New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 07:56 PM

Urdu Section ( 27 Dec 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Thank you and Goodbye 2015, Welcome 2016 شکریہ ۔الوداع اور استقبال

 

 

 

امام سید شمشاد احمد ناصر ، نیو ایج اسلام

سال 2015 ؁ء آخری سانس لے رہا ہے۔ جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ انسانی زندگی میں ماہ و سال آتے جاتے رہتے ہیں۔ ہر دن جو چڑھتا ہے وہ کچھ پیغام لے کر آتا ہے اور ہر شام کچھ نصائح کر جاتی ہے خوش نصیب اور خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو وقت کی آواز پر کان دھرتے اور سبق حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے دنوں ، ہفتوں ، مہینوں اور سالوں کے آنے جانے میں سب سے بڑا سبق تو یہ پنہاں ہے جس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے کہ :

’’ چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا‘‘۔ (روحانی خزائن جلد نمبر 19 صفحہ 12)

اگر یہ بات ہمارے حق میں پوری ہو رہی ہے تو مبارک ہو! اور اگر نہیں تو توجہ کی ضرورت ہے اور وہ بھی بھر پور توجہ کی ضرورت ہے۔

ورنہ دن رات تو ایسے ہی کروٹیں لیتے رہیں گے جیسا کہ ازل سے لے رہے ہیں۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم نے اس میں کتنی عبادت کی ۔ کتنا خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کیا۔ ہمدردی خلائق میں کیا کیا کام کئے اور آخرت کے لیے کیا ذخیرہ جمع کیا کیوں کہ یہ سب کچھ دیکھنا عین قرآنی احکامات کے مطابق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : یا ایھاالذین امنوااتقواللہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد 19:59

’’اے مومنو! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور چاہئے کہ ہر جان اس بات پر نظر رکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے‘‘۔ ترجمہ تفسیر صغیر

سال 2015 ؁ جب کہ گذر چکا ہے اس میں بہرحال کچھ تلخیاں بھی ہیں۔ تکلیف دہ باتیں بھی سامنے آئیں حقوق بھی غصب ہوئے۔ عزت نفس بھی مجروح ہوئی اور ناجائز قتل بھی ہوئے۔ اقتصادی بحران بھی ہوا۔ غریبوں اور اقلیتوں کے ساتھ ظلم بھی ہوا۔

کرپشن کے واقعات بھی سامنے آئے ، امانت و دیانت کا جنازہ بھی نکلا۔ بلکہ زندہ لوگوں کو مذھب کی آڑ میں اور توہین قرآن و مذھب کی آڑ میں جلانے کا منصوبہ بھی ہوا۔ نیز لوگوں کے اموال و جان کی بے حرمتی بھی ہوئی۔ یہ سب کچھ ایک لمبی فہرست ہے ان مظالم کی ! کے ساتھ ہم نے صبر اور دعا کے ساتھ یہ سال گذارا کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی یہی تعلیم ہے۔ قرآن مجید میں جیسا کہ فرمایا

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو صبر اور دعا کے ذریعہ سے اللہ کی مدد مانگو ۔ اللہ یقیناًصابروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ (البقرہ 154)

مظالم کی جو فہرست خاکسار نے دی ہے اس میں صف اول میں پاکستان کی حالت زار کا نقشہ ہے۔ خاص طور پر اقلیتوں کے ساتھ ظلم۔ اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کی انتہاء ہو رہی ہے جبکہ ہلالی پرچم میں ۔ اور حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے اقلیتوں کی پاسداری اور انہیں بلا امتیاز ، شہری حقوق ملنے کی ضمانت دی ہے۔ مثلا چند مثالیں۔

جماعت احمدیہ: جسے 1974 ؁ میں ملکی قوانین اور سیاسی اغراض کے مقاصد کی خاطر قومی اسمبلی نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور اُس وقت سے اِس وقت تک ان کے حقوق کی پامالی کی جار ہی ہے ۔ کے ترجمان نے ایک پریس ریلیز میں یہ لکھا ہے کہ

