جہاں زیب بٹ
18نومبر،2025
دہشت گردانہ کارروائیوں میں نمایاں کمی اور دہشت گرد صفوں میں مقامی نوجوانوں کی شمولیت کا گراف تقریباً صفر پر آنے کے بعد جہاں سرکار اپنی کامیابی پر ناز کرنے لگی تھی وہیں کشمیری عوام ماراماری کی تیس سالہ کھیل کے بند ہونے پراطمینان محسوس کررہے تھے۔لیکن لال قلعہ دہشت گردانہ واقعہ نے پوری قوم کو ہلاکر رکھ دیا۔ ابھی دلی دھماکوں پرماتم کا سماں ہی تھاکہ نوگام پولیس اسٹیشن میں بارودی سرنگ حادثاتی طور پر پھٹ پڑی او رنوکشمیری موت کے منہ میں چلے گئے جب کہ کئی ایک لہولہان ہوگئے۔ دلی دھماکوں میں جو سویلین شہید ہوگئے وہ بھی انسان ہی تھے اور بے خطا تھے۔لہٰذا ان کامارا جانا پوری انسانیت کا قتل ایسا جرم ہے۔البتہ تازہ دہشت گردانہ کاروائی سے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار ہوگئی کہ کشمیر کے نام پر ہورہی بے مقصد اورلاحاصل دہشت گردی کی بھاری قیمت بہر حال ایک یا دوسرے طریقے سے کشمیریوں کو چکانی پڑرہی ہے۔دلی میں دھماکہ ہوا تو اب دودن بعد یہ معلوم پڑگیا ہے کہ مرنے والوں میں گاندربل کا ایک کشمیری مزدور بھی شامل ہے۔اسی طرح دھماکہ کے معابعد سیکورٹی ایجنسیوں کو تحقیقات کے سلسلے میں وادی بھر میں تلاشیوں اور گرفتاریوں کی ضرورت پڑی۔ معاملہ یہیں پرنہیں رکابلکہ نوگام سانحہ پیش آیا تو قیامت برپا ہوگئی۔نو کشمیر یوں کی شہادت پر ہاہاکار مچ گئی اور لوگ اتنے مجبور ہیں کہ اکیلے خدا کے حضور گلہ کرسکتے ہیں کہ کس جرم بے گناہی میں وہ پسے جارہے ہیں او ربے حساب خون دیتے جارہے ہیں۔وہ خدا ہی سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا انہوں نے کسی بینک،کسی حکومت، کسی دہشت گرد تنظیم سے کوئی قرضہ لیاہے جو قرضہ اب وہ خون کی صورت میں اتاررہے ہیں۔بدنصیبی یہ ہے کہ کشمیری اتنا بدنام ہوگیاہے کہ اس کو چپ چاپ دہشت گردوں کی کارروائیوں کا تاوان دینا پڑرہاہے۔

بدنصیبی یہ بھی ہے کہ دہشت گردی بھیس بدل بدل کر سرنکال رہی ہے جو تشویش ناک امر ہے گزشتہ تیس سال کے دو ران دہشت گردی کے کئی مرحلے ہم نے دیکھے۔ایک زمانہ تھا کہ دہشت گردی ایک مشغلہ سا بن گیا تھا۔ یہ پیشہ،شہرت او رسیاسی جمعداری کا سکہ سمجھا جاتاتھا۔ سرحد پار کی شرارت سے لیکر اسلام کی غلط تعبیر اورعالمی شدت پسندی کے رجحان تک کئی عوامل تھے جن کی وجہ سے مقامی نوجوان بڑی تعداد میں انتہا پسندبیانیے کاشکار ہوگیے جس بناء پر کشمیر تیس سال تک دہشت گردی کی آگ میں جلتا رہا۔پھر بھاجپاکی سربراہی والی مرکزی سرکار کے طرف سے اٹھائے گئے کچھ سخت اقدامات نے رنگ لایا تو کشمیر میں امن وقانون کی فضا لوٹ آئی۔مجموعی طور پر اس تبدیلی کو عوام نے خوش آمدید کہا۔لاقانونیت کے طویل دور سے قانون کی عملداری کی خوبصورت فضا تک دہشت گردی نے کتنے ہی بھیس بدلے مگر اس کو آخر کار مات کھانی پڑی۔ البتہ نوزائید ”وائٹ کالرٹیرر“ اپنی نوعیت کا پہلا تشویش ناک مظہر ہے۔یہ دہشت گردی کانیا ایڈیشن ہے۔ یہ سن کر پاؤں تلے سے زمین کھسک جاتی ہے کہ ایک ایسے موقعہ پرجب دہشت گردی کے خلاف عوام کو مواقف دواور دو چار کی طرح واضح ہوچکاہے کشمیر میں ”ڈاکٹر ٹریر“ کی گونج سنائی دے رہی ہے۔دہشت کے اس تازہ مظہر نے پوری کشمیر ی قوم کو نہ صرف ورطہ حیر ت میں ڈال دیاہے بلکہ ہم بے زبان ہوگئے ہیں۔ دلی دھماکے میں خود کش بمبار بننے والے ڈاکٹر عمر کی محنت قابلیت اور غربت کی روداد تصویر کا ایک رخ ہے مگرلکھ پڑھ کر اس نوجوان کااپنی قوم کے لیے مصیبت کاسامان بننا تصویر کا دوسرارخ ہے جس پر دماغی بھونچال آجاتا ہے۔”وائٹ کالرٹریر“ بھلے ہی پہلا ماڈیول ہو اور خدا کرے یہ آخری ماڈیول ہومگر اس کے نتیجے میں پوری کشمیری قوم شک کے دائرے میں آئی جس سے دہشت گردوں کے آقاؤں کابہت بڑا مقصد پورا ہوگیا۔ ان کی حکمت عملی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ دل اور دلی کی دوریاں کبھی کم نہ ہوں ختم نہ ہوں۔دلی دھماکوں کے بعد قدرتی طور پر کشمیریوں کے حصے میں آنے والی بدنامی اور مشکلات میں اضافہ ہوگیا تو دہشت گردوں کے آقا اس پرناخوش نہیں ہوسکتے البتہ کشمیریوں کو ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ رہنا بسنا ہے۔لہٰذا چیف منسٹر عمر عبداللہ نے برمحل صحیح بات کہی کہ ایک آدھ اشخاص کے کردار پر پوری کشمیری قوم کو دہشت گرد کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ دلی دھماکے میں انسانی جانوں کے زیاں اور ”وائٹ کالرٹریر“ کے ماڈیول پر کشمیریوں کا کھلا اظہار تاسف اور شرمندگی اس حقیقت کامنہ بولتا ثبوت ہے کہ کشمیر کی سرزمین یہاں کے کہسار، آبشاراور ٹھنڈی یا گرم ہو ائیں اب دہشت گردی کیلئے زہریلی او رموت آفرین ہیں۔ یہ بڑی بات ہے بڑی تبدیلی ہے جس سے اطمینان حاصل ہورہا ہے کہ کشمیر میں پھر جنت کے نظارے لوٹ کر آئیں گے۔
18نومبر،2025، بشکریہ: روز نامہ چٹان، سرینگر
----------------
URL: https://newageislam.com/urdu-section/terror-rampant-red-fort-nowgam/d/137686
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism