New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 08:54 PM

Urdu Section ( 25 Sept 2015, NewAgeIslam.Com)

Eid ul Azha: Achievement of Piety or a Way to Luxury and Enjoyment عید الاضحیہ۔ تقویٰ کا حصول یا عیش و طرب کا سامان

 

 

 امام سید شمشاد احمد ناصر ، نیو ایج اسلام

مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیں۔ ایک عید الفطر جو پورا ایک ماہ رمضان المبارک کے روزے رکھ کر خدا کو منا کر ، راضی کر کے ، اس کی عبادتوں میں ایک ماہ گذار کر ، بھوکے پیاسے ہی نہیں بلکہ روزہ کو اس کی تمام شرائط کے ساتھ پورا کر کے شکرانے کے طور پر مسلمان اکٹھے ہو کر پھر دو رکعات نماز ادا کرتے ، تکبیرات بلند کرتے اور خطبہ عید سنتے اور ان تمام عبادتوں کو اور حقوق کو جو ایک صحیح مسلمان نے رمضان میں ادا کئے ہوتے ہیں کو اگلے ایک سال میں دہراتے رہنے کا عہد کرتے ہیں۔

دوسری عید ، عید الاضحیہ کہلاتی ہے یہ اسلامی کیلنڈر کے بارہویں مہینہ یعنی ذی الحج میں آتی ہے ۔ اس کا تعلق حضرت ابراہیم کی قربانیوں کے ساتھ۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کی قربانیوں کے ساتھ ہے اور سب سے بڑھ کے جو قربانیاں حضور پاک ﷺ نے دیں ان کے ساتھ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید میں یوں آتا ہے کہ اے مرے محبوب نبی اعلان کر دے کہ

’’ یقیناًمیری نمازیں اور میری عبادتیں اور میری دعائیں اور میری ریاضتیں اور میری ہر قسم کی قربانیاں خواہ وہ مالی ہیں ،جانی ہیں ، خواہشات کی ہیں ، جذبات کی ہیں ، اولاد اور بیوی کی ہیں ، رشتہ داریوں کی ہیں اور پھر میرا جینا ۔ میری زندگی ، میری زندگی اور حیات کا ہر لمحہ اور پھر میرا مرنا گویا ہر چیز للہ رب العالمین ۔ خدائے بزرگ و برتر رب العالمین ، تمام جہانوں کے رب کے لئے ہے۔

یہ ہے انسان کی پیدائش کی غرض و غائت اور یہی غرض و غایت ہمیں ہماری عیدوں میں بھی نظر آنی چاہئیے۔

جناب عبدالحمید شوق صاحب ایک پرانے شاعر ہیں ۔ ان کے بیٹے نے مجھے عید کے بارے میں ایک نظم بھجوائی مجھے بہت پسند آئی ۱۶ مئی 1961 ؁ء کو لکھی گئی۔آپ بھی اسے پڑھیں۔    

دنیا میں آج عید کا اعلان ہو گیا

عیش و طرب کا چار سو سامان ہو گیا

آلام روزگار سے بخشی گئی نجات

رنج و غم حیات کا درماں ہو گیا

کیا خوب اسماعیل تھا فرزند نیک نام

راضی بحکم و خواہش رحمان ہو گیا

ذبح عظیم آ گیا فی الفور سامنے

حضرت کے دست پاک پہ قربان ہو گیا

فرماں پرست دیکھ کے پسر خلیل سا

مینڈھا تھا جانور مگر حیران ہو گیا

آئی تو درس دے گئی قربانیوں کا شوق

ملت کے سر پہ عید کا احسان ہو گیا

(عبدالحمید شوق)

