New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 06:21 AM

Urdu Section ( 10 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Shariah Laws in The Light of The Quran عائلی قوانین قرآن کریم کی روشنی میں

 

ادارہ طلوع اسلام

ہمارے ہاں کے مروّجہ  شخصی قوانین میں ‘ صدیوں سے رائج  چلے آرہے ہیں’ سابق صدر محمد ایوب  خان مرحوم نے 1961 میں ایک آرڈنینس کی رُو سے  ان  میں  کچھ ترمیمات کی تھیں ۔ یہ ترمیمات  من و عن قرآن کریم  کے مطابق تو نہیں تھیں لیکن  اس وقت تک مروّجہ قوانین کے مقابلہ میں منشاء قرآن سے بہر حال زیادہ قریب تھیں ۔ چنانچہ  ہماری مذہبی  پیشوائیت  کی طرف سے ان کی سخت مخالفت بھی ہوتی رہی ہے ۔  طلوع  اسلام بابت اگست 1962  میں ایک مقالہ  شائع  ہوا تھا جس میں  ان قوانین کا تجزیہ کیا گیا کہ یہ قوانین کسی حد تک قرآنی منشاء کے قریب  ہیں اور ان میں کہا ں کہاں ترمیم و اصلاح  کی ضرورت ہے۔ آج 2014ء میں ہماری  اسلامی نظریاتی کونسل  میں عائلی قوانین  پھر سے زیر بحث آئے ہیں ۔ موضوع  کی مناسبت  سے وہ مقالہ ایک بار پھر  درجِ ذیل  کیا جارہا ہے۔

1۔ نکاح :۔ قرآن کریم کی رُو سے ایک مرد اور عورت کا ان تمام ذمہ داریوں  او رحقو ق کو لئے ہوئے  جو اللہ تعالیٰ نے اس باب میں متعین کئے ہیں، میاں بیوی کی حیثیت  سے زندگی بسر کرنے کا معاہدہ  ‘‘ نکاح’’ کہلاتا ہے ۔ قرآن کریم نے اسے  مِّيثَاقًا غَلِيظًا ( 4:21) ‘‘ پختہ  عہد ’’ سے تعبیر کیا ہے۔

ا س معاہدہ  کی  شرائط :۔ معاہدہ کوئی بھی ہو ، اس کے لئے ضروری ہے فریقین  بالغ  ہو ں اور  معاہدہ ، ان کی باہمی  رضا مندی سے ، بلا  کسی قسم کے جبروا کراہ  کے ہو۔ قرآن کریم نے معاہدہ نکا ح کے لئے  ، ان دونوں  شرطوں  کو ضروری قرار دیا ہے ۔ اس نے بلوغت کے لئے ‘‘ نکاح کی عمر’’ کے الفاظ  استعمال  کئے ہیں ۔سورۂ نساء میں ہے:۔

وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ۚ فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا ( 4:4)

( جب تم یتیموں کے سر پرست بنو تو) انہیں پرکھتے رہو تاکہ وہ ‘‘ نکاح کی عمر’’ کوپہنچ جائیں ۔ پھر اگر تم ان میں عقل کی پختگی  پاؤ تو ان کےمال  و متاع ان کے حوالے کردو۔

یہاں کہا گیاہے کہ جب یتیم  ‘‘ نکاح کی عمر ’’  کو  پہنچ جائیں تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔ اور سورہ ٔ انعام میں ہے : حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ( 6:152)۔ جب وہ ‘‘ جوانی کی عمر’’  تک پہنچ جائیں ۔ اس سے ظاہر ہے کہ قرآن  کریم کی رُو سے ‘‘ نکاح کی عمر’’ جوانی ہے ۔ جب تک لڑکا اور لڑکی جوان نہ ہوجائیں وہ نکاح کی عمر کو نہیں پہنچتے ۔ لہٰذا ’ قرآن کی رو سے نا بالغ کی شادی  نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ نکاح کی عمر  کو نہیں پہنچتا ۔

جو عام طور پر کہا  جاتاہے کہ نکاح  کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ  کی عمر چھ سال تھی  ، تو بہ بالکل  غلط ہے ۔ نکاح کے وقت  ان کی  عمر سترہ اور انیس برس  کے درمیا تھی ۔

(ب)  نکاح کے لئے باہمی رضا مندی ضروری ہے ۔ چنانچہ  مردو ں کے متعلق  ہے : فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ ( 4:3) ‘‘ تم ایسی عورتوں  سے شادی  کرو جو تمہیں پسند ہوں ’’ ۔ اور عورتوں کے متعلق  کہا کہ : لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا ( 4:19)۔

‘‘ تمہارے لئے قطعاً جائز نہیں  کہ تم عورتوں  کے زبردستی  مالک بن جاؤ ۔ ایسا  کرنا  حلال ہی نہیں ’’

لہٰذا  جس نکاح میں مرد اور عورت دونوں کی رضا مندی شامل نہیں وہ ‘نکاح’ قرآن کی رُو سے نکا ح ہی نہیں کہلا سکتا ۔

