New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 08:24 PM

Urdu Section ( 21 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Story of the Lady Teacher of Madrasa and Love Jihad میرٹھ مدرسہ کی استانی اور ‘ لو جہاد’ کی کہانی

 

 

 

 

سید منصور آغا

16 اکتوبر، 2014

ضلع میرٹھ کی تحصیل کھر کھودا کے ایک گاوؤں سراوا کاامن و سکون اوائل ماہ اگست اس وقت تباہ ہوگیا جب ایک مقامی  مدرسہ میں ہندی اورانگریزی  کی ایک غیر مسلم خاتون ٹیچر نےالزام لگایا کہ چند مقامی افراد نے اغوا کرلیا تھا ۔  پہلے ہاپوڑ کے ایک مدرسہ میں اس کی اجتماعی عصمت دری کی گئی ۔ دو دن بعد دوبارہ اغوا کر کے اس کو مظفر نگر لے گئے اور وہاں  بھی ایک مدرسہ میں اس کی اجتماعی آبروریزی کی گئی ۔ میرٹھ میں ایک مولوی نے اس مذہب تبدیل کرنے کے حلف نامہ پر جبری دستخط کرائے ۔ اس نے یہ بھی الزام لگا یا کہ مظفر نگر بھاگنے میں کامیاب ہوگئی، اور بھی کئی غیر مسلم خواتین اغوا کر کے جبراً رکھی گئی ہیں ۔

یہ لڑکی سراوا میں اپنے گھر سے پہلے 23 جولائی کو غائب ہوئی اور 27 کو واپس لوٹی ۔ پھر مبینہ  طور سے 29 کو غائب ہوئی اور تین روز بعد واپس آئی ۔ یہ سنسنی  خیز الزامات 5 اگست کو ایسے وقت  لگائے گئے جب کہ یوپی  میں ضمنی انتخابات سر تھے اور مودی جی کی بھاجپا فرقہ ورانہ بنیادوں پر سماج کو تقسیم کرنے کے لئے ‘ لوجہاد’  کاشور مچا رہی تھی ۔ ان الزامات  نے علاقے کی فضا کو مکدر کردیا ۔ مقامی میڈیا ، بھاجپا اور سنگھ پریوار کی تنظیموں نے اسکو ‘ لو جہاد’ کاایک اور واقعہ قرار دے کر فرقہ ورانہ منافرت کو ہوا دینے کی کوشش کی۔

اس لڑکی نے یہ الزام بھی لگایا کہ مظفر نگر میں اس کا جبری آپریشن کرایا گیا ۔ فسادی  ذہنیتوں  نے شور مچایا کہ اس کے اعضاء نکالے گئے ہیں ۔ لیکن  پولیس  چھان بین میں پتہ چلا کہ فتنہ  کی مرکز یہ لڑکی 23 جولائی کو خود میرٹھ میڈیکل کالج اسپتال گئی تھی ۔ اس ک ساتھ ایک مقامی  نوجوان کلیم تھا، جس کو اس نے اپنا شوہر لکھوایا۔ میڈیکل  رپورٹ کے مطابق  اس وقت وہ 45 دن سے زیادہ کی حاملہ تھی اور اس کا جنین رحم کے بجائے اس سے باہر ‘ فیلوپین ٹیوب’ میں پنپ رہا تھا ۔ یہ ایک خطرناک صورت ہوتی ہے ۔ چنانچہ اس کا آپریشن کیا گیا اور 27 کو اس کو چھٹی مل گئی اور وہ گھر آگئی ۔ گھر اس نے ایس ایم ایس سے یہ اطلاع دی تھی کہ وہ کالج کے ٹور پر جارہی ہے۔

5 اگست کو اس کے والد نے اغوا ور عصمت دری کی کہانی سنائی جس کی لڑکی نے بے حجابی سے تائید کی اور بیان درج کرایا ۔ بھاجپا کی پر شور مداخلت سے یہ معاملہ  سیاسی اور فرقہ ورانہ بن گیا ۔ اگر چہ اسپتال کی رپورٹ او رپولیس کی جانچ پڑتال سے تمام الزاموں کا بے بنیاد ہونا ظاہر تھا مگر بھاجپا کے دباؤ میں پولیس نے اس کے مبینہ  شوہر کلیم، لڑکی ایک مسلم دوست نشاط ، گاؤں کے باشندوں نواب، ثناء اللہ  ، ثمر جان اور سمیت دس، گیارہ افراد کو جیل میں ڈال دیا ۔ نشاط  کی والدہ وسیلہ  نے بتایا کہ مذکورہ لڑکی کے با پسندیدہ طور طریقوں کی وجہ اس نے اس کو چھ ماہ قبل ہی اسے گھر آنے سے روک دیا تھا ،  اسی لئے  اس نے نشاط کو بھی ساتھ  میں پھنسا لیا ۔

