،  رسول اور اسلام سے کوئی تعلق  نہیں ۔  یعنی اب  مسلمان اسلام کی اعلیٰ قدروں سے انحراف کر کے اسلام سے بھی دور ہورہے ہیں اور ترقی  کی دنیا میں  ساری قوموں سے پیچھے  ہوگیا ہے ۔  اب ان کے پاس محض  دہشت کا ہتھیار بچا ہے، جس سے وہ  نہ صرف خود کو بدنام کررہے ہیں  ، بلکہ  دامن اسلام  کو بھی داغدار کررہے ہیں، جو اسلامی تاریخ کے لئے ایک شرمناک بات ہے۔

1 اکتوبر، 2014 بشکریہ : روز نامہ وقت، پاکستان

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/zafar-agha/defamation-of-islam!-(part-–-2)--(اسلام-کی-بدنامی!-(آخری-حصہ/d/99364

 

Loading..

Loading..