New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 09:52 AM

Urdu Section ( 18 Apr 2012, NewAgeIslam.Com)

Muslims Respect the Quran, Its Reciting is Not Forbidden مسلمان قرآن کا احترام کرتے ہیں لیکن اس کا مطالعہ ممنوع نہیں ہے


دی اکنامسٹ

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

31 دسمبر، 2011

مذاہب دقیانوسی تصورات کو دعوت دیتی ہیں اور مقدس صحیفے اس سے بھی زیادہ دعوت دیتے ہیں۔ غیر مسلم اکثر اسلام کو  ایسا عقیدہ مانتے ہیں جس پر ایمان رکھنے والے کسی بھی طرح کی تبدیلی کو پسند نہیں کرتے ہیں اور وہ عجیب نئے حقائق کو نظر انداز  کرتے ہیں جو جلد ہی ان کے پیغامات کے ساتھ تضاد پیدا کرتا ہے۔ ناقدین کے لئے اس طرح کسی صحیفے سے لگائو بوکو حرام کے جیسے انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔  بوکو حرام ایک ایسا گروپ ہے جس نے دسمبر میں نائجیریا کے گرجا گھروں پر حملے کئے: تیز مزاج لو گ اپنے تشدد کا جواز پیش کرنے کے لئے عام طور پر  کو ئی آیت تلاش لیتے ہیں۔

 قرآن پاک میں اس طرح کی کئی آیات ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ عیسائیت، یہودیت، اور بہت سے دیگر مذاہب کے بانی صحیفوں میں کرتے ہیں۔ تسلی بخش طریقوں سے ایسی آیات کی تشریح  کرنے کی ایک طویل روایت بھی ہے۔ مثال کے طور پر، اکثر اس بات پر زور دیاجاتا ہے کہ قرآن پاک  کے حکم "کافروں کو جہاں بھی پائو  قتل کر دو" ایک مخصوص تاریخی تناظر سے تعلق رکھتی ہے، جس میں ابتدائی مسلمانوں کو بت پرست گروپ نے دھوکہ دیا تھا وہ بھی جنگ بندی  کے معاہدے پر دستخط کر نے کے بعد۔

لیکن جب اس مقدس تحریر  کو واضح کرنے کی بات آتی ہے تو  اسلام اور صحیفے پر مبنی دیگر  عقائد کے درمیان ایک بڑا فرق پا یا جا تا ہے۔ نویں اور دسویں صدیوں میں ایک مختصر وقفہ کو چھوڑ کر ، اور چند جدید آزاد خیال لوگوں  کو چھوڑ دیں تو زیادہ تر مسلمانوں کا خیال ہے کہ قرآن ہر دوسرے پیغام سے الگ ہے۔ آدمی کو ،خدا کی آخری وحی کے طور پر، اس کا تعلق زمینی نہیں ، بلکہ ایک ابدی زمرے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اپنے مقدس تحریروں کے لئے یہ دیگر عقائد کے مقابلے میں ایک بڑا دعوی ہے۔

قرآن پاک کی تشریح  ایک مومن کے نقطہ نظر سے کی جا سکتی ہے، لیکن اس میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے جسے مسترد کیا جا سکے۔ اس کے با وجود، کم از کم پرسکون حالت میں ، مغربی تعلیمی اداروں کی سطحی شائستہ دنیا میں  قرآن پاک کے عین مطابق متن پر بحث عام ہے‑ جیسا کہ  اسکول آف اوریئنٹل  اینڈ افریقن اسٹڈیز  (SOAS)، یونیورسٹی آف لندن کے ایک حصہ کی طرف سے نومبر میں ایک کانفرنس کی میزبانی پر ہوا۔ ان میں سے ایک آرگنائزر مصری نژاد پروفیسر محمد عبد الحلیم تھے جنہوں نے قرآن کا ترجمہ بناوٹی جدید انگریزی میں کیا انہیں اس کے لئے بہت سے لوگوں سے تعریفیں حاصل ہوئی لیکن  تخلیص پسندوں کی شکایت ملی۔ کانفرنس میںشرکت کرنے والوں میں  ترکی کے ایک پروفیسر، اور ایران میں مقیم عالم بھی شامل تھے۔ لیکن زیادہ تر غیر مسلم تھے جو  قرآن کا مطالعہ  کسی دوسری تحریر  کے طور  پر  کرتے ہیں‑  جیسے نثر جس کی ارتقاء کا پتہ اس کے ورژن کے موازنہ کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ نئی تکنیک جیسے ڈیجیٹل فوٹو گرافی کا استعمال مختلف حالتوں کا آپس میں موازنہ اور پہیلیاں حل کرنے میں کیا جاتا ہے۔ تمام شرکاء نے پوری طرح سے قبول کیا کہ  ہومر یا جرمن  دیو مالا کا تجزیہ کرنے کے لئے استعمال کیا جانے والے طریقہ کار کو قرآن  کو بھی واضح کرنے کے لئے کیا جانا چاہئے۔

