New Age Islam
Sun Apr 18 2021, 07:20 PM

Urdu Section ( 19 Oct 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Our Joys, Our Eids and Our Style ہماری خوشیاں‘ ہماری عیدیں اور ہمارے انداز

 

 

 

امام سید شمشاد احمد ناصر، نیو ایج اسلام

خدا تعالیٰ ہر ایک کو خوش رکھے،خوش ہونا خوش رہنا خوش رکھنا ہم سب کا حق ہے اور اگر کسی کو یہ سب کچھ حاصل ہے تو اسے مبارک ہو، لیکن یہ سب کچھ جائز طریقے سے ہونا چاہیے۔ کسی کا حق مار کر بھی انسان خوش ہوتا ہے، کسی کی حق تلفی کرکے کسی کو لوٹ کرکسی کو مارکر کسی پر الزام لگا کر بھی انسان خوش ہوتا ہے۔ بہترے ایسے ہیں جو ان حرکتوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور پھر بھی وہ خوش رہتے ہیں اور خوشی سے ہی ان غلط باتوں کا ارتکاب کرتے اور پھر خوشی سے سب کو بتلاتے پھرتے ہیں۔

لیکن بغیر کسی کی حق تلفی کے،بغیر لوٹ کھسوٹ کے ،بغیر کسی کو تکلیف دیئے  اگر خوش ہے تو وہ خدا تعالیٰ کا حقیقی بندہ ہے اور یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا اس کے لئے انسان کو اپنی تمام خواہشات کو ذبح کرنا پڑتا ہے اور یہی مقصد عیدالاضحیٰ کا ہے۔

مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں خوش تو اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ ہم اﷲ تعالیٰ اور آنحضرتﷺ کے فرمان کے مطابق یہ عیدیں منارہے ہیں ۔ آئے دیکھتے ہیں عید کی خوشی مسلمان کس طرح مناتے ہیں۔

1 ۔ نئے کپڑے پہن کر

2 ۔ اچھا کھانا پکا کر

3 ۔ دوستوں اور عزیزوں کی دعوت وغیرہ کرکے یا ان کی دعوتوں میں شمولیت کرکے۔

4۔تحفے تحائف دے کراور ایک دوسرے کی مدد کرکے

5۔ عید گاہ جا کر دو رکعت نماز ادا کرکے اور خطبہ عید سن کر خدا تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہیں کہ ہمیں یہ عید یہ خوشی اور یہ دن دیکھنا نصیب ہوا۔

ہماری خوشیوں، ہماری عیدوں کا سارا محور اﷲ تعالیٰ کی ذات ہونی چاہیے۔ جس بات پر وہ راضی ہے وہی ہماری اصلی اور حقیقی عید ہے۔ اگر ہم نے کوئی ایسا عمل کیا ہے جس سے وہ راضی نہیں تو پھر وہ خوشی کیا خاک خوشی ہے؟ خدا تعالیٰ کو ناراض کرکے اگر انسان خوشی کی تلاش میں ہے تو وہ انسان جنت الحمقاء میں بسیرا کررہا ہے۔

ہر دو عیدیں دراصل قربانی چاہتی ہیں۔ عیدالفطر میں بھی قربانی ہے اور عید الاضحیٰ میں بھی قربانی۔ عیدالفطر میں تو ایسی قربانی کہ پورے ایک ماہ تک اپنی جائز خواہشات سے بھی انسان رکا رہتا ہے کیوں کہ وہ بھی اﷲ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے اور عیدالاضحیٰ میں ویسے قربانی پیش کی جاتی ہے۔ ہر دو اگرچہ خوشیوں کے مواقع ہیں مگر ہر دو عیدیں قربانی چاہتی ہیں جن سے ہمیں قربانی کا ہی سبق حاصل ہوتا ہے۔

