تسلیمہ نسرین
08 دسمبر 2022
چند سال قبل
بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے اسکون مندروں اور بدھوں کے عبادت گاہوں سے مسلمانوں میں افطار
تقسیم کی گئی تھی۔ مسلمان ایسی ہی کھلی ذہنیت اور سخاوت کا مظاہرہ کیوں نہیں کر سکتے؟
------------
تمام مذاہب میں اصلاح کی تحریکیں
چلتی رہی ہیں۔ ایسے احکام اور عقائد کو جو انسانی حقوق کے منافی اور زن بیزار ہیں انہیں
ختم کر دیا گیا ہے اور قوانین بنا کر تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ اسلام میں
بھی زمانے کے اعتبار بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں، حالانکہ دنیا بھر میں بہت سی مسلم خواتین
اس سے کہیں زیادہ بڑی تبدیلیوں کی حمایت میں آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔ وہ اس کے بارے میں
لکھتی رہی ہیں اور ان کے اس کے اثرات پر بحث کرتی رہی ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اسلام
سے ان کی محبت اس قدر گہری ہے کہ وہ یہ بات برداشت نہیں کر سکتیں کہ اگر انہیں ماہواری
شروع ہو جائے تو انہیں رمضان میں روزہ رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ وہ نہ صرف حیض کے
دوران روزہ رکھنا چاہتی ہیں بلکہ نماز بھی پڑھنا چاہتے ہیں۔
Why
Muslims need to agree to reform themselves first. AFP
--------
اگرچہ وہ ان دنوں میں روزے اور
نماز سے مستثنیٰ ہیں، لیکن وہ چھوڑنا نہیں چاہتیں۔ ان کا ایمانی جذبہ ایسا ہے کہ وہ
ایک دن کے لیے بھی اپنی رسم عبادت قضا نہیں کرنا چاہتیں۔ اس کے علاوہ، ان کا یہی ماننا
ہے کہ اسلام میں پابندیاں صرف ذاتی حفظان صحت کی خاطر ہیں۔ وہ یہ مانتی ہیں کہ اگر
اس کا مناسب خیال رکھا جائے تو پھر روزہ رکھنے یا نماز پڑھنے میں ممانعت کی ضرورت باقی
نہیں رہتی۔ انہوں نے برملا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ چونکہ قرآن میں کہیں بھی واضح
طور پر یہ نہیں لکھا ہے کہ عورتیں حیض کی حالت میں روزہ نہیں رکھ سکتیں، لہٰذا ہم ایسی
بے بنیاد ممانعتوں پر عمل نہیں کریں گی۔
بہت سے لوگوں نے یہ بھی اعلان کیا
ہے کہ وہ رمضان میں روزے کے دوران جنسی تعلقات کی ممانعت پر یقین نہیں رکھتے۔ اسلام
میں کہیں بھی جنسی تعلقات کو نجس نہیں کہا گیا، خاص کر میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلقات
کو۔ ان خواتین کا پختہ یقین ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان ملاپ کی پاکیزگی روزہ پر
مثبت اثر ہی ڈالے گی۔ چنانچہ انہوں نے روزے کی حالت میں جماع کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔
انہوں نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ قے کسی کو روزہ توڑنے پر مجبور کیوں کرے؟ ان کے مطابق،
اس کے بعد منہ کو اچھی طرح سے دھل لینا ہی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کافی ہے۔
بہت سے ایسے ہوں گے جو یہ مطالبات
سن کر تڑپ اٹھیں گے۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لوگوں نے ہمیشہ مطالبات کرتے رہے
ہیں۔ کچھ مطالبات نے کچھ لوگوں کو غصہ دلایا اور کچھ مطالبات نے لوگوں کو توقف اور
غور کرنے پر مجبور کیا۔ کچھ مطالبات پورے ہوئے، اور کچھ پورے نہیں ہوئے۔ آج، بہت سے
مسلم ممالک میں صرف تین بار ’طلاق‘ کہہ دینے سے طلاق نہیں ہو جاتی۔ چائلڈ میرج ممنوع
قرار دی گئی ہیں، جیسا کہ حلالہ۔ رمضان کے روزے طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک رکھے جاتے
ہیں۔ شمالی یورپ اور امریکہ کے بہت سے مسلمانوں کے لیے طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک
