New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 02:17 AM

Urdu Section ( 21 Jan 2015, NewAgeIslam.Com)

Shariah Bill شریعت بل

 

 

وحید رضوی

ہر پاکستانی اچھی طرح جانتا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل اپنے تمام تر خطبات ، تقاریر اور جلسوں میں قائد اعظم محمد علی جناح یہ زور دیتے رہےکہ پاکستان جب وجود میں آجائے گا تو اس کو کبھی تھیاکریٹک اسٹیٹ نہیں  بننے دیں گے۔چنانچہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی یونین سےانہوں نے 1938ء میں خطاب کرتےہوئے فر مایا تھا ‘‘مسلم لیگ نے مسلمانوں کی رجعت پسند عناصر ( پیشوائیت ) کے چنگل سے آزاد کرالیا ہے۔ وہی پیشوائیت جسے عام طور پر مولانا اور مولوی کہا جاتا ہے ۔’’ مسلم لیگ کنونشن منعقدہ بتاریخ 11 اپریل 1947ء دوران تقریر اس بات کو صاف اور صریح طور پر بیان کرتے ہوئے فرمایا ‘‘اسے اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ ہم کس مقصد کے لئے یہ لڑائی ہیں۔ ہمارا نصب العین کیاہے، یاد رکھئے ! ہمارا نصب العین تھیا کریسی نہیں ۔ ہم تھیا کریٹک اسٹیٹ نہیں بنانا چاہتے ۔’’اور پھر بہ حیثیت گورنر جنرل پاکستان ، فروری 1948ء امریکہ کے نام براڈ کاسٹ میں فرمایا تھا  ‘‘ پاکستان میں کسی قسم کی تھیا کریسی کار فرما نہیں ہوگی۔ جس میں حکومت مذہبی پیشواؤں کے ہاتھ میں دی جاتی کہ وہ ( بزعم خویش) الہٰی  مشن پورا کریں ۔’’یہاں یہ امر ضرور پیش نظر رکھا جائے کہ یہی تصور و خیال علامہ اقبال اور اس سے قبل سرسید احمد خان کا تھا اور قائد اعظم محمد علی جناح انہی بزرگوں کا اتباع فرمارہے تھے اور مسلمانوں کو یہ یقین دلاتے رہے کہ پاکستان کا دستور قرآنی ہوگا۔ قبل  تقسیم ، ہندوستان کانام نہاد علماء کی ممتاز چار جماعتیں یعنی دیوبندی، بریلوی، مجلس احرار اور جماعت اسلامی نے اسی بنیاد پر پاکستان کی مخالفت کا بیڑا اٹھایا تھا اور پھر ہوا یہ کہ پاکستان جو نہی وجود میں آگیا انہی  چار جماعتوں کے تقریباً تمام علماء مولانا او رمولوی لوگ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور ان ہی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مولوی، مولانا اور علماء پہلے ہی سے ان خطوں میں آباد تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے ایک سال اور چند ماہ بعد ہی اس دنیائے فانی سے رحلت فرمائی اور ان کے بعد پاکستان سیاست کا اکھاڑا بن گیا اور ساتھ ہی مولویوں  اور علماؤں کی بن آئی ۔ پاکستان حقیقی اسلامی مملکت تو کیا بنتا ، ان علماؤں اور مولویوں نے یہاں عجمی اسلام کی بنیادیں رکھ دیں۔

ایک عرصہ سے نفاذ اسلام کا چرچا ملک بھر میں گونج رہا ہے۔ اس کو نافذ کرنے مارشل لاء دور میں ریفرنڈم بھی کرادیا گیا تھا ۔ اس طرح قانونی طور پر یہ تاثر پیدا ہو تا ہے کہ اسلام نافذ نہیں ہے اور اس کو نافذ کرنے کی ساری جد و جہد کی جارہی ہے اگر ملک میں اسلام نافذ نہیں ہے اور اس کو نافذ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تو پھر یہ سوال ابھرتا ہے کہ ملک و قوم آخر کس حالت میں ہیں؟  اگر چہ آئینی طور پر اس ریاست کی حیثیت اسلامی قرار دی گئی ہے 1951 ء میں مسلمانوں کےمختلف فرقوں کے 31 علماء نے ایک فارمولا مرتب فرمایا تھا جس کی رو سے ملک کاکوئی قانون کتاب و سنت کے خلاف نہیں ہوسکتا ۔ سالہا سال گزر جانے کے بعد مولانا  مودودی مرحوم نے اعلان فرمایا کہ کتاب و سنت کی رو سے ایسا کوئی ضابطہ قوانین مرتب ہی نہیں پاسکتا جو تمام فرقوں کے نزدیک قابل قبول ہو کیونکہ ہر فرقہ کی سنت، فقہ اور ان کی روایات اور جزئیات سب ہی میں بے حد اختلافات موجود ہیں اور ساتھ ہی حنفی فقہ کو منجمد شاستر سے تشبیہ دی۔

