New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 06:09 AM

Urdu Section ( 7 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Mullah Omar, al-Baghdadi and the CIA Are in Touch ملا عمر ، البغدادی ، سی آئی اے رابطے میں ہیں؟

 

عمر فراہی

7 نومبر، 2014

برطانیہ کی سابق خاتون وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے کمیونزم کے زوال کے بعد کہا تھا کہ امریکی نیو ورلڈ آرڈر اور مغرب کے لئے اب سب سے بڑا خطرہ اسلام ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ امریکہ کو بھی اس خطرے کا احساس رہا ہو، مگر تاریخ میں امریکہ وہ بد قسمت سوپر پاور ملک ہے جو ابھی افغانستان میں اپنی فتح کے بعد اپنےعروج کے جشن کی تیاری میں مصروف ہی تھاکہ اس کے اپنے ہی ساتھیوں نے اس کے زوال کو پیشنگوئی  کرناشروع کردی۔ یعنی جس خطرے سے مارگریٹ تھیچر نے آگاہ کیا تھا اور جس افغانستان سے اس نے اپنے عروج کا اعلان کیا اسی افغانستان میں اس نے اپنے انجام کو بھی دیکھ لیا او ر ممکن  ہے کہ کچھ عرصے میں ہی اس کی ساری فوجیں امریکہ واپس لوٹ جائیں ۔ لیکن ایک بار پھر امریکہ جس طرح داعش کے خلاف خلیج کے میدان میں اپنی موجودگی کا جواز ڈھونڈ چکا ہے اس تعلق سے مسلمانوں کے ایک طبقے کا خیال ہے کہ القاعدہ اور طالبان کی طرح تحریک دولت اسلامیہ بھی سی آئی اے اور موساد کی تخلیق کردہ ہے ، تاکہ امریکہ اور اسرائیل  اس خطے کو مزید ٹکڑوں میں بانٹ کر اپنا الو سیدھا کرتے رہیں ۔ ہوسکتا ہے ان کا اپنا خیال بھی درست ہو لیکن یہ کہنا اوریقین کرنا کہ روئے زمین پر سب کچھ امریکہ اور اسرائیل کی مرضی سے ہی ہوتا ہے ایک طرح کی گمراہی ہے۔ شاید اسی مفروضے اور یقین کی بنیاد پر ہی یہ کہا جارہا ہے کہ عرب بہار کے لے کر مصر میں اخوانی حکومت کے خلاف بغاوت او رمصر کے باغی حکمراں السیسی کو لانے میں امریکہ اور اسرائیل نے اہم رول ادا کیا ہے ۔ یہاں پر یہ سوال اٹھتاہے کہ آخر انہوں نے مصر اور تیونس سے حسنی مبارک اور زین العابدین کو بے دخل کرنے کا منصوبہ کیوں بنایا ؟ کیا عرب کے ان حکمرانوں نے اچانک امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کوئی محاذ اور منصوبہ تیار کرنا شروع کردیا تھا؟ یا اچانک ایمان اور اسلام کی طرف رجوع  ہونے لگے تھے؟ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ دنیا کے حالات اور آدمی کے ارادے کہیں اور سے بدلے جاتے ہیں۔ مگر جو بیدار ہوتےہیں وہ چاہے شرپسند پسند ہوں یا اسلام پسند موقع کا فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔

عرب عوام میں اپنے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی چنگاری پہلے ہی سے سلگ رہی تھی، جو تیونس میں اچانک بو عزیزی کی خود سوزی  کے سبب عوامی انقلاب  کا سبب بن گئی اور پھر اسی انقلاب سے حوصلہ پاکر پورے عرب کی عوام سڑک پر اتر آئی اس پوری صورتحال میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جو اختلاف دباہوا تھا اس کے منکشف ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب اسرائیل کے وزیر اعظم نتین یاہو نے اوبامہ سے کہا کہ وہ حسنی مبارک کو بچائیں ورنہ ہم اپنےدوسرے وفادار اتحادی سے بھی محروم ہوسکتے ہیں ۔

