New Age Islam
Sun Apr 18 2021, 08:00 PM

Urdu Section ( 6 Nov 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Don't Confuse Islam with Islamism اسلام کو اسلامیت کے ساتھ خلط ملط نہ کریں

 

طاہر گورا

26 مئی 2013

بہت سے لوگوں کے لئے اسلام اور اسلامیت میں فرق کو سمجھنا ایک  مشکل  امر ہے ۔ روایتی مسلم علماء اسلامیت  جیسی اصطلاح سے اتفاق نہیں رکھتے ۔ اور یہ کہتے ہیں کہ اسلام  کی صرف وہی شکل ہونی چاہئے جو مسلمان مانتے ہیں ۔  جبکہ اسلام کے ناقدین اسلام کے مکمل مجسمہ کو  اسلامیت مانتے ہیں اور  مسلمانوں کو اسلام پسند گردانتے ہیں ۔

ایک معروف اسکالر  اور مڈل ایسٹ فورم کے بانی ڈاکٹر . ڈینیل پائپس مذکورہ بالا  دونوں(روایتی اسلامی علما اور اسلام کے سخت ناقدین) میں سے کسی سے بھی اتفاق نہیں رکھتے ۔ وہ اسلامیت اور  اسلام کے درمیان  واضح تفریق پیدا کرتے ہیں ۔ انہوں نے ترقی پسند مسلمانوں کے ذریعہ قائم کئے گئے ایک تھنک ٹینک(کینیڈین تھنکیرس' فورم) کے ذریعہ سامیت مخالف کے خلاف ایک مسلم کمیٹی میں  لوگوں کی ایک جماعت کو خطاب کرتے ہوئے  مسس ساگا میں ایسا کر دیکھایا  ہے ۔

پائپس نے اس تصور کو دہرایا کہ اسلام کسی بھی دوسرے مذہب کی ہی  طرح ایک مذہب ہے جس  میں ہو سکتا ہے کہ  کچھ متنازع فیہ لسانی حدود  اور روحانی پہلو بھی ہوں ۔ لیکن بد قسمتی سے جب مسلم جماعتیں ان متنازع فیہ لسانی حدود پر عمل کرنے کا ارادہ کرتی ہیں اور  اسے  روحانی پہلوؤں پر نافذ کرنا  چاہتی ہیں تو  مذہب اسلام اسلامیت کی طرف بڑھتا ہے اور اس نظریہ کے ماننے والے اسلام پسند بن جاتے ہیں ۔

وہ حق بجانب ہیں

مثال کے طور پر  ہندوستان ، پاکستان، بنگلہ دیش اور جنوبی مشرقی ایشیاء میں (جہاں 700 ملین مسلمان بستے ہیں) جماعت اسلامی کے بانی ابوالعلیٰ مودودی ایک اسلام پسند   کی ایک کلاسکی مثال ہیں ۔ وہ اپنی اسلام پسندی کا مظاہرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں :‘‘ اسلام کا مقصد اس روئے زمین  پر  ہر اس حکومت اور ریاست کو تباہ کرنا ہے  جو  اسلامی نظریات اور نظام کے خلاف ہو ....... اسلام کو   زمین کی ضرورت ہے ....اسے صرف ایک ٹکڑے کی نہیں  بلکہ پوری روئے زمین کی ضرورت ہے ، جہاد کا مقصد غیر اسلامی حکومتوں کا خاتمہ کرنا ہے  ’’۔

مودودی کے متشدد نظریات کی میراث صرف جماعت اسلامی تک ہی محدود نہیں ہے ۔ کوئی بھی انسان اس کا مشاہدہ ہزاروں انٹرنیٹ سائٹس اور  سوشل میڈیا ویب سائٹس پر کر سکتا ہے جہاں  اس دور جدید میں  شب و روز  اسلامیت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔یہاں تک کہ (‘‘فیس بک’’ کو‘‘ اسلامی بک’’ سے بدل دیں "Convert Facebook into Islamic Book.")کے نا م سے ایک فیس بک سائٹ بھی  موجود ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ   یہ مضحکہ خیز لگے  لیکن اسلام پسندوں کے لئے جو کہ اسلامیت کے پیروکار ہیں  یہ ایک  سنگین خواہش ہے ۔

اس کی مزید مثال : سعودی عرب کے ایک نام نہاد مارڈن  اسلامی امام شیخ عاصم  الحکیم اپنی ویب سائٹ پر  سولات کے جوابات دیتے ہیں ۔ انہیں ایک سوال یہ موصول  ہوا کہ  مسلمانوں کو غیر مسلم   نوکرانیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے ۔

سوال یہ تھا : ‘‘ میرے گھر میں ایک فَلپائنی عیسائی  نوکرانی ہے  جس کے تعلق سے مجھے دو سوالات کرنے ہیں ....پہلا یہ کہ کیا ہمیں غیر مسلم نوکرانی  رکھنے کی اجازت ہے ، دوسرا یہ کہ  کیا مجھے  میرے شوہر کے سامنے اس کا سر ڈھانپنا  چاہئے چونکہ وہ ایک غیر مسلم ہے ؟؟؟’’۔

شیخ کا جواب ملاحظہ ہو : ‘‘ 1 ہاں کسی غیر مسلمہ کو گھر میں رکھنے کی اجازت ہے تاہم یہ مستحسن نہیں ہے۔2 ہا ں اسے اپنا سر ضرور ڈھانپنا   چاہئے ’’۔

اس طرح کی مثالوں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے  مسلمانوں کے اندر اسلامیت کس حد تک سرایت کر چکی ہے ۔

اس تناظر میں  ایک سوال یہ پید اہوتا ہے کہ کیا دوسری جگہوں پر اتنے اعتدال پسند مسلمانوں کا وجود ہے جو اسلامیت اور اسلام پسندوں کا سامنا کرنے کے لئے  کافی ہوں ۔

اس کا جوب ہے : ابھی تک تو نہیں

ڈاکٹر پائپس نے کہا کہ ‘‘ لیکن اسلامیت کی سیاسی تحریکوں کا  صرف ایک ہی حل ہے اور وہ یہ ہے کہ جس طرح بے شمار مسلم کمیونٹیاں  سامیت مخالف کا سامنا کرنے کے لئے  خود سے  کھڑی ہوئی ہیں (اگر یہی طریقہ اپنایا جائے  تو ) اسلامیت کو شکست دیا   جاسکتا ہے ۔’’

وہ اب بھی حق بجانب ہیں

اسلامیت کو شکست دینے اور اسلام کو سیاست سے آزاد کرنے کے لئے لاتعداد  ترقی یافتہ اعتدال پسند مسلمانوں کو پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے ۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

ماخذ: http://www.huffingtonpost.ca/tahir-gora/moderate-islam_b_3314561.html

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-politics/tahir-gora/don-t-confuse-islam-with-islamism/d/14227

URL for this article:

-اسلام-کو-اسلامیت-کے-ساتھ-خلط-ملط-نہ-کریں/d/14325

 

Loading..

Loading..