New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 08:58 AM

Urdu Section ( 13 Oct 2015, NewAgeIslam.Com)

Islamic State and Secularism اسلامی ریاست اور سیکولرازم

 

 

امام سید شمشاد احمدناصر، نیو ایج اسلام

اسلام اس وقت مغربی طاقتوں کے شکنجے میں ہے۔ ہر طرف سے اسلام، بانی اسلام اور اسلامی تعلیمات پر مختلف جہات سے حملے ہو رہے ہیں اور یہ خود مسلمانوں کی نااہلی اور جہالت کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے عوام الناس اور خصوصاً مغربی معاشرہ میں نہ صرف غیر مسلموں کو بلکہ مسلمانوں کو بھی ان کا سیکولرازم اچھا اور دل لبھانے والا محسوس ہو رہا ہے۔سیکولرازم کے مختلف معانی ڈکشنری سے معلوم ہوتے ہیں اوروہ سب ٹھیک ہیں اور لغت سے ثابت ہیں۔ یعنی وہ تعلیم جو انسانی اقدار پر مبنی ہو اخلاقیات ، انسانیت ۔ اخلاقیات کا مؤید ۔ یہ سب معانی ہیں اور یہ سب باتیں اور ان کی تعلیم قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ میں بدرجہ اتم اور مکمل طور پر پائی جاتی ہیں۔

دنیا میں سب سے پہلی سیکولر ریاست مدینہ میں قائم ہوئی تھی جس کے سربراہ حضرت محمد ﷺ تھے ۔آپ نے ہجرت کے بعد مدینہ تشریف لاتے ہی تمام قبائل مدینہ کے ساتھ مل کر ایک تحریری معاہدہ بھی کیا جو تاریخ میں میثاق مدینہ کے نام سے موسوم ہے اس کی ایک شق یہ تھی کہ مدینہ کے یہود ،مشرکین اور مسلمان اس معاہدہ کی رو سے ایک قوم ہوں گے۔یہ تینوں اقوام نسلی طور پر ایک نہیں تھیں نہ ہی اعتقادی اعتبار سے ایک تھیں ،کیونکہ یہودی بنی اسرائیلی تھے اور مشرکین مدینہ عرب یعنی بنی اسماعیلی تھے۔لہٰذا اس جملہ کا صر ف یہی مطلب ہے کہ حقوق شہریت کے لحاظ سے یہ ایک قوم ہیں۔ زبان،نسل اور عقیدہ کی بناء پر ان کے حقوق میں فر ق نہیں ہوگا۔

افسوس یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اس کا پرچار کرنا تھا۔ جنہوں نے اخلاقی اور انسانیت کی تعلیم دینی تھی ، جنہوں نے دنیا کو اخلاق حسنہ سکھانے تھے اور نمونہ بننا تھا، وہ اس تعلیم پر عمل کرنے سے عاری ہو گئے ہیں دینی تعلیمات سکھانے کی بجائے ، سیاست میں اور کرسیوں پر بیٹھنے کی خواہش ان کی زیادہ جلوہ گر ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو بھول گئے ہیں ۔ علماء سے آپ یہ سوال کریں کہ کیا یہ آیت کریمہ قرآن کریم میں نہیں ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ:

لااکرہ فی الدین، دین میں کسی قسم کا کوئی جبر نہیں(سورۃ البقرہ)

اور پھر کیا قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کی زبانی یہ نہیں بتایا گیا کہ

لکم دینکم ولی دین (الکافرون 7:109)

تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔

اس سے بڑھ کر آزادی دینے والا اور کون سا مذہب ہے۔ یہی تو سیکولرازم ہے۔ یہی آیت ہر ایک کے مستقبل کی ضمانت ہے کہ ریاست کو کسی کے مذب میں دخل اندازی کرنے کا حق نہیں۔