اوبامہ نےجواب دیا کہ عرب ایک پر امن جمہوری  انقلاب کی طرف لوٹ رہے ہیں جو خود اسرائیل کے بھی اپنے مفاد اور حق میں ہے ۔ جان ایف کنیڈی کے بعد ایسا دوسری بار ہوا جب امریکہ کے کسی صدر نے اسرائیلی حکمرانوں کو نظر انداز کرنے کی جرات کی ۔ ایک عرصے اور وقفے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی اپنی ترجیجات میں ایک فرق یہ بھی دیکھا جاسکتاہے کہ اسرائیل ابھی بھی اپنے وجود اور بقا کے لیے فکر مند ہے مگر 2008 کی  معاشی بدحالی کے بعد امریکہ اب اسرائیل کے لیے اپنے وجود کو خطرے میں نہیں ڈالناچاہتا اور اس کاذمہ دار وہ اسرائیل اور یہودی سرمایہ داروں کو مانتے ہیں ۔ اس بات کا اندازہ امریکہ کےبہت سارے اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین اور مختلف ویب سائٹس پر امریکی عوام کی رائے سے بھی لگایا جاسکتا ہے ۔ امریکہ کو جس صہیونی ورلڈ آرڈر پر ناز تھا ایک عرصہ ہوا دنیا کے کسی  کونے میں اس تعلق سے  کوئی شور سنائی نہیں دیتا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی عوام کی اپنی ترجیحات ان کی سوچ اور ان کی خارجہ پالیسی ایک زبردست بحران کاشکار ہے۔ یہ بات کہنے کی نہیں  رہی کہ امریکی صدر بہت پہلے ہی اعتدال پسند طالبانوں سے رابطہ بنانے کا اظہار کرچکے ہیں ۔ امریکی  حکمرانوں کے بیانات اور حالات سے ایسا محسوس بھی ہوتا ہے کہ ان کی خفیہ تنظیمیں خفیہ طریقے سے اسلام پسند ‘ ملیٹینٹ’ تنظیموں کے  رابطے میں ہیں ۔

پاکستانی صحافی حامد میر پاکستان، ہندوستان اور افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کو مشورہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہیں نفرت اور دشمنی کی اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیل لاکر اپنے مشترکہ دشمن کو شکست دینے کی ضرورت ہے ، جیسا کہ خود امریکہ ، روس اور چین کی خارجہ پالیسی  میں تبدیلی واقع ہورہی ہے اور خود ملا عمر جو کہ آج بھی افغانستان کی ایک طاقتور شخصیت میں شمار ہوتے ہیں دیگر ذرائع سے امریکہ کے رابطے میں ہیں ( انڈین ایکسپریس 28 اکتوبر) ۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ اس وقت عالمی افق پر روس اور چین کی ابھرتی ہوئی معیشت اور ٹکنالوجی سے خوفزدہ اور پریشان ہے۔ خود طالبان بھی یہ سوچتے ہیں کہ اگر امریکہ ان کی مدد کرتاہے تو یہ مدد لینے میں  ان کے لئے دو فائدے ہیں ۔ پہلا فائدہ یہ ہے کہ وہ اقتدار پر قابض ہو جائیں گے اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ چین کی مداخلت کی صورت میں انہیں جدیدٹکنالوجی  او رہتھیار بھی مل سکتا ہے ۔ جیسا کہ کہا جارہا ہے کہ امریکہ  خود بھی افغانستان سے لوٹتے وقت اپنے بہت سارے ہتھیار طالبان کو سونپتاہوا جائے گا۔

امریکہ کو یہ بھی احساس ہے کہ ایران اور شام کے بعد عرب کے دوسرے حکمراں جس میں عراق ، سعودی عربیہ اور مصر بھی شامل ہے اپنی  وفاداری بدلنے کے لئے مناسب وقت کی تلاش میں ہیں اور خود اسرائیل بھی جو کہ ہمیشہ طاقتوروں کے ساتھ رہا ہے امریکہ کے لئے زیادہ بھروسے مند نہیں رہا۔ اس کا اندازہ غالباً امریکہ کو اس وقت ہوا جب 11/9 کےبعد امریکہ کے کئی بینک او رمالیاتی  ادارے خسارے کاشکار ہونے لگے اور ان کی صنعتوں میں تالا لگنے لگا۔ تیونس کے بعد مصر اور شام میں ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد حالات نے امریکہ  کو ایک سنہری موقع فراہم کردیا کہ وہ عرب اور اسرائیل  کے حکمرانوں سے بدلہ لے سکے ۔ بد قسمتی  سے امریکہ اگر اپنی چال چل رہاتھا تو عرب کے حکمراں اور اسرائیل نے مل کر مصر میں امریکہ کی چال کو نا کام بنا دیا اور شام میں ایران اور روس مداخلت کر کے اپنی سازش میں کامیاب ہوگئے ۔

