New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 11:37 PM

Urdu Section ( 22 May 2015, NewAgeIslam.Com)

No Ill-treatment Allowed in Religion دین میں زیادتی ہرگز نہیں ہے

 

 

امام سید شمشاد احمدناصر، نیو ایج اسلام

قرآنی نصیحت

دین میں زیادتی/جبر ہرگز نہیں ہے

میں آج اس موضوع پر کچھ لکھنے لگا ہوں جس کے بارے میں بہت سے لوگوں کا عقیدہ مختلف ہے۔ عقیدہ مختلف بھی ہو یا رائے مختلف ہو یا خیالات مختلف ہوں تو پھر بھی دوسرے انسان کی عزت اور تکریم کرنی چاہئے۔ ’’انسانیت‘‘ اور انسان کا ایک مقام ہے۔ اسے ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے۔ اسی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات کہلاتا ہے۔

قرآن کریم نے انسان کی پیدائش کے بارے میں یہ بیان دیا ہے کہ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ کہ انسانی پیدائش عمدہ سے عمدہ ترکیب پر ہوئی ہے جو خدائے رحمان و رحیم و کریم نے کی ہے۔

پس اور کسی کا کیا کام ہے کہ اختلاف عقیدہ یا اختلاف رائے کی بنیاد پر اگلے کا جینا حرام اور دو بھر کر دیا جائے۔

قرآنی ارشاد

سورہ بقرہ کی آیت 257میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (2:257) کہ دین کے معاملہ میں زبردستی، جبر اور اکراہ بالکل جائز نہیں ہے اور یہ حکم قیامت تک کے لئے ہے۔

سورہ اٰل عمران کی آیت 91 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

جو لوگ ایمان لانے کے بعد منکر ہو گئے ہوں پھر وہ کفر میں اور بڑھ گئے ہوں تو ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔

اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا کہ اگر ایمان لانے کے بعد وہ منکر ہو گئے ہوں اور کفر کی حالت میں واپس چلے جائیں تو انہیں قتل کردو یا زبردستی ان کا دین بدل دو؟

سورۃ النساء کی آیت نمبر138 میں اللہ تعالیٰ کا یوں ارشاد ہے۔

اور جو لوگ ایمان لائے پھر انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر ایمان لائے پھر انکار کر دیا پھر کفر میں اور بھی بڑھ گئے۔ اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کر سکتا اور نہ انہیں نجات کا کوئی راستہ دکھا سکتا ہے تو منافقوں کو یہ خبر سنا دے کہ ان کے لئے دردناک عذاب مقدر ہے۔ (4:138-139)

اس کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات پیش کی جا سکتی ہیں مگر سمجھ دار اور عقل سے کام لینے والوں کے لئے یہی ایک دو آیات ہی کافی ہو جانی چاہئیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کھلی آزادی دیتا ہے کہ تم چاہے ایمان لاؤ چاہو تو انکار کر دو کسی کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ صرف اس وجہ سے کہ ایمان لانے کے بعد وہ کفر کی حالت میں ہو گیا ہے اس پر زیادتی کی جائے یا جبرًا اسے واپس ایمان میں لایا جائے یا اسے قتل کر دیا جائے۔

بعض لوگ بعض احادیث سے استنباط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قرآن کے منافی تھا؟ آنحضرت ﷺ تو کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآن کے مصداق تھے، تو آپ نے کس طرح کسی کو زبردستی مسلمان کیا؟ یا اگر کوئی مسلمان کفر کی حالت میں لوٹ گیا تو اسے قتل کر دیا ہو؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا ایسے لوگ دراصل آنحضرت ﷺ پر تہمت لگاتے ہیں یہ آپ سے محبت نہیں ہے!

اسلامی تاریخ میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملے گی کہ آپ نے کسی کو زبردستی مسلمان کیا ہو؟ یا کسی کو بلا وجہ یا صرف عقیدہ کے اختلاف یا اسلام لانے کے بعد پھر کفر کی حالت میں اس کے لوٹ جانے پر اسے قتل کر دیا گیا ہو!

ہاں آپ نے بغاوت کرنے والوں، سرکشی کرنے والوں اور فساد پیدا کرنے والوں کو ضرور سزا دی ہے لیکن دین میں ہرگز جبر اور اکراہ نہیں کیا نہ کسی کو جبراً مسلمان بنایا!