عید کے دن خبر تو یہ دیکھی کہ سارے ملک میں عید پورے مذھبی جذبہ و احترام سے منائی گئی ، مگر بعد میں جو مناظر تھے وہ تو مذھبی جذبہ ، عقیدت و احترام سے بالکل خالی تھے۔ ہر عید کوئی نہ کوئی سبق دیتی ہے۔ اور ہر عید کے منانے کا کچھ نہ کچھ فلسفہ اور حکمت ضرور ہے ہاں یہ بھی ٹھیک اور درست ہے کہ اسلام عین فطرت کا مذھب ہے۔ خوشی کرنی چاہئے ، خوش ہونا چاہئے اسی وجہ سے عید کے لئے مجمع ہوتا ہے۔ نماز عید ، عید گاہ یا مسجد میں ادا کی جاتی ہے۔ کوئی شخص اکیلے عید نہیں منا سکتا، یہ نہیں کوئی کہتا کہ میں جنگل میں اکیلے عید منانے جا رہا ہوں۔ عید منانے کے لئے خوشی کے اظہار کے لئے اپنے لوگ، دوست ، ساتھی اور رشتہ دار ضرور ہونے چاہئیں۔ تبھی انسان خوش ہوتا ہے۔ مگر حقیقت میں کیا ہوتا ہے اس سبق کے کوئی نزدیک بھی نہیں جاتا جو عید سکھانے آتی ہے۔ عید الفطر ہو یا عید الاضحیہ ہو یہ ہمارے لئے کچھ سبق چھوڑ جاتی ہیں۔

عید الاضحیہ میں حضرت ابراہیم کی قربانی۔ حضرت اسماعیل کی قربانی ۔ حضرت ہاجرہ کی قربانیوں کی یاد تازہ کرنی ہوتی ہے۔

بکرے ، گائے ، منیڈھے اور اونٹ کی ہی قربانی صرف اور صرف عید الاضحیہ نہیں کہلاتی۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا ہے کہ سورۃ الحج کی آیت 38 میں آتا ہے۔

لن ینال اللہ لحومھا ولا دماء ھا ولکن ینالہ التقویٰ منکم ۔ 38:22

یعنی خدا کو ان قربانیوں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا۔ لیکن تمہارا تقویٰ۔ گویا یہ عید اور یہ قربانی جو تم نے دی ہے وہ تمہیں تقوی میں آگے ہی آگے بڑھانے آئی ہے۔

تقوی کے کیا معانی ہیں! تقوی تمام اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔ تقوی کے کئی معانی ہیں۔ بچنا ، ڈرنا ، ڈھال بنا لینا۔ گویا خدا تعالیٰ کو شیطان کے خلاف ڈھال بنا لو۔ بدیوں سے بچ جاؤ ، برائیوں کے کرتے وقت خدا تعالیٰ سے ڈرو۔

اگر خدا ڈھال نہیں بنا ، خدا کی محبت دل میں نہیں بڑھی۔ برا کام کرتے وقت خدا کا خوف اور ڈر دل میں اس طرح پیدا نہیں ہوا کہ اگر یہ برا کام میں نے کیا تو میرا خدا ، میرا مولیٰ کریم مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔ تو پھر عید بے معنی ہے!

ہمارے لوگ ’’عید قربان ‘‘ سے بس مینڈھا ، بکرا گائے اور اونٹ ذبح کرنا ہی مراد لیتے ہیں۔ حالانکہ دنیا میں لاکھوں جانور روزانہ ذبح کئے جاتے ہیں۔ گوشت کھایا جاتا ہے ۔ مگر کوئی اسے عید قربان نہیں کہتا۔ تو پھر کون سی الگ بات ہوئی ، عید کے دن جو ممتاز کر رہی ہے دوسرے دنوں سے!

پس اگر عید سے تقویٰ کا سبق نہ سیکھا ۔ تو جیسا کہ میں نے کہا عید بے معنی ہے۔ یہ نفس کو دھوکہ دینے والی بات ہے کہ ہم نے عید منائی۔! منائی تو ضرور مگر وہ عید نہیں جو رسول اللہ ﷺ نے منائی۔ وہ عید نہیں جو صحابہ کرامؓ نے منائی۔ اور وہ عید نہ منائی جس کا مطالبہ اللہ تعالیٰ نے کیا کہ تم تقوی اختیار کرو۔ تقوی میں بڑھ جاؤ ، تمہارے ہر فعل میں تقوی ہو اور خدا کی محبت رگ و ریشہ میں سرائت کر جائے۔ جس طرح تم نے اپنے قربانی کے جانور کو زمین پر گرا کر اسے ذبح کر دیا۔ اپنے نفس کو بھی اسی طرح سفلی خواہشات سے گرا کر اس پر چھری پھیر دو۔ مگر کتنے ہیں جو ایسا کرتے ہیں ۔ تقوی تو گویا نزدیک بھی نہیں پھٹکتا۔

