New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 03:56 AM

Urdu Section ( 26 March 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Egypt Looks to Sufi Sheikhs to Counter Extremism انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے مصر کی نگاہیں مشائخ تصوف پر

ولاء حسین

18 مارچ، 2018

مصر کے اندر رمضان المبارک (مئی - جون) کے مقدس مہینے میں ایک نئے صوفی سلسلہ ("الشاذلية العلية") کا اجراء سرکاری طور پر کیا جائے گا ، اس کی خبر اس نئے سلسلے سے منسلک ایک شخص نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر المانیٹر (Al-Monitor) کو دی ہے۔

مصر میں سپریم کونسل آف صوفی آرڈرس اور وزارت اوقاف نے 21 فروری کے دن اس نئے صوفی سلسلے کو سرکاری طور پر تسلیم کر لیا ہے اور اسے ان 77 دیگر صوفی سلسلوں میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے جنہیں مصر میں سرکاری منظوری حاصل ہے۔ مصر کے سابق مفتی اعظم شیخ علی جمعہ اس نئے صوفی سلسلہ کے بانی ہیں۔

قانون نمبر 118 (1976) کے تحت ریگولیشن آف صوفی آرڈرس کے مطابق سپریم کونسل آف صوفی سلسلہ جس کی بنیاد 1903 میں رکھی گئی تھی- نئے صوفی سلسلہ کے لئے درخواستیں وصول کرتی ہے اور اسے منظوری دیتی ہے، جسے وزارت اوقاف الازہر اور وزارت داخلہ کی بھی منظوری حاصل ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد اس فیصلے کو سرکاری اخبار میں شائع کیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق نئے سلسلے کے معمولات اور اس کا نام گزشتہ سلاسل تصوف سے مشابہ نہیں ہونا چاہئے۔

کونسل نے 24 مئی 2017 کو الرضوانیۃ الخلوتیۃ، اور کردش نقشبندی جیسے دیگر دو سلاسل تصوف کو منظوری دی تھی۔ وزارت اوقاف مصر میں مذہبی مکالموں کی تجدید کے لئے اور تشدد اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے تصوف پر انحصار کرتی رہی ہے۔ اور یہ کام تہواروں اور‘اولیاء کرام’ کی یومِ پیدائش کے مواقع پر صوفی مسلمانوں اور وزارت اوقاف کے ساتھ مشترکہ سیمیناروں کا اہتمام کر کے انجام دیا جا رہا ہے۔

حکومت صوفیائے کرام سے منسوب تقریبات جشن ، سڑکوں پر جلوسوں اور الحسینی مسجد میں جشن عاشورہ (جس میں پیغمبر اسلام محمد ﷺ کے نواسے حضرت امام حسین کی شہادت کو یاد کیا جاتاہے) اور دیگر صوفی تقریبات کے انعقاد میں مالی تعاون فراہم کرتی ہے۔ عاشورہ ایک شاندار موقع ہوتا ہے کیونکہ اس موقع پر مصر میں شیعوں کے مسائل بھڑک اٹھتے ہیں۔ کیوں کہ عاشورہ کے دن مصری سیکورٹی اہلکار صوفی مسلمانوں کو الحسینی مسجد میں اپنی رسومات ادا کرنے کی اجازت دیتے ہیں جن میں اکثر اوقات موسیقی اور رقص جیسے معمولات بھی شامل ہوتے ہیں ، جبکہ اس دن شیعوں کو ان کے رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ (صوفی مسلمانوں میں شیعہ اور سنی دونوں شامل ہیں۔)

اخوان المسلمین کے ایک سابق رکن اور اسلامی تنظیموں کے آزاد محقق ​​احمدالبان نے المانیٹر (Al-Monitor) کو بتایا، "بعض لوگ – خواہ ان کا شمار فیصلہ ساز حلقوں میں ہوتا ہو خواہ سیاست دانوں میں ہوتا ہو- یہ مانتے ہیں کہ حکومت کا تصوف کی طرف قدم بڑھانا انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور سلفیت اور اخوان المسلمین کا سد باب کرنے کے لئے ہو سکتا ہے۔ "

