New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 08:50 PM

Urdu Section ( 16 Apr 2018, NewAgeIslam.Com)

In Both Religion and Law, Polygamy Has No Place مذہب اور قانون دونوں میں تعدد ازواج کی کوئی گنجائش نہیں ہے

 

 

 

طاہر محمود

5 اپریل، 2018

ایک بار پھر تعدد ازواج کے آئینی جواز کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا گیا ہے جو کہ مسلمانوں کے درمیان مروج ہے۔ نکاح متعہ ، حلالہ اور زواج مسیار جیسے فرسودہ معمولات کی آئینی حیثیت پر بھی عدلیہ جانچ کر رہی ہے۔ ایک ٹی وی صحافی نے مجھے بتایا کہ ممکن ہے کہ علماء اسلام کو ان معمولات پر ممانعت سے کوئی فرق نہ پڑے لیکن وہ تعدد ازواج پر "حملے" سے شدید فکر مند ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو میرے لئے تعدد ازواج کے حوالے سے ان کی فکر ، دیگر فرسودہ معمولات سے متعلق ان کی بے اعتنائی سے زیادہ پریشان کن ہے۔

اپنی مطلقہ بیوی کا خفیہ طریقے سے فرضی نکاح کروانا اور اس کے بعد اسے فوری تین طلاق دلوانا پھر دوبارہ اس سے نکاح کر کے قرآن کے حکم کی خلاف ورزی کرنا –جس پرفریب انداز میں نکاح حلالہ کو عمل میں لایا جاتا ہے اسے مذہبی حلقوں میں اسلامی قوانین کا غلط استعمال تسلیم کیا جاتا ہے۔ طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دینے والے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے اس عمل کو باطل کر دیا ہے۔ نکاح متعہ (نام نہاد عارضی شادی) پر پابندی سے بھی علماء کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی کیونکہ یہ عمل صرف شیعہ اقلیتی فرقے کے اندر ہی مروج ہے؛ نہ ہی نکاح مسیار (حالت مسافرت میں عارضی شادی) پر پابندی سے بھی انہیں کوئی پریشانی نہیں ہو گی، جو کہ کوئی مقامی رواج نہیں ہے-اس لئے کہ کچھ عرب اس قانونی عصمت فروشی سے فائدہ اٹھانے کے لئےیہاں آتے ہیں جس کا کوئی بھی دفاع نہیں کرسکتا۔

کثرت ازواج ایام جاہلیت کی ایک روایت تھی جس میں اسلام نے اصلاح کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن مجید میں اس کی ہدایت جنگی یتیموں کے تناظر میں دی گئی ہے ، اور اگر متعدد بیویوں کے درمیان مکمل مساوات ممکن نہ ہو تو صرف ایک ہی شادی کی تاکید بھی وارد ہوئی ہے۔ اپنی بیوی کو طلاق دئے بغیر ہی اس سے کنارہ کش ہو جانا اور دوسری بیوی گھر لے آنا ، جس پر ہندوستان میں مذہبی حق کے نام پر لوگوں کا معمول ہے ، یہ کثرت ازواج کا اسلامی نظریہ نہیں تھا۔ بہر صورت اس کی اجازت کسی اہم ضرورت کی تکمیل کے لئے استثنائی طور پر دی گئی تھی۔

صدیوں سے مرد حضرات کثرت ازواج کے متعلق قرآنی آیت کی تعبیر و تشریح اپنے مزاج کے موافق کرتے آ رہے ہیں ، اور وہ اس کے تاریخی تناظر کو فراموش کر چکے ہیں اور اس کے لازمی شرائط کو غیر منصفانہ اخلاقیات کے زمرے میں رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر نئے سماجی نظام کے عروج کے ساتھ کہ جس میں انسانی حقوق کی عظمت کو روایات و معمولات پر فوقیت حاصل ہے ، مسلم دنیا اپنے مطالبات سے بھی آگاہ تھی۔ آج کثرت ازواج کا نظام قانونی طور پر ختم ہو چکا ہے یا کم از کم ایک بڑی تعداد میں مسلم ممالک کے اندر اس عمل پر پابندی عائد ہے۔ تاہم، کثرت ازواج کی اس فرسودہ روایت کا مقابلہ ان ملکوں میں کس طرح کیا گیا ہے یہ بات ہندوستان کے لئے باعث تشویش نہیں ہونی چاہئے۔

تعزیرات ہند کی کثرت ازواج مخالف شق (anti-bigamy provision) کی رو سے صرف اسی صورت میں اس عمل کا جرم ہونا ثابت ہوتا ہے کہ جب خاندانی قانون (family law) کے تحت اس کا باطل ہونا ثابت ہو جائے ، ورنہ اس نکاح کو قابل نفاظ ہی مانا جائے گا (شق 494)۔ 1860ء میں جب تعزیرات ہند کا نفاذ عمل میں آیا تو صرف عیسائی اور پارسی قوانین میں ہی کثرت ازواج کو غیرقانونی قرار دیا گیا تھا ، جبکہ تعزیرات ہند کی اس شق میں ہندوستان کی 95 فیصد آبادی شامل تھی۔ آزادی کے بعد ممبئی اور مدراس کی صوبائی مقننہ نے ہندومت ، بدھ مت ، جین مت اور سکھوں کے لئے بھی تعدد ازواج کو ممنوع قرار دیا اور اس کی تقریبا ایک دہائی کے بعد ہندو میریج ایکٹ نے ان تمام معاشروں کو تعزیرات ہندکی تعدد ازواج مخالف شق (anti-bigamy provision) میں شامل کر دیا۔ (کثیر ازواجی قبائل کے علاوہ) صرف مسلم برادری ہی اس دائرے سے باہر ہے۔ مساوی قانونی تحفظ کی آئینی ضمانت کے لحاظ سے کس طرح اس کا جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟

کثرت ازواج کے آئینی جواز پر چیلنج کا فیصلہ کرنے میں عدلیہ کا معیار یہ ہونا چاہئے کہ آیا یہ اسلام کا کوئی بنیادی مذہبی عمل ہے یا نہیں۔ اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس ملک میں تقریباً صرف 150 ملین مسلمان ہی اس فرسودہ معمول کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ کثرت ازواج پر اس عمومی قانونی پابندی کو شکست دینے کے لئے مسلمانوں سے کہیں زیادہ دوسرے لوگ اسلامی قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس عدلیہ کے فیصلوں کے باوجود ، نئی بیویوں کی تلاش میں فرضی طور پر اسلام قبول کرنے کی روایت اب تک ختم نہیں ہوئی ہے ، اور اس معاملے میں لو جہاد (love jihad) کی بات نہیں اٹھائی جا رہی ہے۔

کثرت ازواج کے حوالے سے ملک کے تمام شہریوں کو ملک کے ایک عمومی قانون کے تحت لانے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایک مذہبی عمل کے طور پر کثرت ازواج کی بنیادی حیثیت سے متعلق سوالات اٹھانے کے بجائے ، تعزیرات ہند کی کثرت ازواج مخالف شق (anti-bigamy provision) سے ان الفاظ کو نکال دیا جائے جن کی رو سے کثرت ازواج کے متعلق اس قانون کا نفاذ مشروط ہو جاتا ہے کہ یہ قانون قابل نفاذ خاندانی قانون (family law) کے تحت باطل ہے۔ اس عام قانونی اصلاح سے شاید کسی بھی مقدس قانون کے ساتھ "چھیڑ خانی" کا ہنگامہ پیدا نہیں ہوگا۔

ماخذ:

indianexpress.com/article/opinion/columns/an-untenable-defence-5123663/

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/tahir-mahmood/in-both-religion-and-law,-polygamy-has-no-place/d/114843

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/tahir-mahmood,-tr-new-age-islam/in-both-religion-and-law,-polygamy-has-no-place-مذہب-اور-قانون-دونوں-میں-تعدد-ازواج-کی-کوئی-گنجائش-نہیں-ہے/d/114944

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..