New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 05:46 AM

Urdu Section ( 5 May 2010, NewAgeIslam.Com)

Objectives Resolution and secularism-Part-18 (قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط18


وجاہت مسعود

ابو الکلام آزاد علم دوست ،حریت پسند اور قوم پرست مسلمان رہنما تھے۔ زندگی کی سفر 1888میں شروع ہوا۔ عملی زندگی کا آغاز 1904ہی سے ہوگیا تھا ۔ 1923، 1930اور 1939میں آل انڈیا نیشنل کانگریس کے قائم مقاصد مقرر کیے گئے ۔ 1940میں کانگری کے صدر منتخب ہوئے اورمسلسل 1946تک ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ رہے۔ صحافت میں ہفتہ وارالہلال (1912) اور ہفتہ دارالبلاغ (1915) جاری کیے جو اردو صحافت کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خطیب تھے تو بے مثل رولٹ ایکٹ کے خلاف کراچی کی ایک عدالت میں جو بیان دیا، وہ قول فیصل کے نام سے لوح تاریخی پہ  ثبت ہے۔ قلم اٹھایا تو اردو نثر کے شاہکار ‘غبار خاطر’ اور ‘تذکرہ ’ ان کی تراوش فکر کے معمولی نمونے ہیں۔ علم قاموسی اور بیان کی فصاحت ضرب المثل ،دینی علوم کی غواصی کی تو تفسیر قرآن میں ایسے موتی دریاست کیے جن کی آپ اہل علم کے لیے کحل جواہر قرار پائی۔ مولانا آزاد بیس برس کی عمر میں آزادی کی تحریک میں شامل ہوئے تھے۔ قید و بند کا سلسلہ رانچی بہار سے شروع ہوا تھا، قلعہ احمد نگر میں 1945میں ختم ہوا۔ کل 68برس اور سات ماہ ۔ اس میں 9برس اور 8ماہ انگریز کی قید کاٹی۔ گویا عمر عزیز کا ہر ساتواں روز جیل میں کٹا۔

جسے مولانا ابو الکلام آزاد کی سیاسی بصیرت میں شک ہووہ ‘انڈیا ونز فریڈم ’ پرایک نظر ڈال لے۔ نہرو ہوں یا پٹیل ،گاندھی ہوں یا جناح مولانا کی رائے نپی تلی لیکن کوئی ایک لفظ شرافت سے گرا ہوا نہیں۔ کوئی  ایک جملہ نہیں جو توازن اور حقیقت سے خالی ہو۔ سچ پوچھئے تو مولانا نے اس تصنیف میں جسے آزادی ہند کے بنیادی ماخذ میں سرفہرست شمار کیا جاتا ہے ، سب سے کڑاا حتساب خو د اپنی ذات کا کیا ہے۔ مولانا کےنقطہ نظر سے سیاسی مکالمے کی معروف روایت میں اختلاف کیا جاسکتا ہے ۔ مولانا آزاد عملی سیاست کے جوڑ توڑ سے ماورا نہیں تھے۔ تاہم مولانا کی حریت ،دیانت ، علمی حیثیت ،وضع داری اور خودداری میں کلام نہیں ۔قائد اعظم محمد علی جناح کے سیاسی کیرئیر پر یہ ایک بدنما نشان ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ کی مذہبی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے کانگریس کو ہندو جماعت قرار دینا چاہا تو محی الدین ابو الکلام آزاد کو کانگریس کا ، شوبوائے’ قرار دیا۔ مولانا کو اس قسم کے حملوں کا جواب دینے کی عادت تھی نہ تاب۔ مولانا نے اپنی تصنیف میں حیران کن طور پر قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک سے زیادہ مقامات پر نہ صرف یہ کہ اچھے لفظوں میں یاد کیا ہے بلکہ متعدد امور میں ان کے نقطہ نظر کی تحسین کی ہے۔ مسلم لیگ کی قیادت نے جس  سیاسی ثقافت کو آگے بڑھانا چاہا اس کے مقتدی اس طرز کلام کو اس نہج پر لے گئے جو شاید قائد اعظم محمد علی جناح کوبھی پسند نہ آتی۔

ہندوستان تقسیم ہوگیا۔ مسلم سیاست کے بڑے بڑے غم خوار کروڑوں مسلمانوں کو ‘ہند واکثریت’ کے رحم وکرم پر چھوڑ کر پاکستان چلے آئے۔ اس موقع پر اکتوبر 1947میں جامع مسجد دہلی میں مسلمانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد نے فرمایا،

‘‘میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کے مدرسے سے وفاداری کا سرٹیفیکٹ حاصل کرو اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیر ملکی حاکموں کے عہد میں تمہارا اشعار رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو اجلے نقش ونگار تمہیں اس ہندوستان میں ماضی کی یاد گار کےطور پر نظر آرہے ہیں وہ تمہارا ہی قافلہ تھا، انہیں بھلاؤ نہیں ،انہیں چھوڑ و نہیں، ان کے وارث بن کر رہو او رسمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کے لیے تیار نہیں تو پھر تمہیں کوئی طاقت بھگا نہیں سکتی۔ آؤ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اس کے لیے ہیں او را سکی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔’’