سرا وا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں تقریباً ایک سو گھر ہیں ۔ ساٹھ فیصد آبادی مسلم او رباقی غیر مسلم تیاگی رہتے ہیں ۔ ان کے درمیان  اس واقعہ  سے قبل کبھی کوئی فرقہ ورانہ کشیدگی یا شکایت  نہیں رہی ۔ یہی  وجہ تھی کہ ایک اردو میڈیم مکتب اور مدرسہ میں ایک غیر مسلم لڑکی کو بلا تکلف ٹیچر رکھ لیا گیا۔ اس واقعہ  سے قبل اس کے والدین نے بھی مدرس کے اساتذہ یا انتظامیہ کے بارے میں  کوئی شکایت نہیں کی۔ مگر یہ واقعہ پیش آتے ہی وہ بھی ‘ لوجہاد’  کی کہانی سنانے لگا اور اہل  مدرسہ کو مطعون کرنے لگا۔

اب یہ واقعہ ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا ہے۔ لڑکی اتوار، 12 اکتوبر کی رات سو ا تین بجے گھر سے نکلی ۔ ڈھائی تین گھنٹہ پیدل چل کر صبح سویرے  کلیم  کے گھر پہنچی  اور کہا کہ وہ کلیم سے نکاح کرنا چاہتی  ہے جو ابھی  جیل میں ہے۔ مگر  کلیم کی والدہ  نے اس کو وہاں ٹکنے نہیں دیا ۔ وہاں  سے ٹمپو پکڑ کر میرٹھ مہلا تھانے  پہنچی  اور ایک تحریر دی کہ اس نے سابق  میں زور زبردستی ، اغوا اور اجتماعی آبروریزی  کے جو الزامات گاؤں کی باشندوں او رمدرسہ  والوں پر لگائے تھے ، وہ دباؤ میں لگائے تھے  اور سب غلط تھے ۔ اس نے کہا  کہ اس جرم کے لئے بھاجپا کے ایک لیڈر ونیت اگرو ال نے  ، جو علاقہ کے ویاپار منڈل کے صدر بھی ہیں، اس کے والد کو 25 ہزار  روپیہ دئے تھے اور مزید رقم دیتے رہنے کا بھروسہ دلایا تھا ۔ لیکن یہ پیسہ  ملنابند ہوگیا ہے،  جس سے اس کے والد  اس سے سخت ناراض  ہیں ۔ چنانچہ گھر پر اب اس کی جان کو خطرہ ہے۔ اس لئے وہ اپنے یا کسی رشتہ دار کے گھر جانا نہیں چاہتی  اس پر پولیس نے اس کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اور اس کا بیان درج کیا گیا ۔ عدالت  کی ہدایت  پر اس کوناری نکیتن  بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس نےاس کی شکایت  پر گھر والوں  کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔

اس تفصیل سے پہلی ہی  نظر میں یہ ظاہر ہوگیا کہ ضمنی انتخابات سے قبل ریاست کی فرقہ  ورانہ  فضا کو مکدر کرنے کے لیے بھاجپا نے کیا کچھ حربے استعمال نہیں کئے ۔ اگر اس لڑکی کے بیان کےمطابق  اس کے گھر والوں کو اب بھی کچھ  پیسہ ملتا رہتا تو وہ خاموش رہتی ۔  وغیرہ ۔ اس واقعہ کی تفصیلات  او ربھی بہت کچھ ہیں  ۔ یہاں ان  سب کا بیان  مقصود نہیں ۔ بلکہ چند دیگر  پہلوؤں  پر غو ر کرنے کی دعوت دینا مطلوب ہے۔

سراوا کے جس مدرسہ یا مکتب میں وہ پڑھاتی تھی،  اس میں 205 سے زیادہ بچے  تھے ۔ تعلیم مفت ہے۔ اس بچوں کی تعداد تقریباً 50 رہ گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ لڑکی اسی گاؤں میں پیدا ہوئی ، وہیں پلی اور بڑھی ۔ وہ اگر اب جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہے،  تو جھوٹ بولنا لازماً اس کی عادت  میں شامل رہا ہوگا۔ منتظمین  مدرسہ نے اس کو ٹیچر رکھتے وقت اس کی اس انتہائی شنیع اخلاقی کمزوری پر، جو تمام عیبوں  کی جڑ ہے ، توجہ کیوں نہیں دی؟  کیا ان کی نظر میں بچوں کی تعلیم کے ساتھ  ان کی تربیت اہم نہیں ہوتی؟ اگر ہوتی ہے تو انہوں نے کیوں کمسن  طلباء کے لئے  ایسی کذب گو ٹیچر رکھ لی؟

