New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 03:28 PM

Urdu Section ( 26 Oct 2017, NewAgeIslam.Com)

What Does Islam Say About Interfaith Dialogue? بین المذہب مکالمہ کے بارے میں اسلام کا موقف کیا ہے ؟

 

 

 

وکٹر ایڈیون، نیو ایج اسلام

10 اکتوبر 2017

یوسف جھا فی الحال ابو ظہبی میں جنرل اتھارٹی برائے اسلامی امور و اوقاف میں ایک مترجم / ٹرینی مفتی کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ، جہاں وہ مقامی انگریزی زبان بولنے والے لوگوں کے معاملات میں تخصص کر رہے ہیں۔ نماز جمعہ کے لئے امام و خطیب کے عہدے پر فائز اور خطے کے اندر انگلش زبان میں خطبہ جمعہ دینے کے لئے مجاز ، وہ اسلام کی کلاسیکی اور روحانی روایات پر مبنی ایک غیر فرقہ وارانہ تعبیر و تشریح کو فروغ دیتے ہیں ، مثبت طور پر معاشرے میں سرگرم عمل ہیں اور انسانی تنوعات کا احترام کرتے ہیں۔ دلی میں مقیم ایک کیتھولک پادری اور اسکالر وکٹر ایڈون کے ساتھ اس انٹرویو میں انہوں نے اسلام اور بین المذاہب مکالمہ سے متعلق مسائل کے بارے میں گفتگو کی ہے۔

بین المذاہب مکالمہ کے بارے میں اسلام کا موقف کیاہے ؟

مختلف مذہبی کمیونٹیز کے دمیان بین المذاہب مکالمہ کی تفصیلات کی بات آتی ہے تو چند الہی کتابیں ہی ایسی ہیں جو قرآن کی طرح جامع ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن واضح طور پر کہتاہے:

اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے۔ (قرآن 16:125)

مذکورہ بالا ٓیت میں اللہ کی طرف لوگوں کو دعوت دینے کے لئے جس خوبصورتی اور حکمت عملی کا مظاہرہ کرنے کی بات قرآن نے کی ہے اسے بہت سے اسلامی علماء نے "دل کا راستہ" قرار دیا ہے۔ اس کی عکاسی ایک عربی فقرہ سے ہوتی ہے جس میں کہا گیا ہےکہ: "کسی کی حالت کی زبان اس کے الفاظ سے زیادہ واضح ہوتی ہے"۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی ابن عطاء اللہ الاسکندری (1309 -1276 ء) نے کہا کہ "ہر بات دل میں وہیں جا کر بیٹھتی ہے جہاں سے وہ نکلتی ہے۔"

لہٰذا، اس سلسلے میں قرآن جس خوبصورتی کا حوالہ پیش کر رہا ہے وہ دل کو چھو جانے والی ہے، جو فطری طور پر غلط بیانی سے روکتی ہے اور خلوص پیدا کرتی ہے۔ اس کے لئے عاجزی کی بھی ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ قرآن اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کہ کون "ہدایت پر ہے " اور کون "گمراہ" ہے ، خدا کا کام ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کے ساتھ بدکلامی کرناایک مومن کا راستہ نہیں ہے ، کیونکہ ایک مستند روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: "مومن بدکلامی کرنے والا نہیں ہے، اور نہ ہی وہ دوسروں پر لعنت کرتا ہے، اور نہ ہی وہ بد اخلاق اور بے شرم ہے۔ "(ترمذی)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ ہر کلام کا ایک وزن ہوتا ہے، مثلاً "ایک اچھی بات بھی صدقہ ہے۔" (بخاری و مسلم)، قرآن کا فرمان ہے:

"اور میرے بندوں سے کہہ دیجیئے کہ وه بہت ہی اچھی بات منھ سے نکالا کریں کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے۔ بےشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ "(قرآن 17:53)

لہٰذا، اسلام اپنے ماننے والوں کے لئے اپنے اس بیان کی بنیاد پر نرمی اور خوش خلقی کے ساتھ گفتگو کا ایک عمومی حکم صادرکرتا ہے کہ "اور لوگوں کو اچھی باتیں کہنا" (قرآن 2:83)۔ایسا اس لئے ہے کیونکہ ایک شخص جو کہہ رہا ہے اس کی جانچ پرکھ کی ضرورت خدا کے فیصلے کی ذمہ داری کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ جاتی ہےاس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو بھی خدا اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہے اسے یاتو اچھا کلام کرنا چاہئے یا خاموش رہ کر کچھ بھی بولنے سے گریز کرنا چاہیے۔" (بخاری و مسلم)

