New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 01:46 AM

Urdu Section ( 15 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Nobel Peace Prize under the Shadow of Hatred نفرت کےسائے میں امن کا نو بل

  

طارق انور

16 اکتوبر، 2014

10 اکتوبر کا دن ہندوستان اور پاکستان دونوں کے لیے امن  کا پیغام لے کر آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی امن کمیٹی  کی جانب سے یہ پیغام ایسے وقت میں آیا  ہے جب پاکستان کی جانب سے کنٹرول لائن پر فائرنگ مسلسل جاری و ساری  ہے اور اپنی کم ہمتی  اور کوتاہ دستی  کے سبب پاکستان اپنی حرکتوں سے باز نہ آکر اس بات کا اعلان کررہا ہے کہ اس کی امن کی خواہش  کو کمزور ی نہ سمجھا جائے ۔ ادھر وزیر اعظم مودی اس بات کا بار بار اعلان کررہے ہیں کہ پاکستان کو اسی زبان میں جواب دیا گیا ہے اور اب پاکستان گولی اور گولہ باری کی ہمت نہیں کرے گا، مگر پاکستان ہندوستان کی سیدھی سادی زبان کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ پاکستانی وزیر اعظم کو قومی سلامتی کے اجلاس میں گزشتہ دنوں پاک فوج نے بتایا کہ ہندوستانی افواج کی فائرنگ کا پاکستان کی جانب سے بھرپور جواب دیا جارہا ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ پاکستانی میڈیا اس بات کا پرچار اور پرسار کررہا کہ کنٹرول لائن پر جاری کشیدگی کے لیے ہندوستان ذمہ دار ہے اور ہندوستانی میڈیا کے حوالے سے یہ خبریں آرہی ہیں کہ کنٹرول لائن پر کشیدگی کے لیے پاکستان ذمہ دار ہے۔ جب کہ دنیا اس بات کو جانتی ہے او رمانتی ہے کہ پاکستان نےہمیشہ ہندوستان کی جانب سے بڑے بھائی کا کردار ادا کرنے کی کوششوں اور پہل کو پاکستان نے ماننے سے انکار کردیا ہے۔

پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھا کر اس بات کا ثبوت دے دیا کہ باہمی مصالحت کے ذریعے سے کسی بھی مسئلے کو آپسی  طور پر حل کرنے میں نا اہل ہے۔ پہلے کشمیر کے تعلق سے پاکستانی وزیر اعظم کا بیان آیا،  اس کے بعد ایک بڑی پارٹی کے نوجوان لیڈر بلاول بھٹو نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم کشمیر کی ایک ایک انچ زمین ہندوستان سے واپس لے لیں گے۔پاکستان نےاس مسئلے کو اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل  کے اجلاس میں اٹھایا ، پھر ہندوستان نے پاکستانی وزیر اعظم کو انہی کی زبان میں اقوام متحدہ میں جواب بھی دے دیا، لیکن پاکستان اپنی ہٹ دھرمی سےکہاں باز آنے والا تھا، اس نے ہندوستان کے اس مشورے کو ماننے سے انکار کر دیا کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کا  باہمی مسئلہ ہے اور دونوں ممالک اس کو آپسی طور پر بیٹھ کر حل کرسکتے ہیں ۔ ابھی کل ہی پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری  نے یہ بیان دیا کہ کشمیر پاکستان کی گلے کی نس ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان بیانات کے ذریعہ صرف ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی صورتحال  پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے، بلکہ ہندوستان کی جانب سے مصالحت کی کوششوں کو بھی پاکستان مسلسل زک پہنچا رہا ہے۔

ایسے پر خطرحالات میں اگر ہند اور پاک کو امن کا نوبل انعام ملا ہے تو یقیناً یہ انعام صرف ایک انعام نہیں ہے اور انعام تک اسے محدود بھی نہیں ہونا چاہیے  بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کو سرحد پر بھی نافذ ہونا چاہیے۔کنٹرول لائن اس کی حقیقی غماز ہونی چاہئے اور وہاں یہ نظارہ دیکھنے کو ملنا چاہئے کہ امن کا نوبل انعام صرف یہ دو ملک کے دو شہریوں کو  نہیں ملا ہے بلکہ یہ  دونوں ممالک کے لئے آپسی اتحاد ، بھائی چارے ، محبت اور اخوت کو فروغ دینے کے لئے ملا ہے۔ گزشتہ پندرہ روز سے ہندوستان اور پاک دونوں فوجیں ایک دوسرے پر گولی اور  گولہ باری کرنے میں مصروف ہیں ۔ ایسے میں امن کمیٹی کی یہ کوشش کہ دونوں ملک باہمی ٹکراؤ کے بجائے اپنے سماجی مسائل کو حل کرنے کے لیے متحدہ طور پر کوشش کریں لائق مبارکباد ہے۔