لیکن ان عیدوں کی ان جائز خواہشات اور خوشیوں کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی حرکتیں بھی لوگ کرتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اسلامی احکامات کو ایک چٹی سمجھ کر کررہے ہیں۔ اوررمضان ختم ہوتے ہی پھر اپنی تمام فضولیات کی طرف دوبارہ لوٹ آتے ہیں۔ مثلاً رمضان شریف ختم ہونے کی دیر ہوتی ہے آخری روزہ افتار کرتے ہی چاند رات جس طرح  منائی جاتی ہےاور اس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہاں اگر بچے بچیاں بازاروں میں جاکر اپنی پسند کے کپڑے ،مہندی اور تحفے تحائف وغیرہ اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق خریدلیںوہ  تو ٹھیک ہے،مگر بازاروں کی رونق میں وہ رمضان کا تقدسیکسر بھول جاتے ہیں اور رمضان کے روزوں کا اثر چاند رات میں ہی  ختم ہوتا ہوا نظر آتاہے۔

رمضان المبارک میں تو اس حد تک احترام کا اظہار ہو رہا ہوتا کہ ٹیلی ویژن پر وہ خواتین جو عام دنوں میں ڈوپٹہ سر پر نہیں اوڑھتیں وہ خواتین بھیسر پر دوپٹہ رکھتی ہیں۔ لیکن چاند رات کو TV پر جو بازاروں کے مناظر دکھائے جاتے ہیں یا اخبارات میں پھر تصاویر شائع ہوتی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ رمضان میں انسانیت کے معیار کچھ اور رمضان کے بعد کچھ اور ہوگئے ہیں۔حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ اگر رمضان میں کسی نیک بات کی عادت پڑ گئی ہے تو اسے جاری رکھیں۔رمضان کےختم ہوتے ہی ایسا لگتا ہے کہ رمضان کو تو الوادع کہا ہی تھا شائد خدا کو بھی الوداع کردیا ہے؟

یہ انداز تو مسلمانی نہیں ہے۔ صرف یہی نہیں کہ بے پردگی واپس لوٹ آتی ہے بلکہ پھر گانے بجانے کی محفلیں عید ملن پارٹیاں، خواتین و مرد حضرات کا آپس میں مکس پارٹیاں کرنا۔ جسے دور حاضر کی اچھی تہذیب کا رنگ اور نام دیا جاتا ہے اس کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ کیا قرآن کریم نے پردہ کے بارے میں اسطرح کا حکم دیا ہے جس طرح یہ اختیار کیا جارہا ہے؟ بعض خواتین اور بچیاں تو اس قدر احساس کمتری میں مبتلا ہیں کہ پردے کا نام سن کر ہی بدک جاتی ہیں ۔جوخواتین سمجھتی ہیں کہ پردہ ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے یہ ان لوگوں کی غلطی ہے جو ایسا محسوس کرتے ہیں اور ایسا سمجھتے ہیں ،یہ صریحاً خدا کے حکم کی نافرمانی ہے۔ خدا تعالیٰ کو اس Advance age کی پہلے خبر تھی اسی وجہ سے پردہ کا حکم دیا اور یہ پردہ کا حکم قیامت تک کے لئے ہے۔ آنحضرت ﷺکے زمانہ میں صحابیات نے اس پر خوب خوب عمل کیا۔آنحضرت ﷺ کا اپنی ازواج مظہرات کے لئے پردے کا کیا معیار چاہتے تھے اس کے لئے  ایک واقعہ آپ کے علم کے لئے لکھتا ہوں ۔ایک دفعہ ہمارے پیارے ہادی کامل آنحضرتﷺ حضرت عائشہؓ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے کہ آپ کے ایک نابینا صحابی تشریف لائے حضرت عائشہؓ نے ان سے پردہ نہ کیا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ اے عائشہ تم نے ان سے پردہ  کیوں نہیں کیا ،وہ کہنے لگیں یا رسول اﷲ ﷺیہ تو نابینا ہیں، آپ نے فرمایا تم تو نابینا نہیں ہو۔

قرآن کریم نے خواتین کو اپنی زینتوں کو چھپانے کی ہدایت فرمائی ہے مگر آپ خود دیکھ لیں کہ  آج مسلمان خواتین جو معیار ہے اسکی تفصیل میں تو جانے کی بالکل ضرورت نہیں۔ مریا مقصد تو قرآن کریم اور آنحضرتﷺ کی تعلیم کو کھول کر بیان کرنے سے ہے؟