اسلامی تحریکوں کے ایک آزاد تجزیہ کار محمد کامل نے المانیٹر (Al-Monitor) کو بتایا کہ، "مصری میں صوفی مسلمانوں کی تعداد 15 ملین ہے۔ اور وہ سیاسی اسلامی جماعتوں یعنی سلفیوں کی مخالفت کے لئے جانے جاتے ہیں۔ "

مصر میں تقریبا 100 ملین کی آبادی ہے جس میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ اور یہاں قبطیوں کی تعداد ایک تخمینہ کے مطابق تقریبا 5 ملین سے 15 ملین تک ہے لیکن ان کی تعداد کا کوئی حتمی تخمینہ پیش کرنا مشکل ہے۔

تصوف ایک اسلامی نظام ہے جس کی ابتدا اوائل دورِ اسلامی میں ہوئی اور 11 ویں صدی کے قریب اسے ایک منظم شکل میں پیش کیا گیا۔ اس کی بنیاد تقویٰ، محاسبہ نفس اور عدم تغافل کے اصولوں پر ہے تاکہ اللہ کی قربت حاصل کی جائے اور سیاست سے ممکنہ حد تک دوری بنائی جائے۔ تاہم، مصر میں صوفی اماموں پر اکثر برسراقتدار حکومت کی حمایت کرنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ مصر میں سب سے بڑی صوفی شخصیت کو سب سے اعلیٰ عہدہ حاصل ہوتا ہے ، مثلاً الازہر کا عہدۂ مشیخیت یا وزارتِ اوقاف۔

اس نئے صوفی سلسلہ کو تسلیم کئے جانے پر سلفی طبقہ برانگیختہ ہے۔ 2 مارچ کو سلفی مبلغ سامح عبد الحمید نے اس بنیاد پر تمام صوفی سلاسل کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا کہ نظریہ تصوف شریعت کے ساتھ براہ راست متصادم ہے۔

صوفی یونین کے سیکرٹری جنرل عبد اللہ الناصر نے المانیٹر (Al-Monitor) کو بتایا کہ، "صوفی نظریات کی اشاعت مصر میں انتہا پسندی کے طاغون کا مقابلہ کرنے کے لئے انتہائی اہم اور ضروری ہے۔" ناصر کا ماننا ہے کہ مصر میں انتہا پسندی کی لہر کو روکنے کے لئے صرف ایک نیا سلسلہ کافی نہیں ہے۔

سلسلہ شرنوبیۃ کے شیخ محمد شرنوبی نے کہا کہ شیخ جمعہ کو ایک نیا سلسلہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے المانیٹر (Al-Monitor) کو بتایا کہ ، "صوفی نظریات کو فروغ دینے کے لئے ان کے پاس سیٹلائٹ ٹی وی چینلز پر کتابیں اور پروگرام دستیاب ہیں۔ شیخ جمعہ نے ریاست کی حمایت سے اس سلسلے کی بنیاد رکھی ہے تاکہ وہ عبد الفتاح السیسی کی متوقع چار سالہ دور صدارت میں سب سے بڑے مذہبی قائد بن سکیں۔"

احمد البان نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ سلفیوں اور اخوان المسلمین کے ارکان کا مقابلہ کرنے کے لئے تصوف پر انحصار کرنا گمراہ کن بنیادوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اولیائے کرام کی یوم پیدائش کی تقریبات میں شرکت کرنے والوں میں صوفی مسلمانوں کی تعداد کا شمار کیا گیا ہے جس میں یہ پایا گیا کہ ان تقریبات میں شرکت کرنے والا ہر شخص صوفی مسلمان نہیں ہے۔" انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے مصری ان تقریبات میں شرکت محض تفریح طبع کی خاطر کرتے ہیں۔