لہذا خلاصہ کلام یہ ہے کہ مذکورہ بالا گفتگو سے اس عام رویے کی طرف اشارہ ملتا ہے جسے اختیار کرنے کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا ہے ، یعنی: خلوص، عاجزی، مہربانی اور رحمت و ہمدردی پر مبنی دلکش حکمت۔

کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام بین المذہب مکالمہ کے خلاف ہے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

باہمی مکالمہ کے خلاف ہونے کے بجائے قرآن باہمی مباحثے اور تنوعات کو تسلیم کرتا ہے، اور اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ انسانیت کے اندر صنف، قبیلے، نسل اور یہاں تک کہ مذہب کا بھی اختلاف اس اہم طریقہ کار کی تکمیل کے لئے ہے جس کی بنیاد پر انسان خدا کا قرب حاصل کرتا ہے؛ قرآن کا فرمان ہے:

اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔ (قرآن کریم 49:13)

لوگوں کے درمیان امتیاز اور تفاوت کو قرآن نےاللہ کی مرضی قرار دیا ہے جس کا مقصد ایک ایسا وسیلہ تیار کرنا ہے جس کے ذریعے خدا کی معرفت حاصل کی جا سکے۔ جملہ ‘‘کہ آپس میں پہچان رکھو’’، عربی زبان میں ، ‘تعارفو’ میں فعل معکوس ہے جسے جان بوجھ کر غیر معین چھوڑ دیا گیا ہے۔ فصاحت و بلاغت کے نقطہ نظر سے یہ نہ صرف یہ کہ معلومات کا ایک ذخیرہ پیش کرتا ہے بلکہ یہ ایسی ‘‘معلومات’’ کے متعدد پہلوؤں کا بھی انکشاف کرتا ہے ، مثلا، دوسروں کو جاننا ، دوسروں کے ذریعے خود کو جاننا ، اور ایک گہری سطح پر بالآخر اس عمل کے ذریعے خدا کو جاننا۔ یہی وجہ ہے کہ علم کے اس معنیٰ کے لئے مادہ وہی ہے جو ‘عرفہ’ کا مادہ ہے جس کا استعمال حقیقت الہی کے عرفان کے حصول کے لئے ہوتا ہے جسے عربی میں ‘معرفۃ’ کہا جاتا ہے۔ لہٰذا، اسلام کا پیغام یہ ہے کہ خود اور دوسروں کے درمیان تنوعات اور اختلافات پر غور و فکر کرنے کا مقصد بالآخر ان اختلافات اور تنوعات کو پیدا کرنے والے الٰہ کی وحدانیت کا حصول ہے اس لئے کہ معنیٰ کبھی دو متوازی اشیاء کے تقابل سے واضح ہوتا ہے، جیسا کہ ایک مشہور صوفی یحیی ابن معاذ الرازی (871-830 عیسوی)کا قول ہے: ‘‘جو خود کو پہچان گیا اسے رب کی معرفت حاصل ہو گئی"۔

لہٰذا، اسلام کا موقف یہ ہے کہ اپنی معرفت اور دوسروں کی معرفت خدا کی ایک جامع معرفت میں شامل ہونے کی وجہ سے باہم آمیختہ اور متمم ہے۔ اس سلسلے میں اسلام میں مکالمے کا مقصد دوسروں کے نظریات پر اپنے نقطہ نظر کو فوقیت دینا نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے مذاکرات کے مراحل کا معائنہ کرنا اور اللہ کی معرفت کی طرف رہنمائی کرنے والے شعور کے ایک آئینے کے طور پر تمام قسم کے تعلقات کو پسند کرنا جو بالآخر معرفت نفس اور ایک حتمی معنیٰ میں اللہ کی معرفت کا سبب بنتا ہے۔ لہذا، باہمی مکالمہ سے اختلاف کرنے کے بجائے ایک حقیقی اسلامی نقطہ نظر باہمی مکالمہ کا استقبال اور خیر مقدم کرتا ہے اور اسے اللہ کی معرف دریافت کرنے کا ایک مستقل موقع قرار دیتا ہے۔ جیساکہ قرآن کا بیان ہے:

تم جدھر بھی منھ کرو ادھر ہی اللہ کا منھ ہے (قرآن کریم- 2:115)

کچھ لوگ یہ دعوی کر سکتے ہیں کہ اسلام ایک مشنری مذہب ہے اور چونکہ مسلمانوں کو دعوت و تبلیغ کے عمل میں مشغول رہنے کا حکم دیا گیا ہے ، لہٰذا، مسلمان حقیقی طور پر مکالمے میں مشغول نہیں ہو سکتے۔ آپ کی رائے کیا ہے؟

مسلمانوں کو دعوت و تبلیغ کا عمل انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ خود لفظ دعوت کا مطلب مدعو کرنا ہے، اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو صرف اپنے الفاظ سے ہی نہیں بلکہ دل سے بھی بہتر طریقے پر "رب کی راہ کی طرف بلانے" (قرآن 16:125) کا فریضہ سونپا گیا ہے۔ تاہم، اس طرح کی دعوت ایک خاص مذہب کے پیروکاروں کی تعداد بڑھانے کے مقصد سے کوئی واضح مشنری جد و جہد نہیں ہے ، بلکہ یہ فطرت نفس کی بنیادی سچائی کی طرف دعوت ہے۔ ایک مسلمان کی سب سے پہلی اور سب سے اہم ذمہ داری اس سچائی کو جینے اور اس کا نمونہ پیش کرنے کی ہے جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے اور سب سے بڑی سچائی خدا کی توحید کا اقرار ہے جس کا سب سے اعلیٰ نمونہ پیغمبر اسلام ﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے کی مثال ہے جس کا معنیٰ تمام ذی حس مخلوق کے لئے ہمدردانہ نگہداشت رکھنے والا پوری کائنات کے لئے رحمت ہے۔ لہٰذا، اگر سچائی کے ساتھ اور مناسب طریقے اس کام کو انجام دیا جائے تو یہ "دعوت" خود سب سے پہلے دوسروں کے ساتھ نااتفاقی اور بے ہم آنگی سے باز رکھنے والی ہے کیونکہ یہ عظیم انسانیت کے لئے محبت اور عرفان ذات کا تعاون کرتی ہے۔ اس کی شہادت قرآن کے اس حکم سے بھی اخذ کی جا سکتی ہے جس میں "دعوۃ" کے طریقہ کار کو بیان کیا گیا ہے؛قرآن کا فرمان ہے:

‘‘آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آو جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وه منھ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں’’ (قرآن 3:64)۔

کیا آپ کے خیال میں وہ بنیادی مشترکہ قدر کیا ہونی چاہئے جو مختلف مذاہب کے لوگوں کو مکالمہ کے لئے ایک جگہ جمع کر دے ؟

اسلام میں باہمی مکالمے کی بنیاد خدا کی بہتر معرفت حاصل کرنے اور اس کی عبادت کرنے کے لئے جمع ہونا ہے۔ اور اس کا مقصد کسی کے زندہ تجربہ سے اس بات کی آگہی حاصل کرنا ہے کہ:

ہر چیز فنا ہونے والی ہے مگر اسی کی ذات (قرآن 28:88)۔

اگر کوئی تخلیق کے تمام پہلو میں مندرجہ بالا کا مشاہدہ شروع کر دیتا ہے تو اس طرح کے مذاکرات کا مقصد ہمارے اس تجربے سے محسوس ہوتا ہے کہ مخصوص معنوں میں، ہم پہلے ہی "نیست" ہیں، اور صرف خدا ہی ایک ایسی حقیقت ہے جس پر کوئی فناء ، زوال اور اختتام نہیں ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صرف اسی کی ذات مطلقاً حقیقی ہے۔ اور اس طرح یہ مکالمہ حقیقی طور پر حقیقت یعنی خدا کی تلاش کرنے کا عنوان بن جاتا ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/interview/victor-edwin,-new-age-islam/what-does-islam-say-about-interfaith-dialogue?/d/112829

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/victor-edwin,-new-age-islam/what-does-islam-say-about-interfaith-dialogue?--بین-المذہب-مکالمہ-کے-بارے-میں-اسلام-کا-موقف-کیا-ہے-؟/d/113032

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..