New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 07:17 PM

Urdu Section ( 18 Dec 2019, NewAgeIslam.Com)

Sufism and Amir Khusrau تصوف اور امیر خسرو


سید نجمی ظفر

15دسمبر،2019

اللہ رب العزت نے آدم کی تخلیق احسن ساخت پر کی اور اسے قوت نطق وشعور سے بہرہ مند فرماکر جسد خاکی کواشرف المخلوقات کے منصب پر فائز کردیا۔یوں تو آفرینش آدم سے قبل بھی ہے بے شمار فرشتے اللہ بزرگ و برتر کی تسبیح و تہلیل میں ہمہ وقت مشغول تھے، مگر حق تعالیٰ نے آدم کی تخلیق فرمائی اور وجہ آفرینش آدم محض ”عبادت“ بیان کیا۔ ہر چند کہ یہ ایک رمز کی بات ہے کہ وہ کون سی عبادت خداوندی قدوس کو مقصود تھی جو جملہ ملائک و فرشتوں کی جماعت سے ممکن نہ ہوسکی تو اہل دل و نظر کے نزدیک یہ بنی آدم کی قوت نطق وشعور ہے جس نے اس مٹی کے پتلے کے سجود و عبادت کو بارگاہ ایزدی میں عزیز تر بنا دیا۔ شاید اسی کواقبال  نے نگاہ آئینہ ساز میں شکستہ تر ہوکر عزیز تر ہوجانا کہا ہے اور ایک فارسی شاعر نے یہی نکتہ نظم کیا ہے۔

ہر کہ در سر محبت بندہ شد

تا ابد ھم محرم و ھم زندہ شد

ترجمہ: جو شخص اسرار محبت کا بندہ ہوگیا وہ ابدالآخر باد تک محرم راز او ر زندہ جاوید ہوگیا۔

حضرت شیخ شر الدین یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”اے بھائی بندہ ہونا کوئی معمولی بات نہیں، یہ بہت بڑا کام ہے سات ہزار سال تک وہ مرد و بارگاہ ایزدی میں بندگی کرتا رہا، لیکن ایک لمحہ کے لئے بندہ نہ ہوسکا۔ حقیقتاً بندہ وہی ہے جو اپنے اغراض و مقاصد سے پاک ہو اور اپنے نفس کی لذت سے آزاد ہوچکاہو۔“

