New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 09:09 AM

Urdu Section ( 26 May 2015, NewAgeIslam.Com)

Golden Sayings and Anecdotes of Religious Personalities (Part-1) مقربین، بزرگان اور مامورین من اللہ کے چند نصیحت آموز واقعات و اقوال

 

 

 

 

 

 

 

امام سید شمشاد احمدناصر،نیو ایج اسلام

نیک باتیں ہمیشہ اچھی ہوتی ہیں۔ باتوں کو مثالوں سے واضح کرنے سے جلد سمجھ بھی آتی ہیں اور ایمان بھی بڑھتا ہے، چند اس قسم کی نیکی کی باتیں اور نصائح لکھتا ہوں جو سبق آموز ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں عمل کی بھی ترغیب دیتی ہیں مثلاً مغربی معاشرہ میں ایک دوسرے کا ادب و احترام اٹھتا جا رہا ہے۔ شاگرد استاد کی وہ عزت نہیں کرتے یا انہیں وہ عزت نہیں دیتے جو دینی چاہئے۔ آج سے تیس چالیس سال پہلے تو استادوں کا بہت رعب ہوتا تھا۔ بعض شاگرد اپنے استادوں سے ان کے سخت رویہ کی وجہ سے ڈرتے تھے، بعض ان کے علمی مقا م اور ڈسپلن کی وجہ سے انہیں عزت دیتے اور ان کے رعب سے متاثر ہوتے تھے۔

سکولوں میں تو بالکل ہی حالت خراب ہے۔ ایک دفعہ مجھے ایک ہائی سکول کے ٹیچر نے اپنے سکول میں اسلام کے بارے میں تقریر کرنے اور طلباء کے سوالوں کے جواب دینے کے لئے بلایا۔ خاکسار جب سکول میں پہنچا تو پتہ چلا کہ اس استاد کے دو پیریڈ ہیں جو میں نے لینے ہیں، خاکسار نے تجویز دی کہ دونوں کلاسوں کو اکٹھا کرلیں۔ ایک پیریڈ میں اسلام کے بارے میں تفصیلاً تعارف ہو جائے گا اور دوسرے پیریڈ میں طلباء کے سوالات کے جوابات ہو جائیں گے۔ استاد نے تجویز کو پسند کیا اور دونوں کلاسوں کے پچاس ساٹھ طلباء کو لائبریری میں جمع کر لیا۔ خاکسار نے تقریر شروع کی تھی کہ قریباً 5 منٹ بعد بالکل میرے سامنے بیٹھے ہوئے ایک طالب علم نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میز پر رکھ لیں۔ خاکسار نے دو تین منٹ تو اسے دیکھا کہ شاید خود سمجھ آجائے مگر جب ایسا نہ ہوا تو خاکسار نے طالب علم سے پوچھا کہ کیا اس کے پاؤں یا ٹانگ میں تکلیف ہے وہ کہنے لگا کہ نہیں۔ میں نے کہا تم نے میز پر ٹانگیں رکھی ہیں۔ اگر تمہیں تکلیف نہیں ہے تو ٹانگیں نیچے کرلو ورنہ آپ کلاس سے جا سکتے ہو!

خاکسار کا اتنا کہنا تھا کہ اس نے فوراً مؤدب ہو کر اپنے پاؤں نیچے کر لئے اور صرف یہی نہیں معذرت بھی کی۔ اس کا ایسا گہرا اثر ہوا کہ باقی طلباء کو بھی کان ہو گئے اور سب سنبھل کر بیٹھے رہے۔ یہ قریباً ڈیڑھ گھنٹہ کا وقت تھا۔

یہ مثال بیان کرنے کی ضرورت اس وجہ سے آئی ہے کہ مغربی معاشرہ میں ادب و احترام نہیں سکھایا جارہا۔ اگر استاد تھوڑی سی بھی کسی معاملہ میں سختی کرے تو پولیس کو بلا لیا جاتا ہے۔ ہر شخص ڈرتا ہے نصیحت کرتے ہوئے بھی! یہی وجہ ہے کہ استادوں کو بھی پھر پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ صرف کلاس پڑھا کر چلے جاتے ہیں۔ ادب و احترام سکھانے کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ الا ماشاء اللہ۔ اور یہی اسلامی تعلیمات ہیں لیکن ادب سکھانا بہت ضروری ہے اور یہ اسلام کے عین مطابق ہے ایک ضرب المثل بھی مشہور ہے باادب بانصیب۔ بے ادب بے نصیب!

ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے! حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی صاحب کا بیان ہے:

’’حضرت امام بخاریؒ جب درس فرماتے تو بعض دفعہ ایک چھوٹا سا لڑکا جب بھی آپ کی طرف آتا آپ اس کے ادب اور تعظیم کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے اور حاضرین سے مخاطب ہو کر فرماتے کہ یہ علم جس سے تم لوگ فائدہ اٹھا رہے ہو اس بچہ کے والد بزرگوار کا فیض ہے۔‘‘ (حیات نور صفحہ3)

یہی واقعہ ایک جگہ یوں بیان ہوا ہے:

’’ایک بڑے عالم ممبر پر بیٹھے درس دے رہے تھے۔ درس دیتے دیتے اچانک رک گئے اور کھڑے ہو گئے، پھر چند لمحے بعد بیٹھ کر درس شروع کر دیا۔ لوگ بہت حیران ہوئے کہ نہ جانے انہیں کیا ہو گیا تھا۔ درس کے بعد وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکے۔ ’’حضرت کیا بات تھی آپ نے اچانک درس روک دیا تھا اور کھڑے ہوگئے تھے؟‘‘ انہوں نے جواب میں فرمایا:

’’میرے استاد کا بیٹا دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، کھیلتے کھیلتے وہ اچانک مسجد کی طرف آگیا۔ میں اس کی تعظیم میں کھڑا ہوا تھا۔‘‘

’’چھوٹے استاد‘‘

مولانا شاہ عبدالرحمان مظاہر علوم میں صدر مدرس تھے، انہوں نے اپنا ایک واقعہ یوں سنایا۔

’’میں اپنے شہر سے جب سہارن پور تعلیم حاصل کرنے کے لئے آیا تو ہر استاد سے مل کر آیا۔ ایک استاد سے میں نے بالکل ابتدائی کتابیں پڑھی تھیں۔ ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔ سہارنپور آکر پڑھنا شروع کیا۔ کتاب بالکل سمجھ میں نہ آئی، حالانکہ مجھے اپنی جماعت میں بہت سمجھ دار خیال کیا جاتا تھا۔

میں غور کرنے لگا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ اللہ پاک نے راہنمائی فرمائی۔ دل میں بات ڈال دی کہ ان استاد سے مل کر نہیںآیا۔ چنانچہ خط لکھ کر ان سے معافی مانگی اور ملاقات نہ ہو سکنے کی وجہ لکھی۔ جواب میں انہوں نے لکھا۔

’’میرے دل میں خیال پیدا ہوا تھا کہ تم مجھے چھوٹا سمجھ کر مل کر نہیں گئے، لیکن تمہارا خط آنے پر معلوم ہوا کہ یہ بات نہیں تھی۔‘‘

اس کے بعد انہوں نے دعائیہ کلمات لکھے، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کتاب خوب سمجھ میںآنے لگی اور آج میں تمہیں ترمذی پڑھا رہا ہوں۔‘‘ (مختصر پر اثر جلد دوم صفحہ 88۔89)

پس استادوں کا ادب و احترام بہت ضروری ہے اور ان کی دعاؤں سے حصہ لینا چاہئے۔ اور استادوں کو طلباء کے ساتھ رحمت اور شفقت اور ہمدردانہ سلوک کرنا چاہئے۔

ایک بزرگ کی نصیحت

حضرت الحاج حکیم مولانا نور الدین بھیرویؓ فرماتے ہیں:

’’میں سفر میں جانے لگا تو ایک بزرگ کی بات یاد آئی جس نے کہا کہ جس شہر میں جاؤ وہاں چار شخصوں یعنی ایک وہاں کے پولیس آفیسر ایک طبیب، ایک اہل دل اور ایک امیر سے ضرور ملاقات رکھنا اور جس شہر میں یہ چاروں نہ ہوں وہاں نہ جانا چاہئے۔‘‘ (مرقاۃ الیقین صفحہ176)