کچھ عرصہ ہوا مجھےمسلمانوں کی ایک بڑی تنظیم کے ڈنر میں شامل ہونے کا موقع ملا جسمیں قریباً 2 ہزار لوگ شامل ہوئے تھے۔ یہ دیکھ کر سخت حیرانی اور پشیمانی ہوئی کہ وہ ڈنر مکس پارٹی لگ رہا تھا ہر میز پر مرد و خواتین ،بچے بچیاں  اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے۔ سٹیج پر بھی خواتین پروگرام Conduct کرا رہی تھیںاگرچہ کچھ نے سکارف پہنا ہوا تھا اور بعض نے نہیں بھی پہنا ہوا تھا ۔بے پردہ نوجوان بچیاں استقبال پر لگی ہوئی تھیں مہمانوں کو لا لا کر میزوں پر بٹھا رہی تھیں اور پھر حیرت ہے کہ یہ اسلام کے نام پر سب کچھ ہورہا تھا۔ اسلام میں تو بے پردگی کی ایسی گنجائش نہیں ہے جس کا اظہار یہاں دیکھنے میں آیا۔مسلمان اس وقت ان حرکتوں سے اسلام کا ہی حلیہ بگاڑ رہے ہیں اور مغرب کی تقلید کررہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی تقلید نہ کی تو ہمیں برا سمجھا جائے گا اور معاشرہ میں ہمیں عزت و احترام نہ ملے گا۔

یہ لوگ ان کی نظر میں تو اچھا بننا چاہتے ہیں مگر خدا کی نظر میں نہیں کیا خدا کے حکم کو بالائے طاق رکھ کر ہم اچھے بن سکتے ہیں؟پھر ایسے لوگوں کے لئے جو اسلام کی صحیح تصویر پشے کرتے ہیں اسلامی تعلیمات کا چرچا کرتے ہیں ان کے لئے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیوں کہ دوسرے لوگ اپنے عملی نمونہ سے یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں اگرچہ ہم اسلامی تعلیمات پر عمل نہ بھی کریں۔

آپ نے سنا ہو گا یا دیکھا بھی ہو کہ کچھ عرصہ ہوا ایک مسلمان کہلانے والی خاتون نے نیویارک میں جمعہ پڑھایا تھا۔ اس کے بعد یہ بھی  شنید آئی  کہ عید کی نماز بھی واشنگٹن میں ایک خاتون نے پڑھانی ہے اور مردوں نے اس کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ انا ﷲ و انا الیہ راجعون۔

یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے کہ یہ معاشرہخصوصاً مغربی معاشرہ چاہتا ہے کہ مسلمان خواتین بھی انہی کی طرح ہوجائیں اور یہ مسلمان جو آئے دن یہ ڈنکا بجاتے ہیں کہ ہمارا دین افضل ہے یہ جھنجٹ ہی ختم ہوجائے۔ایک دفعہ وہ مسلمان خواتین کو اپنی طرح کرلیں تو ہماری ساری نسلیں تباہ ہوجائیں گی اور یہی ان کا مقصد ہے اور بدقسمتی سے مسلمان خواتین ان کے اس جال میں شکار ہورہی ہیں۔  نئی نسل کی بچیوں کا انداز بھی آپ ملاحظہ کرسکتے ہیں ان کا لباس، طور طریقے مغرب کی سوسائٹی سے متاثر ہوتے نظر آرہے ہیں۔

سب سے بڑا خطرہ

اس وقت سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے جو طرز بودو باش اختیار کرلی ہے ان کی خواہش اور تڑپ ہے کہ کاش مسلمان خواتین بھی وہی طرز اپنا لیں یہ اسلام کو سب سے بڑا خطرہ  درپیش ہے،یہ خطرہ نہیں ہے کہ اسلام ان ممالک میں نہیں پھیلے گا۔ اسلام پھیلے گا اور ضرور پھیلے گا لیکن ڈر ہے تو اس بات کا کہ کہیں مسلمان ان کی رو  میں نہ بہہ جائیں ۔ خدا نہ کرے۔

