New Age Islam
Thu Mar 12 2026, 03:32 PM

Urdu Section ( 13 Nov 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The True Standard of Patriotism حب الوطنی کی اصل کسوٹی

سید شاہ واصف حسن واعظی

12 نومبر،2025

حب الوطنی کے اظہار کا انداز اب محض جذباتی یا ثقافتی مسئلہ نہیں رہا،بلکہ یہ ایک نازک آئینی بحث کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔حالیہ دنوں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گورکھپور میں منعقدہ ’ایکتا پدیاترا‘ کے دوران یہ اعلان کیا کہ اترپردیش کے تمام اسکولو ں میں ’وندے ماترم‘ کاباقاعدہ اور لازمی طور پر گایا جانا یقینی بنایا جائے گا۔بظاہر یہ فیصلہ قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے فروغ کے جذبے کے تحت کیا گیا ہے اور کسی بھی ملک میں اپنے قومی شعائرے کے احترام کا ماحول کرناایک مثبت قدم سمجھا جاسکتاہے۔ تاہم جب کسی ترانے یا نعرے کو ’لازمی قرار دے دیا جائے تو معاملہ محض جذبات کا نہیں رہتا بلکہ آئینی او رمذہبی پہلو بھی سامنے آجاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہا ں سوال اٹھتا ہے کہ آخر حب الوطنی کا پیمانہ کیاہے؟ کیا قوم سے محبت کے لیے ہر شہر کو ایک ہی طرز، ایک ہی لفظ او رایک ہی ترانے میں اپنی عقیدت کا اظہار کرنا ہوگا؟ یا یہ کہ ہر فرد اپنے ضمیر، عقیدے اوراحساس کے مطابق اپنی محبت کا حق ادا کرنے کے لیے آزاد ہے؟ یہی وہ بنیادی نکتہہے جس نے اس فیصلے کوبحث ومباحثے کامرکز بنادیاہے۔ حب الوطنی کا اظہار اگر رضا کارانہ جذبے سے کیا جائے تو زیادہ خلوص اور احترام کے ساتھ سامنے آتاہے، بجائے اس کے کہ اسے انتظامی یا قانونی دائرے میں قید کردیا جائے۔ ریاستی سطح پر تعلیم، نظم ونسق اور قومی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان ایک خوش آئند بات ہے،مگر جب کوئی فیصلہ مذہب، عقیدے یا ضمیر کے دائرے سے ٹکرا جائے توجمہوریت کے مزاج میں ایک طرح کی بے چینی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی بے چینی اس وقت بھی محسوس کی جارہی ہے۔اسکولوں میں نظم وضبط، اخلاقیات او رقومی شعور کی تعلیم ضرور ہونی چاہئے، لیکن جب کسی خاص نعرے یا ترانے کو ’لازمی‘ کیا جائے تو اس کے معانی بدل جاتے ہیں۔لازمی قرار دینا محض انتظامی عمل نہیں بلکہ ضمیر پر قانونی دباؤ ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے۔

یہ بات ناقابل انکار ہے کہ ملک کی آزادی کی جدوجہد میں مختلف نعرے، ترانے او رعلامتیں قوم کوبیدار کرنے میں مدد گار ثابت ہوئیں۔ ان میں کچھ کا تعلق مذہبی جذبے سے بھی تھا او رکچھ کاخالص قومی مزاج سے۔ لیکن آزادی کے بعد جب ملک نے آئین کو اپنا رہنمام بنایا تو ایک واضح اصول طے ہواکہ ریاست کسی مذہب یا عقیدے کو ترجیح نہیں دے گی۔ آئین ہند کا آرٹیکل 25/ ہرشہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے او رآرٹیکل 28/ واضح کرتاہے کہ کسی بھی سرکاری یا امداد یا فتہ تعلیمی ادارے میں کسی مذہبی عمل کو لازمی نہیں کیا جاسکتا۔یہی وہ آئینی بنیاد ہے جو ا س بحث کو محض جذباتی نہیں بلکہ قانونی بناتی ہے۔ تعلیمی اداروں کا مقصد طلبہ میں علم، اخلاق اور انسانیت کی تربیت کرنا ہے،نہ کہ انہیں کسی مخصوص نعرے کے دائرے میں قید کردینا ہے۔ اگر حب الوطنی کو الفاظ یا ترانوں تک محدود کردیا جائے تو پھر وہ جذبہ جو قربانی، ایثار اور خدمت کے عمل سے ظاہر ہوتاہے، محض رسمی تکرار بن کر رہ جائے گا۔ ایک طالب علم جو اپنے وطن کے لیے ایمانداری سے کام کرتاہے، سچ بولتاہے،قانون کا احترام کرتاہے اور دوسروں کے حقو ق کی حفاظت کرتاہے، وہ بلاشبہ اس شخص سے زیادہ حب وطن سے جو صرف زبان سے نعرے لگاتاہے مگر عمل میں اس کے خلاف جاتاہے۔ ملک کی روح اس کے تنوع میں پوشیدہ ہے۔یہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لو گ ایک ہی پرچم کے نیچے رہتے ہیں۔ یہی تنوع بھارت کی طاقت ہے۔اگر ہم ایک ایسی حب الوطنی کوفروغ دیں جو سب کے لیے یکساں احترام کی حامل ہوتو قومی اتحاد مضبوط ہوگا، لیکن اگر حب الوطنی کو کسی مخصوص اظہار یا عقیدے سے جوڑ دیا جائے تو یہ وحدت کی بجائے تفریق پیدا کرسکتی ہے۔ اس ملک میں کروڑوں ایسے شہری ہیں جن کے مذہبی عقائد میں کسی ترانے یا نعرے کے کچھ الفاظ سے اختلاف پایاجاتاہے۔ ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے مذہب یا ضمیر کے خلاف جاکر ان الفاظ کو دوہرائیں، آئینی مساوات او رمذہبی آزادی کی روح کے منافی ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قوم پرستی ایک فطری جذبہ ہے جو دل سے نکلتا ہے، حکم سے نہیں۔اسے کسی قانون، سرکلریا حکم نامے کے ذریعے پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ریاست اگر اپنے شہریوں سے محبت چاہتی ہے تو اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ انہیں انصاف، تعلیم، روزگار اورعزت دے۔ جو حکومت اپنے شہریوں کے خوابوں کی حفاظت کرتی ہے، اس سے زیادہ قوم پرست کوئی نہیں۔