پس معلوم ہوا کہ ترک لذات کے ساتھ ساتھ حرص و طمع سے نجات حاصل کرنا ہی عبدیت کا عروج او راس کی انتہا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اس پیکر خاکی میں روح پھونک کر اللہ تعالیٰ نے کائنات میں عبدو معبودکا ایک عظیم و متبرک رشتہ قائم کیا اور خیر وشر کے مابین کشمکش،وقت مقررہ تک کے لئے جاری کردیا۔ جہاں شرکو کھلی چھوٹ دے رکھی وہیں خیر کے لئے رشد، ہدایت کا رہتی دنیا تک سلسلہ قائم کردیا۔ نبیوں اور پیغمبروں کے ذریعہ دعوت دین کا کام خاتم الانبیا تک تو اتر کے ساتھ چلتا رہا اور اس کے بعد یہ عظیم دعوتی سلسلہ بہ سینہ او رنسل درنسل ولیوں، خدا رسیدہ بزرگوں اور صوفیوں کے ذریعہ آج تک قائم ہے اور ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایسے لوگوں کو بھیجنے کاسلسلہ جاری رکھا ہے کہ جن کے فیض سے دنیا والے بلا تفریق مذہب و ملت فیضیاب ہوتے ہیں۔ جہاں تک خدا شناسی اور عرفان و تصوف کی بات ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اسلامی تصوف کا آغاز فکر کے تین سر چشموں سے ہوا،پہلے سر چشمے سے تصوف کو جو خصوصیتیں ملی وہ خدا سے شدید محبت، اس کا شاعرانہ اظہار اور ہمہ وقت عبادت و ریاضت ہے۔ اس سرچشمے کے تعلق سے حضرت ابوذر غفاری، خلیفہ عمر بن عبدالعزیز،حضرت حسن بصری اور حضرت رابعہ بصری کے نام مشہور زمانہ ہیں۔دوسرے سرچشمے سے اسلامی تصوف کو خوصیتیں ملیں وہ علم و عرفان، روشنی اور تاریکی کے خیالات، روح سے محبت، مادے سے نفرت، مراقبے سے محبت اور عملی زندگی سے نفرت ہے۔ یہ ساری باتیں اسلامی تصوف میں دراصل یونانی اثرات سے پیدا ہوئیں، اس سلسلے کے مشہور بزرگ حضرت ذوالنون مصری کایہ نظریہ مشہور ہے کہ نیکی اور مراقبے کے ذریعہ روحانی طور پر خدا سے ملاپ ہو سکتا ہے۔ تیسرے سرچشمے سے اسلامی تصوف کو جو خصوصیات ملی وہ جسمانی نفس کشی، روحانی ارتقا، دنیا او رمعاشرے سے نفرت ہے۔ یہ عناصر ان صوفیوں کی بدولت آئے جو بودھ مت سے متاثر تھے۔ اس سلسلے کے ممتاز رہنماؤں میں حضرت ابراہیم ادھم اور حضرت بایزید بسطامی کے نام سے آتے ہیں۔ یہ تینوں سر چشمے جس ذات پر آکر ایک ہوجاتے ہیں اسے دنیا حضرت جنید بغدادی کے نام سے جانتی ہے۔ انہوں نے ان تینوں دھاروں کو اسلامی اور قرآنی اصطلاحوں کے مطابق ڈھالا۔ چشتیہ سلسلے کے ایک جانب ہندوستان میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی ہیں تو دوسری جانب بابا فریدالدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ۔ اسی طر ح سلطنت دہلی میں ایک جانب حضرت بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ آرام فرما ہیں تو دوسری طرف حضرت نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ آسودہ خاک ہیں جن کے فیض سے دنیا کے لاکھوں لوگ سرشار نظر آتے ہیں اور اسی مقام پر محبوب الہٰی کے سب سے عزیزمرید حضرت امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کی بھی تربیت موجود ہے۔

امیر خسرو کی زندگی اور کارناموں کے غایت مطالعہ سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ آپ جہاں زندگی کے مختلف شعبے میں سرگرم عمل رہے وہیں اپنے پیر و مرشد کی خلوت میں بھی مستعد رہے اور اپنی روحانی مدارج بھی طے کرتے رہے ہیں۔ گوانہوں نے کوئی ذاتی اجازت و خلافت کا سلسلہ قائم نہیں کیا، مگر ہندوستان اور برصغیر میں خانقاہ داری اور صوفی نظام کی بہترین طور پر نیابت وتفسیر ضرور فرمائی۔ سچ تو یہ ہے کہ آج بھی صدیوں کا عرصہ گذر جانے کے بعد اکثر عرس وسماع کی محفلوں کا آغاز امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کے عارفانہ کلام سے ہی ہوتا ہے اور اختتام بھی کلام خسرو ہی پر ہوا کرتا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل اور امیر خسرو کے شب وروز میں صوفی نظریات و افکار کی تحقیق کے لئے ہمیں اولاً نظریہ اسلامی کا ایک اجمالی مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ تصوف شریعت محمدی کا وہ جز ہے جس کاتعلق انسان کے اعمال باطنی سے ہوتا ہے۔ متاخرین کے نزدیک یہ طرز حیات اور نظام فکر تصوف گردانا گیا۔ یہ وہ فن و فکر ہے جس کے ذریعہ دلوں کی بیماریوں کاعلاج ہوتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر اس عمل کے ذریعے دل کی صحت و بیماری کا پتہ چلتا ہے اور پھر اس کا علاج کیا جاتاہے۔ اس کو حدیث شریف میں احسان کہا گیا اور قرآن میں لفظ تقویٰ کامفہوم اس کے قریب تر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ تقویٰ تودل کیفیت کا نام ہے جو مقصود فی الاعمال ہیں اور تصوف اس کی بلکہ تمام اخلاق حمیدہ کی اصلاح کرنے اور اس کے اضداد سے پرہیز کاعلم وفن ہے۔ حضرت عمربن عثمان مکی کا ارشاد ہے کہ: ”صوفی وہ ہے جو ہر وقت اسی کا ہو کر رہتا ہے جس کا وہ بندہ ہے۔“ حضرت ابوسعید ابولخیررحمۃ اللہ علیہ نے تصوف کی تعریف میں کہا ہے: ”تصوف یکسو نگر یستن ویکساں زیستن است۔“ سلوک کا لغوی معنی راستہ ہوتا ہے، مگر صو فیوں کی اصلاح میں سلوک ایک ایسا مخصوص طریقہ یاد الہٰی ہے جو بندے کو خدا سے مکمل محویت کے ساتھ مربوط کردیتا ہے۔ چونکہ حقیقت ابدی تک رسائی ہر کس وناکس کی بات نہیں، اس امر میں ہزاروں روحانی تجربات سے گزر نا پڑتا ہے، جس کیفیت کو صوفیوں کی اصطلاح میں مقامات سے گزرناکہتے ہیں۔ تصوف کی باتیں جب ہوتیں ہیں اور اس کی مختلف اصطلاحوں کا ذکر آتا ہے تو صوفیانہ نظریے کے تعلق سے ”وحدت شہود“ اور ”وحدت وجود“ کی گفتگو بھی بڑے زور شور کے ساتھ ہونے لگتی ہے۔ وحدت شہود کو ”ہمہ از اوست“ کانظریہ بھی کہا جاتاہے جس کامطلب یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز جو نظرآتی ہے وہ خدا کا سایہ ہے۔

