ورشا شرما، نیو ایج اسلام
30 اپریل 2014
عام طور پر مسلم علماء قبل از اسلام کے دور کو بتانے کے لیے جاہلیت کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اسلام کی آمد کے ساتھ ہی 'دور جہالت' کا خاتمہ ہو گیا۔ اول یہ کہ انسانی تاریخ کی تقسیم قبل از اسلام اور بعد از اسلام میں کرنے کا عقلی اور فکری طور پر کوئی جواز نہیں بنتا۔ جہاں تک جاہلیت کا تعلق ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کی یہ رائے تھی کہ جاہلیت ایک دماغی کیفیت ہے اور اس کا تعلق تاریخ کے کسی خاص گوشے سے نہیں ہے۔ قرآن نے اپنے ماننے والوں کے ذہنوں کو تبدیل کر دیا تھا اور پھر اسی کی تعلیمات پر مبنی ایک نئے دور کاآغاز ہوا۔ جہالت اسی وقت ختم ہو سکتی ہے کہ جب اسلامی تعلیمات کو پورے دل سے قبول کیا جائے اور پوری ذمہ داری کےساتھ اس پر عمل کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ 1400 سال سے موجود عرب میں ذہنی اور سماجی پسماندگی کی صورت حال اب بھی قائم ہے۔
چھٹی صدی عیسوی کے عرب کی تاریخ پر جب ہم ایک سرسری نظر ڈلتے ہیں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اس وقت عرب گہری جہالت اور انتہائی تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اگر ہم اسلام سے قبل کے عرب کے حالات کا ایک تجزیاتی مطالعہ کریں تو یہ امر اور بھی واضح ہو جائے گا۔
اسلام سے قبل عربوں کی حالت
عربوں کو توحید (خدا کی وحدانیت پر ایمان) کا الہی پیغام اسلام کے ایک سابق نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیا تھا۔ حضرت ابراہیم نے اپنے بڑے بیٹے اسماعیل کو مکہ میں آباد کیا اور ان دونوں نے مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے تقریباً 2-1/2 ہزار سال قبل خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔ لیکن ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی وفات کے صرف چند صدیوں کے بعد ہی عرب میں بت پرستی کا آغاز ہو گیا۔ اگرچہ وہ اس قادر مطلق کی حمد و ثنا کیا کرتے تھے لیکن ان کے دل و دماغ میں ان گنت دیوی اور دیوتا بس چکے تھے۔ کفار عرب اپنے متعلقہ دیوی اور دیوتاؤں سے دعا اور طلب رحمت و مغفرت کیا کرتے تھے۔ ہر عرب قبیلہ کے لیے لات، منات، عزا، یغوث، یعوق اور نصار جیسے خاص بت مخصوص تھے۔
گہری برائیوں کے باوجود عربوں کے اندر کچھ خوبیاں تھیں جس کی وجہ سے وہ اپنے دور کے دوسرے قبائل اور دوسرے لوگوں سے وہ ممتاز تھے۔ وہ عربی زبان اور ادب کے استعمال میں بڑے ماہر اور فصیح و بلیغ تھے۔ وہ انفرادی آزادی کو بڑی اہمیت دیتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ ایمانداری، سخاوت، مہمانوں کی مہمان نوازی اور ان کی تفریح طبع ان کی شخصیت کی شاندار خصوصیات میں شامل تھے۔ وہ پرجوش، بہادر ،جانباز، مضبوط، سچے ، وفادار ، قابل اعتماد ، عزم میں مضبوط تھے اور ان کی یاد داشت تیز تھی۔
زیادہ تر عرب بدو اور خانہ بدوش تھے جنہیں آبادی اور بستی کا کوئی شعور نہیں تھا۔ یمن کے علاوہ جو کہ ایرانیوں کے ماتحت تھا ان کی کوئی منظم حکومت نہیں تھی۔ خیموں میں رہنے والے خاندانوں کے ایک گروپ سے ایک برادری بنتی اور برادریوں کے ایک گروپ سے ایک قبیلہ بنتا تھا۔ ہر قبیلے کا اپنا ایک اخلاقی نظام ہوتا تھا۔ قبیلے سے وفاداری ایک لازمی انفرادی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔ اس کے باوجود عربوں کی اکثریت سماجی طور پر پسماندہ اور اخلاقی طور پر فاسد تھی۔ ا ن کے اندر جنگ، جرائم، جھڑپوں اور قبائلی تنازعات کا رجحان زیادہ تھا جو کہ کبھی کبھی تا عمر جاری رہتا۔
اخلاقی اقدار سے خالی خانہ بدوش عرب اشتعال انگیز عادات اور سماجی برائیوں میں ڈوبے تھے۔ وہ شراب کے اتنے زیادہ عادی ہو گئے تھے کہ ایک قبائلی سردار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے صرف ایک مشکیزہ شراب کے بدلے میں کعبہ کی کنجیاں دے دی تھی۔ انہیں بچیوں کو زندہ در گور کر دینے، جوا، سود اور بے گناہ لوگوں کے قتل جیسے غیر انسانی رسم و رواج پر فخر تھا۔ زنا اور جسم فروشی بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی تھی۔ خواتین کوصرف جنسی اشیاء سمجھا جاتا تھا۔ چند مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والی چند خواتین کے علاوہ انہیں تعلیم، وراثت یا املاک کا کوئی حق نہیں حاصل تھا اور بمشکل ہی ان کی کوئی سماجی حیثیت تھی۔ مطلقہ یا بیوہ عورتوں کو دوبارہ شادی کرنے کی اجازت نہیں تھی اور اس طرح وہ ایک مہذب زندگی کے بنیادی انسانی حق سے محروم ہو گئی تھیں۔ جھوٹے فخر کے تصورات اور غربت کے خوف سے بچیوں کو مار دینے کا رجحان بڑھ گیا۔ بچیوں کو اکثر زندہ دفن کر دیا جاتا تھاجیسا کہ ہندوستان میں بیوہ عورتوں کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ بہت سی نوجوان اور غریب لڑکیاں رکھیل ہوا کرتی تھیں تاکہ عرب کی مقبول جنسی تجارت میں ان کا استعمال کیا جا سکے۔ غلامی کی تجارت بھی عرب کے بہت سے حصوں میں عروج پر تھی۔ غلاموں کو جانور پر سمجھا جاتا تھا اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا تھا۔