آزادی کی جدوجہد میں مذہبی اداروں نے، خاص طور پر مدارس اور دینی مراکز نے،ملک کی فکری اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ ان اداروں ہمیشہ امن، بھائی چارے اور وفاداری کا درس دیا۔ ان کی تعلیمات میں وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔مگر یہ محبت عبادت کے کسی مخصوص انداز کی طرح نہیں بلکہ کردار کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔ دینی اداروں کے طلبہ نے کسی ملک کے خلاف بغاوت کاجھنڈا نہیں اٹھایا بلکہ ہر دور میں تعمیر ملت میں اپنا کردار ادا کیا۔ایسے اداروں کو شک وشبہ کی نظر سے دیکھنا یا ان کے احساسات کو نظراندازکرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ قومی یکجہتی کے منافی ہے۔وطن کے احترام کاجذبہ ہر شہری میں بیدار ہونا چاہئے، لیکن اس جذبے کو پیداکرنے کے لیے زبردستی یا لازمی شرائط نہیں بلکہ محبت، شعور اور مثال کی ضرورت ہے۔اگر کسی اسکول میں روز صبح طلبہ کو حب الوطنی کے عملی نمونے دکھائے جائیں، جیسے صفائی، شجرکاری، خدمت خلق یا بزرگوں کی مدد، تو یہ حقیقی وطن پرستی کی تربیت ہوگی۔لیکن اگر اس عمل کو محض ایک مخصوص نعرے تک محدود کردیا جائے تو یہ تربیت کی بجائے تقلید بن جائے گی۔ یہ ملک سب کا ہے اور سب کے جذبات کا احترام ہی اسے عظیم بناتا ہے۔

قومی ترانوں، نعروں اور علامتوں پرفخر ضرور ہوناچاہئے لیکن ان کی تشریح اس طرح کی جائے کہ کوئی طبقہ خود کو اجنبی محسوس نہ کرے۔ حب الوطنی کا جذبہ جتنا دلوں میں خود سے پیدا ہوگا،اتنا ہی پائیدار ہوگا۔ اگر یہ کسی قانون کے تحت پیدا کیا گیا تو اس کی جڑیں کمزور رہیں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں اپنے فیصلوں میں مشاورت او رافہام وتفہیم کاراستہ اپنائیں۔ دینی وتعلیمی اداروں کے ذمہ داران، سماجی ماہرین او رآئینی اسکالرز کے ساتھ بیٹھ کر اگر ایسے معاملات پر گفتگو کی جائے تو یقینی طور پر کوئی بھی فیصلہ زیادہ متوازن او ردیر پا ثابت ہوگا۔ ہم سب اس سرزمین کے بیٹے ہیں۔ اس مٹی سے ہماری وابستگی کسی ترانے یا لفظ کی مرہون منت نہیں، بلکہ اس محبت سیہے جو ہم اس کے لوگوں، اس کے جنگلوں، ندیوں اور تاریخ سے رکھتے ہیں۔یہی وہ احساس ہے جو حقیقی حب الوطنی کو جنم دیتاہے۔ لہٰذا ہم وطن پرستی کو کسی ایک لفظ یا نعرے کی قید سے نکال کرایک زندہ عمل بنائیں، ایسا عمل جو دلوں کو جوڑے، عقیدوں کو نہ توڑے او رجس میں ہر شہری کو اپنی آزادی کے ساتھ قوم کی خدمت کاموقع ملے۔

-------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/true-standard-patriotism/d/137621

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..