اس دور جمہوریت سے قبل ایک شریعت آرڈی نینس نافذ کیا گیا جو در حقیقت صدیوں سے مروج شخصی قوانین ہی کی صورت ہے۔ جس طرح شخصی قوانین میں ہر شخص کو اپنے مذہب اور اپنے فرقہ پر کار بند رہنے کا بالکل اختیار ہے اور جس کے تمام تر مسائل ا س فرقہ کی فقہ، عقائد اور روایات کی روشنی میں فیصلہ پاتے ہیں  وہی صورت موجودہ شریعت بل کی ہے جس کو اسٹیٹ نے پاس کیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ بل قائد اعظم اور علامہ اقبال کے فرمودات سے رو گردانی ہے بلکہ قرآن اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ سابقہ شریعت آرڈنینس او رموجودہ شریعت بل دونوں کا ماخذ مختلف العقائد فقہیں ہیں جب کہ اسلام میں شریعت کا ماخذ قرآن کے سوا کچھ او رہو ہی نہیں سکتا۔

علامہ اقبال نے اپنے خطبات میں فقہوں سے متعلق فرمایا کہ باوجود ان کی ہمہ گیری کے یہ تمام انفرادی خیالات اور تعبیرات کا مجموعہ ہیں۔ انہیں حتمی اور قطعی سمجھ لینا غلط ہے۔ دین کے اصول حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی عطا ء ہوئے تھے جو قرآن کریم میں بعینہ موجود ہیں۔ بجز قرآن کریم ان کا اور کوئی ماخذ نہیں اور نہ ہی ان میں تغیر  و تبدل کا سوال پیدا ہوتاہے۔ دین کے ان اصولوں پر عمل پیرا ہونے کےلئے طور و طریق یا ان سے متعلق ضروری قواعد و ضوابط متعین نہیں ہوئے تھے ۔ ان کے متعلق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم الہٰی  تھا  شاور ھم فی الامر (3:159) یعنی ‘‘ ان کا تعین اپنے رفقاء سے بذریعہ مشورہ کرو۔’’ ظاہر ہے جو امور باہمی مشاورت سے طے ہوں وہ وحی کی طرح ابدی اور غیر متبدل نہیں ہو سکتے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان جزئیات کو صحابہ کے ساتھ مشورہ سے طے فرمایا تھا ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جماعت مومنین کے متعلق کہا گیا و امر ھم شوری بینھم ( 42:38) یعنی ‘‘ یہ اپنے معاملات باہمی مشورے سے طے کریں گے ۔’’یہ طریق عمل دور خلافت راشدہ میں جاری رہا اور اس کے بعد یہ تصور پیدا ہوا کہ دور رسالت اور دور خلافت راشدہ کے فیصلے ابدی اور غیر متبدل ہیں۔ ان خیالات و تصورات کی ترویج میں امام  مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ پیش پیش تھے ۔ بہر حال قرآنی احکام کی روشنی میں کسی اسلامی مملکت میں دین کے محکم اصولوں کے نفاذ اور ان پر عمل پیرا  ہونے کے طور پر طریق سےمتعلق جزوی ضوابط و قواعد کی  تدوین باہمی مشاورت ہی سے عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ انفرادی طور پر ہر گز نہیں ، اسلام میں تفرقہ کے بعد ہر فرقہ کے نام نہاد علماء نے انفرادی طور پر بحیثیت مقنن ، قانون سازی انجام دی جس میں اپنے اپنے فرقوں کے عقائد ، روایات و سنت کو قائم و دائم رکھا ۔ قرآنی احکام کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کیے صریحاً خلاف ورزی ہے۔ دور ملوکیت میں مختلف فرقوں کے یہ قوانین بصورت فقہ انفرادی کاوشوں کی بنا ء پر مدوّن کئے گئے جو صرف شخصی قوانین پر مشتمل ہیں۔ ملکی قوانین کا ان سے کوئی تعلق نہیں  ۔ اس طرح شخصی قوانین فقہ اور ملکی قوانین جدا جدا حیثیت رکھتے ہیں اور ہر فرقہ کے پیروؤں کو اپنے اپنے پرسنل لاز کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔ ایسی حکومت میں پرسنل لاز پیشوائیت کی تحویل میں ہوتےہیں جب کہ پبلک لاز یعنی  ملکی قوانین پر عمل درآمد حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ایسی حکومت سیکولر حکومت کہلاتی ہے ۔ مزید برآں احادیث و سنت میں بھی ہر فرقہ میں بے حد اختلافات میں جہاں تک حدیث اور سنت کا تعلق ہے تو اس سےمتعلق علامہ اقبال اور شاہ ولی اللہ اس امر پر متفق  اور ہم خیال ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے دیئے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کے طور و طریق اور ان کے نفاذ کے لئے اس قوم کی رسومات ، ماحول اور عادت و خصائل کی روشنی میں جو احکام صادر فرمائے تھے وہ اس زمانے اور عرب کی اس صحرائی قوم کےلئے تھے ۔ نئی آنے والی نسلوں اور تبدیل شدہ حالات و ماحول اور پھر ،غیر از عرب ممالک میں من و عن نافذ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ صحرائی اقوام کی رسوم، ماحول ، عادات و خصائل اور زرعی ممالک کی اقوام کی رسوم ، ماحول اور عادات و خصائل مختلف ہوتے ہیں۔

