New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 04:48 PM

Urdu Section ( 2 May 2010, NewAgeIslam.Com)

Objectives Resolution and Secularism- Part 17 (قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط17


وجاہت مسعود

انسانی اجتماعی میں بڑی وقت یہ ہے کہ شورش پسندطبائع کو جگہ مل جائے تو ایسا ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے کہ انسانیت کا سفر صدیوں پیچھے چلاجاتا ہے ۔ انسانیت کو بڑا چیلنج یہی ہے کہ اسرائیلی ،بھارت، پاکستان، ایران، چین، ویت نام، امریکہ ، روس اور روانڈا غرض ہر جگہ تفرقے اور نفرت کی قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔ شرط یہ ہے کہ ناانصافی اور برے فعل سے نفرت کی جائے، کسی کی مذہبی ،نسلی ، قومی یا لسانی شناخت سے نفرت کاکوئی جواز نہیں۔

خاکسار کا گھر انا لدھیانہ کی مردم خیز زمین سے ایک سترہ سالہ بیٹے کی قربانی دے کر پاکستان پہنچاتھا ۔ میری دادی قیام پاکستان کے بعد 27برس حیات رہیں اور ایک رات بھی انہوں نے کمرے میں سونا گوارا نہیں کیا۔ سیاہ چادر اوڑھتی تھیں اور کھلے آسمان تلے صحن میں سوتی تھیں۔ انہیں خیال تھا کہ ان کا بیٹا ،جسے اس کے درجن بھر سکھ ہم جماعتوں نے لدھیانہ گورنمنٹ کالج کی گراؤنڈ میں ہاکیوں پر  دھرلیا تھا، مارا نہیں گیا، کہیں کھو گیا ہے۔ کسی بھی  روز واپس آجائے گا ۔ ایسا نہ ہوکہ وہ رات گئے گھر لوٹے، دروازہ کھٹکھٹائے اور دستک کا جواب نہ پاکر واپس لوٹ جائے۔ سوان کے لیے ضروری تھا کہ وہ دروازے کے قریب صحن میں سوئیں ۔ خاکسار کی عمر دو یا تین برس کی رہی  ہوگی ۔ماں شام ڈھلے مجھے  اپنے گھٹنوں پر بٹھا کر گھروں کو لوٹتے پرندوں کو دیکھتے ہوئے اس بیٹے سے باتیں کیا کرتی تھیں جس کا بے گرروکفن لاشہ ربع صدی پہلے مٹی میں مل چکا تھا۔ یہ ایک ماں تھی ۔ اس ماں کا درد سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان سیکڑوں ماؤں کا دکھ سمجھا جائے جو اپنے اپنے جگر گوشے ،گھر اور اثاثے لٹا کر آگ او رلہو کے اس منہ زور دریاں کے پار پہنچیں تھیں جو سرحد کے دونوں طرف بہہ رہا تھا۔ ہمارا گھر انا ہمیشہ کے لیے اس سکھ ہمسائے کا شکر گزار رہے گا جس نے محلے کے ایک شورش پسند سکھ سے ٹکر لے کر ہمارے نہتے اہل خانہ کوبچ نکلنے کا موقع دیا۔

اردو کے ایک طالب علم نے ، جسے شاعری کا دعویٰ نہیں ، اس صورت حال پہ لکھا تھا

بہت کچھ کھوچکا پر یاد کی مٹھی ابھی بند ہے

کئی مانوس آوازیں ،بہت سے رنج دہ منظر

پرندے ہجرتوں میں تھے

 مگر ان گھاس کے چھوڑے ہوئے تنکوں کو

 پھر بھی گھر سمجھتے تھے

جہاں پہ سینت کے رکھے تھے 

بچوں کے کھلونے ،آنے والے کل کے خواب

زیر نظر تحریر میں ایک بنیادی اصول یہ طے کیا گیا ہے کہ جذباتیت کی بجائے حقائق اور معروضیت کو ترجیح دی جائے گی۔ تاہم یاد رہے کہ اعلیٰ ترین سیاسی مکالمے کی بنیاد انسانی ہمدردی، انصاف، امن، شہری آزادیوں اور انسانی بہبود کی اقدار پر رکھی جاتی ہے۔ انسانی اخلاقیات سے کٹ کر کسی درست سیاسی نقطہ نظر کاکوئی تصور نہیں ۔ سیاست تہہ در تہہ سازش اور مافقانہ ہتھکنڈوں کا نام نہیں ۔ ارفع سیاسی بصیرت کی جڑیں قابل عمل اخلاقی تناظر میں ہوتی ہیں۔

بدترین حالات میں بھی انسانیت کی کرن کے روشن رہنے کی ایک زندہ شہادت تو منٹو کے وہ مختصر خاکے ہیں جو اس نے تقسیم کے فوراً بعد ‘سیاہ حاشیے’ کے عنوان سے لکھے تھے۔ ایک مختصر سا واقعہ سری پرکاش کی زبانی بھی سن لیجئے ۔