چونکہ کم سنی میں نکاح  ہو نہیں سکتا ، اس لئے نکاح کے لئے ولی ( سرپرست )  کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ بالغ  لڑکی کا کوئی ولی نہیں  ہوتا  ۔ وہ اپنے  معاملات کی خود مختاری  ہوتی ہے ۔

2۔ نکاح سے مقصد:۔

 ( الف) نکاح سے  مقصد محض جنسی جذبہ  کی تسکین نہیں بلکہ ان  تمام  ذمہ داریوں  کا پورا  کرنا  ہے جو نکاح  سےعائد ہوتی ہیں ۔ اگر کوئی شخص  محض  جنسی  جذبہ کی تسکین کے لئے ‘‘ نکاح’’ کرناہے، اور ان  ذمہ داریوں  کی پرواہ نہیں کرتا جو نکاح کی رُو سے عائد ہوتی ہیں ’ تو  قرآن کریم کی رُو سے وہ حقیقی  معنوں  میں نکاح  نہیں ہوتا ۔ اس نے اس کی وضاحت کہہ کر دی ہے ۔ ‘‘ محْصِنِیْنَ ’’ کے معنی ہیں ’ حدود و قیود کے اندر رہنے  کے لئے ۔ اور مسافحین  سے مراد  ہے محض  جنسی جذبہ کی تسکین کے لئے ۔

حقوق و فرائض

(ب) نکاح  سے مراد دونوں  پر یکساں  فرائض  عائد ہوتے ہیں  ۔ سورۂ بقرہ میں ہے  : وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ (2:228) قاعدےاور قانون  کے مطابق ، عورت  کے حقوق بھی اتنے ہی ہیں جتنی  اس کی ذمہ داریاں ہیں ۔

(ج) میاں بیوی کے تعلقات  ایسے خوشگوار  ہونے چاہئیں  کہ اس سے گھر  میں کامل  سکون  اور اطمینان پیدا ہو۔ قرآنِ کریم کی رُو سے  ‘‘ازواج’’ ( جوڑوں) کا  مطلب  ہی ہے کہ  لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا (30:21) ان سے تسکین حاصل ہو’  اور باہمی محبت  اور رفاقت پیدا ہو ۔وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً (30:21) ایسے  گھر کو خدا’ جنت سے تعبیر کرتا ہے ( 2:221)  کے برعکس  ’ جس میاں بیوی میں  ہم آہنگی  خیالات  نہ ہو’ ان کے گھر  کو وہ جہنم کہہ کر پکارتا ہے ( 2:221)

مروّجہ قانون

حالیہ نافذ کردہ عائلی قوانین کی رُو سے نابالغ لڑکی یا لڑکے کے نکاح  کو غیر قانونی  قرار دیا گیا ہے اور یہ قرآن کی منشاء کے مطابق  ہے۔ علماء حضرات اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔

(ج) رجسٹریشن

چونکہ نکاح ایک معاہدہ ہے اس لئے اپنے ضبطِ تحریر میں لے آنا  ، اور سرکاری ریکارڈ میں درج کرا دینا ہی بہتر ہے ۔ اس سےمستقبل  میں پیدا ہونے والے بہت  سے جھگڑے مٹ جاتے ہیں ۔ قرآن کریم نےتو باہمی لین دین کے معاملات کوبھی تحریر میں لانے کی سخت  تاکید  کی ہے ( 2:282) ۔ نکاح کا معاہدہ  اس سے بھی  زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔

حالیہ عائلی قوانین  میں  اس معاہدہ  کو سرکاری رجسٹر میں درج کرانے کی تاکید کی گئی ہے۔ اور مولوی  صاحبان اس کی مخالفت کرتےہیں ۔

2۔ مہر

چونکہ ازدواجی میزان میں ‘ عوت کا پلڑہ’ بمقابلہ  مرد کے جھکتا ہے ( یعنی  عورت کی قدر وقیمت  مرد کے مقابلہ میں زیادہ ہے) اس لئے مرد کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ کچھ  تحفہ  عورت کو دے ۔ اسے مہر کہا جاتاہے ۔ یہ مہر  کسی بات کا معاوضہ  نہیں ہوتا ۔ بلکہ کسی قسم  کے معاوضہ  کے خیال  کے بغیر  بطور تحفہ  دیا جاتاہے ۔ اس کے لئے قرآن کریم نے نِحْلَةً کا لفظ استعمال کیا ہے ( 4:4) جس کے معنی ہیں ‘‘ بلا بدل’’

(ب) قرآن نے مہر کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی۔ جو کچھ بھی باہمی رضا مندی  سے طے ہوجائے وہ مہر ہے ۔ لیکن  چونکہ اس کاادا کرنا ضروری ہے، اس  لئے اسے  علیٰ  قدرِ وسعت ہونا چاہئے ۔ ( دیکھئے 2:236، 4:20)

(ج) مہر عورت کی ملکیت  ہوتا ہے اور کسی  کو حق نہیں  کہ اسے  سے محروم کردے۔ البتہ عورت اپنی رضامندی  سے اس میں سے کچھ چھوڑ بھی سکتی ہے (4:4)

