New Age Islam
Sun Apr 18 2021, 11:25 AM

Urdu Section ( 2 Oct 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Artificial Intelligence مصنوعی ذہانت


سیدہ قنوت زہراء

29ستمبر ،2020

خود کاری (Automation ) بنی نوع انسان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے۔ دنیا کی زیادہ تر ایجادات (Inventions) اسی خواہش کانتیجہ ہیں۔ مصنو عی ذہانت (Artificial Intelligence)جس سے مراد کہ ہم کمپیوٹریا مشینوں کے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کریں کہ وہ انسانوں کی طرح سوچ کر خود عمل کرنے کی اہل ہوں۔ ایک اور تعریف کے مطابق کمپیوٹر میں ایسی ہدایات (Instructions)داخل کردی جائیں کہ وہ منطقی (Logical) طریقے سے سوچ سکے او رکام کرسکے ۔ اس فن (Technology) کی بدولت ہم اپنے روزمرہ کے بہت سے ٹاسک کمپیوٹر کی مدد سے آٹومیٹک انجام دے سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی تاریخ بہت پرانی ہے اس کے آثار ہم کوارسطو کے فلسفہ ،خوار زمی کے الجبرا ، چومسکی کے لسانیات ،معاشیات او رعلم نفسیات میں بھی ملتے ہیں۔جدید دور میں اس کی بنیاد اس وقت پڑی جب منسکی (Minsky) او رایڈمن (Edmon) نے پہلا نیورل کمپیوٹر بنایا ۔1956 میں اس فلیڈ کو باقاعدہ آرٹیفشیل انٹیلجنس کا نام دیا گیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک یہ شعبہ کئی عروج و زوال کے مراحل سے گذر چکا ہے۔

مصنوعی ذہانت کا مقصد فیصلہ سازی میں انسانی مداخلت کو کم کرنا ہے،مصنوعی ذہانت ہر صورت حال میں انسانی دماغ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ لیکن بہت سارے کام ایسے بھی ہیں جن کا سر انجام دینا انسانی دماغ کے بس کی بات نہیں جیسا کہ جہاز کی پرواز کے لئے کمپیوٹر کی مدد درکار ہوتی ہے۔ یہ عمومی نقطہ نظر ہے کہ مصنوعی ذہانت نے بہت سے روزگار ہڑپ کے لئے ہیں ۔لیکن جب بھی ایک قسم کا روزگار ختم ہوتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتاہے جیسا کہ ”کافی مشین“ (Coffee Machine) کی ایجاد کے بعد کافی (Coffee) تیار کرنے کے لیے انسان کی ضرورت نہیں لیکن کافی تیار کرنے والی مشین نے فیکٹری میں روزگار کے بہت سے مواقع پیدا ہوگئے ۔ اس کام پہ مزید تحقیق جاری ہے کہ انسان نما روبوٹ تیار کئے جائیں۔ یہ روبورٹ کسی حد تک تو کام کرسکتے ہیں جیسا کہ چہرہ شناسی لیکن اعلیٰ سطح کی ذہانت ممکن نہیں جیسا کہ حالات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا۔ مصنوعی ذہانت مختلف علاقوں جیسے طب کے شعبوں میںبہت اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔جہاں طبی سہولیات پہنچانا ممکن نہیں جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ افریقہ میں ہر منٹ کے بعد ایک بچہ ملیریا اور دیگر مہلک امراض جیسا کہ ذیکاوائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعہ ہم دیہی اور دور دراز کے علاقوں کے باشندوں کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہم بڑے ہی سادہ قسم کے صحتی حفاظت کے طریقہ کار استعمال کرسکتے ہیں۔ زیادہ تر بیماریاں آلودہ پانی اور جانوروں کی وجہ سے پھیلتی ہیں بلکہ بعض پیدائشی بھی ہوتی ہیں ۔ یہ بیماریاں دیہی علاقوں میں بڑی آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ جس کی معلومات لوگوں میں نہیں ہوتی اور اس کے ضمن میں موبائل طبی سہولیات بھی مہیا کرائی جاسکتی ہیں۔ جس کو ایک عام آدمی بھی کام میں لاسکتا ہے۔دیہی علاقے کے لوگوں کو یہ تربیت بھی دی جاسکتی ہے کہ وہ خود اپنی صحت کا خیال رکھیں ۔سادہ مصنوعی ذہانت کے طریقہ کار سے مختلف آبادیوں کی صحت کے ریکارڈ کی چھان بین ممکن ہے جیسا کہ بڑے ہسپتالوں میں یہ سہولت موجود ہوتی ہے۔تشخیص کے مختلف طریقہ کاروں کو بروئے کار لاتے ہوئے بہت سی بیماریوں کا علاج ممکن ہے ۔سادہ مصنوعی ذہانت کے تشخیصی طریقہ کار سے وہ سادہ اصول جن کے ذریعے ڈاکٹر تشخیص کرتے ہیں، کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے ۔جدید مصنوعی ذہانت کے تشخیصی طریقہ کار میں خون کے نمونوں کا ٹیسٹ بھی ممکن ہے۔مصنوعی ذہانت کے ذریعے اپنی صحت کی حفاظت کا ذمہ خود لیں جس سے ایک صحت مند اور خوشگوار معاشرے کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔

