New Age Islam
Sat Apr 17 2021, 02:12 AM

Urdu Section ( 3 Feb 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Problem of Cooperation with the Non-Muslims غیر مسلموں کے ساتھ موالات کا مسئلہ


وارث مظہری

غیر مسلموں کےساتھ موالات یا دوستی کا مسئلہ چند معرکۃ الآر ا مسائل میں سے ایک ہے، کیونکہ ایک طرف اس کی پوری بحث براہ راست قرآن کے ماخوذ ہے تو دوسری طرف موجودہ سیاسی وسماجی صورت حال میں غیر مسلموں کے ساتھ بہتر تعلقات کی تشکیل ایک ناگزیر امر ہے اور اس کا اعتراف سبھی کو ہے۔ قرآن میں مختلف مقامات پر شدت کے ساتھ کفار ومشرکین اور یہود ونصاریٰ سے دوستی کی ممانعت کی گئی ہے۔ سب سے پہلے سورۂ آل عمران کی آیت نمبر 27میں اس کا تذکرہ اس طرح کیا گیا ہے ‘‘مؤمنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کا اپنا رفیق اور دوست ہر گز نہ بنائیں جو ایسا کرے گا اس کاا للہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہاں یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لئے ایسا طرز عمل اختیار کرجاؤمگر اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اسی طرف پلٹ کر جاتا ہے ۔’’ اس آیت کی تشریح میں مولانا اشرف علی تھانویؒ لکھتے ہیں :‘‘کفار کے ساتھ تین قسم کے معاملے ہوتے ہیں:موالات یعنی دوست ، مدارات یعنی ظاہری خوش خلفی اور مواسالت یعنی احسان ونفع رسانی’’ (بیان القرآن 217/1) ان کے مطابق :موالات تو کسی حال میں جائز نہیں اور مدارات تین حالتوں میں درست ہے۔ ایک دفع ضرر کے واسطے ۔دوسرے اس کافر کی مصلحت دینی یعنی توقع ہدایت کے واسطے ۔تیسرے اکرام ضیف کے لئے ’’ مفتی محمد شفیع صابؒ نے معارف القرآن (ج:1پارہ :3ص :7۔134) میں اس تشریح کو اختیار کیا ہے۔ البتہ غیر مسلمین کے ساتھ تعلقات کا یک چوتھا درجہ معاملات کا انہوں نے اضافہ کیا ہے، جو ان کے بقول ‘‘تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے بجز ایسی حالت کے کہ ان معاملات سے عام مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے موالات کی تعبیر ‘‘قلبی اور دلی دوستی ومحبت ’’ سے کی ہے ۔ (ایضا،ص :135)

مولانا تھانوی ؒ اور مولانا شفیع ؒ نے جس موقف کا اظہار کیا ہے، اکثر علما کا موقف یہی رہا ہے جن کو عموماً اس یا اس قبیل کی دوسری آیات کی تشریح میں نظر انداز کردیا جاتا ہے ۔ پہلا بنیادی سوال تو یہی ہے کہ موالات کا صحیح مفہوم کیا ہے؟ دوسرے یہ کہ موالات کے حکم کا تعلق عام حالات سے ہے یا مخصوص اور متعین حالات سے ۔دوسرے الفاظ میں متعلقہ آیات میں زمان ومکان کے فرق کے بغیر تمام غیر مسلموں کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کی عمومی نوعیت کو اصولی سطح پر زیر بحث لایاگیا ہے یا ان میں صرف ایک استثنا ئی نوعیت کا بیان ہے۔ علما کی اکثریت کا خیال ہے کہ یہ عمومی نوعیت کا بیان ہے۔ اس کا اطلاق زمان ومکان کے فرق کے بغیر تمام غیر مسلموں پر ہوتا ہے ۔مسلمانوں کو شدت کے ساتھ ان کو اپنا دوست بنانے اور دلی تعلق قائم کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ہندوستان میں آزادی کی تحریک میں علمائے دیوبند کی مخالف علما کی ایک بڑ ی جماعت نےانڈین نیشنل کا نگریس سمیت خلاف اور انگریزوں کے ساتھ عدم موالات کی تحریکوں میں اسی لیے شرکت سے مکمل طور پر انکار کردیا تھا کہ ان تمام تحریکوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہندو شریک تھے۔ ان کا ‘اصولی’ موقف یہ تھا کہ انگریزوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سے بھی عدم موالات ہونا چاہئے کیونکہ ان کی نظر میں انگریزوں کے مقابلے میں ہندو زیادہ بڑے دشمن تھے۔ (تفصیل کے لیے اوشا سانیا کی کتاب :‘ ڈیوشنل اسلام اینڈ پالی نکس ان برٹش انڈیا، کانواں باب)