(د)  اگر کسی سے مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو اسے مرد کی وسعت کے مطابق طے کر لینا چاہئے ( 2:236)

مروّجہ  قانون

حالیہ عائلی قوانین میں کہا گیا ہے  اگر شادی کے معاہدہ  میں مہر کی ادائیگی  کے طریق  کار کے متعلق  کوئی تفصیل موجود نہ ہو تو مہر کی  کل  رقم  کے متعلق  یہ تصور کیا جائے گا کہ وہ عندالطلب  واجب  الادا ہے ۔ قرآن  کریم  میں مؤ جل اور معجّل  کی کوئی تفریق نہیں ۔

3۔ طلاق

طلاق  کے معنی ہیں ۔ ‘‘ نکاح  کے معاہدہ سے آزاد ہوجانا ’’۔ چونکہ یہ معاہدہ  فریقین ( مرد او رعورت ) نے باہمی  رضا مندی سے استوار کیا تھا اس لئے ان میں سے کسی  ایک کو اس کا حق  نہیں پہنچ  سکتا کہ  وہ جب  جی چاہے، اپنی مرضی سے اس معاہدہ  کو منسوخ کردے۔  اس میں دوسرے فریق  کے حقوق  کا تحفظ  ضروری ہے ۔ یہی  وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نےاسے انفرادی  فیصلہ  پر نہیں  چھوڑا بلکہ  معاشرہ کو حکم دیا ہے کہ وہ اس معاملہ کو اپنے ہاتھ  میں لے۔ ( معاشرہ سے مراد وہ  نظام ہے جو متنازعہ  فیہ  معاملات  میں فیصلہ کرنے کے لئے اسلامی مملکت  کی طرف سے قائم ہو۔ اسے عدالت کہا جائے گا) ۔ چنانچہ  اس باب  میں ، سورۃ النساء میں ہے:۔

اگر تم کسی میاں بیوی میں باہمی اختلاف ۔ جھگڑے یا مخالفت (شقاق) کا خدشہ محسوس  کرو، تو ایک ثالثی  بورڈ بٹھاؤ، جس میں  ایک ممبر مرد کے خاندان کا اور ایک عورت  کے خاندان کاہو ۔ اس بورڈ کی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ وہ ان دونوں  میں مصالحت  کرائے ۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو امید کی جاسکتی ہے کہ میاں بیوی  میں موافقت  کی صورت پیدا ہو جائے گی ۔ ( 4:35)


 

(2) اگر ثالثوں  کی کوشش سے ان میں موافقت  کی صورت نکل  آئے تو ہوالمراد ۔ لیکن اگر وہ  اپنی کوشش  میں ناکام رہیں تو ظاہر ہے کہ انہیں  اس معاملہ  کی رپورٹ اس عدالت کے پاس بھیجنی  ہوگی جس نے انہیں ثالث مقررکیا تھا ۔ وہ عدالت  فیصلہ کرے گی  کہ فریقین  میں طلاق  ہوجانی چاہئے ۔ اور اس کی شرائط  کیا ہو ں گی ۔ عدالت  کے اس فیصلہ  کا نام طلاق ہوگا۔

 طلاق کے بارے میں  حالیہ عائلی قوانین میں دو ایک بنیادی  نقص  ہیں، جن کادورہ کیا جانا ضروری ہے۔

(i)  اس میں کہا گیا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو طلاق  دینا چاہئے  وہ طلاق کا اعلان کرنے کے فوری بعد اس امر کی اطلاع ( نوٹس) یونین کے چئیر مین  کو دے۔

(ii) چیئرمین ایک ثالثی  کونسل مقرر کرے گا تاکہ  فریقین میں مصالحت  کرائی جائے ۔

اگر مصالحت نہ ہوسکے تو نوٹس  کی تاریخ  سے نوے دن کے بعد ، طلاق مؤثر ہو جائے گی۔ یعنی معاہدہ نکاح  منسوخ تصویر ہوگا ۔

شق (i) میں نقص یہ ہے کہ :۔

( الف) اس میں مرد کو حق دیا گیا ہے کہ وہ جب جی چاہے’ طلاق کا اعلان کردے ۔ یہ خلافِ قرآن ہے ۔ اس شق کو یوں تبدیل کردینا چاہئے کہ :۔

جو شخص  اپنی بیوی  کو طلاق دینے کا ارادہ کرے، اسے چاہئے کہ اپنے اس ارادہ کی اطلاع چئیر مین کو دے ۔

اس صورت  میں مصالحت کے کچھ معنی  بھی ہوں گے ۔ ورنہ طلاق  کا اعلان کردینے کے بعد ثالثی  بورڈ  کا تقرر اور مصالحت  کی کوشش ، بے معنی  چیز ہے۔

(ب) دوسرا بنیادی نقص یہ ہے کہ اس میں طلاق  کے اعلان  کا حق مرد کو دیا گیا ۔ عورت کو نہیں ۔ عورت کے متعلق  کہا گیا ہے  کہ :۔

اگر طلاق کا حق باضابطہ طور پر بیوی کو دیا گیا ہو تو ( وہ طلاق کا اعلان کر کے ثالثی  کونسل کی طرف رجوع کر سکتی ہے)۔