ان کے اندر سب سے سخت برائیوں میں سے ایک قبائلی تعصب تھا۔ ہر قبیلہ یہ سوچتا تھا کہ اس کا وجود معزز اور انتہائی محترم خاندان سے ہے۔ فطری طور پر عرب جنگجو اور خون کے پیاسے قاتل تھے۔ جنگ اور قتل و قتال ان کی رگوں اور ان کے مزاج میں شامل تھا۔ جنگ ان کی روز مرہ کی زندگی کا ایک لازمی حصہ رہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے مسائل ایک لامتناہی قبائلی جنگ کی وجہ بن جاتے تھے۔ عدم تحفظ کا خوف اتنا بڑھ گیا تھا کہ کوئی بھی اس بات سے آگاہ نہیں تھا کہ کب اور کہاں اس کا قتل، لوٹ مار یا اس کی عصمت دری کر دی جائے۔
عرب جن باتوں پر فخر کر سکتے تھے وہ صرف تحریر، شاعری اور دیگر ادبی سرگرمیوں میں ان کی کامل مہارت تھی۔ لیکن ان کی شاعری کا ایک بڑے حصہ گھٹیا فطرت، نفسانی لطف و لذت اور جھوٹے فخر و مباہات پر مشتمل تھا۔ لہٰذا عربوں نے انسانی ترقی، ثقافت اور تہذیب کے فروغ یا عالمی معاشرے کی بہتری کے لئے کسی بھی شعبہ میں کوئی کوشش نہیں کی۔
اسلام کی آمد کے بعد کا عرب
یہ ایک مستحکم حقیقت ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب پیدا کیا۔ ان کی ولادت اور پرورش و پرداخت ان عربوں کے درمیان ہوئی جو "جاہلیت میں" انتہائی شدید اور اخلاقی اور دانشورانہ پسماندگی سے دوچار تھے۔ لیکن تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی تعلیمی اور انسانی مشن کو آگے بڑھایا تو وہ جاہل اور پسماندہ لوگ نیکیوں، انسانیت، اخلاقیات اور علم و حکمت میں مثالیں قائم کر گئے۔ وہ ‘‘جاہلیت کے دور’’ سے باہر آئے اور علم کی بلندیوں پر پہنچ گئے (پہلی اسلامی تعلیم گاہ الصفہ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا تھا)۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے الہی پیغام نے ان کے وجود کو صرف ایک ہی نسل کے اندر اندر یکسر بدل دیا اور وہ انسانی تہذیب اور ایک روشن اسلامی ثقافت کی مشعل راہ بن گئے۔
اللہ کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو لوگوں کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر علم کی روشنی عطا کرنے کے لیے عربوں کے پاس مبعوث کیا گیا تھا۔ در اصل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر وحی نازل کرنے کا خدا کا واحد مقصد لوگوں کو : "اندھیروں سے نکال کر انہیں روشنی عطا کرنا" تھا (سورہ ابراہیم : 14) جس کا مطلب لوگوں کو جہالت کی تاریکی سے نکال کر انہیں علم و حکمت کی روشنی عطا کرنا ہے۔
اپنی حیات مبارکہ کے دوران نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان تمام لوگوں کو روحانی طور پر تیار کیا اور اخلاقی تعلیم دی جو ان کے (صحابی) بنے۔ قرآن کے الہی پیغام اور اپنے عظیم کردار کے ذریعہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انہیں اخلاقی، روحانی، اقتصادی، تعلیمی، سیاسی اور ملکی امور سمیت زندگی کے تمام شعبوں کی تعلیم دی۔
حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے اصحاب کو یہ بتایا کہ جو مذہب انہیں دیا گیا ہے وہ کوئی نیا مذہب نہیں ہے بلکہ یہ وہی قدیم ترین مذہب ہے جوان سے پہلے کے انبیاء اور رسولوں کو دیکر بھیجا گیا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے بتایا کہ چونکہ پہلے کے الٰہی احکامات کو نظر انداز کر دیا گیا یا انہیں مکمل طور پر بھولا دیا گیا تھا اسی لیے اللہ نے ان کے وسیلہ سے انسانوں کے لیے اپنے ابدی پیغام (قرآن شریف) کو دوبارہ نازل کیا۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود کو کبھی بھی ایک نئے مذہب کا بانی نہیں بتایا۔
(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)
ورشا شرما نیو ایج اسلام کی کالم نگار ہیں۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے تقابل ادیان میں ایم اے کر رہی ہیں۔
URL for English article:
https://newageislam.com/islamic-society/how-islam-transformed-arabs-state/d/76795
URL for this article:
https://newageislam.com/urdu-section/how-islam-transformed-arabs-state/d/76845