New Age Islam
Mon Jul 04 2022, 11:12 PM

Urdu Section ( 4 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Anti-Muslim Environment: What Is The Solution! ! مسلمانوں کے خلاف داروگیر کی فضا: حل کیا ہے

وارث مظہری

3 مئی،2022

ہندوستان میں مسلمان اس وقت جس صورت حال سے دو چار ہیں ان کا ظہور اچانک نہیں ہوا۔ یا توہم اس خطرے کاصحیح اندازہ لگانے میں ناکام رہے یا پھر غفلت او ربے جا خود اطمینانی کی کیفیت میں مبتلا رہے۔ پاکستان کے پرجوش حامیوں سے جمعیۃ علمائے ہند کے دور اندیش قائدین مولانا حسین احمد مدنی ، حفظ الرحمن سیوہاروی ودیگر کا باصرار و تکرار مختلف میٹنگوں میں یہی سوال تھا کہ آخر ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کی کیا ضمانت ہے؟ ا س کا جواب جمعیۃ علمائے اسلام کے سربراہ مولانا شبیر احمد عثمانی اور دیگر کی طرف سے یہ تھا کہ ریاست مدینہ کی طرز پر قائم ہونے والی یہ حکومت ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کی داد رسی کے لئے لبیک کہتی ہوئی ہر وقت کمر بستہ رہے گی۔

تقسیم ہند کے سانحہ کے بعد ہندوستان کے مسلم قائدین کی ذمہ داری تھی کہ وہ ایک دور رس اور قابل عمل منصوبہ تیار کریں۔ لیکن ہمارے قائدین ، وہ مذہبی ہوں یا سیکولر، ’’ وقت کے ساتھ سب کچھ درست ہوجانے ‘‘ کی خوش فہمی میں مبتلا رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حال و مستقبل کی کوئی بھی منصوبہ بندی ماضی کے تجربات کو نظر انداز کرکے نہیں کی جاسکتی ۔ ہمیں دشمنوں کے مظالم پر چیخ و فریاد کیساتھ اپنا محاسبہ بھی کرناچاہئے کہ ہم سے کیا غلطیاں ہوئیں؟ ہماری اجتماعی کوششیں ، ہماری ذہنی توانائی کہاں او رکیسے ضائع ہوئی ؟ ہمارا ملک نہایت ذہین طبقہ اسلامی سیاست کی نظری بھول بھلیوں میں کھو یا رہاجس کی معنویت خود مسلم دنیا کے لئے ختم ہوچکی تھی۔ ہم تعمیر سے زیادہ تخریب کے ماتم اور احتجاج و مظاہرے میں اپنا وقت صرف کرتے رہے۔ ہماری احتجاجی سیاست خود احتسابی اور سنجیدگی فکر کے ساتھ اپنے اجتماعی و جود کو مستحکم کرنے کی کوششوں میں مانع رہی۔

1947 کے اپنے مشہور ’’ خطبہ مدارس‘‘ میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اس نہایت اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی تھی۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ مسلمانوں کیلئے سب سے معتدم کام یہ ہے کہ ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو قومی کش مکش پیدا ہوگئی ہے، اس کو ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کی طرف سے ختم کردیا جائے۔(ص،13) کیونکہ ہندو قومیت پرستی کی پہلی بنیاد انگریزی اقتدار سے نجات (جو حاصل ہونے کو ہے) اور دوسری بنیادیہی ہے۔(ص،12۔22) ۔مولانا مودودی کامشورہ جس قدر کل صائب تھا اتنا ہی آج بھی با معنی ہے۔ یہ جنگ اس باہمی کش مکش کو ختم کیے بغیر جیتی نہیں جاسکتی۔ مسلم اہل دانش کو سیاسی ذہنیت سے اوپر اٹھ کر اس پہلو کو غور وفکر کا موضوع بنانا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ اس کشمکش کے خاتمے کی کیا صورتیں ممکن ہیں؟ ہندوؤں کے سیکولر اور غیر جانب دار طبقے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رسم و راہ استوار کرنے اور مسلمانوں پر ہورہے مظالم کے خلاف جو لوگ آواز بلند کررہے ہیں ، ان کو اپنے ساتھ لینے کی کوشش کی جائے۔ایسے لوگوں میں دو طبقوں کے افراد زیادہ موثر ہیں: ایک سیاست سے دور سنجیدہ ہندو مذہبی شخصیات اور دوسرے آزاد سیکولر صحافی۔ہندو مذہبی شخصیات میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جن سے پہلی فرصت میں ہمارے مذہبی و قومی رہنماؤں کی ملاقاتیں ہونی چاہئیں۔ شر پسند تخریب کار گروہوں کو سماج میں الگ تھلگ کرنے کے عمل میں یہ شخصیات سب سے زیادہ زیر اثر ہے۔ ہندوتو کے علم برداروں کے ذریعے ہندو مذہب کو ہائی جیک کیے جانے کا عمل ان کے لئے بھی تکلیف دہ ہے کیونکہ انہیں بخوبی احساس ہے کہ ہندو مذہب کے سیاسی ٹھیکہ دار انہیں حاشیہ پر لگانے کے لئے کوشاں ہیں۔

امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی صاحب کی یہ بات نہایت اہم ہے کہ جارحیت پسند اور اس کے بالمقابل انصاف پسند طبقے کے درمیان پایاجانے والا غیرمسلموں کا وہ تیسرا طبقہ جو پہلے طبقے سے تیزی کے ساتھ متاثر ہورہا ہے، ہماری اصل ترکیز اس پر ہونی چاہئے کہ اس طبقے سے وابستہ افراد کے اذہان کو آلودہ ہونے سے بچایا جاسکے۔ افسوس کی بات ہے کہ آزادی کے بعد ہم نے اس پر کوئی محنت نہیں کی۔ یہودیوں سے سبق لینے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے مغربی ممالک کے مخالفانہ ماحول میں مالیات، تعلیم ، ابلاغ وغیرہ کے شعبوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنا یا اور ادارتی سطح پر ان شعبوں میں چھا گئے۔ ہم نے اجتماعی قوتوں کے ان تمام مراکز سے خود کو دور رکھا اور اس حوالے سے مکمل طور پر دوسروں پر منحصر رہے۔ اس وقت ایک انتہائی اہم ضرورت میڈیا ہاؤسز کا قیام ہے جن پر مسلم ہونے کا لیبل تو نہ لگا ہو لیکن وہ مسلم ایشوز کو غیر جانب داری کے ساتھ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سامنے لاسکیں ۔ آزادی کے 75 سالوں کے بعد بھی پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا میں ہماری نمائندگی تقریباً صفر ہے۔ ہم اپنی آواز کو اپنے ذرائع سے دنیا کے سامنے پیش کرنے سے کل بھی قاصر تھے، آج بھی قاصر ہیں۔ ہم آزادی کے بعد آج تک انگریزی یا ہندی میں نہ کوئی روز نامہ نکال سکے او رنہ ملکی سطح کا کوئی نیوز چینل شروع کرسکے۔ ہماری صحافت محض ملی صحافت ہوکر رہ گئی ۔ ملکی صحافت میں ہمارا رول صفرہوکر رہ گیا۔

اب تک ہمارا فوکس صرف مدارس اور مساجد کے قیام و استحکام پر رہا ہے اس کے مقابلے میں دوسرے شعبوں کے قیام کو جن میں معیاری اسکولوں اور کالجوں کا قیام سر فہرست ہے، ہماری ترجیجات کی فہرست میں کوئی جگہ حاصل نہ ہوسکی۔ یہ ہماری بہت بڑی اجتمائی ناکامی ہے۔ ضرورت ہے کہ مدارس میں صرف ہونے والے وسائل کا ایک قابل قدر حصہ اسکولوں پر خرچ ہو ۔ ہندو عوام و خواص سے ہمارا سماجی رابطہ مستحکم ہو۔ اس کے لئے مختلف سطحوں پر کوشش کی ضرورت ہے۔ ماضی میں مساجد، مدارس اور خانقاہوں سے ہندو افراد اور سماج جڑے ہوئے تھے۔ دارالعلوم دیوبند کی تاریخ کے مطابق ابتدا میں ہندو بچے بھی تعلیم حاصل کرتے تھے اور اس کو چندہ دینے والوں میں ہندو بھی شامل تھے۔ یہ بات جس قدر بھی تلخ ہو حقیقت ہے کہ ہم نے آزادی کے بعد جو ادارے کھولے اور تنظیمیں قائم کیں ، ان کاواسطہ زیادہ تر مسلمانوں سے رہا اور وہ زیادہ تر انہیں کو مقصود بنا کر قائم کی گئیں۔ مثلاً عیسائیوں کی طرح ایسے تعلیمی اور طبی ادارے اسکول، ہسپتال اپنی تمام تر مذہبی ترغیبات کے باوجود قائم نہیں کیے جاسکے جو برادران وطن کے ساتھ دوری کو ختم کرنے اور مسلمانوں کی امیج کوبہتر بنانے میں معاون ہوں۔ اگر مدرٹریسا یا عبدالستار ایدھی جیسا خدمت خلق کا کوئی ادارہ مسلمانوں نے ہندوستان میں قائم کیا ہوتا تو غیر مسلم ذہنوں پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوتے۔

غیر مسلموں سے بہتر تعلقات کے قیام میں ہمارے بعض کمزور مذہبی نظریات کو بھی دخل رہا ہے۔ مثلاً یہ کہ غیر مسلموں کو دوست بنانے (موالات) سے اسلام مسلمانوں کو منع کرتاہے۔ ان کے ساتھ قلبی دوستی کسی صورت میں ممکن نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ صرف ظاہری خوش خلقی برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (موالات کی یہ تشریح مختلف اردو تفسیر وں میں دیکھی جاسکتی ہے) یہ قرآن میں موالات کی حقیقت کی نہایت غلط تشریح ہے۔ اصل میں اس حکم کا تعلق عام حالات سے نہیں بلکہ جیسا کہ صاحب ’ تدبرقرآن‘ اور دیگر مفسرین نے وضاحت کی ہے، جنگ کے حالات سے ہے جو نزول آیات کے وقت درپیش تھے۔ غیر مسلموں کو سلام ، تہواروں پر مبارکباد اور سماجی تعاملات کی دوسری صورتوں کے حوالے سے پائے جانے والے ’ فقہی تحفظات‘ نے آپسی دوریوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ضرورت ہے کہ اس حوالے سے اسلام کے وسیع تر اخلاقی تصورات کو سامنے رکھتے ہوئے ان مسائل میں پائی جانے والی تنگی اور حرج کو رفع کرنے کی کوشش کی جائے۔

3 مئی،2022 ، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/anti-muslim-environment-solution/d/126936

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..