ہر دو آیات کا مضمون بڑا واضح ہے کہ انسانی حقوق کی حفاظت ، ان کا عقیدہ اور ان کے اعمال ہر ایک کے اپنے اپنے ہیں اور حکومت یا ریاست کا اس سے کچھ تعلق نہ ہو گا۔ اور آنحضرت ﷺ کا اور آپ کے خلفاء کا ساری عمر انہیں آیات پر عمل رہا سب کو اپنے عقیدہ کے مطابق عمل اور عبادات بجا لانے کی پوری طرح آزادی تھی حتی کہ آپﷺ نے عیسائیوں کو مسجد نبوی میں اپنے طریق پر خدائے واحد کی عبادت کی اجازت دی۔ اور پھر ایک موقع پر ایک یہودی نے جب آنحضرتﷺ کی خدمت میں ایک مسلمان کا کیس پیش کیا کہ اس نے یہ کہہ کر کہ آنحضرتﷺ کو موسیٰ پر فضیلت ہے میرا دل دکھایا ہے۔ تو آپ نے مسلمان کو نصیحت کی ایسا کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ ایسا نہ کریں نہ صرف مذھبی آزادی بلکہ انسانیت کے حقوق اور سماج و معاشرہ کو بدامنی سے بچانے کی ایک زبردست راہ نکالی ۔

اس کے علاوہ اس زمانے کے بارے میں بھی ایک بات آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی تھی جب ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟ تو آپ نے فرمایا تھا۔

’’جب امانتیں ضائع کی جائیں گی۔ اس نے پوچھا کس طرح؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب نا اہل اور غیر مستحق لوگوں کے سپرد اہم کام کئے جائیں گے یعنی اقتدار بددیانت اور نا اہل لوگوں کے ہاتھوں میں آجائے گا اور وہ اپنی بددیانتی اور فرض ناشناسیوں کی وجہ سے قوم کو برباد کر دینگے۔(بخاری کتاب العلم)

کیا علماء کرام مشکوۃ کتاب العلم کی یہ حدیث بھی بھول گئے ہیں۔ وہ تو کبھی شائداس کو سناتے بھی نہیں کہ جس میں ہمارے پیارے رسول حضرت خاتم النبیین محمد ﷺ نے فرمایا اور اس کے راوی حضرت علی کرم اللہ وجہ ہیں۔ ’’عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہ رہے گا الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہ رہے گا اس زمانہ کے لوگوں کی مساجد تو بظاہر آباد نظر آئیں گی لیکن ہدائیت سے خالی ہوں گی ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے یعنی تمام خرابیوں کا وہی سرچشمہ ہوں گے‘‘۔

کنزالعمال کی یہ حدیث بھی کیا کسی کی نظر سے نہیں گذری جس میں آنحضرتﷺ نے فرمایا:

’’میری امت پر ایک زمانہ اضطراب اور انتشار کا آئے گا لوگ اپنے علماء کے پاس راہنمائی کی امید سے جائیں گے تو وہ انہیں بندروں اور سووروں کی طرح پائیں گے یعنی ان علماء کا کردار انتہائی خراب اور قابل شرم ہو گا‘‘۔

بہت ساری احادیث اس ضمن میں پیش کی جا سکتی ہیں۔ ان احادیث کے پیش کرنے کا مطلب صرف اتنا ہی ہے کہ جو کچھ ہمارے پیارے آقا محمد رسول ﷺ نے فرمایا تھا وہ سب کچھ سچ ہو کر اِس وقت اِس زمانے میں ہمارے سامنے ہے اور اس میں کم از کم مجھے بغیر کسی تردد اور جھجک کے سچ کہنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔الحمدللہ

مطلب یہ ہے کہ اس وقت سیکولرازم کی جو بات ہو رہی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ مغربی معاشرہ میں کئی اچھی باتیں اس وقت لوگوں کو محسوس ہو رہی ہیں۔ یہ باتیں تو اسلام نے 1400 سال پہلے سکھا دی تھیں مگر مسلمان ان سب باتوں کو بھول گئے ہیں اور میں نے احادیث کا اوپر ذکر کر دیا ہے

