New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 09:53 AM

Urdu Section ( 1 March 2015, NewAgeIslam.Com)

True Meaning of Spending Money for the Sake of Allah انفاق فی سبیل اللہ یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حقیقی مفہوم

 

 

 

 

 

 

 امام سید شمشاد احمدناصر ، نیو ایج اسلام

قرآنی ارشاد :

سورۃ آل عمران کی آیت 135 کا ترجمہ پیش ہے۔اللہ تعالیٰ مومنوں اور متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔

‘‘وہ لوگ جو آسائش میں بھی خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں بھی اور غصہ دبا جانے والے لوگوں سے ، درگذر کرنے والوں اور احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔’’

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں نصیحت فرمائی ہے کہ متقین اور مومنین خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے اموال کو اس کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔

انفاق فی سبیل اللہ بہت عمدہ خلق ہے۔ خدا تعالیٰ کو یہ بہت محبوب ہے اس سے بھی قرب خداوندی نصیب ہوتا ہے اور جسے قرب خداوندی نصیب ہو جائے پھر اسے اور کیا چاہئیے۔ لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اپنے مال کو خرچ کرنا آسان کام نہیں ہے۔ خرچ کرنے کے وقت شیطان کئی رنگوں میں حملہ آور ہوتا ہے کبھی کہے گا کہ تم اتنا کیوں خرچ کر رہے ہو، حالانکہ تمہیں تو اپنے گھر میں ضرورت ہے۔ تمہارا بچہ بیمار ہے ابھی تمہیں ڈاکٹر کو دینے کے لئے رقم چاہئے ۔ کبھی ہیلتھ انشورنس کے لئے تو کبھی کار خریدنے کے لئے۔ کبھی بچوں کی پڑہائی کے لئے اور کبھی قرضہ اتارنے کے لئے۔ غرض ہر قسم کے طور طریقوں کی طرف شیطان توجہ دلائے گا۔ مگر حقیقی مومن اور متقی وہ ہے جو ان سب باتوں کے باوجود خدا تعالیٰ کی محبت کی خاطر اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔

اس لئے انفاق فی سبیل اللہ کو ہر گز نہ بھولنا چاہئے۔ حتی المقدور خدا کی راہ میں خرچ کرتے چلے جائیں ۔ حضرت عائشہ کو آنحضرت ﷺ نے ایک دفعہ اس بارے میں نصیحت فرمائی کہ اے عائشہ! گن گن کر نہ رکھو۔ ورنہ خدا بھی گن گن کر ہی دے گا۔

پھر فراخی میں تو ہر شخص خرچ کر لیتا ہے اصل بات یہ ہے کہ تنگ دستی میں بھی انسان خرچ کرتا رہے۔

پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کی ایک اور صفت بیان فرماتا ہے کہ وہ غصہ کو دبا جانے والے ہوتے ہیں ۔ غصہ پی جاتے ہیں اور ظاہر بھی نہیں ہونے دیتے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا وصف ہے لیکن بے حد مشکل۔ اپنے سے کم تر پر تو انسان کو بہت ہی غصہ آتا ہے ۔ صحیح موقعہ اور محل کے مطابق غصہ ہو تو وہ جائز بھی ہے بلکہ ضروری بھی ہے۔

مندرجہ بالا آیت سے ہی حضرت امام حسینؑ کے غلام نے آزادی حاصل کر لی تھی۔ ’’بیان کیا جاتا ہے کہ غلام نے آپ پر غلطی سے کوئی گرم چیز گرا دی پانی یا پینے کی کوئی چیز تھی ۔آپ نے بڑے غصے سے اس کی طرف دیکھا ۔ تو تھا وہ ہوشیار! قرآن کا بھی علم رکھتا تھا اور حاضر دماغ بھی تھا فورا بولا۔

والکاظمین الغیظ۔ آپ نے کہا ٹھیک ہے ۔ غصہ دبا لیا۔

اب اسکو خیال آیا کہ غصہ دبا تو لیا لیکن دل میں تو رہے گا کسی وقت کسی اور غلطی پر مار نہ پڑ جائے فورا بولا۔