‘‘ بیوی  کو طلاق کا حق  باضابطہ  طور پر دینے ’’ کامطلب کچھ نہیں ۔ معاہدہ نکاح  کی رُو سے میاں اور بیوی  دونوں کو یکساں  حقوق حاصل  ہوتے ہیں ۔ اس لئے جن حالات میں ’ مرد طلاق حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے انہی  حالات میں عورت  بھی ویسا ہی حق رکھتی ہے۔ یہ بات تو بڑی  تعجب  انگیز سی ہوگی کہ معاہدہ  تو فریقین  کی رضا مندی  سے ہو اور اس کے فسخ  کرنے یا کرانے کا حق صرف ایک فریق کو حاصل ہو ۔ دوسرے کو حاصل نہ ہو!

مروّجہ قانون کی رُو سے  اگر بیوی کو باضابطہ طلاق کا حق  ’’ نہ دیا گیا ہو تو اسے ننسیخ  نکاح کے لئے عدالت  میں مقدمہ دائر کرنا پڑتا ہے ۔ میاں او ربیوی  کے لئے الگ الگ  قوانین قرآن کے منشاء  کے خلاف ہے۔

لہٰذا  ا س شق کا اطلاق میا ں اور بیوی  دونوں  پر یکساں ہونا چاہئے ۔ یہ ترمیم  نہایت  ضروری ہے ۔ ا س کے بغیر  مرد کو یہ حق  ہر وقت  رہتاہے کہ وہ جب جی چاہئےطلاق کا اعلان کردے۔ اس کے بعد ثالثی  کونسل  میں جاکر کہہ دے کہ میں مصالحت  کرنے پر تیار نہیں ۔  ثالثی کونسل  اس میں کچھ  نہیں کرسکےگی ۔ مرد طلاق دے چکا ۔ وہ طلاق  مؤثر  ہوگی ۔ یہ وہی ظلم  ہے جو مردوں  کے ہاتھوں  عورتوں پر ہوتا چلا آرہا ہے ۔ اس قانون نے اس ظلم میں کسی قسم  کی کمی یا اصلاح  نہیں کی ۔ لہٰذا اس شق  کی صورت یوں ہونی چاہئے کہ :۔

میاں بیوی میں جو کوئی معاہدہ’ نکاح  کو فسخ کرنے کا ارادہ کرے اسے  چاہئے کہ اس امر کی اطلاع چیئر مین کو دے۔

شق (ii)

میں کہا گیا  کہ اگر مصالحت  نہ ہو سکے تو نوٹس  کی تاریخ  کے نوے دن بعد طلاق  مؤثر سمجھی جائے گی ۔ ( نوے دن  بطور عدت رکھے گئے  ہیں)۔

قرآن کی رُو سے

(الف) طلاق  اس دن ہوگی جب  عدالت فیصلہ  کرے کہ فریقین کا معاہدۂ نکاح  فسخ کیا جاتاہے ۔ عدت  بھی اسی وقت سے شرو ع ہوگی ۔

(ب) عدت کی مدت’ مختلف  حالات میں مختلف  ہے۔ قرآن  کریم میں یہ تفصیلی  طور پر مذکور ہے۔ وہی مدت  ہمارے  قانون  میں درج  ہونی چاہئے  ۔ موجودہ شق ناقص ہے۔

نوٹ:۔ ان تمام معاملات میں عائلی قوانین کی رُو سے  یونین کونسل اور اس کے چئیر مین  کو مجاز  قرار دیا گیا ہماری رائے  میں اس  کی جگہ کسی باقاعدہ  عدالت  کو یہ اختیار ات حاصل ہونے چاہئیں ۔(1؎ اب اس کے لئے فیملی  کورٹ کی طرف رجوع کرنا پڑتا  ہے۔)

مولوی  صاحبان کی طرف سے طلاق کے متعلق  اس پوری پوری  شق کی سخت  مخالفت  ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ :۔

(1) مرد کو حق حاصل ہے کہ جب چاہے ۔ طلاق، طلاق، طلاق  کہہ کر بیوی کو گھر سےنکال  دے۔ عورت کو ایسا حق  حاصل نہیں ۔

(2) اگر عورت گلو خلاصی  کرانا چاہے تو اسے عدالت کی طرف رجوع کرنا ہوگا  او راسے ثابت کرنا ہوگا کہ  وہ  واقعی  علیحدگی  کی مستحق  ہے۔ اسے طلاق نہیں بلکہ خلع  کہا جاتاہے جس کے لئے عورت کو ‘‘ حق مہر’’  چھوڑنا پڑتا ہے۔

(3)یہ بات  مرد کے اختیار میں ہے کہ  وہ عورت کو طلاق  کاحق تفویض کرے یا نہ کرے۔

4۔ طلاق کے بعد

عدالت کے فیصلہ سے نکاح منسوخ ہوگیا ۔ اس کے بعد ‘ عد ت کےدوران’  یہ عورت  کسی دوسرے  مرد سے نکا ح نہیں  کرسکتی  ۔ لیکن  اگر یہ ( سابقہ) میاں بیوی  چاہیں تو آپس میں شادی  کرسکتے ہیں ۔