اس وقت مغربی معاشرہ میں اسلام صرف قتل و غارت کا مذھب دکھائی دے رہا ہے ۔ اسلام کے ناقدین مختلف بہانوں سے اور ذرائع سے یہ باتیں پیش کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کی نسبت یہ معاشرہ زیادہ روشن خیال ہے ۔ فراخ دل ہے جس نے ہر مذھب اور رنگ و نسل کے افراد کو اپنے اندر جذب کیا ہوا ہے۔ یہ بالکل درست ہے اس میں شک کی گنجائش ہی نہیں خود دیکھ لیں کہ اس وقت پناہ گزینوں کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ لاکھوں تارکین وطن مختلف اسلامی ممالک وغیرہ سے ہجرت کر کے مغربی ممالک میں پناہ لے رہے ہیں۔ جب کہ خود مسلمان ملکوں نے اپنے دروازے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے لئے بند کر دیئے ہیں۔ تازہ مثال اس کی یہ ہے کہ پوپ نے اعلان کیا کہ ملک شام سے ہجرت کرنے والے پناہ گزینوں کی ایک ایک فیملی کو کیتھولک والے اپنے پاس رکھیں انکی رہائش قیام و طعام کا بندوبست کریں۔ انہوں نے کافر ہو کر مسلمانوں کو نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کی ضرورتوں کا خیال رکھا۔ اور حرمین شریفین والوں نے اعلان کیاہم جرمنی میں مساجد بنا دینگے۔ اور شام کے پناہ گزینوں کو نہ آنے دیں گے۔ یاللعجب؟

اب آئیے دیکھیں کہ اسلام اس بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے کہ اسلامی ریاست میں کون حاکم ہو صرف مسلمان یا کوئی اور قابل شخص جو اس کا اہل ہو ریاست کا حکمران بن سکتا ہے اور کہاں تک کن حدود میں رہتے ہوئے اس کو اختیار کیا جا سکتا ہے؟

یہ بھی یاد رکھیں کہ سیکولرازم کے لفظ سے ہمیں بدک نہیں جانا چاہئے۔ اس کے اچھے معانی اپنانے میں کچھ حرج نہیں ہے بلکہ اسلام کے بانی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الحکمۃ ضالۃ المومن اخذھا حیث وجدہا۔ کہ حکمت تو مومن کی گم شدہ متاع ہے جہاں سے بھی ملے اس لے لینی چاہیئے۔

اسلام کا نہ یہ منشاء تھا نہ ہے اور نہ ہو گا کہ معاشرہ کو کسی بھی بنیاد پر تقسیم کیا جائے۔ اسلام میں یہ خیال بھی نہیں ہے کہ صرف اور صرف مسلمان ہی اول درجہ کے شہری ہیں باقی دوسرے لوگ نہیں۔

قرآن کریم کا یہ ارشاد ہے

’’یقیناًاللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔ یقیناًبہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔ یقیناًاللہ بہت سننے والا اور گہری نظر رکھنے والا ہے ‘‘ (النساء آیت 59)

یہاں امانت سے مراد انتخاب کا حق ہے جس کے نتیجہ میں حکومت کا اختیار چلتا ہے ووٹ ایک امانت ہے جو اسی کو دینا چاہیے جو اس کا اہل ہو یہی سچی جمہوریت ہے۔ اور جب حکومت ملے تو پھر لازماً انصاف سے کام لینا ہو گا نہ کہ پارٹی کا خیال رکھنا۔

اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قابل اور اہل آدمیوں کا انتخاب کریں جو موزوں ہوں۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تشخیص نہیں ہے ۔کیوں کہ قرآن قیامت تک کے لئے ہے۔ اور سب زمانوں کے لئے ہے۔یہاں پر مذھب کی بنیاد پر انتخاب کی نفی ہے ۔ یہی سیکولرازم ہے۔ اور جب انتخاب ہو جائے تو پھر ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مکمل اطاعت کرے ۔ کیا مسلمان صرف مسلمان حکومت اور مسلمان حاکم کی ہی اطاعت کرے گا؟ غیر مسلم کی اطاعت نہیں کرے گا اور اگر ایسا ہے تو وہ مغربی معاشرہ میں کیوں وہاں کے قوانین کی اطاعت کرتے ہیں۔کہیں یہ بھی تو منافقت نہیں؟