دوسکھ فوجی افسروں نے بھارتی ہائی کمشنر سری پرکاش کی موجودگی میں آئی جی مغربی پنجاب قربان علی خان کو شیخو پورہ میں ممکنہ قتل وغارت کی سازش کے بارے میں اطلاع دی تو انہوں نے غصے میں میز پر مکہ مارتے ہوئے کہا ،‘‘ تف ہے تمہارے ہندوستان اور پاکستان پر ، ملک کا بٹوارہ لوگوں کی بہبود کے لیے ہوا تھا یا قتل وسفا کی کے لیے؟’’سری پرکاش کے بقول ‘‘یہ قابل پولیس افسر فوراً شیخوپورہ روانہ ہوگئے اور آدھی رات کو وہا ں پہنچ کر عین وقت پراس خونریزی کو روک سکے۔ خبروں سے پتہ چلتا تھا کہ مشرقی پنجاب  میں بھی یہی حال تھا’’۔

بیسوی صدی میں مسلم ہندوستان نے علم، اخلاق، ذہانت اور بصیرت کی سطح پر ڈاکٹر ذاکر حسین خان سے بہتر مسلمان شاید ہی پیدا کیا ہو۔ ڈاکٹر ذاکر حسین جامعہ ملیہ بانی اساتذہ میں سے تھے۔ جرمنی سے تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر برسوں جامعہ ملیہ میں سو روپے ماہوار پر تدریس کے فرائض انجام دیے۔ تقسیم ہند کے بعد علی  گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے ، بہار میں صوبائی گو رنر کے عہدے پر تقرر ہوا۔ آزاد ہندوستان کے پہلے مسلمان نائب صدر اور پھر صدر منتخب ہوئے۔ 1947کے پر آشوب موسم گرما میں ڈاکٹر ذاکر حسین اپنے مخصوص علمی استغراق میں کسی تعلیمی کانفرنس کے ضمن میں ریل کے ذریعے کشمیر کا سفر کررہے تھے ۔امرتسر کے ریلوے اسٹیشن  پر بلوائیوں نے ٹرین روک لی۔ مسلح فسادیوں نے چن چن کر مسلمان نظر آنے والے مسافرو ں کو قتل کی غرض سے نیچے اتار ناشروع کیا۔ ایک غنڈہ ڈاکٹر صاحب تک پہنچا او رپوچھا ‘‘تم مسلمان ہو؟’’ ڈاکٹر صاحب نے بغیر کسی اضطراب کے کہا ‘الحمد اللہ ! میں مسلمان ہو’ ۔ واضح رہے کہ جماعتی سیاست کی گرما گرمی میں مسلم لیگی قیادت ہر اس مسلمان کی ایمانی استقامت پر سوال اٹھاتی تھی جو مسلم لیگ کے سیاسی نقطہ نظر سے اختلاف رکھتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا جواب سن کر اس بلوائی نے قریب ہی کھڑے ایک ٹرک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس میں بیٹھ جاؤ ۔ مسلح فوجی مذبح کو جانے والے ٹرک کی نگرانی کررہے تھے ۔ ڈاکٹر صاحب بغیر کچھ کہے غیر متزلزل قدم اٹھاتے ہوئے مقتل جانے والے اس ٹرک کی طرف بڑھنے لگے ۔ اس اثنا میں بلوائیوں میں شامل ایک فوجی کو ڈاکٹر صاحب کے لباس اور وضع قطع سے اندازہ ہوا کہ یہ شخص کوئی معمولی آدمی نہیں ۔ ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑجائیں۔ اس نے بلوائیوں سے کہا ،‘‘ میاں بھائی موٹی اسامی معلوم ہوتا ہے۔ میں سے اپنے ہاتھ سے قتل کرنا چاہتا ہوں ۔’’ بلوائیوں کو کیا اعتراض ہوسکتا تھا ۔ اس فوجی نے ڈاکٹر صاحب کو اپنی سرکاری جیپ میں بٹھایا اور امرتسر کے سکھ ڈپٹی کمشنر کی قیام گاہ پر لے آیا۔ ڈپٹی کمشنر کا نام کنور مہند سنکھ بیدی تھا۔ کنور صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو پہچان لیا اور یوں بے خوف وخطر موت سے کھیلنے پر دوستانہ سرزنش کرتے ہوئے انہیں اپنی سرکاری رہائش گاہ میں تب تک پناہ دی ، جب تک ان کے لیئے بحفاظت دہلی واپس جانے کا انتظام نہ ہوگیا۔

بھارت کے معروف مصنف خوشنونت سنگھ تقسیم سے قبل لاہور میں وکالت کرتے تھے۔ شیخ عبد القادر کے صاحبزادے قادر ( بعد ازاں وزیر خارجہ پاکستان) ان کے قریبی دوست تھے۔ تقسیم کے ہنگام منظور قادر نے جس طور پر خوشونت سنگھ سے اپنی دوستی نبھائی ،خوشونت سنگھ نے اپنی یاد داشتوں میں اس کا ذکر ایسے جگمگا تے لفظوں میں کیا ہے کہ اسے پڑھنے سے پاکستانیوں کا سرفخر سے بلند ہوجاتا ہے۔ مختصر یہ کہ مذہبی خط تنصیف کے دونوں طرف انسانیت کے اعلیٰ نمونے باقی تھے لیکن مشتاق احمد وجدی کے بقول ‘‘ زرالت کے نمونے زیادہ تھے’’۔(جاری)

Related Articles:

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 1)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 2)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 3)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 4)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 5)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 7)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط 8)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط9)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط10)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط11)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط12)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط13)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط15)

قرار داد مقاصد اور سیکرلرازم: (قسط17)

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/objectives-resolution-and-secularism--part-17--(قرار-داد-مقاصد-اور-سیکرلرازم--(قسط17/d/2790

 

Loading..

Loading..