درویشی کامقام حجابات ظاہری و باطنی کے واہونے کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے۔ ایک مرد حق حب راہ طریقت میں قدم رکھتا ہے تو کثرت وہ حدت کاجلوہ دیکھتا ہے اور کبھی وحدت میں کثرت او راس مقام پر پیر طریقت کا روحانی رہنمائی سالک کی منزلیں طے کراتی ہے اور وہ قوت بخشتی ہے جس کی طرف حضرت ابوسعید ابوالخیر رحمۃ اللہ علیہ نے اشارہ کیا ہے، یعنی یکسوئی سے دیکھنا اوریکسانیت کے ساتھ زندگی بسر کرنا۔ سماع،وجد، بیت، معرفت، حقیقت، نسبت، شیخ، مرید، سلسلہ، تلویں، تمکین، سیرالی اللہ، سیرنی اللہ، علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین، حیرت اور استعجاب، عرفان خودی، قرب، معیت، سوزش قلب، عشق الہٰی، فنافی الشیخ، استقامت، تسلیم و رضا،مجاہدہ و ریاضت، اخلاص عمل، مقام درویشی، اخفائے احوال وغیرہ ارکان و درجات اور اشغال راہ طریقت ہیں۔

مذکورہ نکات کی مزید تفسیر سے قطع نظر جب ہم تصوف کیا ہے اور تصوف سے حضرت امیر خسرو کا رشتہ کس طرح بنتا ہے او راپنے اثرات دکھاتا ہے؟جیسے سوالوں پر غور وفکر کرتے ہیں تو ہمیں معافی ومطالب کی ایک حیران کن دنیانظر آتی ہے اور اس کی شاید سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حضرت امیر خسرو عموماً جب بھی ہمارے سامنے آتے ہیں، ایک درباری شاعر کی خوبصورت ردا اوڑھے ہوئے آتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاں حضرت نظام الدین اولیا سے ارادت وعقیدت او ربے پناہ محبت نے تاریخی اورسوانحی لحاظ سے ان کی صوفیانہ شخصیت کومتحقق او رمبرہن کیا ہے وہیں درباروں نے انسلاک اور تاریخ ادب فارسی سے ان کے اٹوٹ رشتے نے اس پر ایک قسم کاپردہ بھی ڈال رکھا ہے جو تصوف اور امیر خسروکے رشتہ کی نوعیت سمجھنے او رسمجھانے میں بار بار محنت اوروقت نظر سے کام لینے کامطالبہ کرتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت امیر خسرو کو خانقاہوں سے زیادہ درباروں میں اور حالت خرقہ پوشی سے زیادہ چمکتے دمکتے قیمتی لباس میں دیکھتے ہیں اور صوفیانہ اور ادو وظائف کی بجائے ان سے منقول اشعار ہی عموماً ہم تک پہنچتے ہیں۔