20 نومبر کو جماعت احمدیہ کے معاندین نے چپ بورڈ فیکٹری (جہلم) پر دھاوا بول دیا۔ اور فیکٹری کو آگ لگا دی تھی۔ جب کہ فیکٹری میں لوگ موجود تھے ۔ شرپسندوں کی کوشش تھی کہ اندر موجود افراد کو زندہ جلا دیا جائے ۔۔۔ 21 نومبر 2015 بروز ہفتہ انتہاء پسند عناصر نے ایک جلوس کالا گجراں میں نکالا اور وہاں پر احمدیت مسجد کا گھیراؤ کر کے اس کے اندر سے دریاں ۔ صفیں۔ اور دیگر سامان نکال کر عبادت گاہ کے سامنے سڑک پر رکھ کر جلا دیا۔۔۔۔ مسجد کا سامان جلانے کے بعد انتہا پسندوں نے مسجد کو دھویا اور اس کے بعد کھڑے ہو کر مولوی نے آذان دی اور نماز عصر پڑھی۔

یہ تو صرف ایک اقلیت کے بارے میں لکھا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ شعیوں کا قتل عام ۔ ہندوؤں کے ساتھ زیادتی ،۔ عیسائیوں کے ساتھ بھی اسی قسم کا ظالمانہ سلوک وطن عزیز میں ملاوؤں کی وجہ سے ہو رہا ہے اور حکومت بے بس کھڑی ہے۔

بہرحال جیسا کہ خاکسار نے کہا کہ یہ سال بہت سارے مظالم لئے ہوئے ہے لیکن ہم اپنے رب کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمت کے ساتھ ان حالات کا سامنا اور مقابلہ کرنے کی طاقت دی۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ۔

وطن عزیز کے علاوہ بھی کئی دیگر ممالک میں ظلم اور بربریت کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں ہم ان سب ظلموں اور ظالموں کی مذمت کرتے ہیں جو مذھب کی آڑ میں توہین رسالت یا توہین مذھب کا نام لیکر یہ سب کچھ ظلم کرتے ہیں۔ خواہ وہ ظلم امریکہ میں ہو مسلمان ممالک میں ہو ۔افریقہ میں ہو۔ جو ظلم ہے وہ ظلم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو نہ ہی ظلم پسند ہے اور نہ ہی ظالم لوگ پسند ہیں۔         

ایک اور خوش آئند بات وطن عزیز میں یہ ہوئی ہے کہ اب میڈیا کچھ نہ کچھ ان ظلموں پر تبصرہ کرنے لگا ہے اور دانشمند لوگ بھی تھوڑی بہت آواز بلند کرنے لگے ہیں۔ اس لئے جہاں ہم آج 2015 کو الوداع کرنے لگے ہیں وہاں پر آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے مطابق ایسے لوگوں کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں جنہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ جس میں پاکستانی پریس اور میڈیا اور دانش مند اور تجزیہ نگار لوگ ہیں ہم ان کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ان اہل کاروں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمدردی خلق کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی فرقہ کی مدد کی۔اور کسی بھی مظلوم کی جان بچائی۔

ہم دنیا کے ہر ملک اور ہر گوشہ میں ہر حکومتی ادارے کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے اپنے ملکی قوانین کے تحت لوگوں کے جان ۔ مال ، عزت اور آبرو کی حفاظت کی ۔ ہم ہر ملک اور میڈیا ۔ پولیس ۔ حکومتی سطح پر تمام اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو ہر وقت کام آتے اور ہمدردی خلائق کے جذبہ سے اپنی قوم کی خدمت کرتے ہیں۔

