New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 02:33 AM

Urdu Section ( 25 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Society Needs Vivekananda More Today سماج کو آج سوامی وِویکا نند جی کی ضرورت

 

ترنم ریاض

12 جون، 2013

اس تازہ خبرسے خوشی ہوئی کہ نصابی کتب میں سوامی وِویکا نند کی زندگی او رکام کے بارے میں مضامین شائع ہوں گے۔ کچھ عرصہ قبل سوامی جی کاایک سو پچاسواں جنم دن منایا گیا ۔ انہوں نے مہاتما گاندھی سے پہلے کہا تھا کہ خدا مفلس  و نادار کے دل میں  رہتا ہے ۔ ایک ایسی  شخصیت کی اس سماج کو جتنی  ضرورت صدی ڈیڑھ صدی پہلے تھی اتنی ہی اب بھی ہے اور اگر مجبوروں کا استحصال اسی رفتار سے ہوتا رہا تو صدی بھر بعد کا بھی کچھ ٹھیک  نہیں کہا جا سکتا ۔ وِویکا نند جو رام کرشن پرم ہنس  کے مرید تھے ، انہیں  کی طرح انسانیت اور انسان کے لئے گہری محبت رکھتے تھے اور شاہ او ر گدا دونوں کی صحبت  کو یکساں  اہمیت دیتے تھے ۔

ہاتھ گاڑی پر چیزیں بیچ کر روز گار کمانے والے کے ساتھ کھانا بانٹ لیتے تو کبھی جو توں کی مرمت کرنے والے سراج (یعنی چار ذاتوں میں وہ آخری ذات جسے برہمن چھو لینا بھی دھرم کے لئے غلط سمجھتے رہے ہیں)کے ساتھ حقے کا کش لگا لیتے ۔ وہ کہتے تھے کہ مورکھ ( احمق) ہونے سے ناستک ( لا مذہب) ہونا اچھا ہے ۔ ہر ہندوستانی نے وِویکا نند کا نام بچپن سے ہی ایک عظیم شخصیت کے طور پر سنا ہے مگر ان کی کئی کئی جلدوں پر مبنی کتابیں بحرِ علم سمیٹے  ہوئے ہیں۔ زندگی اور انسانیت کے بارے میں ان کا نکتہ نظر ان کی تحریروں میں ایسے سامنے آتا ہے کہ علم کی نئی شمعیں روشن نظر آتی ہیں ۔ کرم یوگ یعنی اعمال  سدھارنے کی تلقین  کرنے والے وِویکا نند  ، گوتم بدھ کے پرستار تھے اور زندگی کے بارے میں ان کے فلسفے کو اہم فلسفہ  مانتے تھے ۔ ان کی کہی باتیں آج بھی براہِ راست دل میں اترتی ہیں۔

 مثال کے طور پر ذہنی آزادی  کو وہ جسم کی آزادی  سے اہم کہتے تھے ۔ انگریز کی غلامی  کے دور میں  ان کی کہی  باتیں  دلوں  پر مرہم کا کام کرتی تھیں اور جینے کا ایک نیا عزم عطا کیا کرتی تھیں۔ سوامی وِویکا نند  ا س بات پر زور دیتے تھے کہ ہندو لوگ اسلام، مسلمان بادشاہوں کے خوف سے نہیں بلکہ  ذات پات  کی تفریق  اور چھوا چھوت  ایسی غیر انسانی چیزوں سے تنگ  آکر اپناتے رہے ہیں۔ وہ انسانی برابری کے زبردست حامی تھے اور سماج کے اندر ہر طرح کے بھید بھاؤ کے زبردست مخالف تھے ۔مختلف مذاہب کے سیاسی استعمال کو استحصال سے تعبیر  کرتے تھے کہ اگر کوئی مذہب انسان کے بنیادی حقوق کی نفی کرتا ہے تو وہ مذہب نہیں بلکہ شیطان کا رقص ہے او رجہنم کی طرح ہے۔ وِویکا نند  اپنے گرو رام پرم ہنس کے الفاظ دہراتے تھے کہ ایک دوسرے کے مذاہب  کی عزت ہی کافی  نہیں بلکہ  ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مذہب کی سچائی پر یقین  کیا جائے ۔

وہ کہتے تھے کہ قومی ترقی کے دوسرے معنیٰ  لاکھوں قبیلوں  کی شناخت  کا خاتمہ  او رموت ہے اور ان کو اپنی جڑوں سے اکھڑنے کے مترادف ہے۔ اور ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ایک قطبی تصور کے لادے جانے کی کوشش کے تحت، ترقی کے نام پر دنیا کو بازار بنا دیا گیا ہے اور پہاڑ وں اور جنگلوں میں بسے قبائل او ردیہات کے لوگوں کی زمینیں خرید یا تقریباً چھین کر ان پر ملیں لگائی جاتی ہیں عمارتیں تعمیر کی جاتی ہیں۔ کسان خود کشیاں کرتے ہیں۔ ان کو فراہم کیا گیا بیج  بھی کم پیداوار والا ہوتا ہے اور سرمایہ دارکو تو گویا موسم بدلنے کے آلات تک میّسر ہیں ۔ بارشیں  نہ ہوں گی تو کسان کہاں جائے گا ۔ سرکار امدار مہیانہ کرے گی تو کیا کھائے گا ۔ قرضے کیسے ادا کرے گا۔ زمینیں  بیچ ڈالے گا یا خود کشی کرے گا۔ وِویکا نند کہتے تھے کہ کتابیں ان گنت ہیں اور وقت کم ، سو، جو ضروری ہوں انہیں  اپنا لیں اور اسی معیار پر زندگی گزاریں۔ اور آج یہ نسلیں کتابیں  چھوڑ نے سے گمراہی کے اندھے غاروں میں گری جا رہی ہیں۔

وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ان دیکھے بھگو ان  کی نسبت انسان کی انسان سے دوستی زیادہ اہم ہے۔خواتین کے بارے میں ان کا کہناتھا کہ مکمل عورت بننے کے معنیٰ مکمل آزادی کے ہیں۔ انہیں عورت کے مکمل انسان ہونے پر کامل اعتمادتھا اور کہتے تھے کہ عورتیں  اپنی تقدیر خود سنوار سکتی ہیں اور یہ بھی کہتے  تھے کہ ساری خرابی اس لئے  پیدا ہوئی کیوں کہ مردوں  نے عورتوں  کی تقدیر سنوارنا اپنے ذمے لے لیا ہے۔ سماجی فلسفی وِویکا نند کہتے تھے کہ ہندوستان کے غریبوں کو بھلا دیا گیا ہے۔ ان کی مشہور زمانہ تقریر کا جو انہوں نے شکاگو میں 11 ستمبر 1893 میں کی تھی  ، کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے کہ اس میں کچھ  بہت اہم  نکتے اٹھائے گئے ہیں ۔ ‘مختلف مذاہب کی پارلیمانی ’ کی طرف سےعزت افزائی کے لئے تقریر  کے دوران  انہوں نے کہا تھا کہ حسین دنیا  کو لوگوں نے ٹکڑ وں میں بانٹا تو اس کے خوف ناک نتائج نکلے جن سے دنیا  میں تہذیبیں اجڑ گئیں ، زمین خون سے بھرتی رہی اور اقوام فنا ہوتی رہیں مگر وِویکا نند  کو امید تھی کہ خلوص اور ایثار کا جذبہ جیتے گا اور دنیا میں  امن و امان ہوگا ۔ ایسے صوفی منش  سے جو صرف 39 سال او رکچھ مہینے جئے تھے، ابھی بھی بہت  کچھ علم حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ ان کی زندگی کے بارے میں بہت سی باتیں دوسروں کے لئے مشعل راہ بن سکتی ہیں ۔ کچھ  عرصے سے انہیں کچھ  انتہا پسند گروہ ایک خالص ہندو وادی ثابت کر کے دیوتا کی طرح پو جو انا چاہتے ہیں جب کہ وہ گوشت پوست سے بنے ایک عظیم انسان تھے ۔

دائرہ ساخت کا وِویکا نند کا گھر بھارت کے جنوبی خطے چنئی میں ہے۔ مغرب کے دورے سے لوٹ کر انہوں نے وہاں  نودن  تک قیام کیا ۔ اس کے بعد وہاں رام کرشنا مٹھ قائم کیا گیا ہے ۔ اب وہاں ہندوستانی ثقافت اور وِویکا نند  کی زندگی کے بارے میں نمائش رہتی ہے ۔ یہ عمارت 1842 میں تعمیر ہوئی تھی اور اُس سے پہلے فرنگی تاجروہاں  شمالی امریکہ سے منگوائی برف کی سلیں  آگے  بیچنے سے پہلے ذخیرہ کیا کرتے تھے ۔ والد  کی بے وقت موت کے بعد بڑے بیٹے نریندر ناتھ ( وِویکانند) کو چھوٹے دس بہن بھائیوں کا بوجھ  اٹھانا تھا ۔ وہ ایک کھاتے پیتے گھرانے کے چشم چراغ تھے مگر رشتہ داروں نے ان سے سب چھین  لیا تھا ۔ ان کی موت سے صرف ایک ماہ پہلے عدالت نے ان کی جائداد کا فیصلہ سنایا تھا ۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تھی مگر پھر بھی ان کے انسانیت کے ناطے خدمت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ اس سے عام انسان تو سبق  سیکھتا ہی ہے مگر سیاستدان اس سے  بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں کیو نکہ وقت آیا ہی  چاہتا ہے جب یہ عام آدمی ‘ خاص آدمی’ کا دامن پکڑ کر استحصال کا حساب مانگے گا۔

ستم کی رسمیں  بہت تھیں لیکن ، نہ تھیں تری انجمن  سے پہلے

سزا خطائے نظر سے پہلے، عتاب جرمِ سخن سے پہلے

( فیض احمد فیض)

12 جون، 2013  بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/tarannum-riyaz-/society-needs-vivekananda-more-today--

Loading..

Loading..