روزہ رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ عام طور پر سردیوں میں دن چھوٹا اور راتیں۔ اسلام نے شمالی
ممالک کے لیے رمضان کے مہینے کے حوالے سے کوئی خاص ہدایات نہیں دی ہے۔ لہٰذا وہاں کے
مسلمانوں نے محض سہولت کی بنیاد پر اپنے روزے کا نظام الاوقات بنا لیا ہے۔ اس طرح چیزوں
کی اصلاح ہوتی ہے اور یہ اصلاحی جذبہ جدید معاشرے کے ساتھ قدم ملانے کے لیے ضروری ہے۔
انگلینڈ میں ایسی مساجد ہیں جہاں
خواتین کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرستوں کو بھی امامت کی اجازت ہے۔ ان مساجد میں خواتین
ائمہ مردوں اور عورتوں دونوں کی کی امامت کرتی ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے آپ کو پرانے عقائد
سے نکالنا چاہتے ہیں۔ یہ تمام مذاہب کے لیے یکساں ہے، ان چیزوں کو ختم کرنے کی ضرورت
ہے جو جدید معاشرے کے اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ہر کوئی، یا کم از کم وہ لوگ
جو آزادانہ سوچ رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ اسلام میں اور کس قدر اصلاحات کی ضرورت ہے۔
ترقی پسند مسلمانوں کو اس کام کے لیے آگے آنا چاہیے۔ اس دور میں، ہم انسانی حقوق اور
خواتین کے مساوات پر مبنی قوانین بناتے ہیں، ہم جمہوریت کے نعرے لگاتے ہیں، اور ہم
بات کرنے اور اظہار رائے کی آزادی کو اہمیت دیتے ہیں۔ مذہب کو بھی انسانی حقوق اور
سب کے مساوی حقوق کو تسلیم کرنا سیکھنا چاہیے۔ آج ایک دھرم جتنا زیادہ زمانے کے ساتھ
ہم آہنگ ہوگا، اس کے زندہ رہنے کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہونگے۔
ایسا نہیں ہے کہ اسلام کسی ایک
چیز میں اٹکا ہوا ہے۔ بلکہ اس میں مختلف زمانے میں مختلف تبدیلیاں آئی ہیں۔ معتزلہ
کا زمانہ ترقی پسند تھا۔ اسی طرح اسلام کی شاندار روایات میں سے ایک تصوف ہے۔ تاریکی
عام طور پر روشنی کے بہت قریب رہتی ہے۔ عرب کے محمد بن عبد الوہاب نے اصلاح کے نام
پر اسلام کو کھائی میں گھسیٹا تھا۔ اور آج بنیاد پرستی دہشت گردی کو جنم دے رہی ہے۔
دنیا بھر میں ہونے والی متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں سے زیادہ تر ان ممالک میں
ہوتی ہیں جہاں اکثریتی آبادی مسلمان ہے۔ اگرچہ دنیا کے جہادی مسلمانوں کی تعداد عام
امن پسندوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، لیکن آج یہی جہادی فرقہ اسلام کی علامت بن گیا
ہے ہے۔
آج زیادہ تر لوگ داعش، بوکو حرام
اور القاعدہ کو بالعموم مسلمانوں کے ساتھ ملا کر تے دیکھتے ہیں اور عام، معصوم مسلمان
کی تصویر آہستہ آہستہ دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔ یقیناً یہ ایک تشویشناک رجحان ہے۔ جب
تک کوئی اس جہادی نظریے کا مضبوطی سے مقابلہ نہیں کر کرے گا، مسلم دنیا کا مستقبل خطرے
میں ہے۔ جہادی بالآخر مسلمانوں کا ہی شکار کرتے ہیں۔ جس طرح سے وہ اسلام کے ناقدین
اور آزاد سوچ رکھنے والوں کو ذبح کر رہے ہیں اس سے عین ممکن ہے کہ ایک دن جلد ہی لفظ
مسلم سے صرف جہادی اور ان کے حامی ہی مراد لیے جائیں گے۔ مسلم دنیا کے ہر ترقی پسند
فرد کا فرض ہے کہ وہ مذہب کو ریاست، قانون اور تعلیم سے الگ کرے۔ اس اہم ترمیم کے بغیر
کوئی اصلاح ممکن ہی نہیں۔ اور بغیر کسی اصلاح کے، مہذب دنیا کا حصہ ہونے کا دعویٰ کرنا
ممکن نہیں ہو گا، احترام کا مطالبہ تو چھوڑ ہی دیں۔
میری سیدھی سادی ماں بھی وہی قرآن
پڑھتی تھی جو داعش کے قاتلوں نے پڑھا تھا۔ میری والدہ معاف کر دیتی تھیں جبکہ داعش
صرف قتل کرتی ہے۔ میری والدہ نے قرآن کے بہت سے حصوں کو لفظی طور پر قبول نہیں کیا۔
انہیں قرآن کا جو بھی حصہ سمجھ میں نہیں آتا وہ عام طور پر اس کی ایک قابل عمل وضاحت
تلاش کر لیتی تھیں۔ داعش کے لوگ ایسا نہیں کرتے، اس معاملے میں وہ ساتویں صدی کے صلیبیوں
کی طرح ہیں۔ میری ماں کی طرح بہت سے آگے کی سوچ رکھنے والے مسلمانوں کے باوجود، مؤخر
الذکر عام طور پر پیچھے ہی رہ جاتے ہیں جب کہ جن کو ہم آگے بڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ
دہشت گردوں کا نسبتاً چھوٹا گروہ ہے۔
اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو کیا تعجب
کی بات ہے کہ جہادی حکومت کرتے رہیں گے؟ اب وقت آگیا ہے کہ ان کے ہتھیار چھین کر اسلام
کو امن کا مذہب بنایا جائے۔ یہ حکومت کا کام نہیں ہے۔ ہم کبھی بھی اتنے خوش قسمت نہیں
رہے کہ مکمل طور پر ایک بے لوث حکومت حاصل کرلیں اور مستقبل میں بھی ایسا ہونے کا ابھی
امکان نہیں ہے۔ لہٰذا یہ کام مسلم معاشروں کے جدید، ترقی پسند افراد پر منحصر ہے جو
نہ صرف انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، جنسی حقوق اور تمام غیر انسانی مخلوقات کے حقوق
پر یقین رکھتے ہیں بلکہ انہیں ثقافت، تہذیب، سائنسی ارتقاء اور تکنیکی ترقی کو تسلیم
کرنے کے قابل بھی ہونا چاہیے۔ جہاد کے مسئلے سے نمٹنا اس صورت میں ممکن ہو گا جب کوئی
ان وجوہات کو سمجھ لے جو مرد اور عورت کو پہلے اس کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کرتی
ہیں۔ اگر ان وجوہات کو ختم کر لیا جائے تو پھر مسئلے کا حل تلاش کرنا زیادہ مشکل نہیں
ہونا چاہیے۔
یہاں تک کہ توحید پرست مذاھب مثلاً
عیسائیت اور یہودیت کی مقدس کتابیں بھی عدم برداشت، بدگمانی اور انسانی حقوق کی خلاف
ورزی کی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہیں۔ لیکن ایسی چیزیں عموماً ان مذاہب کے زیادہ
تر لوگوں کو پریشان نہیں کرتی ہیں۔ وہ زیادہ تر ان کی باریک تفصیلات کو بھول چکے ہیں
کہ اس میں کیا ہے اور کیا نہیں۔ اس کے بجائے، انہوں نے سب کے لیے مساوی حقوق کے پیش
نظر قوانین لکھے، سیکولر عقائد پر مبنی تعلیمی پالیسیاں وضع کیں، انفرادی خود مختاری
پر مبنی اپنے سماجی ڈھانچے کی تشکیل کی، اور اپنے ممالک کی تعمیر میں جمہوری نظریات
کی حمایت کی۔ اس کا شاید بہترین نتیجہ ہو گا اگر تمام ابراہیمی مذاہب ایک ہی راستے
پر چلیں اور اگر اسلام بھی اکیسویں صدی میں ایک انسانیت نواز مذہب کے طور پر اپنی اصلاح
کر کے دوبارہ سامنے آئے۔
چند سال قبل بنگلہ دیش میں ہندوؤں
کے اسکون مندروں اور بدھوں کے عبادت گاہوں سے مسلمانوں میں افطار تقسیم کی گئی تھی۔
مسلمان ایای ہی کھلی ذہنیت اور سخاوت کا مظاہرہ کیوں نہیں کر سکتے؟ وہ مدد کے محتاج
ہندوؤں کو مساجد میں پناہ دے سکتے ہیں، یہاں تک کہ وہاں سے بھوکے بدھسٹوں کے لیے کھانے
اور خیرات کا بندوبست بھی کر سکتے ہیں، اور ہر اس غیر مسلم کی مدد کر سکتے ہیں جو ضرورت
مند ہو۔ لوگوں کو بتانا ہوگا کہ مسلمان صرف غیر مسلموں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے
ہی نہیں ہیں، بلکہ اس کے باوجود کہ ان کی کتاب میں کیا لکھا ہے، مسلمان اپنے اندر انسانیت،
فیاضی، غیر متشدد رویہ اور خلوص پیدا کر سکتے ہیں۔
اسلام کی اصلاح اسی وقت ہو سکتی
ہے جب مسلمان اپنی اصلاح پر راضی ہوں۔
Source:
Taslima
Nasrin Writes: Why Muslims Must Reform Themselves First Before Seeking To
Transform Islam
English
Article: Quran Teaches Forgiveness While ISIS Kills: Time Has
Come To Turn Islam Into A Religion Of Peace
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism