New Age Islam
Sun Apr 12 2026, 12:32 PM

Urdu Section ( 10 Jun 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Vote Bank Politics and 'Operation Sindoor' ‘ووٹ بینک کی سیاست اور’آپریشن سندور

معصوم مراد آبادی

5 جون،2025

کیا آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی مسلمان دشمن کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے؟ کیا انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اس محاذ آرائی میں حکومت اور فوج کا ساتھ نہیں دیا؟ کیا انہیں اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے آگ کے دریا سے گزرنا ہوگا؟ یہ اور اس قسم کے دوسرے سوالات وزیر داخلہ امت شاہ کے ایک حالیہ بیان کی کوکھ سے پیدا ہوئے ہیں جو انہو ں نے کلکتہ میں بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بناتے ہوئے دیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کارکنوں کی ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے جو ش خطابت میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے مسلم ووٹ بینک کو خوش کرنے کے لئے ’آپریشن سندور‘ کی مخالفت کی۔ ’امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ’ممتا دیدی آپریشن سندور کی مخالفت کرکے اس دیش کی ماں بہنوں کی توہین کررہی ہیں۔ 2026ء کے انتخابات میں بنگال کی ماں بہنیں آپریشن سندور پر تنقید کرنے کے لیے وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کو سبق سکھائیں گی‘۔

وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان کے بعد ہم نے اس کی بہت چھان بین کی کہ ممتا بنرجی نے کب او رکہاں ’آپریشن سندور‘ کی مخالفت کی اور اس کے ذریعہ اپنے مسلم ووٹ بینک کو ’خوش‘ کیا۔بہت تلاش کرنے کے بعد بھی ہمیں ممتابنرجی کا ایسا بیان نظر آیا۔اس سے یہ ثابت ہوا کہ امت شاہ نے کلکتہ میں ممتا بنرجی او رمسلمانوں کے تعلق سے جو کچھ کہا ہے وہ سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے۔سبھی جانتے ہیں کہ اگلے سال مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں او ربی جے پی وہاں کے اقتدار پرقبضے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مغربی بنگال کے عوام کو ممتا بنرجی سے برگشتہ کیا جائے۔ظاہر ہے کہ بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کا ایک حصہ ہوسکتاہے،لیکن کیا ملک کے وزیر داخلہ کی کرسی پربیٹھے ہوئے کسی شخص کو یہ زیب دیتاہے کہ وہ اپنی سیاسی خواہشوں کی تکمیل کے لیے سفید جھوٹ کا سہارا لیں او رملک کی سب سے بڑی اقلیت کی حب الوطنی پرسوالیہ نشان قائم کریں؟

دنیاجانتی ہے کہ جس وقت ہماری بہادر فوج نے ’آپریشن سندور‘ شروع کیا تو ملک کے دیگر عوام کے ساتھ ساتھ ہندوستانی مسلمان بھی اس کی پشت پرکھڑے ہوئے تھے۔ مسلمانوں نے اس موقع پر اپنی حب الوطنی کا بہترین ثبوت پیش کیا۔ عام مسلمان ہی نہیں مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی قیادت بھی اس معاملے میں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔یہاں تک کہ جب حکومت نے پاکستان کو ’بے نقاب‘ کرنے کیلئے پارلیمانی وفد غیر ملکوں کو بھیجے تو اس میں بھی بیرسٹر اسدالدین اویسی، غلام نبی آزاد اور سلمان خورشید جیسے سرکردہ مسلم لیڈران شامل کئے گئے، جنہوں نے پرزور طریقے سے ہندوستانی موقف کی عالمی سطح پر ترجمانی کی۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ ملک پر جب کوئی آنچ آتی ہے تو ملک کے باشندے اپنے تمام اختلافات بھلا کر ایک پرچم کے نیچے جمع ہوجاتے ہیں۔اس سب کے باوجود اگر وزیرداخلہ ’آپریشن سندور‘ کے معاملے میں مسلمانوں کوکٹہرے میں میں کھڑا کرتے ہیں تو یہ یقینا ان کاذہنی فطور ہی کہاجائے گا۔یہ وہی ذہن ہے جو تمام قربانیاں دینے کے باوجود مسلمانوں کو لااعتبار سمجھتاہے۔ جو کرنل صوفیہ قریشی جیسی بہادر بیٹی کو دہشت گردوں کی بہن سمجھتا ہے۔ جو قدم قدم پر مسلمانوں کی حب الوطنی پرسوالیہ نشان کھڑا کرتاہے۔

دنیا جانتی ہے کہ جب پہلگام میں دہشت گردوں نے 26/ بے گناہ سیاحوں کو سفا کی سے موت کے گھاٹ اتارا تو اس کی جتنی مذمت مسلمانوں اور مسلم تنظیموں نے کی اتنی ہی کسی اور فرقہ نے کی ہو۔ وادی کشمیر کے عوام نے دہشت گردی کو پوری طرح مسترد کردیا  او روہ لوگ بھی میدان میں آگئے جو کبھی اس قسم کی وارداتوں پرسامنے نہیں آتے تھے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پہلگام حملہ کے بعد وادی کشمیر کے عوام کی اقتصادی کمر ٹوٹ گئی ہے او روہ بے دست دیا ہوگئے ہیں۔اس حملہ کے بعد کشمیر کے سیاحتی مقامات ویران پڑے ہیں اور وہاں کے لوگ نان شبینہ کے محتاج ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وادی میں دہشت گردی  کے خلاف ایسا اتحاد شاید یہی کبھی دیکھنے کو ملا ہو۔ کشمیر ی نہیں پورے ملک کے مسلمانوں نے ایک آواز ہوکر پہلگام حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی،لیکن اس کے باوجودظلم پسند طاقتوں نے مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی جاری رکھی اور ملک میں لنچنگ کی وارداتیں بھی ہوئیں۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنی کلکتہ کی تقریر میں بنگلہ دیشی دراندازی کامعاملہ اٹھاتے ہوئے اس کے لیے بھی ممتا نبرجی کوقصوروار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ممتا دیدی نے اقتدار میں آنے کے بعد بنگال کی سرزمین کو دراندازی، بدعنوانی، جرائم اور ہندوؤں پرمظالم کا مرکز بنادیاہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’دیدی آخرکب تک تشدد کرنے والوں کو بچاتی رہیں گی۔ آپ کاوقت پورا ہوگیا ہے اور 2026 ء میں مغربی بنگال میں بی جے پی کی سرکار بنے گی۔ وزیر داخلہ امت شاہ کی اس تقریر پر ترنمول کانگریس نے بھی تیکھا رد عمل ظاہر کیاہے۔پارٹی کی راجیہ سبھا ممبر سگار یکا گھوش نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’شاہ کی زبان ہندوستان کے وزیر داخلہ کی نہیں بلکہ بی جے پی ورکر کی طرح ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ترنمول کانگریس حکومت ہند کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے، جب ہمارے قومی جنرل سکریٹری ممبران پارلیمنٹ کے وفد کے ساتھ غیر ممالک کا دورہ کرکے بھارت سرکار کے لیے مضبوطی سے بول رہے ہیں، اس وقت وزیرداخلہ بنگال آتے ہیں او ربی جے پی ورکر کی طرح بیان دیتے ہیں اور ہماری وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف گھٹیاں زبان کا استعمال کرتے ہیں۔۔انہوں نے کہا کہ ’امت شاہ کی سیاست محض پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی سیاست ہے‘۔

حقیقت یہی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک نازک دور سے گزررہا ہوتو ملک کے وزیرداخلہ کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ بالغ نظری کا ثبوت دیں اور کسی بھی ایسے بیان سے پرہیز کریں جس کا منفی اثر ہوتاہو۔وزیر داخلہ نے آپریشن سندور کے پس منظر میں مسلمانوں کے حوالے سے جوبیان دیا  ہے وہ انتہائی غیرذمہ دارانہ بیان ہے۔ایسے بیان کی توقع توعام کارکنوں سے بھی نہیں کی جاسکتی۔ چہ جائے کہ ملک کا وزیرداخلہ اس قسم کے بیان جاری کرے۔

صورتحال کی نزاکت کااندازہ کانگریس لیڈر سلمان خورشید کے ایک بیان سے بھی ہوتاہے جو غیر ملکی وفد کا حصہ تھے۔ انہوں نے کوالالمپور میں کہا کہ ’لو گ پوچھتے ہیں کہ آپ وہاں کیا کررہے ہیں، جہاں بی جے پی کے لو گ ہیں؟ میں کہتا ہوں کہ میں یہاں بھی وہی کررہا ہوں جو ملک کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’آپ کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو، آج ملک کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے او رہم یہاں یہی کررہے ہیں۔سوچتا ہوں کہ جب میں یہ کہتاہوں کہ کیا محب وطن بننا اتنا مشکل ہے؟ تو یہ سوال ان لوگوں سے پوچھناچاہئے جو ایسی باتیں کررہے ہیں، میرے خیال میں ملک کے لیے کچھ کرنے کے لیے کچھ زیادہ حوصلہ مندانہ نہیں ہے‘۔

-----------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/vote-bank-politics-operation-sindoor/d/135827

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..