New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 11:24 PM

Urdu Section ( 10 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

‘The Terrorists Can’t Be Muslims’ 'دہشت گرد مسلمان نہیں ہو سکتے'

 

 یعقوب خان بنگش

 7 اکتوبر ، 2013

انتہائی متجسس  ذہنیت کے  حامل ہونے کے ناطےپاکستانی ہمیشہ یہ سوچ کر  حیران رہتے  ہیں کہ یہ ' دہشت گرد ' حیقیقت میں ہیں کون لوگ ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ پاکستانیوں کے لئے  اس کا جواب مبین ترین ہو  جبکہ اب بھی بیشتر  پاکستانیوں کے لئے  یہ قضیہ مشتبہ ہے  ۔ جب  میں اپنی کلاس میں ایک دہشت گرد حملے پر گفتگو کرتا ہوں تو لامحالہ یہ سوال  پیدا ہوتا ہے کبھی اور خود طالب علم ہی زیادہ  تخلیقی افکار پیش کر دیتے ہیں ۔

جب میں ان سے پوچھتا ہوں تو اکثر میرے شاگرد یہ جواب دیتے ہیں کہ د ہشت گرد مسلمان نہیں ہو سکتے ۔ جب میں اس کی وجہ  پوچھتا ہوں تو وہ جواب دیتے ہیں ' مسلمان مسلمانوں کو نہیں مار سکتے ' ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مضمون تاریخ کا ایک  لیکچر بن جائے  اسی لئے صرف یہ ذکر کرنا کافی ہونا چاہئے کہ  ایسا پہلی بار ہوا ہے جب مسلمانوں نے ایک بڑی تعداد میں مسلمانوں کو ہلاک کیا ہے ۔ ایسے متعدد واقعات رو نما  ہو چکے ہیں جب  مسلمانوں نے مسلمانوں کا قتل کیا اور یہاں تک کہ ہماری اپنی تاریخ میں غوریوں نے غزنویوں کاقتل کیا ، مغلوں نے پٹھانوں  کو ہلاک کر دیا، مغلوں نے ایک دوسرے کو مارا ، مختلف مسلم شہزادوں کا قتل کیا  اور ایک دوسرے سے قتل و  قتال کیا سب سے اہم بات یہ ہے کہ حیدرآباد کے نظام نے بار بار ٹیپو سلطان کے خلاف میدان کارزار گرم کیا ۔ بڑی تعداد میں ایسے واقعات اس وقت رونما ہوئے  جب کسی غیر مسلم مداخلت کا تصور بالکل ہی نہیں اور یہ صرف ہوس اور اقتدار کی جنگ تھی یہی وجہ ہے کہ  ماضی میں مسلمانوں نے  مسلمانوں کو ہلاک کیا ، اور اس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ آج یہ رجحان کیوں نہیں  موجود ہونا چاہئے ۔

اس انکار سے کہ دہشت گرد مسلمان نہیں ہو سکتے سے  وہ مفروضہ منسلک ہے کہ  یقینا وہ ' کوئی اور ' ہوں گے  ۔ ' ٹیٹو دہشت گرد ' عام طور پر بڑا  ثبوت ہے کیونکہ ایک مسلمان کبھی ٹیٹو نہیں لگوائے گا ۔ تاہم کسی  دہشت گرد کے جسم پر ٹیٹو پایا جانا کتنا ہی عجیب کیوں نہ ہو ،  یہ تصور کہ یہ ٹیٹو اس  شخص کی دہشت گردی کی اعتقادی تربیت سے پہلے رہی ہوگی ، یا یہ حقیقت کہ ازبکستان (ہو سکتا ہے جہاں سے یہ دہشت گرد آئے ہوں) میں اس طرح کے ٹیٹو بالکل  عام ہیں شاذ و نادر ہی شکی ذہن سے گزر پاتے ہیں ۔ یہ حقیقت کہ سیکورٹی اہلکاروں کا پورنوگرافی (فُحش نِگاری) اور مرد وں کے لئے مردانگی قوت  کی منشیات کو مذہب کی تعلیمات کے خلاف پانا  مسلمان نہ ہونے کے انکے دعوی کو مزید تقویت فراہم کرے گا جب تک کہ انسان خود احتسابی نہ کرے  ۔