انڈسٹری میں استعمال ہونے والی مشینری نہایت قیمتی ہوتی ہیں اوراس کی مناسب دیکھ بھال بہت ضروری ہے۔صنعتی مشینوں کے ویوہیکل وجود مسلسل معائنہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تنصیب دور دراز ہوتی ہے۔ اس لئے ان کی رسائی بھی مشکل ہوتی ہے اس کے علاوہ یہ بہت حساس ہوتے ہیں او رمعمولی نقصان بھی بہت بڑے حادثہ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ ان صنعتوں میں تیل، گیس، نیوکلیائی پلانٹس ،ہوائی چکیاں ،ذرائع آمدورفت اور ریلویز شامل ہیں جو کہ اپنی اہمیت کے پیش نظر مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت رکھتی ہیں۔ انسان زیادہ درجہ حرارت اور ناقابل رساجگہ کے باعث چلتی مشینوں کا معائنہ نہیں کرسکتا او رروبوٹس اس کا م کا بہتر آپشن یا متبادل ہیں۔ غیر تخریبی جانچ میں ماہر ،انتہائی قابل معائنہ کاروں اور روبوٹس کا تعاون کسی بھی ڈیٹا کے تجزیہ کو آسان اورفیصلہ سازی کی قوت کو تیز بنا سکتا ہے۔ ایسے روبوٹس ظاہری معائنہ اور سرولینس میں نہایت معاون ثابت ہوتے ہیں۔ روبوٹس مشینری آئل اور گیس ٹینک کی لکیج ،زنگ خوردگی اور جمع شدہ فاضل مادوں کی تشخیص میں بہت معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ روبوٹس نیوکلئیر پلانٹس سے لے کر کثیر المنز لہ عمارت کی ساخت میں موجود نقائص کی بآسانی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ ایسے متحرک روبوٹس بنائے جارہے ہیں جو کسی بھی نازک او راہم انفراسٹرکچر کی سلامتی کو جانچ سکیں اور اس کی حفاظت کو یقینی بنا سکیں۔ اس کے معائنہ او رمرمت کی قیمت کو کم کریں او رممکن ہوتو مشینری کو بند کئے بغیر اس کی جانچ پڑتال کرسکیں۔ بلاشبہ اصل مقصد ان کارکنان کی حفاظت ہے جو ایسے خطرناک ماحول میں اپنا کام سر انجام دیتے ہیں۔بہت سے غوطہ خوروں کی اموات واقع ہوچکی ہیں جو سمندر اور دوسری تہوں میں ایسے اسٹرکچرز کی مرمت ومعائنہ کرتے ہیں۔

