New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 12:51 AM

Urdu Section ( 13 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Role Saudi Women Can Play ایک بہترین معاثرہ کی تعمیر میں سعودی خواتین بھی کردار ادا کرسکتی ہیں

 

 

 طلال الحربی

1 ستمبر 2014

اس سال سعودی خواتین نے پہلی مرتبہ 2012 کے اولمپکس میں شرکت کیں۔

جب سعودی عرب کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو عام طور پر بین الاقوامی رپورٹ اور تجزیے میں یہ مسئلہ اٹھایا جاتا ہے کہ سعودی خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

در اصل وہ رپورٹ اور تجزیے انسانی حقوق کے مغربی تصور کے مطابق لکھے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں ان کا گمان ہے کہ انسانی حقوق کا ان کا معیار ہر ملک کے لئے موزوں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ تصور یکسر غلط ہے۔ سماجی، روایتی اور مذہبی اقدار ہر ملک میں افراد کے حقوق اور ان کی ذمہ داریوں کا تعین کرنے میں اپنا منفرد کردار ادا کرتے ہیں۔ جو لوگ سعودی عرب میں انسانی حقوق سے محرومی کی باتیں لکھتے ہیں وہ ہمارے معاشرے اور روایات کو نہیں سمجھتے۔

ہم بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ مغرب میں خواتین کے ساتھ مردوں کے ماتحت کے جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ ہمیں حقوق نسواں کی علمبردار وہ تحریکیں یاد ہیں جنہوں نے خواتین کی آزادی کی وکالت کیں لیکن ان تحریکوں نے دم توڑ دیا اس لیے کہ ان کا مقصد عظیم انسانوں کی تجارت کرنے والوں کے اشاروں پر خواتین کو اغواء کرنا اور ایک جنسی سامان لذت کے طور پر ان کا استعمال کرنا تھا۔ ہمارے دعوے کی تائید میں بہت ساری مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔

کیا اس طرح کی رپورٹ لکھنے والے لوگ یہ نہیں سمجھتے ہر معاشرے کا اپنا ایک منفرد نظام ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم اپنے معاشرے کو ان کے معیار کے مطابق بنانےکے لیے مغربی رسوم و معمولات کی نقل نہیں کر سکتے۔

ایسے لوگوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہمارا مذہب عورتوں کو بدرجہ اتم احترام سے نوازتا ہے اور ایک انسان کی حیثیت سے ان کے حقوق اور وقار کی حفاظت کرتا ہے۔ ہاں ! ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہاں کچھ غلط کام ہوتے ہیں اس کی وجہ کچھ جاہل لوگوں کے ذریعہ قانون کا غلط استعمال ہے۔

جو لوگ غافل ہیں ان کے لیے ہمارا یہ کہنا ہے کہ سعودی عرب کے معاشرتی حالات منفرد ہیں جو کہ صرف ہماری خواتین تک ہی محدود نہیں ہیں۔ تاہم، ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ ہم ایک مثالی معاشرہ نہیں ہیں۔ ہمارے ساتھ کچھ ایسے مسائل اور حالات ہیں جن پر توجہ دینے اور انہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن سب سے زیادہ اہم کسی بھی مسئلے کو حقیر سمجھنے یا اسے بہت زیادہ اہمیت دیے بغیر اس مسئلہ کی صحیح تشخیص کرنا ہے۔

جیسا کہ جب ہم کسی بھی مسئلے کا جائزہ لیتے  ہیں تو ہمیں مجموعی طور پر پورے سماج کے مفادات کو ذہن میں رکھ کر ایسا کرنا چاہیے نہ کہ دوسروں کی قیمت پر کسی ایک فریق کے مفاد کے تحت ایسا کرنا چاہیے۔ جب ہم سعودی خواتین کے مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں تو ہماری منطق یہ ہوتی ہے۔

ہم کسی بھی نظریہ یا تجویز پر غور کرنے سے پہلے پورے معاشرے کو نتیجہ خیز بنانے اور ہماری خواتین کو خود اپنی مدد کرنے اور معاشرے کی مدد کرنے کے قابل بنانے کے لیے خواتین کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہمارے ساتھ کچھ مسائل ایسے ہیں کہ جن کی وجہ سے سعودی خاتون معاشرے میں ایک اہم کردار ادا نہیں کر پاتیں۔ جن میں خواتین کی فطرت اور یہ کہ وہ گھر میں اور بیرون ملک میں اپنی کیسی شبیہ بنانا چاہتی ہیں شامل ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ سعودی خاتون ہمارے معاشرے کا ایک فعال اور مثبت رکن ہیں اور انہوں نے تعلیم، کام کی جگہ یا دیگر شعبوں میں خود کو ثابت بھی کر دکھایا ہے۔

تاہم، خواتین کو منفی انداز میں پیش کرنے سے ان کی حالت پر اثر پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے، عرب اور غیر ملکی میڈیا نے سعودی خواتین کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ وہ پسماندہ اور انسانی خصوصیات سے خالی ہیں۔ اس منفی دقیانوسی تصور نے ان کی وقعت کو گھٹا دیا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ سعودی معاشرے نے ان تمام چیزوں کو مسترد کر دیا ہے اور عورتوں کی سالمیت کے تحفظ کے لئےاقدامات شروع ہو چکے ہیں۔ ایسی بھی کچھ خواتین ہیں جو میڈیا کے سامنے خود کو اس انداز میں پیش کرتی ہیں جو کہ ان کی روایت یا مذہب کے خلاف ہے۔

ذاتی طور پر مجھے اس بات سے کوئی اعتراض نہیں ہے کہ وہ خود کو میڈیا کے سامنے پیش کریں لیکن میں ان کے اس دعوی کو مسترد کرتا ہوں کہ وہ میڈیا کے سامنے خود کو ایک روایتی سعودی خاتون کی طرح پیش کرتی ہیں۔ میں ٹی وی پر ان عورتوں کو آنے پر پابندی عائد کرنے کی بات نہیں کر رہا ہوں بلکہ میرا مطالبہ صرف یہ ہے کہ وہ سعودی خواتین کے دیگر پہلوؤں کو ظاہر نہ کریں۔

آج سعودی خواتین کے لیے جو بات ضروری ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے، اپنے طریقہ کار کو متنوع بنانے، اور ممکنات کو تسلیم کرنے اور اس وقت تک انتظار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں جب تک معاشرہ ان کے مطالبات کو تسلیم نہیں کر لیتا۔ مثال کے طور پر کار ڈرائیونگ کا ہی مسئلہ دیکھ لیں۔ در اصل سعودی میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جس کی رو سے خواتین کے لیے کار ڈرائیونگ کو ممنوع قرار دیا جا سکے لیکن عالمی سطح پر یہ مانا جاتا ہے کہ سعودی خواتین ڈرائیونگ نہیں کرتی ۔ جیسا کہ خواتین کو آسان چیزیں قبول کرنی چاہئے۔ سب سے پہلے انہیں ان کے خاندان کے بیمار ارکان کو اسپتال لے جانے یا ان کے بچوں کو اسکول لے جانے کے لیے ڈرائیو کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ اس مرحلے میں خواتین کے لیے یہی سب سے اچھا ہو گا۔ ضدی اور اڑیل بننے سے ان کا مقصد حاصل نہیں ہو گا۔

ماخذ:

http://www.arabnews.com/columns/news/623406

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/talal-alharbi/role-saudi-women-can-play/d/98896

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/talal-alharbi,-tr-new-age-islam/role-saudi-women-can-play--ایک--بہترین-معاثرہ-کی-تعمیر-میں-سعودی-خواتین-بھی-کردار-ادا-کرسکتی-ہیں/d/100001

 

Loading..

Loading..