ہندوستان کے کیلاش ستیارتھی نے جہاں  نا امید ی میں بھی امید کی کرن جگائے رکھی وہیں پاکستان کی ملالہ یوسف زئی جیسی معصوم ، کم عمر بچی نے دنیا کو اس بات کا پیغام دے دیا کہ اگر آپ کے اندر ہمت  ، حوصلہ، صبر،  محنت، ایمانداری اور وفاداری کے ساتھ کام کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے تو ہٹلر اور نازی کی فوجیں ہوں یا طالبان کی سینا دہ آپ کو آپ کے کام سے نہیں روک سکتے ۔ گمنامی کی زندگی ہندوستانی میڈیا میں گزار رہے کیلاش ستیارتھی  نے کبھی یہ سوچا بھی  نہیں ہوگا کہ ایک دن اچانک انہیں  امن کا نوبل  انعام مل جائے گا اور پوری دنیا میں ان کی جے جے کار ہوگی۔ کیونکہ ہندوستانی میڈیا میں یا تو  ایسے کام کرنے والوں کو جگہ ہی نہیں ملتی ہے اور اگر جگہ ہندوستانی میڈیا  میں یا تو ایسے کام کرنے والوں کو  جگہ ہی نہیں ملتی ہے اور اگر جگہ ملتی ہے تو وہ بھی اسکرول یا ہیڈر میں اور بریکنگ نیوز وہ خبریں بنتی ہیں جن سے سماج میں انار کی ، بدعنوانی،  نفرت پھیلنے کا خدشہ موجود ہوتا ہے۔ 80 ہزار سے زائد بچوں کی زندگی بدلنے والے کیلاش ستیارتھی 11، جنوری ، 1954 کو پیدا ہوئے ۔ وہ بچپن بچاؤ آندولن کے روح رواں ہیں ۔ وہ رتقریباً دو دہائی یعنی بیس سالوں سے زائد وقت سے بچہ مزدوری کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں ۔ وہ اس تحریک کو بین الاقوامی پلیٹ فارم تک لے جانے کے لیے مشہور ہیں ۔ کیلاش ستیارتھی  کی کوششوں سے اب تک تقریباً 80 ہزار بچوں کی زندگی میں نئی روشنی آئی ہے۔ پیشے  سے الیکٹرک انجینئر کیلاش  ستیارتھی پر کئی بار بچوں کو بچانے کے دوران جان لیوا حملے بھی ہوئے ہیں ۔ 17 مارچ 2011 کو دہلی کی ایک گورنمنٹ فیکٹری پر چھاپے کے دوران ان پر حملہ کیا گیا ۔ اس سے قبل ان پر 2004 میں بھی حملے ہوچکے ہیں ۔ وہ اس وقت گلوبل مارچ اگینسٹ چائلڈ لیبر کے صدر بھی ہیں ۔

یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس شخص نے 80 ہزار سے زائد بچوں کی زندگی میں نئی روشنی عطا کی ہو اس کو ہماری حکومت کی جانب سے ابھی تک ( میرے علم کے مطابق) کوئی انعام بھی شاید  نہیں ملا ہے اور بھارت رتن جیسے نہ جانے کتنے رتن  ان لوگوں کے حصے میں آئے ہیں جو میڈیا کی سرخیاں بٹورنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ ایسے میں اب ضروری ہوگیا ہے ہماری حکومتوں کے لیے وہ ایسے لوگوں کی تلاش کریں جو حقیقت میں بھارت رتن  کے مستحق ہیں اور سر سید احمد خاں  جیسی شخصیات کو اب تک بھارت رتن نہ ملنا بھی اپنے آپ  میں ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہ ہمارے لیے کتنے شرم کی بات ہے کہ سڑک سے سنسد تک ہر جگہ بچوں کے تحفظ  کی قسمیں کھائی جاتی ہیں اور چیخ چیخ کر ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا نونہال ہی ہماری مستقبل  ہیں ، جبکہ حقیقت  یہ ہے کہ  چائے کے ہوٹلوں سے لے کر پان کی دکان تک، پان کی دکانوں سے لے کر بڑی بڑی فیکٹریوں اور خاص کر گورنمنٹ کی فیکٹریوں میں بچہ مزدوری کو زبردست فروغ مل رہا  ہے، لیکن ان سب کے باوجود ہماری حکومتوں نے چاہے وہ ریاستی ہوں یا مرکزی ،بچوں کے تحفظ کے لیے کوئی نوبل قدم نہیں  اٹھایا ہے۔ ہمارا سر اس وقت اور شرم سے جھک جاتا ہے جب ہم وی آئی پی علاقوں میں چھوٹے  چھوٹے بچوں کو سڑک کی فٹ پاتھ پر اپنے فن کا مظاہرہ اس لیے کرتے دیکھتے ہیں کہ انہیں اس کے ذریعہ دو وقت  کی روٹی کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔ بات یہیں پر نہیں رکتی ہے بلکہ وی آئی پی  علاقوں میں چلتی گاڑیوں کے شیشوں کو کھٹکھٹا کر دو قلم یا ایک پھول دےکر بچے دس روپے کی بھیک مانگتے ہیں اور وہ اس بات کا حوالہ  دیتے ہیں  کہ  انہیں اس کے ذریعے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اب ہماری  حکومتیں ہوش کے ناخن لیں کیونکہ  اگر اس وقت بچوں کے مستقبل  کو نہیں بچایا گیا تو اس کے نہ صرف ہمارے ملک پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے بلکہ آنے والے  دنوں میں بہت ساری ایسی صلاحیتوں  سے محروم ہوجائیں گے جو ہمارے ملک کے لیے سود مند اور کار گر ثابت ہوسکتی ہیں ۔ جب  وی آئی پی علاقوں کا یہ حال ہے تو عام جگہوں پر کیا ہوتا ہوگا یہ کہنا اور سمجھنا  مشکل  نہیں ہے ۔ ہماری حکومتوں کے لیے ضروری یہ بھی  ہے کہ وہ بچہ مزدوری کے اسباب او رعوامل کا باریک بینی  کے ساتھ جائزہ  لیں اور اس کی تہہ میں جاتے ہوئے اس بات کو یقینی  بنائیں کہ ہندوستان میں بچہ مزدوری  کرانے والوں کو عمر قید سے کم کی کوئی سزا قابل  قبول نہیں ہوگی ۔ تاکہ  ایک دن وہ آسکے کہ دنیا  کے سامنے  سر اٹھا کر ہم یہ کہہ سکیں کہ ہندوستان بچہ مزدوری سے بالکل پاک اور صاف ہے۔

اسی طرح پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کو پاکستانی طالبان نے حملے کا نشانہ بنایا تھا ۔ حملے کے وقت وہ مینگورہ میں  ایک اسکول وین سے گھر جارہی تھی ۔ اس حملے میں ملالہ سمیت دو اور طالبات زخمی ہوئی تھیں  ۔  ابتدائی علاج کے بعد انہیں  انگلینڈ منتقل  کیا گیا تھا جہاں وہ صحت یاب ہونے کے بعد اب زیر تعلیم ہیں ۔ حکومت پاکستان نے ملالہ کو سوات میں طالبان  کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور امن ایوارڈ بھی دیا تھا ۔ انہیں انٹر نیشنل  چلڈ رین پیس پرائس کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا ۔ ملالہ یوسف زئی کا تعلق  سوات کے صدر مقام مینگورہ سے ہی ہے ۔ سوات میں 2009 میں فوجی آٖپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ تھے اور شدت پسند مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ  کے حامی جنگجو وہاں کے بیشتر علاقوں پر قابض تھے اور جب کہ لڑکیوں کی تعلیم  پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی ۔ ایسے وقت میں ملالہ کا ہمت اور حوصلے  سے کام لینا اور اقرأ کی تعلیم کو آگے لے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ عزم  محکم  او رعمل پیہم  میں ملالہ کو کامل یقین ہے۔

ملالہ کا ایوارڈ تقریب میں ہندوستان اور پاک دونوں کے وزرائے اعظم کو شرکت کی دعوت دینا اس بات کی دلیل ہے کہ دونوں ممالک کے لوگ آپس میں مل کر رہنا چاہتے ہیں ۔ ایسے میں  یہ ضروری  ہو گیا ہے کہ ہندوستان اور پاک دونوں اب امن کے اس نوبل انعام کو حقیقت میں بدلیں او رہمارا اقوام متحدہ  سے یہ مطالبہ ہے کہ 2 اکتوبر جیسے وہ بین الاقوامی یوم امن کے طو رپر مناتے ہیں  اس کے روح رواں یعنی موہن داس کرم چند گاندھی  کو بھی امن کے نوبل انعام  سے سرفراز کریں ۔ کیونکہ میرے خیال میں امن  کے نوبل انعام پر پہلا حق  گاندھی جی  اور ان جیسے لوگوں کا ہی ہے ، لیکن  گاندھی  جی کو امن  کا نوبل  انعام دینے میں تاخیر کیوں ہورہی ہے یہ بات میری  سمجھ سے پرے ہے ۔ مجھے امید ہے کہ سربراہان اقوام متحدہ  او رامن کی نوبل کمیٹی میری ان تحریروں پر ضرور غور کریں  گے اور گاندھی  جی کو امن کے نوبل انعام سے سرفراز کیا جائے گا۔

16 اکتوبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی 

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/tariq-anwar/nobel-peace-prize-under-the-shadow-of-hatred--نفرت-کےسائے-میں-امن-کا-نو-بل/d/99542

 

Loading..

Loading..