New Age Islam
Sat Apr 17 2021, 01:34 AM

Urdu Section ( 12 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Looming Civil War within Islam اسلام میں پھیلتی ہوئی خانہ جنگی

 

وحید الدین احمد، نیو ایج اسلام

24 مئی 2013

( انگریزی سے ترجمہ۔ نیو ایج اسلام)

بیرونی دشمنوں سے مسلمانوں کے لئے خطرہ کیا کم سنگین تھا کہ  ہم عالمی سطح پر سنی اور شیعہ کے درمیان ایک خانہ جنگی کے امکانات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس طرح کا جنگ تیسری عالمی جنگ کی تمام خصوصیات کا  حامل ہو سکتا ہے ۔ فرقہ وارانہ جذبات شام، عراق، لبنان، بحرین، افغانستان، پاکستان اور مشرقی عرب میں عنفوان شباب پر ہیں ۔ اس بات کی پر اشوب نشانیاں ظاہر ہیں کہ  ایران، عراق، قطر اور سعودی عرب جیسی  ریاستیں تنازعات میں  ملوث ہو رہی ہیں  ۔ وہ کسی ایک فریق یا دوسرے فریق کے لئے  جنگجوؤں کے خفیہ رکن ہیں ۔

اٹھارہویں صدی تک، ایک طرف  صفوی  شیعہ خاندان کے درمیان اور دوسری طرف  سنی عثمانیہ اور مغل سلطنتوں کے درمیان پریشان کن بقائے باہمی کا غلبہ تھا ۔ بصرہ، بغداد اور بیروت کی گلیوں میں شیعہ اور سنی دونوں نظریات اور اصول سے بے فکر ہو کر  شاید ہی فرقہ بندی کے کسی بھی  جذبات کے ساتھ ان کے روز مرہ کے معمولات پر عمل کرتے تھے۔ مصر میں اسماعیلی فاطمیوں کی  حکمرانی کے دوران بھی اکثریت سنی آبادی نے اپنے  حکمرانوں کو نظر انداز کیا اور مداخلت کئے بغیر اپنی روز مرہ زندگی گزارتے تھے ۔ دنیا کی مشہور الازہر مسجد اور یونیورسٹی شیعہ فاطمیوں کے  ذریعہ  قائم کی گئی تھی، اور وہ اب بھی پوری دنیا میں سب سے زیادہ اہم سنی ادارہ ہے۔

سکون کے اس فضاء کو ایک صحرائی طوفان کے ذریعہ مکدر کر دیا گیا ۔ مسلم دنیا میں امن، طمانیت اور سکون بیسویں اور اکیسویں صدی کے مجاہدین کے ذریعہ پیدا کئے گئے طوفان کے بھنور میں ملبے کا حصہ بن گئی ہے  ، جو لوگوں کو  مخالف کیمپوں میں دھکیلتے  ہوئے، لوہے کے ہیکل اور  وحشت ناک  پرواز کرنے والی مشینوں میں آئے  ۔ ان کے پیچھے سنی اور شیعہ دونوں سیاسی ظلم و جبر کے متاثرین آئے ۔ نشانہ بنائے جانے کا ان کا شدید احساس خاص، طور پر عراق کے شیعوں کے درمیان فرقہ پرستانہ مقاصد کے استحصال کے لئے ایک کھلی دعوت تھی۔ مغرب سے آنے والے حملہ آور عوام کی مغلوبیت کے عیارانہ چال کے لئے مشہور تھے۔ برطانوی اس فن کے ماہر تھے  انہوں نے اس میں اپنے وارثین کو شامل کیا ۔ شہنشاہیت کا یہ  دستور العمل  گھلا ہو تھا اور بعد میں اس پر عمل کیا گیا ۔ عراق دنیا کے نقشے پر ایک جہنم بن گیا۔ خفیہ قتل، بڑے پیمانے پر قتل بغیر کسی تخفیف کے  مسلسل جاری ہے۔