 اسلامی دنیا کے زیادہ تر حصے میں اس طرح کے اجلاس کا ایجنڈہ متنازعہ ہو جائے گا۔ زیادہ تر مسلم ممالک میں  جس پر  بحث کی جا سکتی ہے وہ مغرب  کی بحث سے انتہائی مختلف ہے۔ اسلامی تحقیق کے لندن میں انسٹی ٹیوٹ فار اسمٰعیلی اسٹڈی  کے عملے میں تشدد میں یقین رکھنے والے فرانس  کے لیڈر  محمد ارکون کے جیسے بنیاد پرست سے لے کر روایتی سنّی اور صوفی عالم ہیں۔  یہ لوگ  15ویں صدی کے مصری عالم السیوطی کی اتباع کرتے ہیں، جنہوں نے قرآن کے تھوڑے سے مختلف ورژن کی موجودگی کو قبول کیا تھا۔

ایک ہی چھت کے نیچے اس طرح کا تنوع اسلامی علم کے گڑھ کراچی یا قاہرہ میں اب ناممکن ہو جائے گا۔  یہاں اسلام کی تشریح اور اس کی تاریخ  مومنوں  کے لئے سختی سے مقرر کردہ کام ہے۔ غیر مسلموں کی جانب سے کی گئی کوشش کو نوآبادیاتی تکبر کی بنیاد پر "مشرقیت" کہا جائے گا۔ ایسے مقامات پر جو مسلمان ہیں وہ اگر مختلف نقطہ نظر کو پیش کرتے ہیں تو انہیں نہ صرف تعلیمی بائیکاٹ بلکہ جسمانی خطرے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قرآن کی روشن خیال تشریح کی وکالت کرنے والے مصر کے  نصر ابو زید، جن کا انتقال 2010 میں ہو گیا تھا، کی ملامت بطور مرتد کی گئی، انہیں زبردستی اپنی بیوی سے طلاق لینا پڑا اور اس کے بعد باقی زندگی بیرونی ملک  میں گزارنی پڑی۔ مصر میں  کٹّر اسلام کا عروج دوستانہ ماحول  کا کوئی امکان فراہم نہیں کرتا ہے۔

دریں اثناء یورپ میں علماء کرام، عظیم یورپی لائبریریوں میں موجود مسودات سے ترغیب حاصل کر رہے ہیں  اور  کب قرآن کریم تحریری شکل میں  معیار کے مطابق تیار کیا گیا، اسے جاننے کے لئے سخت کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ میں زیادہ تر کوشش جسے دیگر ذرائع  سے سیاسی اور سماجی تاریخ کہا جاتا ہے اس سے جوڑنے میں لگی ہوئی ہے۔ امریکہ کے انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈی کی پیٹریسیا کرون کی  کبھی دلیل تھی کہ اسلام کی، بازنطینی اور فارسی طاقت کے خلاف سامیّ لوگوں کی بغاوت کے بعد شروعات ہوئی۔ انہوں نے اپنے خیالات پر نظر ثانی کی، اور انکی 1977 کی کتاب "ہگارزم" کے ذریعہ انہیں مالی فائدہ حاصل ہوا۔