دور حاضر معاشرتی ، معاشی  سیاسی اور سماجی طور پر ز مانہ سلف سےبہت مختلف ہے۔ اس دور میں انسان کی ذہنی اور علمی سطح بہ نسبت زمانہ سلف کے انسان کے بے حدو بے انتہا  بلند اور ترقی یافتہ ہوچکی ہے۔ زمانہ جدیدیت کا متقاضی ہے۔ کلام الہٰی انسان کےلئے تا قیامت رہنما ہے۔ لہٰذا کلام اللہ  اور حکمت الہٰی کی روشنی میں حالات حاضرہ کے پیش نظر شریعت کو اخذ کرناہوگا۔ یہ اجتہاد  از حد ضروری ہے اور یہی  منشائے الہٰی ہے۔ نام نہاد اور روایتی علماء اور مشائخ کا مبراء علم قدیم کی وضعی روایات اور عجمی علوم تک محدود ہے اور جو دین کی اپنی وضعی روایات میں تلاش  کرتےہیں اور جن کے نزدیک قرآن کے اخذ کردہ شریعت ان کی اپنی  فقہ سے متنازعہ قرار پاتی ہے۔ ایسی  روایتی  اور فرقہ وارانہ شریعت کا حقیقی اسلام اور اللہ کے دیئے ہوئے دین سے کوئی واسطہ نہیں ۔ دین اسلام کا قیام فرقوں اور اختلافات کو مٹانا ہوتا ہے۔ فرقوں کی پرورش کرنا اور ان کو برقرار رکھنا نہیں ! چنانچہ حکم الہٰی ہے کہ جب تم اللہ کی کتاب پر ایمان لاؤ تو سب  مل کر اللہ کی رسی یعنی قانون الہٰی کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ الگ الگ بٹ نہ جاؤ ۔ فرقے نہ بناؤ۔ متحد رہو۔ اسلام ایک  جماعت واحد ہ کے بغیر کچھ بھی نہیں ۔ تفرقہ کی زندگی کو اللہ تعالیٰ نے شرک قرار دیا ہے۔ سورۃ الانعام کی آیت نمبر 159 میں اللہ تعالیٰ  نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوکر فرمایا  ‘‘ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور الگ الگ گرو ہ بن گئے ۔ تمہیں ان  سے کوئی سروکار نہیں ۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔’’ موجودہ شریعت بل اسی تفرقہ کا شاخشانہ ہہے جو احکامات الہٰی کی روشنی میں صریحاً غیر اسلامی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ‘‘ جو لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب یعنی قوانین واحکام کےمطابق حکومت قائم نہیں کرتے ( فیصلے نہیں کرتے)انہی کو کافر کہا جاتاہے ’’۔(5:44) ۔ اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا  ‘‘ لا یشرک فی حکمہ احدا’’۔ (18:36) ۔ ‘‘ اللہ اپنے حق حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا’’۔یعنی قوانین الہٰی کے ساتھ انسانی ساختہ قوانین کو نہیں ملایا جاسکتا  اور ایسا عمل سراسر توحید کے  خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس امر کو واضح فرما دیا جب کہا ‘‘ قل ھواللہ احد ’’ ( 112:1) ۔ اس امرمیں کسی کی بھی استثناء اس طرح نہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور کو حق حکومت ہو۔ اس میں کوئی بھی اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا ۔ اس طرح قوانین و احکام الہٰی میں  کوئی انسانی ساختہ قوانین شامل نہیں کئے جاسکتے ۔ با الفاظ دیگر انسانی  ساختہ قوانین کی ترویج کے ذریعہ جو حکومت قائم ہو اس کو ہر گز حکومت الہٰیہ نہیں کہا جاسکتا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو خود واضح طور پر ارشاد فرما دیا ‘‘ ماکان لبشر ان یوتیہ اللہ الکتب والحکمہ و النبوۃ ثم یقول للناس کونوا عبادً لی من دون اللہ ’’ ( 3:79) کسی انسان کو اس کا حق حاصل نہیں خواہ وہ ضابطہ قوانین کا حامل ہو یا اس کے سپرد انتظامیہ ہو حتیٰ کہ وہ نبی بھی کیوں نہ ہو۔ اسے اس کا حق حاصل نہیں کہ  وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کے نہیں میرے محکوم بن جاؤ۔’’ اگر ایسا کہا جائے تو وہ شرک کا مرتکب ہوگا۔ لہٰذا صرف اللہ کی اطاعت کرنا تو حید ہے اور اس کےساتھ کسی کے احکام کی اطاعت شرک ہے۔ رسول بھی اپنی امت سے اللہ کے کلام کی اطاعت کراتے تھے ۔ اپنے  احکامات کی نہیں کیونکہ ایسا کرنا شرک ہوجاتا ہے۔