(ب) جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے ‘ عدت کے دوران  یہ عورت  کسی دوسرے  مرد سے شادی نہیں کرسکتی ۔ لیکن  مرد پر اس  کی کوئی  پابندی  نہیں ۔ وہ جب چاہے کسی  دوسری عورت سے شادی کرسکتا ہے  بس  یہ ایک ‘‘ زائد حق’’  ہے جو عورت کے مقابلہ میں مرد کو حاصل ہے۔ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ( 2:228) میں اسی زائد حق کی طرف اشارہ ہے۔

(ج) اگر یہ سابقہ  میاں بیوی  چاہیں تو عدت کی مدت کے بعد  بھی آپس میں شادی کرسکتے ہیں ۔ اگر انہوں نے ( عدت کے دوران یا اس کے بعد)  آپس میں شادی کرلی لیکن  اس کے بعد  پھر مذکورہ  بالا طریقہ  کے مطابق ان میں طلاق ہوگئی ، تو دوسری مرتبہ  بھی یہ میاں بیوی عدت کے دوران یا عدت کے بعد آپس میں شادی کرسکتے ہیں ۔ ( یہ دوسری  مرتبہ  کی طلاق  کے بعد کی ’ شادی ہوگی)۔

لیکن  اگر ان میں پھر طلاق  کی نوبت آجائے ( یعنی تیسری مرتبہ طلاق ہوجائے ) تو پھر یہ میاں بیوی  آپس میں شادی نہیں کرسکتے ، نہ عدت کے دوران نہ اس کے بعد  ۔ قرآن میں ہے۔ الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ( 2:229) ۔ ‘‘ طلاق  دو مرتبہ  کی ایسی  ہے جس  کے بعد تم قاعدے  کے مطابق عورت کو ( نکاح میں) روک سکتے ہو یا  حسن کارانہ  انداز  سے رخصت کرسکتے ہو ’’ ۔ لیکن  تیسری  مرتبہ  کی طلاق  کے بعد  تم آپس میں نکاح  نہیں کرسکتے ، یہ مطلب ہے ‘‘ تین طلاق ’’ سے ۔

عائلی قانون

میں یہ شق  قرآن کریم  کی منشاء  کے مطابق  ہے ۔ البتہ  اس میں ذیل کے اضافے  کی ضرورت ہے۔ یعنی 

(د) اگر اس  عورت کے نئے  خاوند سے طلاق  مل جائے ۔ یا وہ فوت  ہوجائے تو پھر  یہ عورت اگر چاہے تو اپنے سابقہ  خاوند سے شادی کرسکتی ہے ( 2:223)۔

مولوی صاحبان  اس شق کے بھی  سخت خلاف ہیں ۔ وہ کہتےہیں  کہ مرد  کو اس  کاحق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے، تین دفعہ ( طلاق ۔ طلاق ۔ طلاق) کہہ دے  ۔ اس کے بعد  وہ عورت  اس پر حرام  ہوجائے گی۔ اس کےپھر سےحلال ہونے کی ایک ہی شکل  ہے کہ یہ عورت  ( خواہ ایک رات کے لئے) کسی دوسرے  آدمی سےنکاح کرے۔ اس کے ساتھ  شب بسری کرے ۔ دوسری صبح  وہ مرد اسے طلاق دے دے۔ اس کے بعد یہ اپنے سابقہ  خاوند سے نکاح  کرسکتی ہے ۔ اس طریق کو حلالہ کہتے ہیں ۔

5۔ تعددِ ازدواج ( ایک سے زیادہ بیویوں سے نکاح)

ہم اوپر دیکھ چکے ہیں کہ قرآن کریم کی رُو سے نکاح سے مقصد  یہ ہے کہ انسان امن و سکون  کی زندگی بسر کرسکے ۔ میاں بیوی میں باہمی محبت اور رفاقت کاتعلق  ہو جس سے گھر ‘‘ جنت’’  بن جائے ۔ ا س مقصد کے پیش نظر اس نے تاکید  کی ہے کہ بیوی  ( یا میاں) کے انتخاب میں خیالات  اور نظریات کی موافقت کا خیال رکھا جائے ۔ نکاح’ فریقین کی رضا مندی سے بغیر  کسی قسم کے جبروا  کراہ  کے ہو ۔اس قدر احتیاط  کے باوجود  اگر تجربہ  بتائے کہ انتخاب صحیح  نہیں تھا  اور اس رشتے کا نباہ  مشکل ہے ، تو نکاح  کا معاہدہ  فسخ کرلیا جائے اور کسی  دوسری عورت  ( یا مرد) سے شادی کرلی جائے ۔ سورہ نساء میں  ہے :۔ وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ (4:20) ‘‘ اگر تم  ایک بیوی  کی جگہ  دوسری بیوی سےنکاح کرناچاہو ( تو اس طریق  کے مطابق جس کا ذکر طلاق کے عنوان میں کیا جاچکا ہے) ۔ پہلی بیوی   سے معاہدہ  نکاح فسخ  کولو’ او رپھر دوسری  عورت سے شادی کرو۔ اس سےواضح  ہے کہ قرآن کریم کی رُو  سے شادی کا اُصول  ’’ ۔ ایک وقت میں ایک بیوی ’’ ( MONOGAMY) ہے ۔

