New Age Islam
Mon Apr 19 2021, 06:43 PM

Urdu Section ( 15 Nov 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Threats To Religious Harmony And Their Solutions مذہبی ہم آہنگی کو درپیش خطرات اور ان کا حل


سید منیر حسین گیلانی

10 اکتوبر 2020

 پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کے خلاف لابی متحرک ہوچکی ہے۔اور حکمران سب اچھا ہے کی گردان کے نشے میں چور خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے اور اسے شدید بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اگر اسے نہ روکا گیا ملکی سلامتی اور مذہبی ہم آہنگی کے خلاف یہ انتہا ئی خطرناک ہے۔جو فضا اس وقت بنی ہوئی ہے، پاکستان کے عوام اس سے آنکھیں نہیں چرا سکتے۔اب تو یہ سب پر عیاں ہوچکا ہے کہ کچھ قوتیں یہاں پر مذہبی منافرت پھیلا کر قتل و غارت اور انارکی کی شکل پیدا کرکے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ حکومت بھی مذہبی کارڈ استعمال کرتی ہے۔ جب وزیر اعظم عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔تو سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ وہ مذہبی شخصیت ہیں اور نہ ہی مذہبی سوچ رکھتے ہیں مگر ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔جو کہ ان کی طرف سے مضحکہ خیز لگتی ہے کیونکہ ریاست مدینہ کے قیام کی ابتدا تو گھر سے ہوتی ہے۔

افسوس کہ ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت کے دوران مقدس شخصیات کی شان میں توہین ہورہی ہے۔مسلمہ اسلامی مکتب فکر کے خلاف تکفیر کے نعرے لگ رہے ہیں۔ یہ کوئی مناظرے کی بات نہیں ہے کہ کیا صحیح اور کیا غلط ہے؟ پہلے بھی دونوں مکاتب فکر کے درمیان طے ہوا کہ اپنے عقیدے پر عمل کرتے ہوئے اختلافی مسائل کو اچھالنے کی بجائے، مشترکات کو فروغ دیا جائے۔دونوں ایک دوسرے کے عقائد پر تنقید چھوڑ کر اعتدال کی راہ اختیار کریں۔ عقیدہ تو ہر کسی کے لئے محترم ہوتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے مذہبی پروگراموں کے سامعین اہل سنت ہوں یا اہل تشیع اتنے میچور نہیں ہیں۔محفلوں میں مذہب کی محبت میں آنے والوں کی علمی سطح بہت کم ہوتی ہے۔جبکہ مقررین اشتعال انگیز باتیں کرتے ہیں۔اپنے فرقے کو سچا اور باقیوں کو جھوٹا ثابت کرنے کی کو شش کرتے ہیں توسامعین کی طرف سے نعروں کی صورت میں داد وصول کرکے اور پیسے بٹور کر چلے جاتے ہیں، مگر دوسرے فرقے کی طرف سے اس کا شدید ردعمل آنا شروع ہوجاتا ہے۔اور اس علاقے میں کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔

میری گذارش یہ ہے کہ تمام طبقات تحمل کا مظاہرہ کریں۔ حکومت سے بھی التماس ہے کہ سوشل میڈیا پر مذہبی خرافات جو آنا شروع ہوگئی ہیں، انہیں بند کیا جائے۔ اگر بند نہیں کریں گے تو حالات انارکی کی طرف جائیں گے۔جنہیں سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔ اب توایک طبقے کے افراد کو نشانہ بناکر قتل کیا جارہا ہے۔ حالات پر قابو نہ پایا گیا تو مزید قتل کئے جانے کا خدشہ موجود ہے۔تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے،اگر یہی کشیدہ حالات جاری رہی تودوسرے طبقے کے لوگ بھی رد عمل میں یہی شروع کردیں گے یا قومی تنظیموں سے کچھ انتہا پسند افراد اٹھ کھڑے ہوں گے تو یہ ملک کے لئے انتہا ئی نقصان دہ ہوگا۔جیسا کہ 1990ء کی دہائی میں ہوتا رہا ہے اوراس دوران ہزاروں افراد دونوں ا طراف سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ان دنوں جبکہ ہندوستان کشمیر کے حوالے سے ایک نئی سوچ کو سامنے رکھ کر آگے بڑھ رہا ہے۔ اسی خطے میں لداخ کے حوالے سے چین اور بھارت کے درمیان جو آگ لگی ہوئی ہے، اس کی گرمی پاکستان میں بھی محسوس کی جارہی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔

فرقہ واریت کی نئی کشیدہ لہر کے تناظر میں مجھے حکومتی تیاری،پیش بندی اور بصیرت کہیں نظر نہیں آرہی۔میں حکومت کے ذمہ داران وزیر اعظم اور آرمی چیف سے ملتمس ہوں کہ اگر سیلاب،زلزلے اور کراچی میں بارش کے دوران ریلیف کے لئے فوج کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔پاکستان سے داعش اور طالبان کی دہشت گردی ختم کی جاسکتی ہے،تو فوج دونوں اطراف سے انتہا پسند عناصرکے خلاف اقدامات کیوں نہیں کرسکتی کہ فرقہ واریت کی بھڑکتی ہوئی آگ ٹھنڈی ہوجائے۔ یہ ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے اور یہ اقدامات ملکی بقا کے لئے بہت ضروری ہیں۔اور اگر جنرل قمر جاوید باجو ہ یہ اقدام نہ کرسکے تو ملک میں مذہبی سیاست تو درکنار پاکستان میں مذہب کا نام لینا بھی مشکل ہوجائے گا۔اس لئے آرمی چیف سے گذارش ہے کہ جس طریقے سے انہوں نے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بلوا کر کہا ہے کہ حکومت کو چلنے دیا جائے۔آرام سے بیٹھیں۔ اسی طریقے سے فرقہ پرست انتہا پسند جماعتوں کی لیڈرشپ کو بلو ا کربھی انہیں اعتدال پر رہنے کی تلقین کی جائے۔اور بیرونی فنڈنگ کو بند کروایا جائے۔

میں ملت جعفریہ کے نوجوانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ مشتعل ہونے کی بجائے، تدبرسے کام لیں۔سٹیج حسینی سے قرآن و حدیث اور سیرت معصومین کو فروغ دینے کی طرف توجہ دیں۔ غیر ذمہ دار اور فسادی مقررین کا بائیکاٹ کریں اور انہیں دعوت دینے والوں کو سمجھائیں کہ قومی مفاد اتفاق، امن اور علمی گفتگو میں ہے۔اسی طر ح سے علما ء کو بھی چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اور ملکی سلامتی کے لئے منڈلاتے خطرے کا احساس کریں اور اتحاد کی فضا پید ا کریں۔اس حوالے سے کوئی ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے اتحاد و وحدت کا تاثر مل سکے۔جیسے ملی یکجہتی کونسل میں شامل تمام جماعتیں مل بیٹھ کر اس حساس موضوع پر متفقہ موقف اختیار کریں۔ان حالات کو اور خطے میں موجود اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے گذارش کی جائے کہ خدارااس ملک کو بچالیں۔اگر کراچی کے اندر حالات خراب ہوئے ہیں تو وہ سب نے دیکھ لیا ہے کہ کس طرح سے ہوئے تھے؟  بلوچستان میں دہشت گردی کیسے ہوتی ہے  وہ بھی حکمران جانتے ہیں کہ کون ملوث ہوتا ہے؟اگر خیبر پختونخواہ میں حالات خراب رہے ہیں تو سب جانتے ہیں کہ کس طرح وہاں دہشت گردی ہوتی رہی ہے؟اور میں آخر میں کہنا چاہتا ہوں۔ اس لڑائی کو ختم کیا جائے۔تاکہ یہ دوطرفہ نہ بنے۔

10 اکتوبر 2020، بشکریہ:روزنامہ پاکستان

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/syed-munir-hussain-gilani/threats-to-religious-harmony-and-their-solutions-مذہبی-ہم-آہنگی-کو-درپیش-خطرات-اور-ان-کا-حل/d/123474


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..