بلاشبہ دوسرے ممالک کے شہری اور دیگر مذاہب کے لوگ پاکستان کے خلاف حملے کر سکتے ہیں، لیکن یہ مفروضہ قائم کرنا کہ پاکستان میں 'تمام ' دہشت گرد حملے غیر مسلموں کے ذریعہ ہی کئے جاتے ہیں کم از کم مضحکہ خیز ضرور ہے۔ لہٰذا  ظاہر ہے ہندوستانی، امریکی اور اسرائیلی اور جلد ہی مریخی باشندے نمایاں طور پر ان شکی لوگوں  کے ذہنوں میں ایک مجرم کے طور پر ظاہر  بھی ہو سکتے ہیں ۔

تاہم مزید اہمیت کا حامل  وہ معنیٰ ہے  جس کی طرف ان کا دعویٰ  کہ ‘وہ مسلمان نہیں ہیں ' اشارہ کرتا ہے  ۔ جب پاکستانی یہ کہتے ہیں کہ  دہشت گرد مسلمان نہیں ہیں تو وہ بھی بالکل اسی مرض کا شکار ہوتے ہیں  جس کاشکار دہشت گرد ہیں اس لئے کہ وہ  ایک مذہب میں صحیح اور غلط کا فیصلہ کر رہے ہیں اور اختلاف رائے کو حاشیہ پر ڈال رہے ہیں  ۔ لہذا، ایک لبرل پاکستانی کے لئے طالبان مسلمان نہیں ہیں اور طالبان کے لئے ایک  لبرل پاکستانی مسلمان نہیں ہے اس صورت میں  دونوں کے نقطہ نظر میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ یقینا وہ لوگ جو  طالبان کی تنقید کرتےہیں  مذہب کے جامع  نقطہ نظر کے حامل ہیں ا ور اس کے پرامن عناصر کو نمایا کرتے ہیں اور جو اس نظریہ سے اتفاق نہیں رکھتے ان کے مسلمان ہونے کو مکمل طور پر مسترد کرنا نقصان دہ ہے ۔ طالبان اور اس طرح کے دیگر گروہ مذہب کے تئیں ایک خاص نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سب سے بہترین نقطہ نظر نہ ہو  لیکن یہ پھر بھی ایک مسلمان کا نظریہ  ہے اور اسے  کچھ عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔ جب تک ہم یہ قبول نہیں کرتے کہ  وہ بھی مسلمان ہیں ہم اخلاص کے ساتھ  ان سے شاندار نکات پر  بات چیت نہیں  کر سکتے اور نہ ہی انہیں ان کا راستہ تبدیل کرنے کے لئے ان کو قائل کر سکتے ہیں ۔ میرا ماننا یہ ہے کہ اس طرح کے نظریہ کو مکمل طور پر اس طرح  مسترد کرنا کہ اس کا دین کے ساتھ کوئی سروکار ہی نہیں  ہے اس سے اختلاف اور اس کے  خاتمے کو مشکل بنانا ہے ۔ تشریح کے اس  مسئلے کو  ' اپنانا ' ہی اس نظریے کو پھیلنے سے روکنے  کی طرف پہلا قدم ہے۔

تو پھر یہ دہشت گرد ہیں کون ؟ یہاں میں یہ فرض  نہیں کرنا چاہتا کہ  تمام مسلمان دہشت گرد ہیں بلکہ میں اس بات کی توثیق کرنا چاہوں گا کہ ہمیں یہ ضرور قبول کرنا  چاہئے کہ  بعض مسلمان دہشت گرد ہیں بالکل اسی طرح جیسے بعض عیسائی، بعض ہندو اور کچھ یہودی وغیرہ دہشت گرد ہیں ۔ تصوراتی بہانے تلاش کرنا اور اس معاملے کو نظر انداز کرنا اس مسئلے کا  حل نہیں ہے  بلکہ اس نظریہ کو قبول کرنا اور اس میں مشغول ہو نے سے یہ مسئلہ حل ہو گا ۔

آخر میں جب ہم اس سوال کے بارے میں سوچیں تو شاید ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی بھی  ضرورت پیش آئے ۔ کیا ہماری سوچ ہمارے طور  طریقے ، رویے اور ہمارے معمولات  ہمیں انتہا پسند ظاہر کرتے ہیں ؟ ہمارے ارد گرد کے ماحول کے جائزہ میں ایک دن گذارنے سے ہمیں کچھ جواب حاصل ہو  سکتا ہے۔

ماخذ: http://tribune.com.pk/story/614761/the-terrorists-cant-be-muslims

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/yaqoob-khan-bangash/‘the-terrorists-can’t-be-muslims’/d/13891

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/yaqoob-khan-bangash,-tr-new-age-islam/‘the-terrorists-can’t-be-muslims’--دہشت-گرد-مسلمان-نہیں-ہو-سکتے-/d/13938

 

Loading..

Loading..