کیوں کہ اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کریں۔ اور رسول کی اور اپنے حکام کی بھی۔(60:4)

یہ قرآن کریم سے کافی ثبوت ہے اس بات کا کہ سیکولرازم کا اچھے معنوں میں استعمال ضروری ہے۔ اور یہ کہ ریاست اور مذھب الگ الگ ہیں اور انہیں الگ الگ ہی ہونا چاہئے اور الگ الگ ہی رہنا چاہئیے۔

مذھب Priesthood یا ملاں ازم نہیں سکھاتا۔ اور دنیا کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے جس سے یہ بات آسانی کے ساتھ سمجھ آ سکتی ہے کہ جہاں جہاں مولویت یا ملاں ازم یا Priesthoodکا تصور غالب رہا خواہ وہ کسی بھی مذھب میں تھا۔ وہاں پھر خون خرابہ ۔ فساد اور امن برباد ہوا ہے۔ اور جب تک جہاں بھی یہ بات رہے گی امن قائم نہ ہو سکے گا۔ امن قائم رکھنے کے لئے ریاست اور مذھب دونوں کو الگ الگ ہونا چاہئیے۔

تمام مذاھب نے اخلاقیات کا درس دیا ہے ، اخلاقیات کے بغیر مذھب ہے ہی نامکمل ! اور ہر نبی کے ماننے والوں سے یہ توقع کی جا سکتی ہے اور توقع کی جاتی رہے گی کہ وہ اعلیٰ اخلاق اپنائیں تا کہ معاشرہ میں بھائی چارہ قائم کیا جاسکے۔ اور ریاست میں کسی بھی قسم کا کوئی امتیازی سلوک کسی کے ساتھ بھی روا نہ رکھا جائے۔ یہی مذھب کی بنیادی تعلیم ہے اور اگر کوئی مذھب اس سے عاری ہے تو وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ اگر اس وقت جرائم کو کم کرنا ہے تو وہ ایک خدا پر ایمان لا کر۔ اور پھر اس کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی دور ہو سکتے ہیں۔ جب اخلاق کا دیوالیہ نکل جاتا ہے تو مذھب پر آنچ آنی شروع ہو جاتی ہے ۔اور لوگ مذھب کو تضحیک کا نشانہ بنانے لگ جاتے ہیں اور اس کا قصوروار مذھب کو ٹھہراتے ہیں اور پھر اسی وجہ سے مذھب کے نام پر خون ریزی ، بربریت ، نفرت ، فرقہ وارانہ فسادات ، دہشت گردی اور تباہی و بربادی خدا کے نام پر مذھب کے نام پر شروع ہو جاتی ہے۔

مولویت اورPriesthood اپنے آپ کو خدا اور مخلوق کے درمیان ایک ایسا طبقہ گردانتا ہے کہ جس کے بغیر وہ کسی نظام کو چلانے ہی نہیں دیتے۔ اس لئے خدارا ملاں ازم کو ختم کریں کہ یہ جس کی گردن پر سوار ہو جائیں گے اسے مار ہی ڈالیں گے کیوں کہ ان کی حرص پھر بڑھتی ہی چلی جائے گی۔

پس ریاست ۔ مذھب میں دخل اندازی نہ کرے۔ ہاں مذھب اسلام سے اصول سیاست سیکھنے چاہئیں وبس!

اب میں اس بات کو لیتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ گواہی دی ہے کہ ۔اِنک لعلی خلق عظیم ۔ صرف اور صرف ایک ہی شخص ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ گواہی دی کہ وہ اخلاق کے اعلی ترین مقام پر فائز ہیں اور وہ آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس ہے۔

آپ نے کیا اخلاق سکھائے۔ اگر ان کا تذکرہ کیا جائے تو اس عاجز میں تو اتنی سکت نہیں ہے کہ ان کا احاطہ کر سکے تا ہم چند بنیادی باتیں پیش کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے مسلمانوں کو درج ذیل تعلیمات دیں اور خود ان پر عمل کر کے دکھایا۔ 

1۔مدینہ میں آپ ﷺ نے سب مذاھب کو یکساں اور برابر کے حقوق دیئے جس میں یہودی مشرکین وغیرہ شامل تھے۔ یہ آپ کے سیکولرازم کی ایک مثال ہے۔

2۔ آپ نے ہر قوم کے لیڈروں کی عزت کرنے کی تعلیم دی۔

3۔ آپ نے جنگوں میں بھی عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں اور مذھبی لیڈروں کو قتل نہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔

4۔ ہمسائیوں سے حسن سلوک کی تعلیم دی کہ جبرائیل نے اس بارے میں اتنی تاکید کی ہے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہیں وہ وراثت میں بھی حقدار نہ ہو جائے۔

5۔ معاہدات کی پابندی سکھائی ، اور کی ، ابوجندلؓ کا مشہور واقعہ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا واپس جاؤ اب میں معاہدہ کر چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کافی ہے۔

6۔ عورتوں کے حقوق کی جس طرح پاسداری اور نگہداشت آپ نے فرمائی کسی مذھب نے نہیں کی انہیں شیشوں اور نگینوں سے تشبیہ دی          

7۔ بچوں تک کا احترام سکھایا ہے۔

8۔ آنحضرت ﷺ نے بزنس میں خریدو فروخت میں دھوکہ کو نہ صرف نا پسند فرمایا بلکہ اس کی مخالفت فرمائی اور فرمایا جو دھوکہ دے اس کا ہمارے ساتھ کچھ تعلق نہیں ہے۔ مگر وہ معاشرہ جن کو اس کی تعلیم دی گئی تھی وہ دھوکہ تو ایک طرف اس سے کہیں زیادہ اس میں ملوث ہے جس کے لئے مناسب الفاظ بھی ملنے مشکل ہو رہے ہیں۔

مدارس:

ایک بات یہ بھی یادرکھیں کہ پاکستان میں مدارس تو بنائے گئے مگر ان میں بھی اخلاقی تعلیم نہیں دی جاتی۔ چند ایک مسائل سکھا کر مثلا ختم نبوت وغیرہ ۔مساجد میں بھیج دیا جاتا ہے تا کہ ان کا روٹی پانی چلتا رہے۔اور وہ بھیک مانگتے رہیں اس سے ان کی عزت نفس بھی مجروح ہو رہی ہے۔

لاؤڈ سپیکرز سے اتنے اتنے نازیبا تقاریر اور اعلانات مساجد سے کی جاتی ہیں جس سے بیماروں کا ۔ بچوں کا اور بوڑھوں کا آرام بھی محال ہے۔ مگر یہاں دیکھو مغربی معاشرہ میں ان باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ بلکہ کسی کے گھر میں باہر لائٹ بھی اونچی جگہ پر جو ساتھ والے گھر والوں کو تکلیف دیتی ہو تو اسے بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔

آنحضرت ﷺ کی بھی یہی تعلیم ہے۔ بات وہیں آجاتی ہے کہ عمل مفقود ہے مسلمانوں سے۔ اور یہ اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک ریاست اور مذھب الگ الگ نہ ہوں گے، اور علماء اپنی ڈیوٹی نہ دینگے۔ اس معاشرہ میں یہ لوگ اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے قرآن کو بھلا دیا ہے۔ جب تک وہ اس پر عمل کرتے رہے یہ ساری خوبیاں ان میں پائی جاتی رہیں۔ پس مسلمانوں کو وسعت قلبی ، وسعت نظری اور حوصلہ اور عمدہ اخلاق اپنانے چاہیں جس کی تعلیم آنحضرت ﷺ نے دی تھی۔

جب پاکستان بنا ہے اس وقت ، قائداعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 ؁ء کو جو تقریر کی تھی اس میں فرمایا تھا۔         

That the first duty of a govenment is to maintain law and order, so that the life , property and religious beliefs of its subjects are fully protected by the State...