مجھے بعض انٹر فیتھ میٹنگ میں بھی جانا ہوتا ہے یہ دیکھ کر سرندامت سے جھک جاتا ہے کہ مسلمانوں کی  نمائندگی کرنے والے مرد حضرات تو اس میں خاموشی سے بیٹھے سن رہے ہوتے ہیں جب کہ مسلمان خواتین خطاب کررہی ہوتی ہیں، یہی کچھ تو عیسائیوں میں اس وقت ہورہا ہے۔

بہت عرصہ ہوا مجھے ایک میٹنگ میں جانا ہوا وہاں پر عیسائی خواتین بھی تھیں انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کیوں خواتین کو لیڈرشپ نہیں دیتے میں نے پوچھا کس قسم کی لیڈر شپ کا آپ کہہ رہی ہیں کہنے لگیں ، کیوں ان کو امام نہیں بناتے؟

میں نے جواب میں کہا کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کس خاتون کو لیڈر بنایا تھا؟

کیا انجیل میں اس قسم کی کوئی بات ہے؟ پھر کیا حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے کسی خاتون کو مذہبی لیڈر بنایاتھا ،کیا کوئی مستند بات تورات سے ملتی ہے۔  اسی طرح آنحضرت ﷺکے زمانے میں بھی کسی خاتون کو اس قسم کا مذہبی لیڈر نہیں بنایا گیا۔

تو وہ فوراً کہنے لگیں کہ یہ ساری پرانی باتیں ہیں اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے میں نے کہا کہ آپ کی بات ٹھیک ہے زمانہ ترقی کرچکا ہے حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ اور آنحضرت کی تعلیمات تو وہی ہیں۔ بالخصوص قرآن کی تعلیمات تو قیامت تک کے لئے ہیں اسے بدلنے کا کسی کو بھی اختیار نہیں۔ اس پر وہ خاموش ہوگئیں۔یہ ان لوگوں کی خواہش ہے کہ انہوں نے از خود بائیبل کی تعلیم کو بدل دیا ہے مسلمان بھی اسی طرح ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلامی تعلیمات کا حلیہ بگاڑ دیں۔ پس کچھ خوف خدا کرنا چاہیے! ہمیں تو بہت سارے مسائل درپیش ہیں آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی خوشیوں میں اسلام کی تعلیم کو نہ بھول جائیں ورنہ یہ خوشی ، خوشی نہ ہوگی۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ حاصل نہیں ہوسکتا جب تک خدا تعالیٰ سے محبت نہ ہو۔ محبت کا دعوی ہی کافی نہیں محبت کے دعوٰی کی سچائی عمل میں ہے۔

ایک شخص رسول خداﷺ  کی مجلس میں آیا اور عرض کی کہ یا رسول اﷲ ﷺمجھے کس طرح پتہ چلے کہ خدا بھی مجھ سے محبت کرتا ہے آپﷺ نے فرمایا اس کا تو آسان طریقہ ہے۔ اپنے دل میں دیکھ لو کہ اس میں خدا تعالیٰ کی کتنی محبت ہے؟ یعنی یہ دیکھ لو کہ تمہارے دل میں خدا تعالیٰ کے احکامات کی کتنی قدرومنزلت ہے ۔اسی سے انسان پہنچان سکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے کتنی محبت رکھتا ہے۔ پس آئیے عہد کریں کہ ہم ہر بات پر ہر قول پر ہر خوشی پر خدا تعالیٰ کو مقدم رکھیں گے ۔ امام الزماں فرماتے ہیں:

’’ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں..... اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا .... خدا ایک پیارا خزانہ ہے اسکی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر ایک قدم میں تمہارا مددگار ہے،تم بغیر اس کے کچھ بھی نہیں اور نہ تمہارے اسباب اور تدبیریں کچھ چیز ہیں۔