ہنگامی  حالات

(2) لیکن قرآن  کریم اسے  بھی تسلیم کرتاہے کہ بعض  اوقات ایسے ہنگامی حالات پیدا ہوسکتے ہیں جن کے پیش نظر اس اصولی قانون میں استثناء  کی ضرورت  لاحق  ہوجائے ۔ اس قسم کے حالات ‘ اسلام  کے ابتدائی دور میں’ مدینہ کی زندگی  میں پیدا ہوگئے تھے ۔ اس وقت کیفیت یہ تھی کہ :۔

(i) مسلمانوں کی ایک محدود سی جماعت تھی ( جنگ بدر میں  ’ جو 2 ھ میں ہوئی تھی، مسلمان مجاہدین  کی تعداد صرف 313 تھی)۔

(2) مسلسل لڑائیوں  کا سلسلہ  شروع ہوگیا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری مدنی زندگی میں جاری رہا۔

(3) ان لڑائیوں  کی وجہ سے اس مختصر سی جمارت میں ’ نوجوان افراد کی کمی ہوتی چلی گئی او ربیوائیں او ر یتیم بچے دن بدن زیادہ  ہوتے گئے ان کے علاوہ مسلمان عورتیں مکہ میں اپنے غیر مسلم خاوند وں کو چھوڑ کر مدینہ  کی طرف آنا شروع ہوگئیں۔

(4) مسلمان عورتیں صرف مسلمان مردو ں سے شادی  کر سکتی تھیں ۔ کسی غیر  مسلم سے  نہیں  کرسکتی تھیں ۔ حتیٰ  کہ اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) سے بھی نہیں ۔

(5) لہٰذا  اس وقت  صورت یہ پیدا  ہوگئی کہ بیواؤں  کی ۔ اور شادی کے قابل لڑکیوں  کی تعداد  مردوں  کے مقابلہ  میں بہت زیادہ ہو گئی ۔ بیواؤں  کے ساتھ  ان کے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم  اور لاوارث رہ گئے ۔

(6)  ان ہنگامی  حالات میں اس کے سو اچارہ  نہیں تھا  کہ ‘‘ ایک بیوی ’’ کے اصولی  قانون میں استثناء (EXCEPTION) کر دی جائے ۔ اس مقصد  کے پیش نظر قرآن  نے کہا کہ :۔

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً ..... ( 4:3)

اس آیت کے تین حصے ہیں اور تینوں کا ترجمہ اور مفہوم حسب ذیل ہے۔

(1) وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ ........

اگر تمہیں اندیشہ  ہوکہ تم یتامیٰ  کے ساتھ انصاف نہیں کرسکو گے  ...... تو

عربی زبان میں ‘‘ یّٰمٰی ’’  یتیم  بچوں کو بھی کہتے ہیں اور ان عورتوں کو بھی  جن کے شوہر نہ ہوں ۔( خود قرآن  کریم میں یتامی  النسا ء انہی  معنوں میں آیا ہے ۔ 4:127)  لہٰذا آیت  کا مفہوم  یہ ہواکہ  اگر ایسے  حالات پیدا ہوجائیں جس میں تم دیکھو کہ معاشرہ  میں یتیم  بچے اور  بے شوہر کی عورتیں زیادہ ہوگئی ہیں اور ایک مرد۔ ایک عورت کے اصول کے مطابق ان کےمسئلہ کا منصفانہ  حل نہیں مل سکتا تو کیا کرو؟

(2) فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ

 ان میں  سےجو عورتیں تمہیں پسند ہو ں ان سے نکاح کرلو ۔ دو دو ۔ تین تین ۔ چار چار تک

یعنی ایسی صورت میں ‘‘ ایک بیوی’’ کے اصول میں استثناء کرلو اور ان سے شوہر  عورتوں کو اپنے خاندان کا جزو بنالو ۔ جتنی ان کی تعدا دہو اس لحاظ سے مقصد  یہ ہے کہ یہ لاوارث عورتیں  او ران کے بچے  مختلف  خاندانوں  میں جذب ہوجائیں ۔

 (3) فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً

 لیکن  اگر تمہیں  خدشہ ہو کہ تم عدل نہیں کر سکو گے، تو پھر وہی ‘‘ ایک بیوی’’ کااصول برقرار رہے گا ۔