جب یہ بات ہے اور قرآن کریم اس پر شاہد ناطق ہے اور آنحضرت ﷺ کا عملی نمونہ اس کا مصدق ہے تو پھر پاکستان کی قومی اسمبلی کو کس نے اختیار دیا کہ وہ احمدیوں کے عقیدہ میں دخل اندازی کرے۔ اور یہ کہ وہ کسی احمدی کو اس کے عقیدہ کے مطابق عمل کرنے سے باز رکھے اور روکے؟

احمدیوں کے ساتھ 1974ء میں یہ زیادتی ہوئی کہ اسے قومی اسمبلی کے ارکان نے غیرمسلم اقلیت قرار دیا۔ اور ان کے تمام شہری حقوق اور مذہبی حقوق کی پامالی کی اور انہیں ان کے ہر قسم کے حقوق سے محروم کر دیا۔

ابھی چند دن کی بات ہے کہ جماعت احمدیہ کے ترجمان مکرم سلیم الدین صاحب نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس کے مطابق وہ کہتے ہیں کہ2014ء میں احمدیوں کے خلاف ہونے والے واقعات کی وجہ سے احمدیوں کے خلاف مزید نفرت میں اضافہ ہوا ہے سال 2014ء میں 11احمدی عقیدہ کے اختلاف کی بنا پر قتل ہوئے اور ٹارگٹ کلنگ زیادہ تر پنجاب میں ہوئی۔ گوجرانوالہ میں احمدیوں کی دکانیں اور گھر نذر آتش کر دیئے گئے جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 3افراد زندگی سے محروم ہو گئے اس موقعہ پر پولیس بھی موجود تھی جس نے کوئی موثرقدم نہ اٹھایا۔

بعض شہروں میں تو دکانداروں نے ایسے سٹکرز لگا رکھے ہیں جن پر تحریر ہے کہ ان دکانوں میں احمدیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ چک نمبر96گ ب تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد میں انتہا پسند عناصر کے دباؤ پر باوردی پولیس نے احمدیوں کی قبروں کے کتبوں کو ہتھوڑوں سے توڑ دیا۔

اور تو اور ذرائع ابلاغ نے بھی اخلاقی ضابطوں کو توڑ کر رکھ دیا۔ دوران سال ار دو اخبارات نے تقریباً 2ہزار سے زائد بے بنیاد اور شرانگیز پروپیگنڈے کے تحت احمدیہ جماعت کے افراد کے خلاف خبریں شائع کیں۔

اسی طرح TV کے ایک عالم دین نے دہشت گردی کے پیچھے احمدیوں کا ہاتھ قرار دیا باشعور اور محب وطن پاکستانیوں کی کثیر تعداد نے سوشل میڈیا پر احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے اس پروگرام کی مذمت کی۔

پریس ریلیز کے مطابق 31دسمبر2014ء تک 249 احمدیوں کو عقیدے کے اختلاف کی بنا پر قتل کیا جا چکا ہے۔ جب کہ 317قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں احمدیوں کی 27عبادت گاہوں کو مسمار کیا گیا جبکہ 31عبادتگاہوں کو سرکاری انتظامیہ نے غیر منصفانہ طور پر سربمہر کر دیا۔ 39 احمدیوں کی تدفین کے بعد لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے انہیں قبر کھود کر باہر نکال دیا گیا جب کہ 65 احمدیوں کی مشترکہ قبرستانوں میں تدفین نہیں ہونے دی گئی۔ 52عبادت گاہوں کی تعمیر روک دی گئی۔

بی بی سی اردو نے بھی اس پریس ریلیز کے حوالہ سے 20اپریل کی اشاعت میں خبر دے کر یہ عنوان لگایاہے کہ

’’احمدی کمیونٹی کے خلاف منافرت میں اضافہ‘‘ جو کہ شمائلہ جعفری کی رپورٹ ہے جس میں پریس ریلیز کے حوالہ سے مزید بیان کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت پھیلانے اور پر تشدد واقعات کے ابھارنے میں میڈیا بھی پیش پیش رہا اس کے علاوہ نفرت انگیز خبروں کی تردید کو اکثر تو شائع ہی نہیں کیا گیا اور اگر کیا گیا تو مناسب جگہ نہیں دی گئی۔ اور اس تناظر میں خاص طور پر اردو پریس کا کردار کافی قابلِ اعتراض رہا۔