غیر قوموں کی تقلید نہ کرو کہ جو بکلی اسباب پر گر گئی ہیں اور جیسے سانپ مٹی کھاتا ہے انہوں نے سفلی اسباب کی مٹی کھائی.. وہ خدا سے بہت دور جا پڑے۔ انسانوں کی پرستش کی اور خنزیر کھایا اور شراب کو پانی کی طرح استعمال کیا اور حد سے زیادہ اسباب پر گرنے سے اور خدا سے قوت نہ مانگنے سے وہ مر گے اور آسمانی روح ان میں سے ایسی نکل گئی جیسا کہ  گھونسلے سے پرندہ پرواز کرجاتا ہے، تم غیر قوموں کو دیکھ کر ان کی ریس مت کرو کہ انہوں نے دنیا کے منصوبوں میں بہت ترقی کرلی ہے آؤ ہم بھی انہی کے قدم پر چلیں، سنو اور سمجھو کہ وہ اس خدا سے سخت بے گانہ اور غافل ہیں جو تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے ..چاہیے کہ تمہارے ہر ایک کام میں خواہ وہ دنیا کا ہو خواہ دین کا خدا سے طاقت اور توفیق مانگنے کا سلسلہ جاری رہے لیکن نہ صرف خشک ہونٹوں سے بلکہ چاہیے کہ تمہارا سچ مچ یہ عقیدہ ہو کہ ہر ایک برکت آسمان سے ہی اترتی ہے .... پس مبارک وہ جو خدا کے لئے اپنے نفس سے جنگ کرتے ہیں اور بدخت وہ اپنے نفس کے لئے خدا سے جنگ کررہے ہیں اور اس سے موافقت نہیں کرتے‘ جو شخص اپنے نفس کے لئے خدا کے حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہرگزداخل نہیں ہوگا۔ سو تم کوشش کرو جو ایک نقطہ یا ایک شوشہ قرآن شریف کا بھی تم پر گواہی نہ دے تاکہ تم اس کے لئے پکڑے نہ جاؤ کیوں کہ ایک ذرہ بدی کا بھی قابل پاداش ہے، وقت تھوڑا ہے ۔۔۔ تیز قدم اٹھاؤ کہ شام نزدیک ہے جو کچھ پیش کرنا ہے وہ بار بار دیکھ لو ایسا نہ ہو کچھ رہ جائے اور زیاں کاری کا موجب ہو یا سب گندی اور کھوٹی متاع ہو جو شاہی دربار میں پیش کرنے کے لائق نہ ہو۔‘‘کشتی نوح صہ 22-26

حضرت فرید الدین عطارؒ کے متعلق مشہور ہے کہ عطاری کی دکان کیا کرتے تھے ایک دن صبح ہی صبح جب آکر انہوں نے دکان کھولی تو ایک فقیر نے آکر سوال کیا۔ فرید الدینؓ نے اس سائل کو کہا کہ ابھی بو نہی نہیں کی۔ فقیر نے ان کو کہا کہ اگر تو ایسا ہی دنیا کے دھندوں میں مشغول ہے تو تیری جا ن کیسے نکلے گیفرید الدین نے اسکو جواب دیا کہ جیسے تیری نکلے گی۔ فقیر یہ سن کر وہیں لیٹ گیا اور کلمہ طیبہ پڑھا اور اس کے ساتھ ہی اس کی جان نکل گئی۔ فرید الدین نے جب اسکی یہ حالت دیکھی تو بہت متاثر ہوا اسی وقت ساری دکان لٹا دی اور ساری عمر یاد الہی میں گذار دی۔ یہ تیاری ہوتی ہے‘ تیاری میں رنج نہیں ہوتا۔ کش مکش ہو تو پھر رنج اور افسوس ہوتا ہے‘‘ ملفوظات جلد8 صہ 51

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/syed-shamshad-ahmad-nasir,-new-age-islam/our-joys,-our-eids-and-our-style--ہماری-خوشیاں‘-ہماری-عیدیں-اور-ہمارے-انداز/d/104983

 

Loading..

Loading..