دوسرا پہلو یہ ہے کہ منتظمین  نے اپنے مدرسہ میں ایک غیر شادی شدہ 19،20 سال کی لڑکی کی موجودگی  او رمرد عملے کےساتھ  اس کے بے حجابانہ او ر بے تکلف اختلاط  کو کیونکر  روا جانا اور قرآن کی ہدایت  وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَاإِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا ’( اور زنا کی پاس بھی نہ پھٹکو ، یہ کھلی  بے حیائی ہے او رنہایت بری راہ ہے: سورہ بنی اسرائیل :32) ان کی نظروں سے اوجھل کیوں ہوگئی؟

اہل مدارس سے معذرت کے ساتھ سوال ہے اگر دین کے ان ‘ قلعوں’ میں ہی دین کی بنیادوں کی مسماری ہورہی ہے ، تو اس کا ادبار  پوری قوم پر کیوں نازل  نہیں ہوگا؟  ایک نوجوان صحافی دوست نے جو ایک  مایہ ناز مدرسہ  کی پروڈکٹ ہیں، فیس بک پر میری  ایک پوسٹ پر بڑے ہی کرب کے ساتھ  لکھا ہے کہ مدارس  کی خدمات اپنی جگہ ، لیکن  اگر ان کے اندر کے ماحول پر سے پردہ اٹھا دیا جائے  تو اساتذہ اور طلبہ  کے ساتھ جبر و زیادتی اور بد خلقی   کا نہایت تکلیف دہ منظر نظر آئے گا۔ انہوں نے شکایت کی ہے کہ طلباء میں اغلام   بازی  کی وبا بھی عام ہے۔ ہمیں  عرض یہ کرنا ہے دین کے چھوٹے چھوٹے  اصولوں  سے ‘ وقتی  ضرورت ’ یا ‘ مصلحت ’ کے نام  پرہمارے اداروں اور گھروں میں انحراف  ہی بڑے  بڑے مسائل  پیدا کرتا ہے ۔ ہمارے  مدارس تعلیم  کے ساتھ اسلامی  اخلاقی تربیت کے بھی  مرکز ہونے چاہیں، مگر ایسا ہو نہیں  رہا ہے۔

جس ماحول میں ہم آج  گھرے ہوئے ہیں کہ زرا  زرا سی  بات  کو بہانا بنا کر پوری  ملت کو  مصیبت  میں مبتلا  کیا جاتا ہے،  یہ ضروری ہے کہ ہم خود محتاط  رہیں اور اپنے اخلاق، عادات و اطوار  کی اور اپنے اداروں  کی اس طرح حفاظت کریں جس طرح انکا حق  ہے۔

عقیدت کامعاملہ:

 سپریم کورٹ نے سائیں بابا  کے عقید تمندوں کی اس درخواست کی سماعت سے انکار  کردیا کہ سناتن مندروں سے سائیں بابا  کی مورتیاں  ہٹائے جانے سے روکا جائے ۔ سپریم کورٹ نے بجا طور پر کہا ہے کہ وہ عقیدت کی بنیاد پر دائر کسی  درخواست  کی سماعت  سے قاصر ہے۔ البتہ  سائیں بابا  کے عقیدت  مند چاہیں  تو اپنے حقوق  کے لئے سول کورٹ میں جائیں  اور پھر مناسب  طریقہ  پر سپریم کورٹ آئیں ۔ جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی والی بنچ  کا یہ فیصلہ اہم ہے۔ اگر کسی عبادت گاہ کے بارے میں  کوئی تنازعہ  کھڑا ہوتا ہے ، تو اس کا فیصلہ  کسی گروہ کی عقیدت کی بنیاد پر نہیں بلکہ  عبادت  گاہ کی ملکیت  اور اس کے حق  استعمال  کا فیصلہ سول قانون  کے مطابق ہونا چاہئے۔ بابری مسجد  کے تنازعہ میں مسلمانان  ہند کا موقف یہی ہے، جب کہ حزب مخالف ‘ آستھا’ کی دہائی  دیتا ہے اور قدیم عبادت  گاہ  کا فیصلہ عوام کی عقیدت مندی کی بنیاد پر چاہتا جس کو چند دہائیوں  کی مہم سے  لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کیا گیا ہے۔

کشمیر میں راحت رسانی:

 غیر معمولی  سیلاب سے تباہ حال کشمیر وادی میں مرکز کے وعدوں کے باوجود  راحت رسانی اور باز آباد کاری کا کام خاطر خواہ رفتار  سے نہیں ہورہا ہے حالانکہ  سردی شروع ہوگئی ہے۔ اب ریاست کے ‘ اقتصادی  تعمیر نو فورم’ ( Economic Reconstruction Forum) نے اس بات پر تشویش  کا اظہار کیا ہے کہ مرکزی حکومت مختلف بہانوں  سے بیرونی  اداروں کے امدادی  سامان  کی آمد میں رکاوٹ ڈال رہی ہے حالانکہ  اس طرح  کے حالات میں ورلڈ بنک ، ایشین ڈولپمنٹ بنک اور دیگر  این جی اوز  سے امداد کا قبول کیا جانا ایک عام بات ہے۔ مذکورہ فورم کے ایک رکن اشرف وانی  نے 13 اکتوبر کو سرینگر  میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ‘ بیرونی امداد اس لیے نہیں آنے دی جارہی ہے کہ یہ ایک  ‘کنفلکٹ زون’ ( متنازعہ خطہ) ہے او رمسلم اکثریتی  علاقہ ہے’۔