والعافین عن الناس۔ آپ نے کہا ٹھیک ہے جاؤ معاف کر دیا۔

علم اور حاضر دماغی پھر کام آئی فورا کہنے لگا۔

واللہ یحب المحسنین۔ آپ نے کہا چلو جاؤ تمہیں آزاد بھی کرتا ہوں۔

تو اس زمانے میں غلام خریدے جاتے تھے اتنی آسانی سے آزادی نہیں ملتی تھی لیکن غلام کی حاضر دماغی اور علم اور مالک کا تقوی کام آیا اور آزادی مل گئی۔

(خطبات مسرور)

ایک روایت میں آتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غصہ شیطان کی طرف سے آتا ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی کے ذریعہ بجھایا جاتا ہے پس جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے وضو کرنا چاہئے (مسند احمد بن حنبل جلد نمبر 4 صفحہ 226)

جماعت سے توقعات:

حضرت امام الزماں فرماتے ہیں:

‘‘میری تمام جماعت جو اس جگہ حاضر ہیں یا اپنے مقامات میں بودباش رکھتے ہیں اس وصیت کو توجہ سے سنیں کہ وہ جو اس سلسلہ میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلنی ان نیک بختی اور تقوی کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بدچلنی ان کے نزدیک نہ آ سکے۔ وہ پنج وقتہ نماز باجماعت کے پابند ہوں۔ وہ جھوٹ نہ بولیں۔ وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں۔ وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاویں غرض ہر ایک قسم کے معاصی اور جرائم اور ناکردنی اور ناگفتنی اور تمام نفسانی جذبات اور بیجا حرکات سے مجتنب رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں اور کوئی زہریلا خمیر ان کے وجود میں نہ رہے... اور تمام انسانوں کی ہمدردی ان کا اصول ہو اور خدا تعالیٰ سے ڈریں اور اپنی زبانوں سے اور اپنے ہاتھوں سے اور اپنے دل کے خیالات کو ہر ایک ناپاک اور فساد انگیز طریقوں اور خیانتوں سے بچاویں اور پنچ وقتہ نماز کو نہایت التزام سے قایم رکھیں اور ظلم اور تعدی اور غبن اور رشوت اور اتلافِ حقوق اور بے جا طرفداری سے باز رہیں اور کسی بد صحبت میں نہ بیٹھیں۔’’

پاکستان کے قومی ترانہ کا مطلب ایک عیسائی کی نظر میں:

مسٹر سموئیل رحمت آف نیویارک نے اپنے ایک مضمون میں ‘‘اوجھل منزلیں ، پاک سرزمین کی’’ عنوان کے تحت پاکستان کے قومی ترانہ کا مطلب سلیس زبان میں لکھا ہے آپ بھی پڑھئے۔ اپنے مضمون میں کالم نگار لکھتے ہیں کہ قائداعظم نے ’’پاکستان کے قیام سے پہلے 11 اگست 1947 ؁ء کو ایک ہندو جوگندر ناتھ منڈل کی زیر صدارت آئین ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے تقریباً 70 فیصدی مسلمان اور 30 فیصدی غیر مسلم نمائندوں کے علاوہ تحریک پاکستان کے راہنماؤں (جن میں زیادہ تر اہل تشیع اور چند ایک احمدی حضرات) کے سامنے اعلانیہ طور پر انگریز وائسرائے کی موجودگی میں واضح طور پر یہ کہا کہ آپ اپنے مندروں مسجدوں یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لئے بالکل آزاد ہیں۔ پھر اس کے بعد انہوں نے واضح طور پر یہ بھی کہا کہ اگرچہ آپ کسی بھی عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ پاکستان کے برابر کے شہری ہیں۔.... فاضل مصنف مزید لکھتے ہیں ’’مندرجہ بالا تقریر کا ریکارڈ ضائع کرنے کی بہت زبردست طریقے سے کوشش کی گئی مگر یہ ریکارڈ آج بھی کئی جگہوں پر دستیاب ہے اسے پڑھ کر پاکستان کی اصل منزل کا سراغ ملتا ہے جو ایک پاکستان مخالف مذھبی گروہ نے ہندوستان سے درآمد ہو کر پاکستانیوں کے ذہنوں سے اکثر ، کبھی امریکن ڈالر کبھی عربی ریال استعمال کر کے کھرچ ڈالی ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ آج کے حالات اس افسوسناک حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ اپنے کو فخریہ طور پر گریجوئٹ کہنے والوں کو اگر پاکستان کے قومی ترانے کے بولوں کا مطلب اور مفہوم پوچھا جائے تو ایک اندازے کے مطابق ان میں سے صرف بیس یا پچیس ہی بڑی مشکل سے یہ کارنامہ سرانجام دے پائیں گے۔ ذیل میں ان بولوں کا مفہوم دینے کی کوشش کی گئی ہے