1980میں  SOAS میں قرآن کے کئی علماء آئے۔ ان دنوں،  یہ کئی برطانوی کیمپس میں سے ایک ہے جہاں علماء کرام کا کہنا تھا کہ   قدامت پسندی کو جو  چیلنج پیش کرے ایسے کام کے لئے مالی مدد حاصل کرنا مشکل ہے‑ ایک تبدیلی  جس کے لئے قدامت پسند سعودی عرب کے تعاون کرنے والوں کا اثر و رسوخ  ذمہ دار ہے۔ لیکن ادبی اصول کے گھر ، فرانس میں، اور تجزیہ متن کی جائے پیدائش، جرمنی میں، قرآن پاک کا آزادانہ مطالعہ جاری ہے۔ اگر آپ بحث کرنا چاہتے ہیں کہ عبرانی اور عیسائی کہانیوں کا جزوی ورژن قرآن پاک میں نظر آتا ہے، یا یہ کہ اس کے تاریخی حصے غلط ہیں،  آپ کوکوئی بھی نہیں روکے گا۔

زیادہ تر مسلمان بچوں کو بتایا جاتا ہے کہ انہیں صرف قرآن پاک  کے نقطہ آغاز کے بارے میں ایک بات جاننے کی ضرورت ہے: کہ یہ 23 سال  کی مدت میں ایک فرشتے حضرت جبرائیلؑ  کے ذریعہ  نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ لیکن اسلام اس سے بھی زیادہ اور بھی بہت کچھ ہے۔ ایک معروف داستان بتاتی ہے کہ کس طرح مسلمانوں کے چوتھے  خلیفہ حضرت عثمانؓ کو یہ احساس ہوا کہ، خدا کی وحی کا کئی ایڈیشن مو جودہے اس لئے انہوں نے ایک نسخہ قائم کیا، اور  باقی سب کو تباہ کرنے کا حکم دیا۔ غیر مسلم علماء کرام کو بھی اس بات کا شعور تھا لیکن وہ پوری طرح ایک معتبر شکل طے کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ جاری تما م  الگ نمونوں میں سے سبھی ادنیٰ نہیں ہیں۔ کیتھ اسمال ، جوSOAS  کی تقریب میں  امریکی شریک تھے کا کہنا ہے کہ  ایک لفظ پر ایک نقطہ  فعل کے زمانے یا انسان کو تبدیل کر سکتا ہے۔ ان کی کتاب، "ٹیکسٹچوئل کریٹیسزم اینڈ قرآن منو اسکرپٹس"،  بتاتی ہے کہ معیاری بنانے کی کوشش حضرت عثمانؓ کے بعد چار صدیوں تک جاری رہی۔

آغاز سے پہلے

1972 میں یمن میں قرآن سے متعلق کچھ مواد ملنے پر  مطالعہ کے لئے جوش و خروش پیدا ہوا۔ ان اوراق کی تصاویر کے ابتدائی تجزیہ اشارہ کرتا ہے کہ کوئی پہلے معیاری عمل کی پیش روی کر سکتا ہے۔  یہ تحقیق جرمنی میں ہوئی نہ کہ یمن میں۔ لیکن حضرت عثمانؓ کی کہانی کی روشنی میں، مختلف ابتدائی مواد کا بچا رہنا(جو معیاری کئے جانے کے عمل میں بچ گئیں)  شدید حیرت کا باعث نہیں ہونا چاہئے۔ بہرحال، اسلامی روایت  حضرت محمس صلی اللہ علیہ وسلم  کو سہرا باندھتے ہوئے  قرآن پاک کی کم از کم سات زبانی ورژن کو صرف تھوڑا سا مختلف بتاتے ہوئے قبول کرتی ہے۔