حضرت امام جماعت احمدیہ مرزا مسرور احمد نے آسٹریلیا کی مسجد بیت الھدی سڈنی میں نماز عید پڑھائی اور خطبہ عید ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے فرمایا کہ اس عید کے موقع پر ’’ ظاہر ‘‘ پر ہی زور ہوتا ہے ۔ ایسے ایسے لوگ بھی بڑے جذبے کے ساتھ قربانیاں کرتے ہیں جنہوں نے نہ کبھی نماز پڑھی اور نہ روزہ رکھا اور قربانی کے بعد بالکل بھول جاتے ہیں کہ ان کی زندگی کا کیا مقصد خدا تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔

بے شک یہ عید قربان ہے ، خوشی کا تہوار ہے مگر یہ حضرت ابراہیم کی ان کے بیٹے حضرت اسماعیل اور ان کی بیوی حضرت ہاجرہ کی قربانیوں کا تسلسل ہے۔ انہی کی قربانیاں تھیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ انعام دیا کہ آج ہر مسلمان ہر نماز میں جو درود پڑھتے ہیں اس میں حضرت ابراہیم پر آپ کی آل پر درود پڑھا جاتا ہے ۔ یہ ان قربانیوں کا انعام ہے جو خدا تعالیٰ نے دیا۔ یہ ایک مینڈھا قربان کر دینے سے تو انعام نہیں ملا۔               

نہ انکی قربانی کا گوشت یا خون ان کو کچھ انعام دلا سکا اور نہ امت مسلمہ میں اونٹوں بکریوں کی قربانی کا کچھ انعام دلا سکے گی۔ آپ نے فرمایا اگر درود شریف کی دعا میں حصہ دار بننا ہے تو وہ تقوی پیدا کرو جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ تقوی پیدا کرو جو آخری شریعت لانے والے ہمارے برگذیدہ نبی محمد رسول اللہ ﷺ

پیدا کرنے آئے تھے ۔ تمہاری قربانیوں کی ظاہری شکل کوئی نتیجہ نہ پیدا کرے گی۔ تقوی کے بغیر اس قربانی کی کوئی قبولیت نہ ہو گی۔

آپ نے تقوی کے مضمون کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ ہمیں یہ بات ہمیشہ مدنظر رکھنی چاہئے کہ بغیر تقوی کے کچھ بھی نہیں۔ بغیر تقوی کے تو نماز پڑھنے والے کی بھی نیکی نہیں کیوں کہ فویل للمصلمین کا حکم آیا ہے۔تقوی کے بغیر نہ عبادتیں نہ قربانیاں کسی کام کی ہیں۔ تقوی ہو گا تو پھر قبولیت بھی ہو گی۔ آپ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی قربانیوں کے ضمن میں مزید فرمایا کہ اسماعیلی صفات اپنے پیدا کریں یعنی اطاعت ، عبادت ۔ اس کو ظاہری شکل میں پورا کرنے کے لئے انہوں نے جانور کی قربانی کی۔ اور رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپناؤ۔ اگر نمازنہیں پڑھتے تو سال میں ایک جانور کی قربانی کچھ فائدہ نہ دے گی۔ حقوق العباد کی ادائیگی کی بہت ضرورت ہے ، ان مقاصد کے حصول کے لئے کسی جانور کی قربانی کی ضرورت نہیں اور نہ ہی مینڈھے یا گائے کی قربانی ان مقاصد کو پورا کر سکتی ہے۔

جماعت کے لوگ جہاں جہاں قربانی دینے کی ضرورت ہے دے رہے ہیں اگر جان کی قربانی کی ضرورت ہے تو وہ بھی دے رہے ہیں۔ دشمن اپنا دردناک انجام ضرور دیکھے گا۔ بعض لوگ دوسروں کے جائز حقوق بھی غصب کر رہے ہیں وہ لاکھ نمازیں پڑھیں اور قربانیاں کریں ، یہ سب کچھ بے فائدہ ہے۔ بس ہر کام کرتے وقت تقوی مدنظر ہو، کہ خدا دیکھ رہا ہے تبھی حقیقی عید ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے۔ آمین۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/syed-shamshad-ahmad-nasir,-new-age-islam/eid-ul-azha--achievement-of-piety-or-a-way-to-luxury-and-enjoyment--عید-الاضحیہ۔-تقویٰ-کا-حصول-یا-عیش-و-طرب-کا-سامان/d/104711

 

Loading..

Loading..