اصولی بات یہ ہے کہ ہندوستان اس خطے کو متنازعہ  خطہ تسلیم ہی نہیں کرتا،  خصوصاً  مرکز کی موجودہ حکمران پارٹی تو طوطے کی طرح  ‘ اٹوٹ انگ، اٹوٹ انگ’ کانعرہ بلند کرتی  رہی ہے ۔ ایسی صورت میں اگر ‘ کنفلکٹ زون’ کے بہانے کشمیر یوں  کی امداد کو روکا جاتا ہے تو یہ بھاجپا  کے کھاتے میں قول و فعل  کے تضاد کی ایک اور شق کا اضافہ ہوگا۔ کشمیری  عوام سے کسی بھی بہانے کوئی تعصب ہر گز جائز نہیں اور اس کے خلاف پورے ملک کے انصاف پسند عوام کو آواز اٹھانی چاہئے  تاکہ کشمیری  عوام خود کو پورے ملک سےالگ  تھلگ محسوس  نہ کریں ۔ ہمیں افسوس  ہے مرکزی  حکومت  نے روز اوّل  سے کشمیریوں کے ساتھ غیر منصفانہ پالیسی  اختیار کی ہے۔  ان میں اگر علیحدگی  پسندی کا رجحان  ہے تو اس کے ہمارے  کشمیری بھائی نہیں ہمارے  قومی سیاستداں زیادہ ذمہ دار ہیں ۔

نوبل انعام

امن کا نوبیل انعام اس بار پاکستان کی لڑکی ملالہ یوسف زئی اور ہندوستان کے کیلاش ستیار تھی کو دیا گیا ہے۔ افسوس  کی بات یہ ہے کہ ملالہ یوسف زئی  جلاوطنی  کی زندگی گزار نے پرمجبور ہیں۔ اس انعام  سے پہلے  مسٹر ستیارتھی  کا نام بھی کم ہی لوگ  جانتے تھے ۔ ان دونوں کو حقوق اطفال  اور تعلیم نسواں   کے لئے  ان کی خدمات کے اعتراف میں منتخب  کیا گیا ہے ۔  ہم ان دونوں کو مبارکباد  پیش کرتے ہیں ۔بچوں کی بہبود اور تعلیم میں ہر شخص کو ہاتھ  بٹانا چاہئے۔  ہر چند کہ انعام  دینے والے  کچھ زیادہ  صاف نیت نہیں  ، لیکن  اس طرح  کے انعامات کا افادی  پہلو  یہ ہے کہ توجہ ان اہم شعبوں  کی طرف جاتی جن کو عموماً  نظر انداز  کردیا جاتا ہے ۔

دو اہم شخصیات کی وفات:

ابھی چند روز قبل  معروف صحافی  قربان علی  کے والد ماجد  ، مثالی ہندوستانی ، ممتاز مجاہد آزادی  کپٹن عباس  علی کا علی گڑھ  میں انتقال ہوا۔ وہ 95 برس کے تھے ۔ کل لکھنؤ سے ممتاز صحافی نافع قدوائی کے صاحبزادے نے ان کے انتقال  کی اطلاع دی۔ نافع قدوائی صاحب عرصہ سے شدید علیل  تھے ۔ اس کے باوجود  ان کا قلم تھما نہیں تھا ۔ گاہے فون  پر بھی یاد کرلیتے تھے ۔ عمر تقریباً ساٹھ سال تھی ۔ ہم ملت  کی ان دونوں  اہم ہستیوں کی وفات پر پوری ملت سے اور ان کے اہل خاندان  سے تعزیت  کرتے ہیں ۔ نافع صاحب کی مزاج پرسی  کے لیے ایک مرتبہ  ان کےدولت خانہ لکھنؤ جانا ہوا اور ان کی بے انتہا تواضع  ہمیشہ  کے لئے دل پر نقش ہوگئی ۔ اللہ ان دونوں کی مغفرت فرمائے ۔ آمین ۔

16 اکتوبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ جدید خبر، نئی دہلی 

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/syed-mansoor-agha/story-of-the-lady-teacher-of-madrasa-and-love-jihad--میرٹھ-مدرسہ-کی-استانی-اور-‘-لو-جہاد’-کی-کہانی/d/99651

 

Loading..

Loading..