افغانستان میں شیعوں کی آبادی ہزارہ لوگوں پر مشتمل ہے جو کہ تخمینہ کے مطابق آبادی کا نو اور انیس فیصد کے درمیان ہے ۔ وہ افغانستان کا  مرکزی حصہ ہیں جنہیں ہزارہ کہا جاتا ہے جو بامیان (بدھا کے  مجسموں کی جگہ) صوبے کو شامل ہے ۔ ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ منگول فوج کی اولاد ہیں ، جو کہ چنگیز  خان کے ساتھ ملک میں آئے تھے  ۔ منگولیوں کے خدو خال  ظاہراً  انہیں  پشتون اور تاجک ہم وطنوں سے ممتاز کر تے تھے  ۔ کہا جاتا ہے کہ سنی پشتونوں اور شیعہ ہزارہ کے درمیان دشمنی، افغانستان کے پشتون حکمراں امیر عبد الرحمان خان کے زمانے  سے ہی رہی  ہے، جس نے ہزارہ لوگوں پر ظلم کیا کیونکہ انہوں نے ان کے  سیاسی حریف کا ساتھ دیا تھا ۔ اس ظلم و ستم کے نتیجے میں ان میں سے بہت سارے  پاکستان ہجرت کر گئے تھے  اور اب بنیادی طور پر کوئٹہ (بلوچستان) میں مجتمع  ہیں۔

جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کر لیا، تو اس مزار شریف پر ایک تنازعہ تھا  جہاں بہت سے ہزارہ کا  قتل عام کیا گیا تھا ۔ یہ تنازعہ خالصتا فرقہ وارانہ نہیں تھا بلکہ اس میں نسلی  اور سیاسی عناصر بھی شامل تھے،   جیسا کہ ہزارہ نام نہاد شمالی اتحاد کا حصہ تھے ۔ تاہم منظم قتل عام زیادہ سنگین ہیں جو کہ پاکستان میں رونما ہو رہے ہیں۔ جو لوگ ان  گھناؤنے کارروائیوں کی ذمہ داری لے رہے ہیں ان کی مذبیت تکفیر  کے کارخانے میں  تیار کی گئی  ہے۔ کچھ طالبان بھی ایسے ہی نیم ملاؤں کے ذریعہ چلائے جا رہے  کار خانوں کی پیدا وار ہیں جن کا  اسلام مقدس کتاب کا خود ان کا اپنا تصرف ہے  ۔

بہار عرب مطلق العنان اور واحد جماعتوں کے سیاسی جبر اور ظلم کی طویل نیند سے عرب نوجوانوں کو بیدار  کرنے والا تھا۔ یہ صرف ایک  نظریاتی تنازعہ نہیں تھا بلکہ  خود اپنی تقدیر  کا انتخاب کرنے کی خواہش کا اظہار اور اس کی طرف راستہ تھا۔ بیدار لوگ دوبارہ سو نہیں سکے  اور تیونس، مصر اور لیبیا میں ایک نئی صبح کا  آغاز ہوا ۔

 شام میں حکومت کے خلاف بہار جنوبی شہر درعا  میں  البعث حکومت کے خلاف دیوار پر کندہ تحریر کے ساتھ شروع ہوا ۔ اس بات سے تنبیہ لینے کے بجائے کہ عام طور پر عرب دنیا میں کیا ہو رہا ہے، حکومت نے اپنی بقا کے لئے جواب میں لڑائی کی ، شاید قذافی کی لاش کا  بسیرا قصائی  کے کولر میں ایک کالی لاش، ایک ایسا منظر جو بشار الاسد کے لئے  ڈراؤنا خواب بن گیا ہے ۔ دوسرے ممالک میں، سرکاری افسران ریٹائر ہو گئے  یا دوبارہ منتخب  نہیں کئے گئے  اور وہ اس سے پہلے جہاں تھے وہیں  واپس چلے گئے ۔ دوسری طرف عرب تانا شاہوں  کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہیں  یا تو مرنا ہے  یا اپنے دور اقتدار میں کئے گئے  جرائم کے لئے مقدمات کا سامنا کرنا ہے۔ حکمرانوں کواس سے کوئی  فرق نہیں پڑتا کہ وہ وقتی طور  پر کتنے نیک ہیں، انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے کہ نیکی ہمیشہ کے لئے حق نہیں ہوتی۔ بدلتی دنیا نئے معیار اور نئی کسوٹی  کا تعین کرتی ہے، اسی لئے انہیں نئی علامات اور نئے چہروں کے لئے گنجائش پیدا کرنا  ضروری ہے ورنہ وہ  جوتوں  کی ٹھوکروں کا  نشانہ بن جائیں گے ۔ شام کی حکومت اور اس کے حامیوں کا دعوی ہے کہ حکومت صیہونی نواز مفادات کے ذریعہ  حملے کی زد میں ہے اس لئے کہ یہ صیہونیت کا خلاف جدوجہد کے  علم بردار ہے ۔ اس تصور کو کئی دہائیوں سے بے نقاب کیا گیا ہے۔ شامی فوج نےاپنے اسلحہ خانے کے  تمام ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے شدت کے ساتھ  اپنے ہی لوگوں پر بمباری کی ہے، لیکن اسرائیل کے فضائی حملوں کے خلاف  ملک اور اس کی عوام کے دفاع کے لئے ایک انگلی نہیں اٹھائی ،اسرائیل شام میں اپنی مرضی کے مطابق  حکومت کی طرف سے اور فوج  میں اپنے ہم دم ولادمر پوتن  کی طرف سے کسی مزاحمت کے بغیر بم برساتا  ہے ۔ لہٰذ اکوئی شخص بھی یہ  کہنے میں حق بجانب نہیں ہوگا کہ البعثت حکومت کی صیہونیوں کے ساتھ ساز باز ہے؟