شیخ محمد بن عبدالوہاب تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ :‘‘مسلمانوں کا ایمان صحیح ہوہی نہیں سکتا خواہ وہ موحد اور شرک کو ترک کرنے والا ہو، جب تک کہ وہ مشرکین کے ساتھ عداوت نہ رکھے اور ان کے تئیں بغض وعداوت کا اظہار نہ کرے۔(الا بعداو۔ۃ المشرکین و النصریح الھم با العداو۔ۃ والبغض مجمو عۃ الرمسائل والمسائل النجلدیہ291/4) یہاں سیاق کی مناسبت سے مشرکین کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ورنہ ان کے بشمول ان کے علما ومفسرین کے نزدیک قرآن کی مختلف آیات کی بنیاد پر جن میں کفار ومشرکین کے ساتھ یہود ونصاریٰ سے بھی ترک موالات کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ حکم تمام غیر مسلموں کے لیے عام ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موالات کی یہ تشریح انسانی عقل اور فطرت دونوں سے معارض ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اسلام میں اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی مسلمانوں کو اجازت دی گئی ہے۔ جس پر صحابۂ کرامؓ کے وقت سے لے کر آج تک عمل ہوتا چلا آرہا ہے۔ انسان فطری طور پر مجبور ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور ماؤں سے قلبی دوستی اور دلی محبت کا تعلق قائم کرے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس صورت میں اسلام ایک مسلمان کو روک دے گا کہ وہ اپنی غیر مسلم بیوی یا ماں سے محبت کرے؟اور یہ کہ ‘‘ صرف ظاہری خوش خلفی’’ (مدارات)سے کام چلائے ؟ کیا ایسی صورت میں خوشگوار ازدواجی زندگی کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک فطری دین ہے۔ وہ فطرت انسانی کے خلاف نہیں جاسکتا ۔

اصل بات یہ ہے کہ قرآن میں موالات کی آیات کا تعلق نہ تو تمام مسلمانوں سے ہے اور نہ تمام غیر مسلموں سے ۔ ان کےاصل مخاطب وہ مسلمان ہیں جن کے اور غیر مسلموں کی کسی جماعت کے درمیان کشیدگی اور جنگ کی صورتحال قائم ہو۔ اس پر بھی اس حکم کے اطلاق کی صحیح شرط یہ ہے کہ یہ جنگ خالص اسلامی بنیادوں پر لڑی جارہی ہو۔ یعنی وہ حقیقی معنوں میں اسلام کے کلمے کی حفاظت اور اس کو بلند کرنے کے لئے لڑی جارہی ہو نہ کہ صرف اپنے قومی مقاصد ومفادات کے لیے ۔ جس کے جائز ہونے میں ڈاکٹر اسرار عالم (پاکستان) کے بقول کوئی شبہ نہیں لیکن اس پر جہاد فی سبیل اللہ کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا (ڈاکٹر صاحب نے اپنی مختلف تحریروں میں اس پہلو پر زور دیا ہے۔)

