ودود ساجد
29دسمبر،2024
سال2024اپنے خاتمہ پر ہے۔ 11 سال قبل جس روز موجودہ وزیر اعظم نے اپنی پہلی مدت کار کا تاریخی الیکشن جیتا تھا اسی روز ہندوستان کے نظام عدل وانصاف کی محافظ سپریم کورٹ میں بھی ایک مقدمہ کاتاریخ ساز فیصلہ ہوا تھا۔ایسا فیصلہ اس کے بعد رونما نہ ہوسکا۔اس حوالہ سے2014سے2023تک کا عدلیہ کا سفر بھی کوئی خاص نہیں رہا۔ لیکن 2024میں عدلیہ کے وقارپرمختلف ججوں نے جو ضرب کاری لگائی اس کی کوئی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔محض ایک سال میں مختلف ہائی کورٹس کےکم سے کم چار ججوںنے کھلے طورپرعدلیہ کے وقار کا چہرہ داغ دار کیا۔ا ن چاروں کو سپریم کورٹ کی سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑااور تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا جب سپریم کورٹ کو ایک سال میں تین بار عدالتی طورپراور ایک بار انتظامی طورپراز خودنوٹس لے کرمداخلت کرنی پڑی۔ لیکن شمال سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک اس ملک کے انصاف کے طالب طبقات کے دلوں میں جو شکوک وشبہات بیٹھ گئے ہیں ان کے تدارک کیلئے نہ عاملہ نےکچھ کیا اور نہ ہی مقننہ نے۔
آزادہندوستان کا نظام عدل وانصاف ان مظلوموں کیلئے ’جائے پناہ‘ رہا ہے جنہیں حکمرانی کے نظام نے ستایا۔اس ضمن میں متعدد فیصلوں اور مقدموں کے حوالے دئے جاسکتے ہیں۔لیکن یہاں اس مقدمہ کے فیصلہ کا ذکر برمحل ہے جو عین اسی دن صادر ہوا جس دن بی جے پی نے لوک سبھا کا تاریخ ساز الیکشن جیتاتھا۔یہ 16مئی 2014کا دن تھا۔ملک کے ووٹروں نے اقتدار کی باگ ڈورگجرات کے سابق وزیر اعلی کو سونپی تھی جبکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے گجرات کے ان چھ مسلمانوں کو باعزت بری کردیا تھا جن پرگجرات کےاکشردھام مندر پر حملہ میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ان میں سے تین افراد کوگجرات کی ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی ‘پھر گجرات ہائی کورٹ نے بھی اس سزائے موت کی توثیق کردی تھی۔جمعیت علماء کی دائر کردہ اپیل پرسپریم کورٹ نے ان مسلمانوں کو پھانسی کے پھندے سے بچاکر نہ صرف باعزت بری کردیا تھا بلکہ گجرات پولیس‘انتظامیہ اور بالواسطہ طورپر گجرات کی اس وقت کی حکومت کو بھی سخت سست سنائی تھیں۔
میں نے اس واقعہ کے بعد اپنے مختلف مضامین میں اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ شاید سپریم کورٹ سے آنے والا اپنی نوعیت کا یہ آخری فیصلہ ہو۔افسوس یہ ہے کہ میرے اس خدشہ کو ابھی تک کسی ایک فیصلہ نے غلط ثابت نہیں کیا ہے۔بہت سے نوجوان جیلوں میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیںاور انہیں ضمانت تک نہیں مل رہی ہے۔سرکردہ افراد‘قائدین اور متاثرین کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آخر کہاں جائیں اور کس سے انصاف طلب کریں۔ 26جنوری 1950کو سپریم کورٹ کے قیام کے بعداقلیتوںکے حوالہ سے اعلی عدلیہ کے کردارکی جو تشریح سامنے آئی تھی وہ یہ تھی کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے مختلف کردار ادا کرے گی۔بعد کی چھ دہائیوں نے اس تشریح کی تصدیق بھی کی اور اعلی عدلیہ نے ثابت بھی کیا کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کی محافظ ہے۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس ‘ اقلیتوں کا درجہ طے کرنے‘ان کے تعلیمی اداروں کا تحفظ کرنے اور مقننہ کے ذریعہ بنائے گئے ایسے قوانین کا جائزہ لینے کیلئے آئینی طورپر پابند ہیں کہ جن سے اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ لیکن اب مقننہ کے ذریعہ سب کچھ بے خوف وخطر کیا جارہا ہے۔شاید مقننہ اور عاملہ کو اب نظام عدل وانصاف کے سامنے جوابدہی کا خوف نہیں رہا ہے۔ایسے میں جب بعض ججوں نے اپنے اندر کے متعصب انسان کو ہتھیلی پر سجاکر عام کردیا ہے تو پھر کیسی جواب دہی اور کہاں کا خوف۔