اس کے برعکس، محمد کامل کا کہنا ہے کہ تصوف میں شیخ جمعہ کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ انہوں نے جمہوریہ مصر کے مفتی کے طور پر خدمات انجام دی اور سیاست میں کبھی حصہ نہیں لیا، لیکن 5 اگست، 2016 کو ان پر قتل کے ایک ناکام حملے کے پیچھے ان کے وہ نظریات اور فتاوے تھے جن پر اکثر سیاست کی گئی ہے۔ قاہرہ میں خطبہ جمعہ کے لئے مسجد جاتے وقت راستے میں ایک نقاب پوش مسلح حملہ آور نے ان پر گولی چلائی جس میں ان کا ایک باڈی گارڈ زخمی ہوا تھا۔

اخوان المسلمین سے منسلک تنظیم حرکۃ سواعد مصر نے ایک ویڈیو میں واقعے کی ذمہ داری قبول کی۔ اس کے بعد پولیس کی تحقیقات میں آٹھ افراد کی گرفتاری عمل میں آئی جن میں سے تمام کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا۔

انہوں نے کہا کہ، "ایک نئے صوفی سلسلے کا اعلان کرنے کے بعد شیخ جمعہ کو سیاست سے الگ ہو جانا چاہئے کیونکہ تصوف کی بنیاد درویشی، تقویٰ اور عالمی تنازعات کی براہ راست وجہ سیاسی سرگرمیوں سے اجتناب کے اصولوں پر مبنی ہے۔"

کامل نے مزید کہا کہ تصوف کی اصل جنگ اخوان المسلمین کے خلاف نہیں بلکہ سلفیت کے خلاف ہے۔ سلفی اکثر اپنے بیانات میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ صوفی مسلمان بت پرستی اور کافرانہ اصول و معتقدات کے مجرم ہیں۔

کامل نے کہا کہ درحقیقت ، " اخوان المسلمین کے بانی حسن البنا ایک صوفی سلسلہ الطريقۃ الحصافیۃ کے ایک رکن تھے۔ اخوان المسلمین کی ساخت سلاسل تصوف کے مطابق ہے۔ ۔۔۔ یہ جاننا کافی ہے کہ سلسلہ التیجانیۃ کے بانی محمد حافظ التیجانی (مرحوم)، حسن النبا کے سب سے بڑے حامی تھے۔ اس کے علاوہ عصام العريان ، جمال حشمت اور صبحي صالح جیسے اخوان المسلمین کے رہنما اسکندریہ میں ایک صوفی بزرگ ابو العباس المرسی کی تقریباتِ یومِ پیدائش میں شرکت کرتے تھے’’۔

در اصل مصر میں صوفی ووٹنگ اتحاد کافی مضبوط ہے۔ اسی لئے اکثر مصری رہنما اور حکمران اپنے صوفی پس منظر کا گُن گاتے ہیں ، مثلاًلیفٹیننٹ جنرل سامی حافظ عنان اور عبد الفتاح السیسی کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق صوفی خاندانوں سے ہے۔

السیسی کو ان کے عہدے پر دوسری میعاد کے لئے صوفی مسلمانوں کی مضبوط حمایت سابقہ منظرنامے کا دور ثانی ہے ، جیسا کہ عبد الناصر اور انور سادات جیسے سابق صدور نے صوفی مسلمانوں کی جانب سے ان کی سیاسی حمایت اور اخوان المسلمین جیسی سیاسی اسلامی جماعتوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے بدلے میں صوفی سلاسل کے تئیں اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا تھا۔

ماخذ:

almoney۔com/pulse/originals/2018/03/egypt-adopts-new-sufi-order-fight-terrorism-shadhili-alliya۔html#ixzz5AG6ECYcM

URL for English article: http://www.newageislam.com/the-war-within-islam/walaa-hussein/egypt-looks-to-sufi-sheikhs-to-counter-extremism/d/114650

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/egypt-looks-sufi-sheikhs-counter/d/114723


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..