حضرت امیر خسرو کی سوانح بتاتی ہے کہ وہ شاہی دربار سے انسلاک کی تقریباً چار دہائیاں گزارنے کے بعد، پچپن سال کی عمر میں بغرض ارادت حضرت خواجہ معین الدین اولیا کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے اور انہوں نے عام طریقے سے روایتی انداز میں اپنی عقیدت مندانہ خواہش کااظہار نہیں کیا تھا بلکہ اپنے رقعہ میں یہ لکھا تھا کہ کیا ایک ادنیٰ کبوتر عقاب بن سکتا ہے؟ یہ آپ بہتر طریقے سے روشن ہے، لہٰذا مجھے باریابی کااذن یا واپسی کاحکم مطلوب ہے۔ حضرت امیر خسرو نے اپنی زندگی کی پچپن بہاروں سے گزرنے او راس کی اڑتیس بہار یں شاہی دربار میں مختلف شاہی ادوار کے نشیب و فراز میں گزار لینے کے بعد یہ دیکھ لیا تھا او ریہ تجربہ انہیں مل گیا تھا کہ یہاں دہ ہستیاں نہیں ہیں جو ہمت و آرزو او رفطری و دیعت کے ظاہری اسباب رکھنے والے کردار کو پرواز اور عقابی نظر عطا کرسکیں،گویامادی و سائل کی بہتات او راس میں اضافہ کے امکانات کے باوجود،اس کی بے بسی کے تجرباتی احوال ان کے سامنے تھے اور وہ یہ سمجھ چکے تھے کہ ان کی تمنائیں کہا ں پوری ہوسکتی ہیں، ان میں اپنی صلاحیتوں کے تعلق سے نہ تو کچھ فضول سی انکساری تھی نہ ہی حد سے بڑھی ہوئی کچھ خوش فہمی، بلکہ وہ جس ”ادنیٰ‘‘ کیفیت میں تھے، اس کے اعتراف اور مقامات سلوک طے کرنے کی خواہش اور عزائم کے ساتھ انہوں نے خود کو محبوب الہٰی کے حضور میں جذبہ رضا ورغبت کے ساتھ پیش کردیا او رانہیں اذن باریابی نصیب ہوا، مگر غیر مشروط نہیں بلکہ بظاہرایک چھوٹی سی، مگرایک بہت بڑی بنیادی شرط کے ساتھ کہااگر آنے والاسچ جانتا ہے تو اندر، آجائے اور اگرضمیر کی آوازکو وہ نظر انداز کررہا ہے توباہر ہی لوٹ جائے۔ ایقان قلبی کے شعور کی پرکھ اور خود احتسابی کا قرار واقعی التزام،یہ پہلی ہدایت یا پہلی سوغات تھی جو ایوان تصوف سے حضرت امیر خسرو کو ملی اور اس آب احتساب سے مطہرہو کرانہوں نے اس دلی کی خانقاہ میں قدم رکھا جو بلا شبہ ”ادنی کبوتر“ کو”عقاب“ بنادینا جانتا تھا اور جس نے اپنی تربیت سے حضرت خسرو کو”ترک خدا“ بنا دیا۔اس سلسلے کی متنوع تفصیلوں سے کتابوں کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔ محبوب الہٰی حضرت نظام الدین اولیا کایہ ارشاد کہ: اے ترک! میں سب سے تنگ آجاتا ہوں، مگرتم سے کبھی تنگ نہیں ہوتا“۔ یہ بتا دیتا ہے کہ تصوف نے حضرت امیر خسرو کو قبول تربیت اور آداب خدمت کاکیسا مزاج و شعور عطا کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ آدمی کسی سے بھی،یہاں تک کہ کسی وقت اپنے آپ سے بھی اسی لئے تنگ وپریشان ہوتاہے کہ اس کی افادیت کچھ مشکوک اور اس کا مستقبل کچھ متزلزل محسوس ہونے لگتاہے، لیکن حضرت محبوب الہٰی کا یہ تاثر بتا رہا ہے کہ امیر خسرو نے انہیں اپنی صلاحیتوں سے کبھی بھی کسی امکانی شکایت کا موقع نہیں دیا۔ایک خطیر رقم دے کر پیر و مرشدکی نعلین حاصل کرلینے او راسے دستار میں سجا لینے کا واقعہ مشہور ہے،ہم اسے غایت عقیدت کااظہار او راس کا عملی مظاہرہ کہہ سکتے ہیں، مگر یہ بھی دیکھنے کی بات ہے کہ جب امیر خسروبہ آں حال حاضر خدمت ہوئے اور واقعہ بتایا تو حضرت نظام الدین اولیا نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ تمہاری انتہائی عقیدت و محبت ہے،بلکہ یہ فرمایا کہ یہ نعلین تمہیں بہت سستی مل گئی یعنی مادی دولت کے مقابلے میں روحانی نسبت وارادت کا سودا، یقینا بہت نفع بخش ہوتا ہے اور دراصل تصوف او رامیر خسرو کا رشتہ ان کے لئے ایسا ہی منفعت بخش ثابت ہوا۔ امیر خسروبے شک ایک سالک صادق تھے اور اپنے روحانی پیشواں حضرت محبوب الہٰی سے ان کی قربت ومحبت کایہ عالم تھا کہ پیر برحق کی حیات ظاہری کے واقعات تو الگ رہے، ان کے پردہ فرمانے کی ساعتوں کے حوالے سے بھی۔