قانون کی خبروںکی ترسیل اور قانونی جائزوںکی مشہور ایجنسی ’لائیولا‘ نے ایسے کچھ ججوں کا جائزہ لیا ہے۔ججوں کیلئے خود سپریم کورٹ کی ’فل کورٹ‘کے ذریعہ کچھ رہنما اصول وضوابط طے کئے گئے ہیںجن پر عمل کرنا لازمی ہے۔عام طورپر جج سیاسی اور سماجی امور پراپنی رائے ظاہر کرنے اور عوامی پروگراموں میں شمولیت سے بچتے ہیں۔انہیں بچنا ہی چاہئے۔ اس لئے کہ پھر ان کے ذریعہ دئے گئے فیصلوںکی غیرجانبداری مشکوک ہوجائے گی۔انہیں عوامی طورپر ہی نہیں بلکہ ذاتی طورپربھی سیاستدانوں اور حکام سے ملنے میں احتیاط رکھنی چاہئے۔ اس سلسلہ میں حال ہی میں سپریم کورٹ کی فعال جج‘جسٹس بی وی ناگرتھنا نے ججوں کے سوشل میڈیا پر متحرک وفعال ہونے پر سخت تنقید کی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ججوں کو ایسی بعض آزادیوںکی قربانی دینی ہوتی ہے جو بصورت دیگرعوام کو حاصل ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں تازہ مثال الہ آباد ہائی کورٹ کے جج‘جسٹس شیکھر کمار یادو کی ہے جنہوں نے عدل وانصاف کے وقارکیلئے ضروری تمام حدود کو توڑکروشو ہندو پریشد کے ایک پروگرام میں شرکت کی اور وہاںبراہ راست اس ملک کے مسلمانوں کے تعلق سے زہر افشانی کی۔ گوکہ ان کے خلاف ملک بھر میں بے چینی ظاہر کی گئی‘ سیاستدانوں نے پارلیمنٹ میں تحریک مواخذہ کا نوٹس جمع کرایا اور سپریم کورٹ کالجیم نے انہیں بلاکر باز پرس کی لیکن انہوں نے اپنے جن نظریات کا اظہار کیا تھا وہ کہیں اس طرح کے اقدامات سے تبدیل ہوسکتے ہیں؟
جسٹس شیکھر کماریادو نےالہ آباد میں منعقدوشو ہندوپریشدکے پروگرام میں جو کہا تھا وہ ایک جج سے تو کیا ایک عام سرکاری افسر سے بھی متوقع نہیں ہوسکتا۔انہوں نے مسلمانوں کو بھی لعن طعن کیا اور اسلامی شریعت کو بھی بالواسطہ طورپر نشانہ بنایا۔انہوں نے مسلم قائدین کو کٹھ ملا بھی کہا اور یہ بھی کہا کہ اس ملک کا نظام اکثریت کی خواہشات کے مطابق چلے گا۔انہوں نے انتہائی سطحی اظہار خیال کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جب مسلمان اپنے بچوںکے سامنے ذبیحہ کریں گے تو ان کے اندر تو تشدد پنپے گا ہی۔یہ دراصل ایک برسرکارجج کے تعصب اور مسلم دشمنی کی انتہا تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ انہیں اس امر کا علم نہ ہو کہ سپریم کورٹ کی فل کورٹ نے ججوں کے لئے ضابطہ اخلاق مرتب کر رکھا ہے اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی ہوسکتی ہے۔انہوں نے جو کچھ کہا وہ ان کے دل ودماغ کی آوازتھی۔اس سلسلہ میں سابق چیف جسٹس چندر چوڑ کا بھی ایک انتہائی واضح بیان آیا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ جب وہ سپریم کورٹ میںالہ آباد ہائی کورٹ کے ’مشاورتی جج ‘تھے تو انہوں نے جسٹس شیکھر یادو کی تقرری کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ شخص اس لایق نہیں ہے کہ اسے جج بنایا جائے۔بہر حال ملک بھر میں ان کی ہرزہ سرائی کے خلاف جب بے چینی بڑھی تو سپریم کورٹ نے انہیں بلاکر باز پرس کی۔سپریم کورٹ نے اس سلسلہ میں سرکاری طورپر کچھ نہیں بتایا ہے تاہم سمجھا جاتا ہے کہ ان کی سرزنش ہوئی ہے۔لیکن عدلیہ کے وقار کو وہ جو نقصان پہنچاسکتے تھے وہ تو پہنچ ہی گیا۔
کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق جج‘ ابھیجیت اپادھیائے نے ایک روز پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ بی جے پی نےان سے رابطہ کیا ہے اور وہ بھی بی جے پی کے رابطہ میں ہیں۔اس وقت تک وہ جج تھے۔انہوں نے وزیر اعظم کی ستائش بھی کی۔انہوں نے جج رہتے ہوئے بعض ایسے مقدمات کے سلسلہ میں میڈیا کو انٹرویو بھی دئے جو خود ان کی عدالت میں زیر سماعت تھے۔انہوں نے بی جے پی کے حریف لیڈروں کے خلاف بھی کئی فیصلے صادر کئے۔انہوں نے ہائی کورٹ کی ڈویزن بنچ کے ایک فیصلہ کے خلاف سخت تبصرے بھی کئے۔آخر کار سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ کو ان کی سرزنش کرنی پڑی۔ان کی اس کھلی ضابطہ شکنی اور بی جے پی سے کھلی قربت کے اعتراف نے ان کے ذریعہ دئے گئے فیصلوں کو مشکوک کردیا۔انہوں نے اچانک استعفے کا اعلان کرکے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔انہیں بی جے پی نے لوک سبھا الیکشن میں ٹکٹ دیا اور وہ الیکشن لڑکر جیت گئے۔انتخابی مہم کے دوران انہوں نے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے خلاف نازیبا تبصرے کئے جس پر الیکشن کمیشن نے ان کی سرزنش بھی کی۔
اسی سال پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ کے ایک برسرکار جج‘ جسٹس راج بیرسہراوت نے تو کمال ہی کردیا۔انہوں نے اپنے ذریعہ شروع کئے گئے ’توہین عدالت‘کے ایک مقدمہ پر سپریم کورٹ کے اسٹے پراپنے فیصلے میں سخت تبصرے لکھتے ہوئے سپریم کورٹ کو ہی کٹگھرے میں کھڑا کردیا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ خود کو زیادہ ہی سپریم سمجھتی ہے اور ہائی کورٹ کو کمتر۔اس پراسی روز سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی اور جسٹس راج بیر کے تبصروں کو حذف کرنے کے ساتھ ان کی سخت سرزنش بھی کی۔اسی سال کرناٹک ہائی کورٹ کے ایک جج ‘جسٹس ’ویدویہ سچر شری شاندا‘نے بھری عدالت میںمسلم اکثریت والے ایک علاقہ کو ’پاکستان‘ قرار دے کر اپنی فرقہ وارانہ سوچ کو عیاں کردیا۔انہوں نے ایک خاتون وکیل پر بھی نازیبا تبصرہ کیا۔سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے ان کے خلاف بھی سماعت کی اور ان کی سخت سرزنش کی۔آخر کار انہوں نے اپنی عدالت میں اس سلسلہ میں اظہار معذرت کیا۔پچھلے چند برسوں میں بعض ایسے فیصلے بھی آئے جن کی رو سے شریعت اسلامی میں مداخلت لازم آئی۔کرناٹک ہائی کورٹ میں مسلم بچیوں کے حجاب اوڑھنے کے حق کو ایک فیصلہ کے ذریعہ چھین لیا گیا۔کرناٹک میں ہی ایک مسجد میں ایک شرپسند نے گھس کر جے شری رام کا نعرہ لگایا ‘اس کے خلاف ایف آر درج ہوئی لیکن کرناٹک ہائی کورٹ کی یک رکنی بنچ نے اس ایف آئی آر کو یہ کہہ کر کالعدم کردیا کہ مسجد میں جے شری رام کا نعرہ لگانے سے کسی فرقہ کی دل آزاری نہیں ہوتی۔
ایسا نہیں ہے کہ عدلیہ میں سب کچھ خراب ہوگیا ہے۔لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ ججوں کی زبانی اس طرح کے فرقہ وارانہ نوعیت کے تبصرے کھلے عام آئے ہوں۔اس کےبرعکس بھی کم سے کم ایک مثال اسی دور میں سامنے آئی ہے۔تامل ناڈوکی جسٹس ایل گوری کا واقعہ ہمارے سامنے ہے۔ بی جے پی سے وابستگی کاان کا ماضی مسلم دشمنی سے بھرا ہوا ہے۔ جب انہیں جج بنایا گیا تو مختلف طبقات نے ان کے خلاف مہم بھی چلائی تھی۔سپریم کورٹ میں بھی رٹ دائر کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وکیل کے اپنے افکار کچھ بھی ہوسکتے ہیںلیکن اسے فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق دینا ہے۔جسٹس گوری نے فی الواقع اسے ثابت بھی کیا۔ انہوں نے جج بننے کے بعد نہ صرف یہ کہ عوامی طورپر ایسا کوئی بیان نہیں دیا بلکہ کم سے کم دو معاملات میں قربانی اور نماز کے خلاف شرپسندوں کی رٹ کو سخت تبصروں کے ساتھ مسترد بھی کردیا۔وقت کا پہیہ بہرحال گھوم رہا ہے۔اللہ کے فیصلے کے مطابق اچھا وقت بھی آئے گا۔
29 دسمبر،2024، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی
---------------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/year-blows-dignity-judiciary/d/134202
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism