New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 07:36 PM

Urdu Section ( 8 Nov 2016, NewAgeIslam.Com)

Faith and Its Limits: Religious Freedom under the Constitution Is Conditional مذہب اور اس کے حدود: آئین کے تحت مذہبی آزادی مشروط ہے

 

 

 

 

 

طاہر محمود

4 نومبر، 2016

جب ہندوستان کے سپریم کورٹ نے آنند مارگی پر ٹاندو نرتیہ کا مظاہرہ کرنے پر پولیس کی پابندی کی موزونیت کو برقرار رکھا تو اس کمیونٹی کے رہنماؤں نے اسے آئینی طور پر محفوظ اپنی مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ راجستھان ہائی کورٹ نے گزشتہ سال جب سنتھارا کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا تب بھی جین سنتوں کی جانب سے ایسے ہی ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ اور اب عدالت عظمی میں "تین طلاق" پر پابندی کا مطالبہ کرنے والی کچھ مطلقہ مسلم لڑکیوں کی درخواست کی مخالفت کرنے والے مسلم فقہا ء آئین کے تحت دی گئی مذہبی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ اور اس قسم کے دیگر بہت سے معاملات معاشرے کے اس غلط اعتقاد کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آئین مذہب کے نام پر تمام قسم کے قدیمی اور فرسودہ سماجی معمولات کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

آئین کے حصہ III جو لوگوں کے کچھ خاص بنیادی حقوق کو یقینی بناتا، کے آرٹیکل 25 کے تحت مندرج ہے کہ "تمام افراد کو یکساں طور ضمیر کی آزادی اور آزادانہ طور پر کسی بھی پابندی کے بغیر اپنے دین کا اقرار کرنے، اس پر عمل کرنے اس کی تبلیغ و اشاعت کرنے کا پورا حق حاصل ہے"۔ اس معاملے میں لوگوں نے اس بات کو نظر انداز کر دیا ہے آئین کی یہ شق ان الفاظ کے ساتھ مشروط ہے کہ "یہ امن عامہ، اخلاقیات، صحت اور اس کے دیگر دفعات کے تحت ہے"، جو کہ کسی بھی کمیونٹی کی مذہبی رسومات کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لئے ماضی میں ایسی کسی مثال کو شرط قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 25 کے مقدمے کے اختتامی الفاظ میں ایک ماتحتی شق نے حصہ III میں مذکور دیگر بنیادی حقوق کو عملی طور پر مذہبی آزادی کے حق پر مقدم کر دیا ہے۔ ان دیگر بنیادی حقوق میں قانون کی نظر میں مساوات کا حق اور قوانین کے مساوی تحفظ کا حق بھی ہے – جس کی یقین دہانی شروع میں کرائی گئی ہے اور بعد کی شق میں اس کی وضاحت کی گئی ہے، جس کامطلب یہ ہے کہ دوسری باتوں کے ساتھ حکومت صرف مذہب کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو یا چند افراد پر مشتمل کسی جماعت کو قوانین کے مساوی تحفظ سے محروم نہیں کر سکتی۔

اس مقولہ کو یسوع مسیح کی تعلیمات کا حصہ کہا جاتا ہے کہ"جو بادشاہ کا حق ہے وہ بادشاہ کو ادا کرو اور جو خدا کا حق ہے وہ خدا کو ادا کرو"۔ اس بات کو نظر میں رکھتے ہوئے کہ ہندوستانی روایت میں بادشاہ سے زیادہ خدا کا حق مانا جاتا ہے ، آئین سازوں نے لوگوں کی مذہبی آزادی کی حدود کو واضح کرنا ضروری سمجھا۔ یہ وضاحت آرٹیکل 25 کی اس اعلامیہ کی شکل میں موجود ہے کہ "اس مضمون میں مذکور کچھ بھی "اقتصادی، مالیاتی، سیاسی یا دیگر ان سیکولر سرگرمیوں کو منظم کرنے یا انہیں محدود کرنے سے حکومت کو نہیں روک سکتا جنہیں مذہب کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہو"۔

لہٰذا، اس کے پیش نظر اب اس بات کا فیصلہ کرنے کا پیمانہ کیا ہے کہ کوئی خاص مذہبی روایت ایک حقیقی مذہبی معمول ہے یا "مذہب کے ساتھ وابستہ ایک سیکولر سرگرمی" ہے؟ اس کے لئے سپریم کورٹ نے ایک لٹمس ٹیسٹ ترتیب دیا ہے اور وہ اس بات کی تفتیش ہے کہ کیا یہ عمل متعلقہ مذہب کا جزو لاینفک ہے؟ اور اس معمول کی صحیح حیثیت دریافت کرنے کے لیے عدالت مستند نصوص اور ان کی تشریحات کی تحقیق کر رہی ہے جو متفقہ طور پر متعلقہ مذہب کے تمام پیروکاروں یا کم از کم اس کی بھاری اکثریت کے لئے قابل قبول ہو۔

جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو ان کا معاملہ یہ ہے کہ اسلامی فقہ کے تحت مذہبی احکامات اور تعلیمات کو دو الگ الگ زمروں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جن میں سے ایک عبادات (روحانی معاملات) اور معاملات (دنیاوی معاملات) ہیں، اور ان میں سے ہر ایک میں ایک مزید درجہ بندی ہے۔ جن معمولات کا حکم خاص طور پر (آسمانی کتاب) قرآن یا (پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال) حدیث نے دیا ہے وہ یا تو فرض ہیں یا واجب ہیں۔ اور اس کے علاوہ مذہبی کتابوں میں مذکور دیگر تمام اعمال یا تو مستحب ہیں یا جائز ہیں۔ اس درجہ بندی کے پیش نظر جو مذہبی رسومات مسلمانوں کے لئے فرض یا واجب ہیں انہیں ہندوستان میں آئین کی مذہبی آزادی سے متعلق شق میں شامل کر لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ مستحبات کو بھی آئین ہند کی مذہبی آزادی سے متعلق شق میں شامل کیا جا سکتا ہے، لیکن ان تمام معمولات کو جو صرف جائز ہیں اور کسی بھی ناپسندیدہ عمل کو جو کہ یقینی طور پر خود مسلم فقہا کے مطابق بدعۃ (دین حق کے خلاف) ہیں آئین کی مذہبی آزادی سے متعلق شق میں شامل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔

آرٹیکل 25 کے تحت مذہبی آزادی کی شق میں ایک حتمی وضاحت یہ موجود ہے کہ "قانون کی اس شق میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو "سماجی بہبود اور اصلاح فراہم کرنے کے لیے قوانین بنانے سے حکومت کو روکے۔ اس تصریحی شق کا جو کہ تمام کمیونٹیز کے لیے قابل انطباق ہے، اگر گہرائی کے ساتھ غور کیا جائے تو ضرورت پڑنے پر حکومتی اہلکاروں کو اس سمت میں پیش قدمی کرنے کا حق ثابت ہوتا ہے۔

ماخذ:

: indianexpress.com/article/opinion/columns/anand-margi-triple-talaq-religious-custom-constitutional-freedom-3736042/

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-politics/tahir-mahmood/faith-and-its-limits--religious-freedom-under-the-constitution-is-conditional,-open-to-state-intervention/d/109009#sthash.OqwkIJOX.dpuf

URL for this article: http://newageislam.com/urdu-section/tahir-mahmood,-tr-new-age-islam/faith-and-its-limits--religious-freedom-under-the-constitution-is-conditional--مذہب-اور-اس-کے-حدود--آئین-کے-تحت-مذہبی-آزادی-مشروط-ہے/d/109048

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..