اللہ اپنے حق حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ اس لئے احکام شریعت وضع کرنے والے کوئی بھی ہوں اللہ انہیں اپنا شریک قرار دیتا ہے۔ انہی کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے  ‘‘ کیا ان لوگوں نے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں جو ان کے لئے احکام شریعت  وضع کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے کسی کو اس کی اجازت نہیں دی’’۔( 42:21)۔ یہی علماء و مشائخ ہیں اور ایسا کرنے والوں کے متعلق فرمایا ‘‘ انہوں نے احبار او رہبان ( علماء فقہا) کو اللہ کا ہم سفر بنا لیا ہے’’۔ (9:31)

جائے غور ہے کہ کس طرح ان علماء اور فقہاء نے احکام الہٰی میں خود ساختہ احکام شریعت کو شامل کرلیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے صاف و صریح طور پر فرما دیا ہے کہ اللہ کے قانون میں نہ کوئی تبدیلی ہوسکتی ہے او رنہ ہی کی جاسکتی ہے ۔ اس کے باوجود جو تبدیلی بر بنائے فقہ ( انسانی ساختہ احکام شریعت) کی گئی ہے اس کی چند مثالیں ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔

اللہ تعالیٰ کے احکام                                        انسانی ساختہ ( شرک) کے احکام

1۔ زانی مرد اور عورت کی سزا 100 درّے ہیں(24:3)                                  1۔ غیر شادی شدہ مرد عورت کی سزا بے شک 100 درّے ہیں ۔ لیکن شاعی شدہ کی سزا سنگسار ہے۔

2۔ مرنے والا اپنے پورے ترکہ کے متعلق جس کے حق میں             2۔ وصیت صرف ایک تہائی مال کی کی جاسکتی  وہ بھی ورثاء کے حق میں نہیں۔