1۔ پاک سرزمین شاد باد ۔ کشور حسین شاد باد

اے پاک وطن کی پاک سرزمیں تو خوش اور خوشحال رہ۔ اے پیارے وطن تو خوش اور خوشحال رہ۔

2۔تونشان عزم عالیشان ۔ ارض پاکستان مرکز یقین شاد باد

اے پاکستان کی سرزمین جو ہمارے بلند ارادوں اور اعلیٰ سوچوں اور عزائم کی علامت ہے تو ہمارے یقین محکم کا مرکز بن کر ہمیشہ خوش اور خوشحال رہے۔

3۔پاک سرزمین کا نظام ۔ قوت اخوت عوام

قوم ملک سلطنت پائندہ و تا بندہ باد۔ شاد باد منزل مراد

اس پاک سرزمین کا نظام عوام کے آپس میں پیار کے رشتوں سے قوت پا کر پھلے پھولے گا اور پوری پاکستانی قوم پاکستان کی مملکت اور پاکستان کے اقتدار اعلیٰ ہمیشہ تک قائم و دائم رہیں گے اور خوشی خوشی اپنے اپنے دل کی مرادیں پائیں گے۔

4۔ پرچم ستارہ و ہلال۔ رہبر ترقی و کمال۔ ترجمان ماضی شان حال جان استقبال سایہ خدائے ذوالجلال۔

مفہوم: آخر میں شاعر جناب ابوالاثر حفیظ چھاگلہ اور مسڑ ڈی سوزا صاحب کی دھن پر الفاظ ترتیب دینے کا کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

ہمارے پاک وطن کا پرچم جو چاند ستارے کو سموئے ہوئے ہے ہماری ترقی اور کمال حاصل کرنے کی راہوں پر ہماری راہنمائی کرتا ہے۔      

ہمارا یہ پاک پرچم جہاں ہمارے ماضی کے بارے میں ہمیں آگاہ کرتا ہے وہیں ہمارے شاندار حال سے آسودہ کرتے ہوئے مستقبل کی نشاندہی بھی کرتا ہے اس پر رحم کر ، خداوند کا جلال ہمیشہ اپنا سایہ قائم و دائم رکھے۔

فاضل کالم نگار ۔ اس کے آخر میں یہ جملہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’ان بولوں کی موجودگی میں کسی نظریہ پاکستان یا دو قومی نظرئیے کا کوئی ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ملتا اگر کسی قابل احترام ہستی کو کہیں ایسا نظر آئے تو وہ آگاہ کر سکتا ہے ‘‘

(پاکستان ایکسپریس 26 دسمبر 2014؁ء صفحہ2)

URL: http://newageislam.com/urdu-section/syed-shamshad-ahmad-nasir,-new-age-islam/true-meaning-of-spending-money-for-the-sake-of-allah--انفاق-فی-سبیل-اللہ-یا--اللہ-کی-راہ-میں-خرچ-کرنے-کا-حقیقی-مفہوم/d/101765

 

Loading..

Loading..