جنوری 1979 میں آیت اللہ روح اللہ   خمینی ایک طیارے کے فرش پر بیٹھے تہران کے ہوائی اڈے پر اترے، اس طرح ایک منفرد انقلاب شروع ہو گیا جس کے لئے لاکھوں لوگ صدیوں سے انتظار کر رہے تھے ۔ اس نے بہت سے لو گوں میں  امیدیں بھر دی  اور  بہت سے لوگوں کو مایوسی سے  نجات دلادیا : اس نے ہم   میں سے بہت کو اسلام پر عمل پیرا کیا  اور بہت سے سیکولر کو  اسلام پسندوں میں تبدیل کر دیا --- یہ مصنف ان میں سے ایک تھا۔ جولائی 2006 ء میں اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملہ کیا اور حزب اللہ کے جنگجو اور اسرائیلی فورسز کے درمیان جنگ شروع ہو گئی  جو ایک ماہ سے زائد تک جاری رہی، جس  میں تاریخ میں پہلی بار اایک غیر منظم گوریلا فورس نے دنیا  میں سب سے زیادہ انتہائی مسلح افواج میں سے ایک حاصل کیا تھا  اور اسے شکست دیا ۔ اس نے ہمیں فخر سے ہمارے سروں کو  بلند کرنے کی  اجازت دی تھی۔ ایران اور حزب اللہ نے مسلمانوں کے دلوں پر قبضہ کر لیا تھا خاص طور پر عربوں اور فلسطینی مسلمانوں کے دلوں پر  ۔

عالمی خیر خواہی اب آیت اللہ خمینی اور لبنان کے نصراللہ کے جانشینوں کے ذریعہ  تلف کی  جا رہی ہے ۔ شام کی حکومت کے لئے  ان کی حمایت مایوسی کے ساتھ  ہم ان تمام لوگوں کے لئے نا قابل سمجھ ہے  جن کی حمایت ایران اور حزب اللہ کےلئے  ماضی میں تھی۔ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ  ایران، حزب اللہ، شام کے علوی اور عراقی شیعہ،  شیعہ کریسنٹ کے زیراہتمام متحد ہیں اور یونائیٹڈ  کریسنٹ سے قطع تعلق  کرنے کے لئے  بالکل تیار ہیں ۔

کیا  اب ہمیں اپنی وفاداریوں اور اتحادیوں  پر نظر ثانی کرنی چاہئے ؟ کیا فرقہ وارانہ بنیاد پر مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کی جان بوجھ کر  کوشش کی جا رہی  ہے؟ کیا سعودی اور طالبان کے درمیان ان کے منظور نظر اور  پاکستان کے تکفیر فروش  حق بجانب  ہیں؟ کیا اسلام کے دشمنوں نے اپنی آخری ضرب لگا دی ہے ؟ مسلم دنیا میں قریب الوقوع معرکہ سے بچنے کے لئے اب بھی وقت ہے۔ گیند ایران کے پالے میں ہے۔

URL for English article:

http://newageislam.com/the-war-within-islam/waheeduddin-ahmed-for-new-age-islam/the-looming-civil-war-within-islam/d/11707

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/waheeduddin-ahmed-for-new-age-islam/the-looming-civil-war-within-islam--اسلام--میں--پھیلتی-ہوئی-خانہ-جنگی/d/12042

 

Loading..

Loading..