ایک زبردست نصیحت:

حضرت مولانا الحاج حکیم نور الدین مزید فرماتے ہیں کہ

’’میں جب بھوپال سے رخصت ہونے لگا تو اپنے استاد مولوی عبدالقیوم صاحب کی خدمت میں رخصتی ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ سینکڑوں آدمی بطریق مشایعت میرے ہمراہ تھے۔ جن میں اکثر علماء اور معزز طبقہ کے آدمی تھے۔ میں نے مولوی صاحب سے عرض کی کہ مجھ کو کوئی ایسی بات بتائیں جس سے میں خوش رہوں۔ فرمایا کہ

’’خدا نہ بننا اور رسول نہ بننا‘‘

میں نے عرض کیا کہ حضرت ! میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی اور یہ بڑے بڑے عالم موجود ہیں غالباً یہ بھی نہ سمجھے ہوں۔ سب نے کہا۔ ہاں ہم بھی نہیں سمجھے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ تم خدا کس کو کہتے ہو۔ میری زبان سے نکلا کہ خدا تعالیٰ کی ایک صفت فَعَالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ فرمایا کہ بس ہمارا مطلب اسی سے ہے۔ یعنی تمہاری کوئی خواہش ہو اور وہ پوری نہ ہو تو تم اپنے نفس سے کہو کہ میاں! تم کوئی خدا ہو۔ رسول کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آتا ہے وہ یقین کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی سے لوگ جہنم میں جائیں گے۔ اس لئے اس کو بہت رنج ہوتا ہے۔ تمہارا فتویٰ اگر کوئی نہ مانے تو وہ یقینی جہنمی تھوڑا ہی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا تم کو اس کا رنج نہ ہونا چاہئے۔ حضرت مولوی صاحب کے اس نکتہ نے اب تک مجھ کو بڑی راحت پہنچائی۔ فجزاہم اللہ تعالیٰ۔ ‘‘ (مرقاۃ الیقین صفحہ87۔88)

تلاوت قرآن کریم اور خشیت الٰہی

حضرت جابرؓ یوں بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ انہیں سورہ رحمان تلاوت کر کے سنائی۔ صحابہ محو حیرت ہو کر خاموشی سے سنتے رہے۔ رسول کریم ﷺ نے سورت کی تلاوت مکمل ہونے پر اس سکوت کو توڑتے ہوئے فرمایا کہ ایک قوم جن کو جب یہ سورت سنائی تو انہوں نے تم سے بھی بہتر نمونہ دکھایا۔ جب بھی میں نے فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ کی آیت پڑھی جس کا مطلب ہے کہ تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے تو وہ قوم جواب میں کہتی ہے۔ لَا بِشَیْءٍ مِّنْ نِّعَمِکَ رَبَّنَا نُکَذِّبُ وَلَکَ الْحَمْدُ ۔

یعنی اے ہمارے رب ہم تیری نعمتوں میں سے کسی چیز کو جھٹلاتے نہیں اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں۔ (ترمذی)

قیس بن عاصمؓ نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا جو وحی آپ پر نازل ہوئی ہے۔ اس میں سے کچھ سنائیں۔ نبی کریمؐ نے سورۃ الرحمن سنائی وہ کہنے لگا دوبارہ سنائیں۔ آپ نے پھر سنائی اس نے تیسری بار پھر درخواست کی تو آپؐ نے تیسری مرتبہ سنائی جس پر وہ کہہ اٹھا خدا کی قسم اس کلام میں روانی اور ایک شیرینی ہے اس کلام کا نچلا حصہ زرخیز ہے تو اوپر کا حصہ پھلدار ہے۔ اور یہ انسان کا کلام نہیں ہو سکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے ساتھ کوئی معبود نہیں اور آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ (قرطبی)

حضرت زیدؓ بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت ابیّؓ بن کعب نے رسول کریم ﷺ کی موجودگی میں صحابہ کو قرآن کی تلاوت سنائی تو سب پر رقت طاری ہو گئی۔ رسول کریم نے فرمایا رقت کے وقت دعا کو غنیمت جانو کیونکہ رقت بھی رحمت ہے۔ (قرطبی)

کلام الٰہی سن کر رسول کریم ﷺ پر رقت طاری ہوجاتی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے ایک روز آپؐ نے فرمایا کچھ قرآن سناؤ! جب وہ اس آیت پر پہنچے فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا (سورۃ النساء: 42) تو آپؐ ضبط نہ کر سکے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی بہہ نکلی۔ ہاتھ کے اشارے سے فرمایا بس کرو۔ (بخاری)

آپؐ کی خشیت کا یہ عالم تھا کہ حضرت عبداللہؓ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم نے ایک شخص کو تلاوت کرتے سنا جو سورۂ مزمل کی اس آیت کی تلاوت کر رہا تھا۔ اِنَّ لَدَیْنَا اَنْکَالًا وَجَحِیْمًا(یعنی ہمارے پاس بیڑیاں اور جہنم ہے) تو نبی کریم ﷺ مدہوش ہو کر گر پڑے۔ (کنز)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں رسول اللہ کے ساتھ مجھے ایک رات گزارنے کا موقع ملا۔ آپ نے بسم اللہ کی تلاوت شروع کی اور رو پڑے یہاں تک کہ روتے روتے گر گئے۔ پھر بیس مرتبہ بسم اللہ پڑھی ہر دفعہ آپ روتے روتے گر پڑتے۔ آخر میں مجھے فرمانے لگے وہ شخص بہت ہی نامراد ہے جس پر رحمن اور رحیم خدا بھی رحم نہ کرے۔ (ابن جوزی)

کندہ قبیلہ کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے آپ سے کوئی نشانِ صداقت طلب کیا۔ آپ نے قرآن شریف کے اعجازی کلام کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایسا کلام ہے جس پر کبھی بھی باطل اثرانداز نہیں ہو سکتا نہ آگے سے نہ پیچھے سے۔ پھر آپ نے سورۂ صافات کی ابتدائی چھ آیات کی خوش الحانی سے تلاوت کی۔ وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا فَالزّٰجِرَاتِ زَجْرًا۔ فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا۔ اِنَّ اِلٰھَکُمْ لَوَاحِدٌ۔ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ۔ (الصّٰفّٰت: 1تا6)

ترجمہ: قطار در قطار صف بندی کرنے والی (فوجوں) کی قسم پھر ان کی جو للکارتے ہوئے ڈپٹنے والیاں ہیں۔ پھر ذکر بلند کرنے والیوں کی۔یقیناًتمہارا معبود ایک ہی ہے۔ آسمانوں کا بھی رب ہے اور زمین کا بھی اور اس کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور تمام مشرقوں کا رب ہے۔

یہاں تک تلاوت کر کے حضورؐ رک گئے کیونکہ آواز بھرا کر گلوگیر ہو گئی تھی۔ آپ ساکت و صامت اور بے حس و حرکت بیٹھے تھے۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے جو ٹپ ٹپ داڑھی پر گر رہے تھے۔ کندہ قبیلہ کے لوگ یہ عجیب ماجرا دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔ کہنے لگے کیا آپ اپنے بھیجنے والے کے خوف سے روتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں اسی کا خوف مجھے رلاتا ہے جس نے مجھے صراط مستقیم پر مبعوث فرمایا ہے۔ مجھے تلوار کی دھار کی طرح سیدھا سا راہ پر چلنا ہے اگر ذرا بھی میں نے اس سے انحراف کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا۔‘‘ (حلبیہ)

(اسوہ انسان کامل مرتبہ حافظ مظفر احمد صفحہ96-97 )

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/golden-sayings-and-anecdotes-of-religious-personalities-(part-1)---مقربین،-بزرگان-اور-مامورین-من-اللہ-کے-چند-نصیحت-آموز-واقعات-و-اقوال/d/103186


 

Loading..

Loading..