یوپی سے پاکستان جانے والے ایک گروہ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا ،‘‘آپ مادر وطن چھوڑ کر جارہے ہیں آپ نے سوچا اس کا انجام کیا ہوگا؟ آپ کے اس طرح فرار ہوتے رہنے سے ہندوستان میں بسنے والے مسلمان کمزور ہوجائیں گے اور ایک وقت ایسا آسکتا ہے جب پاکستان کے علاقائی باشندے اپنی اپنی جدا گانہ حیثیتوں کا دعویٰ لے کر اٹھ کھڑے ہوں۔ بنگالی، پنجابی، سندھ، بلوچ اور پٹھان خود کو مستقل قومیں قرار دینے لگیں۔ کیا اس وقت آپ کی پوزیشن پاکستان میں بن بلائے مہمان کی طرح نازک اور بے کسی کی نہیں رہ جائے گی؟ ہندو آپ کامذہبی مخالف تو ہوسکتا ہے ،قومی مخالف نہیں۔ آپ اس صورت حال سے نمٹ سکتے ہیں مگر پاکستان میں آپ کو کسی وقت بھی قومی اوروطنی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑجائے گا جس کے آگے آپ بے بس ہوجائیں گے’’۔

بیسویں صدی کے نصف آخر میں گیسوئے اردو کو سنوارنے والے ادیبوں میں مختار مسعود کا نام بہت اوپر آتا ہے۔ جملے کی تراش ، لفظوں کی موزونیت، اعلیٰ انسانی بصیرت اور حرمت تحریر میں مختار مسعود کی تصانیف ‘آواز دوست ’ اور ‘سفر نصیب’ درجہ اول کے نمونوں میں گنی جاتی ہیں۔افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ سفر نصیب میں جہاں ابو الکلام کا ذکر آیا ،مختار مسعود خود اپنا ہی معیار قائم نہیں رکھ پائے۔ لکھتے ہیں ‘‘علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر جب طلبا نے مولانا (آزاد) کے ساتھ گستاخی کی تھی ان دنوں میں بھی طالب علم تھا اور اس گروہ میں شامل تھا جو کمک کے طور پر اسٹیشن پر پہنچا تو گاڑی چھوٹ چکی تھی۔ مجھے دیر تک اس موقع کے ہاتھ سے نکل جانے کا افسوس رہا’’۔

مختار مسعود جس واقعے کی طرف اشارہ کررہے ہیں ، مرحوم فاروق قریشی کے لفظوں میں ‘‘کچھ گستاخ ہاتھ مولانا کی ریش تک پہنچ گئے’’ ۔ اس واقعے کا اعادہ خوشگوار نہیں لیکن یادر کھنا چاہئے کہ لیاقت علی خان قیام پاکستان کے بعد لاہور ایک جلسہ عام میں بطور وزیر اعظم خطاب کرنے آئے تو مسلم لیگ کے کچھ مقامی فرستادہ جانثار وں نے عین ڈائس کے سامنے لباس زیریں سے بے نیاز ہوکر رقص فرمایا تھا۔

پروفیسر محمد سرور اپنی تصنیف ‘تحریک پاکستان کا ایک باب’ میں لکھتے ہیں کہ فضل الہٰی چودھری (تب اسپیکر مغربی پاکستان اسمبلی ،بعد ازاں صدر پاکستان ) مولانا ابو الکلام آزاد سے دہلی میں 1956میں اپنی ملاقات کے حوالے سے بتاتے تھے کہ مولانا نے دیگر امور کے علاوہ انہیں مد برانہ نصیحت کی تھی کہ پاکستان میں بار بار انتخابات کرائیے ۔ جمہوریت کی کمزوری کا انتخابات کے سوا کوئی علاج نہیں ۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ اہل پاکستان کو سمجھائیے کہ عصر حاضر میں سرکاری اہلکار وں کا سیاسی مناصب پرفائز ہونا مباح نہیں سمجھاجاتا۔ واضح رہے کہ اس وقت تک غلام محمد گورنر جنرل ، چودھری محمد علی وزیر اعظم ،جنرل ایوب خان وزیر دفاع اور سکندر مرزا صدر پاکستان کے مناصب پر مختلف اوقات میں فائز رہ چکے تھے ۔ مولانا آزاد سیاسی قیادت پر سرکاری اہلکار وں کی بالا دستی کے مضمرات سمجھتے تھے۔ آج پاکستان میں کون ہے جو سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکے کہ مولانا آزاد کی یہ نصیحت بدنیتی پر مبنی تھی۔(جاری)

Related Articles:

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 1)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 2)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 3)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 4)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 5)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 7)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 8)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط9)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط10)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط11)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط12)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط13)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط15)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط17)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط18)

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/objectives-resolution-and-secularism-part-18--(قرار-داد-مقاصد-اور-سیکرلرازم--(قسط18/d/2810

 

Loading..

Loading..