بی بی سی نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ احمدیوں کو افواج پاکستان میں بھرتی کے دوران عقیدہ کی بنیاد پر مسترد کر دیا گیاجب کہ مختلف سرکاری محکموں خاص طور تعلیم کے شعبے میں ملازمت کرنے والے احمدیوں کو بھی تعصب اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

کئی لوگوں پر توہینِ مذہب کا الزام بھی لگایا گیا۔

اسی طرح بی بی سی نے 30ستمبر 2014ء کو ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا

’’امتیازی سلوک اور خوف کے 40سال‘‘

اس میں 1974ء سے لے کر اب تک کے مختصراً واقعات کہ احمدیوں پر کیا گزری ہے مذکور ہے۔ پھر ڈاکٹر مہدی علی قمر صاحب جو انسانیت کی خدمت کرنے پاکستان گئے تھے جانے کے فورًا بعد ہی انہیں ربوہ میں گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔

28مئی 2010ء کو جماعت احمدیہ کی دو عبادت گاہوں پر لاہور میں نماز جمعہ کے دوران حملے کئے گئے جن میں 86سے زائد افراد موقع پر ہی لقمہ اجل بن گئے۔

اس کے علاوہ حال ہی میں ایک اور مضمون محترمہ زیبا ہاشمی صاحبہ نے اسی عنوان سے کہ احمدیوں کے ساتھ نفرت میں اضافہ 18اپریل کو لکھا جس میں انہی واقعات کو دہرایا گیا ہے یہ نیو ایج اسلام کی ویب سائٹ پر ہے۔

یہ تمام باتیں اور حقائق پر مبنی امور لکھنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ کیا اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ عقیدہ اختلاف کی بناء پر آپ کسی کا جینا دوبھر اور حرام کر دیں۔ اس ایک قانون نے جو 1974ء میں بنایا گیا احمدیوں کو کافر قرار دینے کے سلسلہ میں کیا اس کا کوئی جواز کوئی ثبوت ہے کیا کسی پارلیمنٹ، حکومت یا سرکار کو اسلام نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ کسی کے ایمان کا فیصلہ کرے؟ کیا مذہب اور عقیدہ انسان اور خدا کے درمیان نہیں ہے اس کے فیصلے کا حق کیا خدا تعالیٰ نے کسی انسان کو دیا؟

اسی قانون کی وجہ سے آج دوسری اقلیتیں بھی پاکستان میں تحفظ سے محروم ہیں۔ ہر شخص اپنے عقیدے کے مطابق دوسرے کو کافر قرار دے رہا ہے۔ کیا آنحضرت ﷺ نے غیرمسلموں کے دل تلوار سے جیتے تھے یا حسن اخلاق سے؟

کیا یہی اخلاق ہیں سرکار کے یا ممبران پارلیمنٹس کے یا علماء کہلانے والوں کے کہ پیارے مذہب اسلام کے نام پر اس پیارے رسول کے نام پر اس پیاری اور آخری شریعت کے نام پر دوسرے لوگوں کا خون بہاتے پھرو!

خدارا کچھ تو خوف کرو۔ معلوم ہوتا ہے کہ دل اس قدر سخت ہو گئے ہیں کہ یہ چھوٹے بچوں کو، حاملہ عورتوں کو اور زندوں کو بھی آگ میں جلانے سے دریغ نہیں کرتے عقیدہ کے اختلاف کی بنیاد پر! ع

ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو !نصیحت ہے غریبانہ

کوئی جو پاک دل ہووے دل و جاں اس پہ قرباں ہے

تقویٰ کے جامے جتنے تھے سب چاک ہو گئے

جتنے خیال دل میں تھے ناپاک ہو گئے

کچھ کچھ جو نیک مرد تھے وہ خاک ہو گئے

باقی جو تھے وہ ظالم و سفّاک ہو گئے

بخلوں سے یارو باز بھی آؤگے یا نہیں

خُو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں

باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں

حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں

(درثمین)

URL: http://newageislam.com/urdu-section/syed-shamshad-ahmad-nasir,-new-age-islam/no-ill-treatment-allowed-in-religion--دین-میں-زیادتی-ہرگز-نہیں-ہے/d/103121

 

Loading..

Loading..