مگر امریکہ کے لئے شام میں اعتدال پسند طالبانوں کی مدد کا راستہ پھر بھی کھلا رہا اور اس نے  اسی راستہ سے دولت اسلامیہ کی رہنمائی کرتے ہوئے بیک وقت عراق اور شام دونوں کے حکمرانوں کے بے دخل کرنے کا  حل ڈھونڈ لیا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا ایک بار پھر دو مخالف گروہوں میں بٹ رہی  ہے ، مخالف گروہ میں شامل ممالک امریکہ کے اس کھیل کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں اس لئے اکثر یہ بحث سامنے آئی ہے کہ تحریک دولت اسلامیہ امریکہ کی تخلیق کردہ ہے جیسا کہ روس کے رحم و کرم پر قائم خود مختار ریاست چیچنیا کے گورنر رمضان قدیر وف کے ذریعہ بیان دلوایا گیا ہے کہ داعش امریکہ کی پیداوار ہے اور ان کا خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی امریکی خفیہ ادارے کا ایجنٹ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ طالبان اور دولت اسلامیہ کے خلیفہ البغدادی کے درمیان اپنے اپنے مفاد کے تئیں کوئی خفیہ معاہدہ طے ہوا بھی ہو اور اگر اس معاہدے کے تحت عرب کی تمام ریاستیں ایک پرچم کے نیچے متحد ہوتی ہیں تو اس میں براہی کیا ہے؟ خود عرب عوام بھی تو یہی چاہتے ہیں ۔ اس میں امریکہ کا فائدہ  یہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر کے اپنی اقتصادی صورتحال کو پھر سے بہتر بنا سکتا ہے۔

یہاں پر دونوں فریق کی اپنی مجبوری یہ ہے کہ ایک کو دنیا دہشت گرد مانتی ہے اور دوسرے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مجاہد اور یہ دونوں ہی دنیا کے سامنے اپنی شادی کا اعلان نہیں کرسکتے ۔ شاید اس لیے ایک طرف امریکہ نے داعش کے خلاف جنگ کا محاذ کھول رکھا ہے اور دوسری طرف بہت ہی چالاکی اور محتاط طریقے سے ان لوگوں کو آگے بھی بڑھا رہا ہے اور تیسری طرف سے بشا ر الاشد کو ہٹانے کا دباؤ بھی بنا رہا ہے ۔ مگر جب ان کے نام نہاد عرب اتحاد ی امریکہ کی اس ہلکی پھلکی کارروائی پر شکو شبہات کا اظہار کرتے ہیں تو اوبامہ کی طرف سے طے شدہ بیان جاری کردیا جاتاہے کہ وہ دولت اسلامیہ کی طاقت کا اندازہ نہیں لگا سکے ا س لئے اب یہ جنگ طول پکڑ سکتی ہے ۔ اکثر تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکہ داعش کے خلاف جنگ کے لئے پوری طرح سنجیدہ نہیں ہے ورنہ اتحادیوں کی تمام تر بمباری کے باوجود داعش کے لوگ شام کے دوسرے بڑے شہر کو بانی کے نصف سے زیادہ علاقوں پر قابض نہ ہو پاتے  اور وہ ابھی بھی نہ صرف پیچھے نہیں  ہٹے ہیں بلکہ خبر ہے کہ انہوں نے کرد جنگجوؤں  کے لئے گرائے گئے ہتھیار وں پر بھی قبضہ کرلیا اور ٹوئٹر پر امریکہ کاشکر یہ ادا کیا ہے کہ ‘‘ تم اسی طرح غلطی کرتے رہو یہی ہمارے حق میں بہتر ہے’’ ۔ سوال یہ ہے کہ کہیں امریکہ یہ غلطی جان بوجھ کر تو نہیں کررہا ہے؟

7 نومبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ خبریں ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/umar-farahi/mullah-omar,-al-baghdadi-and-the-cia-are-in-touch--ملا-عمر-،-البغدادی-،-سی-آئی-اے-رابطے-میں-ہیں؟/d/99912

 

Loading..

Loading..