بات بالکل صاف ہے ۔ ‘‘عدل’’ کے متعلق  قرآن کریم نے آگے چل کر کہہ دیا کہ جہاں  تک جذبات  کا تعلق ہے ’ ان میں یکسانیت کا سلوک  تو نا ممکن ہے ۔ اتنی  احتیاط  رکھو کہ کسی ایک  کی طرف اتنا نہ جھک جاؤ  کہ دوسری ادھر لٹکی  رہ جائے ( 4:129)  ۔۔۔ کہا  ں وہ بیوی جو تمہاری  عمر بھر کی رفیقہ  ہے۔ جس  کی وجہ سے گھر جنت  کا نمونہ بن رہاہے ۔ او رکہاں یہ جسے تم  محض  معاشرہ  کی ایک  اجتماعی ضرورت کو پورا  کرنے کےلئے  جزوِ خاندان  بنارہے ہو۔ تمہارے  جذبات  دونوں کے ساتھ  یکساں ہوسکتے ۔ لیکن  اس سے یہ نہ ہو کہ یہ نوآمدہ .....جو بیچاری پہلے ہی مصیبت  زدہ ۔بیکس  اور لاوارث ہے .... نہ ادھر کی رہے نہ ادھر کی۔

پہلی بیوی کی رضا مندی

یہ بھی ظاہر ہے کہ دوسری بیوی  لانے کےلئے پہلی بیوی کی رضا مندی ضروری ہے۔ اس لئے کہ :۔

(i) قرآن کریم نے ازدواجی زندگی کا مقصد یہ بتایا ہے کہ میاں بیوی  میں باہمی محبت اور رفاقت  کے تعلقات  ہوں اور گھر میں سکون و اطمینان  رہے۔  ظاہر ہے  کہ اگر دوسری  شادی پہلی  بیوی  کی مخالفت کے باوجود  کی جائے و پہلی بیوی  کے ساتھ محبت اور موانست  کیسے رہ سکتی ہے اور گھر  میں سکون  و اطمینان  کہا ں باقی رہے گا؟ ایسا ہونا نا ممکن ہے!  اس لئے پہلی  بیوی کی عدم رضا مندی سےدوسری بیوی لائی ہی نہیں جاسکتی ۔ قرآن کا یہ منشاء نہیں کہ کسی اُجڑے ہوئے کنبہ  کو آباد  کرنے کےلئے  اپنے بستے رَستے  گھر کو ویران کر دیا جائے ۔

(ii) قرآن کریم نے دوسری شادی کے لئے عدل  کی شرط عائد کی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب  پہلی بیوی دوسری شادی کی مخالفت کر رہی ہو اور اس کی مخالفت کے علی الرغم دوسری بیوی  گھر میں  آجائے تو پہلی بیوی  سے عدل کس طرح ہوسکے گا؟

( iii) قرآن کریم نے کہاہے کہ اگر میاں بیوی  میں ناچاقی ہوجائے تو ایک ثالثی بورڈ قائم کرو تاکہ ان دونوں میں مصالحت  کرادی جائے ۔ اگر ان میں مصالحت نہ ہوسکے تو پھر نکاح فسخ کردیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ جب دوسری شادی پہلی بیوی  کی مخالفت کے باوجود کی  جائے گی تو ( پہلے )میاں بیوی میں ناچاقی  اسی وقت شروع ہوجائے گی’ اور اس ناچاقی  کی وجہ وہ ہوگی ( یعنی دوسری بیوی)  جس کی موجودگی میں مصالحت کی کوئی صورت ہی نہیں ہوسکے گی۔  اس کی صورت  یہی ہوگی کہ یا پہلی بیوی کو ( ناحق) طلاق دے دی جائے ، یا دوسری بیوی کو چھوڑ دیا جائے ۔

یہ چیز  کہ دوسری شادی  کے لئے پہلی بیوی کی رضامندی ضروری ہے ’ خود نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ایک ذاتی فیصلہ  سے بھی ثابت ہے ۔

ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  نے دوسرا نکاح کر نا چاہا ۔ آنحضرت ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو معلوم ہوا تو سخت  برہم ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خطبہ دیا ۔ اس میں اپنی ناراضی  ظاہر  کی ۔ فرمایا ۔ ‘‘ میری لڑکی میراجگر گو شہ ہے ۔ جس سے  اُسے دکھ پہنچے گا ’ مجھے اذیت ہوگی’’ ۔ چنانچہ  حضرت علی رضی اللہ عنہ  اس ارادے سے باز آگئے  اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ  کی زندگی  تک دوسرا نکاح نہ کیا ۔ (سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم علامہ شبلی  ۔ جلد دوم ۔  صفحہ 627 ۔ بحوالہ بخاری )۔

ظاہر ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ نے جو کچھ اپنی بیٹی  کے متعلق  فرمایا ہے اس کا اطلاق اُمت کی ہر بیٹی پر ہوگا ۔  اس لئے  جس دوسرے نکاح سے پہلی  بیوی کو دکھ پہنچے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس فیصلہ کے مطابق  بھی جائز نہیں قرار پاسکتا ۔ کہا جائے گا کہ پہلی بیوی ، دوسری شادی کی اجازت  کیسے دے گی ! سو پہلی بات تو یہ ہے کہ جن حالات  کے پیش نظر قرآن  نے دوسری شادی کی اجازت دی ہے’ ا ن میں   ’ مومن عورتیں’ اپنی خانماں برباد’ لاوارث’ بے کس بہنو ں کی امداد کے لئے یقیناً  آگےبڑھ آئی ہوں گی ( او رانہی جیسے  حالات  میں ’ مومن عورتوں سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ آگے بڑھیں گی) ۔ علاوہ ازیں  دوسری بیوی بھی ’ پہلی بیوی  کے سر پر سوار ہونے کا جذبہ  لے کر نہیں آئے گی ۔ وہ اس کی ممنونِ  احسان ہوگی ۔