ہم ان مذھبی لیڈروں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور ظلم ہونے پر سب سے پہلے مظلوموں کے پاس پہنچے اور ہر قسم کی مدد کی پیشکش کی۔ پس جہاں ہم خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے محض اپنے ہی فضل سے ہمیں جرات ، ہمت عطا فرمائی کہ ہم 2015 ؁ء میں سرخرو گذرے۔ اور اب دعاؤں کے ساتھ ہم اس سال کو الوداع کہتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایک نئے عزم اور ولولہ کو لئے 2016 ؁ء میں داخل ہوتے ہیں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ وطن عزیز پر رحم فرمائے۔ اسے سب مشکلات سے محفوظ رکھے۔ مسلمانوں کی حالت زار پر رحم فرمائے اور نہیں صراط مستقیم دکھائے۔ وہ صرف ناموس رسالت پر صرف ریلیاں نکالنے والے نہ ہوں۔ اور نہ ہی صرف ناموس رسالت کے لئے جان دینے والے ہوں بلکہ رسول ﷺ کی عزت اور اس کے نام کی خاطر اور اس کی طرف منسوب ہونے کے واسطے وہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اچھے عمل کرنے والے بھی ہوں۔ ان کے اندر بھی ہمدردی خلائق کا جذبہ بھر جائے اور اے خدا تو ان کے اندر وہ عاجزی پیدا کر دے جو رسول خدا ﷺ کے اندر تھی۔

آنحضرت ﷺ کی آڑے وقت کی ایک دعا پر یہ مضمون ختم کرتا ہوں یہ دعا مسند احمد میں درج ہے (بحوالہ خزینتہ الدعا صفحہ 80۔79)

حضرت رفاعہ زرقیؓ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد میں مشرکین کے واپس پلٹ جانے کے بعد نبی کریم ﷺ نے فرمایا صفیں درست کر لو اور مرے رب کی تعریف کرو۔ تب آپ نے یہ دعا پڑھی۔

ترجمہ:

اے اللہ! سب حمد اور تعریف تجھے حاصل ہے ۔ جسے تو فراخی عطا کرے اسے کوئی تنگی نہیں دے سکتا جسے تو تنگی دے اسے کوئی کشائش عطا نہیں کر سکتا۔ جسے تو گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور جسے تو ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ جسے تو نہ دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا اور جسے تو عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جسے تو دور کر دے اسے کوئی قریب نہیں کر سکتا۔ اور جسے تو قریب کرے اسے کوئی دور کرنے والا نہیں۔ اے اللہ! ہم پر اپنی برکات اور رحمت و فضل اور رزق کے دروازے کھول دے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ایسی دائمی نعمتیں مانگتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہوں ۔ نہ ختم ہوں ، اے اللہ میں تجھ سے غربت و افلاس کے زمانہ کے لئے نعمتوں کا تقاضا کرتا ہوں اور خوف کے وقت امن کا طالب ہوں۔

اے اللہ! جو کچھ تو نے ہمیں عطا کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور جو تو نے نہیں دیا اس کے شر سے بھی۔! اے اللہ! ایمان ہمیں محبوب کر دے اور ہمارے دلوں میں خوبصورت بنا دے اور کفر ۔ بدعملی اور نافرمانی کی کراہت ہمارے دلوں میں پیدا کر دے اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے بنا۔ اے اللہ! ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے ۔ مسلمان ہونے کی حالت میں زندہ رکھ اور صالحین میں شامل کر دے ۔ ہمیں رسوا نہ کرنا۔ نہ ہی کسی فتنہ میں ڈالنا۔ اے اللہ! ان کافروں کو خود ہلاک کر جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیری راہ سے روکتے ہیں۔ ان پر اپنی سختی اور عذاب نازل کر ۔ اے اللہ ! ان کافروں کو بھی ہلاک کر جن کو کتاب دی گئی کہ یہ رسول حق ہے۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/syed-shamshad-ahmad-nasir,-new-age-islam/thank-you-and-goodbye-2015,-welcome-2016--شکریہ-۔الوداع-اور-استقبال/d/105753

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..