گوری سووے سیج پہ مکھ پہ ڈارے کیس

چل بھئی خسرو سانجھ ہوئی چودیس

والے دوہے نے امیر خسرو کو دوامی شہرت بخش دی اور خانقاہوں کی دنیا میں بھی یہ دوہا سدا کے لئے عمر دوام پا گیا۔ حضرت امیر خسرو کی زندگی بتاتی ہے کہ تصوف سے ان کی باقاعدہ وابستگی کازمانہ محض دو دہائی کی مدت پر محیط ہے، مگر اس قلیل مدت نے ان کی زندگی،ان کی فکر او ران کی علمی و ادبی روش پر جو اثرات مرتب کئے ہیں وہ یقینا حیرت انگیز اور ناقابل فرامو ش ہیں۔تیرہویں صدی عیسوی کاآخری نصف حصہ اور چودھوی صدی ہجری کی پہلی دہائی کے کچھ سال امیر خسرو کے حصے میں رہے، مگر کس طرح؟ اس سوال کامختصر جواب یہی ہے کہ شخصی لحاظ سے دیکھیں توبدلتے بادشاہوں کے دربار میں وہ اپنا انسلاک درج کراتے رہے او رادبی وشعری لحاظ سے دیکھیں تو معلوم ہوتاہے کہ کبھی انہوں نے ملک چھجوکی مدح سرائی کی، کبھی ملک محمد قاآن کامرثیہ لکھا او رکبھی باپ بیٹے میں جنگ کی نوبت آتے آتے رہ گئی توسیاسی صلح کے اس واقعہ کو مثنوی کی شکل میں ڈھال دیا اور درباری مزاج و ماحول کے مطابق اسے ”قران السعدین“ کا نام دے دیا اور اگر بات اس سے آگے بڑھی توعہد خلجی کی فتوحات خامہ خسرو سے نظم ہوگئیں۔

تصوف نے بلاشبہ حضرت امیر خسرو کو اک جہاں نو سے آشناکیا اور اسے بھی ان کا تاریخی احسان او رکمال نظر کہا جائے گا کہ انہوں نے خانقاہوں کے لئے اپنی شاعری کے روپ میں وہ غنائیت بداماں تحائف  دیے کہ آج صدیوں بعدبھی اس سے استفادہ کا سلسلہ قائم ہے۔

15دسمبر،2019  بشکریہ:انقلاب،نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/syed-najmi-zafar/sufism-and-amir-khusrau--تصوف-اور-امیر-خسرو/d/120562

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..