....If you change your past and work together in a spirit that everyone of you , no matter to what community he belongs , no matter what relations he had with you in the past, no matter what is his color , caste or creed, is first , second and last a citizen of this State with equal rights, privileges, and obligations , there will be on end to the progress you will make.

You are free; you are free to go to your temples, you are free to go to your mosques or to any other place or worship in this State of Pakistan. You may belong to any religion or caste or creed that has nothing to do with business of the State.

Now I think we should keep that in front of us as our ideal and you will find that in course of time Hindus would cease to be Hindus and Muslims would cease to be Muslims, not

In the religious sense, because that is the personal faith of each individual, but in the political sense as citizens of the State.

پس یہ وہ سنہری اصول ہے جس کی بنیاد پر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنایا تھا۔

بانی پاکستان نے یہ صرف تقریر ہی نہیں کی۔ اور صرف نصیحت ہی نہیں کی بلکہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کیوں کہ انہوں نے جو اپنی پہلی کابینہ ۱۹۴۷ میں بنائی تھی اس میں مسٹر چندریگر انڈیسٹرل منسٹر تھے۔ جو ہندو تھے۔

مسٹر جگندرا ناتھ منسٹر آف لیبر تھے۔

دسمبر میں آپ نے سر ظفر اللہ خان صاحب کو اپنی کابینہ میں شامل کیا جو احمدی تھے۔

پس جس نے پاکستان بنایا اس نے تو یہ کیا اور آج جنہوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی ۔ وہ کرسیوں پر براجمان ہیں اور قائداعظم کے سارے اصولوں سے انحراف کر کے ملک کے نگہبان بن بیٹھے ہیں۔ اب قائداعظم کی تصویر صرف اور صرف نوٹوں پر ہی رہ گئی ہے۔ ان کے اصولوں کو ختم کر کے پامال کر دیا ہے اور تاریخ کو اسقدر مسخ کر دیا گیا کہ وہ لوگ جنہوں 1965 ؁ء کی جنگ میں مادر وطن کے لئے چونڈہ اور چھمب جوڑیاں کے محاذوں پر اپنی جانیں دیں۔ صرف مذھب کی بنیاد پر تعصب کی وجہ سے کہ وہ احمدی تھے انہیں تاریخ سے نکال دیا گیا۔ اور جنہوں نے پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ تاریخ اور حکومت اور ارباب حل و اقتدار انہیں تعصب اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر محو کر چکے ہیں۔ اناللہ و اناالیہ راجعون۔

قائداعظم کا یہ خواب ابھی شرمندہ تعبیر ہے۔ اور جب تک ریاست اور مذھب الگ الگ نہ ہوں گے یہ شرمندہ تعبیر ہی رہے گا۔ اور اگر مسلمان حکومتیں ۔ اسلامی معاشرہ اس اصول کو اپنا لیں ۔اپنے عہدہ ۔ اور حاکم بننے کی خواہش اور لالچ کو بالائے طاق رکھ کر ہر ایک کے ساتھ مساویانہ سلوک کریں۔ مذھبی تفریق نہ ہو ، منافرت نہ ہو اور عدل و انصاف کو رائج کریں۔ خود بھی کرپشن سے پاک ہوں۔ اور معاشرہ کو بھی پاک کریں۔ اور آنحضرت ﷺ کی تعلیمات پر کماحقہ عمل کریں۔ تو مغربی معاشرہ اس کے مقابلہ میں ایسا ہی ہو گا جیسا کہ چمکتے سورج کے سامنے دیا۔ اور اگر عمل نہ کیا پھر بے شک یہ معاشرہ حسین نظر آئے گا۔

ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبانہ اگر کوئی پاک دل ہوے دل و جان اس پہ قرباں ہے۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/syed-shamshad-ahmad-nasir,-new-age-islam/islamic-state-and-secularism--اسلامی-ریاست-اور-سیکولرازم/d/104913

 

Loading..

Loading..