قابل ملاحظہ پہلو یہ ہے کہ جس طرح جہاد و قتال سے متعلق مختلف آیات کو ان کے اصل سیاق وسباق سے ہٹا کر ان کا اطلاقی اور عمومی مفہوم مراد نہیں لیا جاسکتا ، جس پرموجود ہ تمام علما کا اتفاق ہے اسی طرح موالات کی آیات کا، ان کو ان کے پس منظر یا شان نزول کے تحت رکھ کر ہی صحیح مفہوم نکالا جاسکتا ہے۔ مثلاً قرآن کہتا ہے کہ تم ان کوجہاں بھی پاؤ قتل کرو(البقرہ :191) اگر وہ پیچھے مڑیں تو تم انہیں پکڑ و اور قتل کردو، وہ جہاں بھی ملیں (النسا: 89) علمائے اسلاف میں ایک تعداد ایسی رہی ہے جو سورۂ توبہ کی آیت 29سے غیر مسلموں کے ساتھ اچھے برتاؤں کی تلقین کرنے والی آیات کو منسوخ تصور کرتی رہی ہے لیکن اب جمہور کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ اور اس طرح کی آیات اس صورت حال کے ساتھ خاص ہیں جب مدینہ میں مسلمانوں کی معمولی اور کمزور جماعت کومدینہ کے یہود اور مکہ کے مشرکین کے ساتھ وجود بقا کی جنگ درپیش تھی۔ دونوں فریق ایک دوسرے کےسامنے صف بستہ تھے۔ ان کا تعلق عام اور نارمل صورت حال سے نہیں ہے۔ موالات کی آیات اسی صورت حال سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا حکم انہی جیسی صورت حال کے ساتھ خاص ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی ‘‘تدبر قرآن’’ میں لکھتے :‘‘کفار کو دوست اور حلیف بنانا اسی حالت میں ممنوع ہے جب یہ مسلمانوں کے بالمقابل ہو۔ اگر یہ صورت نہ ہوتو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے’’۔(412/2) آل عمران کی آیت 28کی تشریح میں لکھتے ہیں :‘‘‘ فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کافروں کو اپنا ولی بنائیں لیکن اسی کے ساتھ ‘‘من دون المؤمنین ’’ کی قید ہے ۔یعنی کافروں کے ساتھ صرف اس قسم کی موالات ناجائز ہے جو مسلمانوں کے بالمقابل اور ان کے مفاد اور مصالح کے خلاف ہو’’ (ایضاص:67) موالات سے متعلق ان آیات میں اگر چہ مسلمانوں کو مخاطب بنایا گیا ہے لیکن ،جیسا کہ قرطبی اور صاحب تدبر قرآن نے اس کی وضاحت کی ہے اس میں اصل خطاب منافقین سے ہے جو مدینہ کے یہود کی مسلمانوں کے ساتھ سازشوں میں ان کے آلۂ کار بنے ہوئے تھے ۔ یا ان مسلمانوں سے ہے، جن کا تعلق ہجرت کے بعد بھی بعض ذاتی مصالح کے تحت مشرکین مکہ سے قائم تھا۔ جب اپنے وجود اور ایمان کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کی دشمنوں سے جنگ مسلسل چھڑ ہوگئی تو قطعی طور پر مکہ کے مشرکین اور مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ دوستی کی مسلمانوں کو ممانعت کردی گئی ۔

اس کی سب سے بڑی دلیل سورۂ ممتحنہ کی آیات ہیں۔ اس سورت کی پہلی ہی آیت میں اپنے اور خدا کے دشمنوں کو دوست بنانے سے منع کیا گیا ہے اور جرم یہ بتایا گیا ہے کہ حق کے انکار کے ساتھ انہوں نے رسولؐ اور اس پر ایمان لانے والے مسلمانوں کو ان کے گھروں (وطن) سے نکال باہر کیا۔ فرمایا گیا کہ :‘‘اگر وہ تم کو پاجائیں تو تمہارے دشمن بن جائیں (ان بثقفر کم یکونو الکم اعدا) اس مفہوم کی وضاحت آگے کی آیت نمبر 8اور 9سے ہوتی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کی محبت سےروکتا ہے جنہوں نے دین کے بارے میں تم سے لڑائیاں لڑیں اور تمہیں دیس نکالا دیا اور دیس نکالا دینے والوں کی مدد کی ۔ جو لوگ ایسے کفار سے محبت کریں وہ قطعاً ظالم ہیں۔ اسی لیے مولانا امین احسن اصلاحی نے زیربحث ممتحنہ کی آیات کے ذیل میں اپنے موقف کو مزید واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘‘ موالات کی یہ ممانعت تمام کفار کے حق میں نہیں ہے بلکہ صرف ان کے حق میں ہے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم (مسلمانوں ) سے جنگ کی۔ اور تم (مسلمانوں ) کو جلاوطن کیا۔’’( تدبر قرآن :334/8)

بشکریہ:  صحافت

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-pluralism/does-quran-allow-muslims-close,-intimate-interaction-with-non-muslims?-/d/6549

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/problem-of-cooperation-with-the-non-muslims--غیر-مسلموں-کے-ساتھ-موالات-کا-مسئلہ/d/6552

 

 

Loading..

Loading..