بنیادی طور پر مسلم ممالک کے طور پر ترکی اور ایران سبقت لئے ہوئے ہیں، جہاں تعلیمی اداروں میں کم از کم، یہ ممکن ہے کہ قرآن پاک کے متن کے آغاز کے بارے میں بات کرنا ممکن ہے۔ ترکی کا سیکولر آئین آزادانہ تحقیقات کو تحفظ فراہم  کرنے میں مدد کرتا ہے۔ انقارہ یونیورسٹی اور استنبول یونیورسٹی ابھی تک ایک سیکولر جمہوریہ کے عقلیت پسند اقدار کی عکاسی کرتی ہے، ترکی کی موجودہ حکومت کا اسلامی لہجہ نئے کیمپس کو متاثر کرتا ہے۔

اگرچہ ایران، زیادہ تر دوسرے عرب ممالک سے تھوڑا زیادہ کھلا ہے یعنی  ایک مسلسل کار عظیم  کے طور پر شیعہ اسلام کا فقہہ پر زیادہ زور دینے اور متن کی تشریح کی وجہ  سے ہے۔ پیرس میں مقیم ایک شیعہ مصنف، محمد علی امیر معذّی نے حال ہی میں ہلچل مچا دی۔ ان کی دلیل ہے کہ  سنی/ شیعہ تقسیم واقعی میں قرآن کے متن پر تھا۔

زیادہ تر شیعہ اس تقسیم کو مبالغہ آرائی کہیں گے۔ بنیادی عقائد پر ایران کے شیعہ علماء کرام متحد ہیں: وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جو متن ان کے پاس ہے وہ بالکل وہی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔  اس طرح کی ہٹ دھرمی یاد دہانی ہے کہ اگر لوگ توقع کرتے ہیں کہ اسلام لبرل  عیسائیت کی طرح کچھ تبدیل ہوگا‑ صحیفوں کو یقین کے معاملے میں مددگار لیکن خطاوار کے طور پر ماننا‑ جیسا کہ ترکی کے مصنف مصطفی اکیول کہتے ہیں: "اگر آپ کا کہنا ہے کہ قرآن پاک ایک انسان کا لکھا متن ہے تو آپ مسلمان نہیں رہ جاتے ہیں"، احادیث میں  محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارے میں کچھ لچک ہے؛ کچھ لوگوں کو یہ  ناقص اور قدیم لگ سکتی ہے۔ لیکن قرآن پاک میں کسی بھی چیز کو مسترد  نہیں کیا جا سکتا ہے۔

مسٹراکیولکا کہنا ہے کہ،  کچھ رویوں میں اب بھی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ ان کی کتاب، "اسلام ویدائوٹ اکسٹریم" غلامی کا حوالہ دیتی ہے جس مسئلہ پر قرآن کے الفاظ کو از سر نو پڑھا جا سکتا ہے۔ قرآن غلاموں کو آزاد کرنے  کے حق میں ہے، لیکن اس چلن  کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کرتی ہے۔ "کیا اس کا مطلب ہے کہ خدا، غلامی کو در گزر کرتا ہے، یا کہ خدا  ساتویں صدی کے معیار کے مطابق بولتا ہے جسے تبدیل ہو جانا چاہئے؟" وہ پوچھتے ہیں کہ، کئی مسلم فقہہ نے مؤخر الذکر کو  کہا ہے۔ جیسے ہی یہ ہوتا ہے، سینٹ پال کے الفاظکے  پکڑے جانے پرعیسائیوں نے  بھی اسی طرح کے پوائنٹس بنائے ہیں۔ اسلام، عیسائیت کی طرح، ان لوگوں کے لئے سختی پیش کرتا ہے جو اس کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن یہ ذرا سے فرق کی گنجائش بھی چھوڑتا ہے۔

بشکریہ: اکانومسٹ

URL for English article:

http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/muslims-revere-the-koran.-but-its-study-is-not-taboo/d/6305

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/muslims-respect-the-quran,-its-reciting-is-not-forbidden--مسلمان-قرآن-کا-احترام-کرتے-ہیں-لیکن-اس-کا-مطالعہ-ممنوع-نہیں-ہے/d/7103

 

Loading..

Loading..