لیکن اس کے باوجود اگر پہلی بیوی  کسی وجہ سے دوسری شادی  کے حق  میں نہیں  تو دوسری شادی کی اجازت  نہیں ہوسکتی ۔

بے شوہر کی عورتوں  کا منصفانہ  حل اسی صورت میں مل سکتا ہے جب  وہ اس طرح  جزوِ خاندان بنائی جائیں کہ گھروں کاامن و سکون  قائم رہے او رپہلے میاں  بیوی محبت  اور رفاقت  کا تعلق  بدستور باقی رہے ۔ اگر اس سے گھر جہنم بن جائے تو اس کامطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ایک مشکل  کا حل تلاش کرتے کرتے  دس مشکلات  او رپیدا کرلیں ۔

دوسری شادی کے لئے قرآن کریم میں صرف ایک آیت ہے جسے اوپر درج  کیا جاچکاہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ دوسری شادی کے لئے تین شرطیں  ضروری ہیں ۔

اوّل ۔ بیوہ  عورتوں اور یتیم  بچوں کےمسئلہ  کی موجودگی ۔

دوم ۔ پہلی بیوی کی رضامندی ۔ اور

سوم ۔عدل

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ

اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی موجود نہیں تو قرآن کی رُو سے دوسری شادی کی اجازت نہیں ۔ نہ ہی  مقصدِ اوّل  کے علاوہ  کسی او رمقصد  کے لئے دوسری شادی  کی اجازت ہے۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ  بھی ا س پر دلالت کرتا ہے۔

(1)  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے پچیس سال کی عمر تک شادی  نہیں کی اور ساری جوانی سپیدۂ سحر کی طرح بے داغ رہی ۔

(2) پچیس  سال کی عمر  میں ایک صاحب  اولاد،بیوہ  سے شادی کی جن کی عمر اس وقت چالیس سال کی تھی ۔

(3) جب تک وہ بیوی  ( حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہ )  زندہ رہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری شادی  نہیں کی’ حالانکہ  ان کی عمر وفات کے وقت قریب 65 سال سے بھی زیادہ تھی ۔ یعنی  بیوی کی اس قدر عمر رسیدگی  کے باوجود ’ دوسری شادی کا خیال تک نہیں کیا ۔ ( واضح رہے کہ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد بھی کوئی نہیں تھی  ...... جو بیٹے  پیدا ہوئے  تھے وہ  وفات پا چکے تھے )

(4) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ  کی وفات کے بعد صرف ایک شادی ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے غیر شادی عورت ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ)  سے  کی ۔ ( اور وہ اس وقت جب ہنوز جنگوں  کا سلسلہ  شروع نہیں ہوا تھا) باقی تمام نکاح’  ان ہنگامی حالات میں ہوئے جن کاذکر اوپر کیا  جا چکا ہے اور  ان عورتو ں سے جو (  کئی کئی بار کی)  بیوہ  یا مطلقہ  تھیں  او رلاوارث و بے کس،  بالعموم عمر رسیدہ ۔ مقصد اس سے ان محتاجوں او ربے کسوں کی پناہ دی تھی ۔ چنانچہ با سورتھ سمتھ ( BOSWORTH SMITH) اس باب میں لکھتا ہے کہ :۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیوں کی توجیہہ  جس طرح دیگر مقاصد کے تحت  کی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح  اس مقصد کے تحت بھی کہ اس سے کسی مپرس بے نوا افراد کے حالات پر ترس  کھانا مقصود تھا ۔ یہ شادیاں ان عورتوں سےہوئیں  جو قریب  قریب سب کی سب  بیوہ تھیں  او رنہ اپنے حسن  وجمال اور نہ  مال و دولت کی بنا پر کوئی شہرت رکھتی  تھیں ۔ بلکہ صورت  حالات  اس کے بالکل برعکس تھی ۔( MOHAMMAD AND MOHMMADANISM)  

باقی رہا  یہ کہ کیا ان شادیوں  میں ’ پہلی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہ  کی رضا مندی  شامل ہوتی تھی۔ سو اس کاثبوت یہ ہے کہ روایات کی رو سے  یہ (پہلی بیویاں)  ہر نئی آنے والی بیوی  کاخیر مقدم کرتی تھیں  اور اسے مبارک باد دیتی تھیں ۔ اگر یہ شادیاں  ان کی مرضی  کے خلاف ہوتیں تو وہ آنے والی  کے استقبال  او رمبارکباد کےلئے کبھی آگےنہ بڑھتیں ۔

جولائی  ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ طلوع اسلام

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/tulu-e-islam/shariah-laws-in-the-light-of-the-quran--عائلی-قوانین-قرآن-کریم-کی-روشنی-میں/d/98039

 

Loading..

Loading..