تاہم روبوٹس کی تخلیق بہت سے مسائل بھی پیدا کرسکتی ہے ۔ اس ضمن میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ مشینی سسٹم شفاف اور تعصب سے پاک ہوں ۔اس کے علاوہ روبوٹک مشین کے کامیاب استعمال کے لئے مناسب ٹریننگ چائیے ہوتی ہے جو کہ وقت طلب بھی ہے۔ بسااوقات یہ مشینیں ایسے نتائج بھی اخذ کرسکتی ہیں جو کہ غلط او رتباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان سے غیر مستقل ،جانبدار او ربے تکے نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت پر یو۔ کے کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈیٹا کا بہت زیادہ حجم ،اس کا ذریعہ حصول اور اس کا نا مناسب استعمال غیر حقیقی نتائج کی طرف لے جاسکتا ہے ۔روبوٹ ،کمپیوٹر اور دوسری ٹیکنالوجی کے اشتراک سے ایسی مخلوق تشکیل دی جارہی ہیں جو کئی گنا زیادہ ذہین ہونے کے باعث انسان پرتباہ کن اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔ لوگوں میں یہ ڈر ہے کہ مشینیں مصنوعی نظام تنفس تک کنٹرول کررہی ہیں او راگر ان کا کنٹرول انسان کے ہاتھ سے نکل گیاتو ناقابل تلافی نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتاہے ۔ ان مسائل کا تدارک مصنوعی ذہانت کے الگورژم تشکیل دے کر ان میںجانبداری تلاش کرنے کے لئے ان کی چھان بین میں ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کو ایسے نظام اپنے کنٹرول میں رکھنے چاہئیں جن کی رسائی حساس معلومات تک ہے۔ یورپی یونین نے ڈیٹا معلومات کے استعمال سے متعلق ایک قانون بھی متعارف کرایاہے جس کے مطابق کوئی بھی یورپی شہری اپنے متعلق معلومات کو تلف کروانے کاحق رکھتا ہے۔آج سے کچھ سال قبل جب ہم کسی بینک میں جاتے تھے تو انسانی عملہ ہمارے روبرو ہوتا تھا لیکن اب انسانوں کی جگہ روبوٹس او رمشینوں نے لے لی ہے۔اگر مشین ہماری کمانڈ ماننے سے انکار کردے تو ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا ۔اس صورتحال سے بیروزگاری میںاضافہ ہوا ہے۔ چند سال پہلے جہاں دس لوگ کام کرتے تھے آج وہاں بمشکل دویا تین لوگ ہمیں دیکھنے کو ملیں گے۔ باقی تمام کی جگہ روبوٹس نے لے لی ہے اور ایسے سسٹمز اس لئے بنائے گئے ہیںکہ مشینیں ایسے پیچیدہ عوامل سیکھ سکتی ہیں جو انسانوں کی دسترس سے باہر ہیں۔ اگر ہم ایسا سسٹم بنائیں جس میں بہت سے ڈاکٹر ز کا مجموعی تجربہ درج ہوتو ایسا سسٹم بہتر انداز میں کام کرسکتا ہے۔ ایسا سسٹم بہت پیچیدہ او رزیادہ حجم والے ڈیٹا کے تجزیہ سے اہم فیصلے آسانی سے لے سکتا ہے۔ ابھی ہم مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ابتدائی مراحل پر ہیں۔ جب یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر قابل عمل ہوجائے گی تو انسانوں کے لیے ممدومعاون ثابت ہوگی ۔انسانوں کی طرح بازو ،آنکھیں اور دماغ رکھنے والے روبوٹس شدید او رمشکل ماحول جیسا کہ گولڈ مائننگ میں مفید ثابت ہوں گے جہاں انسان کام نہیں کرسکتا ۔انسانوں جیسی قابلت اور تحریک سے لیس روبوٹس اہم نتائج پیدا کریں گے۔ مشینوں کو بنانے کا مقصد ان سے ایسے مشکل کام لینا ہے جو انسان کی قوت سے باہر ہیں۔ جب ہم روبوٹس کوفیصلہ سازی کی قوت سے لیس کرناچاہتے ہیں تو اس کا مقصد ان کو ناقابل رسائی مقامات پر کام کے قابل بنانا ہے۔ آج لگ بھگ ہر شعبہ میں آرٹیفیشیل انٹلیجنس کا استعمال ہورہا ہے او رمزید نئے تجربات بھی کئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ شطرنج کھیلنا ،فوٹو نکالنا ،کینسر کا علاج کرنا جیسی چیزوں کے لئے بھی آرٹیفیشیل انٹلیجنس کو جب پوری طرح تیار کرلیا جائے گا تو شاید کام کرنے کے لئے انسانوں کی ضرورت نہ کے برابر رہے گی۔ آرٹیفیشیل انٹلیجنس کی پہلی تحقیق 1956 میں ہوئی تھی جس کو مزید بہتر بنانے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ آرٹیفیشیل انٹلیجنس کا استعمال تقریباً سبھی انڈسٹریز میں کیا جارہا ہے جس میں ہوٹل ،فائنانس ،کھیتی ،آن لائن شاپنگ وغیرہ شامل ہیں ۔ انٹر نیٹ پر کئی ایسے ویڈیوز موجود ہیںجس میں ہم روبورٹ کی مدد سے لوگوں کو کھانا پروستے ہوئے بہ آسانی دیکھ سکتے ہیں۔

29ستمبر ،2020، بشکریہ: اخبار مشرق، کولکاتا

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/syeda-qunoot-zahra/artificial-intelligence-مصنوعی-ذہانت/d/123022


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..