جی چاہے وصیت کرے۔ یہ حکم الہٰی ہے ۔ اور مومنین پر فرض

ہے (2:180)

3۔ قتل عمد کی سزا موت ہے ( 2:178)                                       3۔ قتل عمد میں خون بہالیا جاسکتا ہے۔

4۔ خون بہا (دیت) مرد اور عورت کی یکساں ہے۔( 2:178)        4۔ عوت کی دیت مرد سے نصف ہے۔

5۔ شہادت کے معاملہ میں مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں۔  5۔ فوجداری مقدمات میں عورتوں کی شہادت لی ہی نہیں جاسکتی ۔

                                                                                                دیوانی مقدمات میں دو عورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر تسلیم کی جاتی ہے۔

6۔ دادا کے ترکہ میں یتیم پوتا وراثت میں حق دار ہے۔                   6۔ یتیم پوتا محروم رہتا ہے ۔

فقہوں کی ترویج کے ساتھ ہی ایک گروہ نے جنم لیاجن کو مفتی کہا جاتا ہے۔ ان کا کام زندگی کے ہر مسئلہ سےمتعلق فتویٰ صادر کرنا ہوتا ہے جس کا ماخذ فقہ ،وضعی روایات اور احادیث ہوتے ہیں۔ قرآنی احکام اور اصول و اقدار کا اس سے کوئی واسطہ یا تعلق نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود ایسے فتاویٰ کو اسلامی شریعت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں کون مقرر کرتا ہے۔ ایک اسلامی معاشرہ اور مملکت میں ان  کی کیا ضرورت لاحق ہوتی  ہے!

سینیٹ سے پاس شدہ شریعت بل میں زیادہ تر زوران ہی مفتیوں پر دیا گیا ہے۔ مفتی کی تعریف میں یا اس قابلیت کے حامل ایسے تمام مسلم  عالم بتائے گئے ہیں جو دینی مدارس سے فقہ اور اصول فتاویٰ کے علم میں فارغ التحصیل ہوں۔ اس شریعت بل کی رو سے صدر مملکت ایسے تمام فارغ التحصیل اشخاص کو چیف جسٹس کےمشورہ سےعدالتوں کے جج اور مفتی کے عہدوں پر تقرر کرنے کا مجاز ہوگا۔ ایسے مقرر کردہ تمام      مفتیوں کی حیثیت مملکت  کے ڈپٹی اٹارنی جنرل کے عہدہ کے برابر ہوگی۔ ہر مفتی کے فرائض میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں او رملک کے تمام  عدالتوں کو ایسے دینی معاملات میں مشورہ دینا ہوگا جس میں ہر فرقہ کےشخصی قوانین سے متعلق اس فرقہ کی فقہ، روایات وغیرہ کی روشنی میں تشریح ضروری ہو۔ شریعت بل میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ ملک کے تمام تعلیمی  اداروں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب تعلیم میں فقہ اور اصول فتاویٰ کی تعلیم و تدریس کو موثر  طریقہ سے شامل کرے۔ یہ امر لائق  غور ہے کہ یہاں فقہ سے مراد دور ملوکیت کے وہ فقہ ہیں جن کو ہر فرقہ کے علماء و مشائخ نے مرتب فرمایا تھا اور جو بقول علامہ اقبال اور شاہ ولی اللہ ان کے اپنے انفرادی خیالات و تعبیرات کا مجموعہ ہیں جو نہ حتمی ہیں اور نہ ہی قطعی ۔

مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں ایسی شریعت بل کا قرآن اور فرمودات الہٰی سےکوئی تعلق ہی نہ ہوتو اس کو کسی طرح بھی اسلامی نہیں کہا جاسکتا اور اس کا اسلام سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ بناء بریں علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح اسی امر پر زور دیتے رہے کہ اسلامی مملکت کا قانون بجز قرآن کے کچھ ہر گز نہیں ہوسکتا ! بقول علامہ اقبال

گر تومی خواہی مسلماں زیستن

نیست ممکن جز بہ قرآں زیستن

نومبر، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

--شریعت-بل/d/101144 

Loading..

Loading..