New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 01:53 PM

Urdu Section ( 15 Feb 2018, NewAgeIslam.Com)

Babri Masjid Dispute: Read the Writing on the Wall! !بابری مسجد تنازعہ: نوشتہ دیوار بھی پڑھ لیجئے

 

 

 

 

 

سید منصور آغا

15فروری، 2018

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس حیدرآباد(9تا11فروری) کے دوران جو خبریں آتی رہیں اور سوشل میڈیا فیس بک وغیرہ پر جس طرح کی بحثیں چلیں، ان سے طبعیت سخت مکدرہوئی۔ افسوس کہ جن حضرات سے بردباری، دانائی اور اخلاقی رہنمائی کی توقع کی جاتی ہے ، انہوں نے اپنے رویہ سے سخت مایوس کیا۔ہم اس کے کے لئے ’’قابل مذمت‘‘ کی اصطلاح تواس لئے استعمال نہیں کریں گے کہ ہمارے نبی ﷺنے اہل علم کا بڑادرجہ بتایا اوران کا احترام کرنے کی تلقین فرمائی۔ یہ کیسا کربناک منظر ہے کہ جن کی عمرقرآن،حدیث اورفقہ کو پڑھنے پڑھانے میں گزری وہ اسلامی اخلاق سے عاری باہم دست بہ گریباں نظرآئے؟اختلاف ایک فطری امر ہے۔ لیکن اس کے اظہار کے شائستہ طریقے بھی ہیں جن کو نظرانداز کردیا گیا۔اس کا اثریہ ہوا کہ نیچے تک بدزبانی اوربدکلامی کا دور چل پڑا۔اکرام مسلم کو بالائے طاق رکھ کر لوگ ذاتیات پر اترآئے۔ مولوی سلمان کے مخالفین نے ان پر نازیبا تبصرے کئے۔ ان کے طرفداربھی پیچھے نہیں رہے۔ ایک نے توان کے خلاف رائے رکھنے والوں کو کتا اوربلی تک کہہ دیا۔ اللہ ہمارے اخلاق واطوار کی تطہیر فرمائے۔

جب بورڈ کے جلسے کی ویڈیو سامنے آئی تو سورہ جمعہ کی آیت 5اچانک یادآگئی، جس میں فرمایا گیا ہے: ’’جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا اور پھر انہوں نے اسے نہیں اٹھایا، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو ( زبان سے یا عمل سے) جھٹلایا۔اوراللہ ظالم لوگوں کوہدایت نہیں دیتا۔‘‘اس آیت میں قرآن ہمیں سابق قوم کی کہانی نہیں سنارہا بلکہ یہ ہمارے لئے نصیحت ہے۔لیکن ان تفصیلات کو دیکھ کرلگتا ہے گویاہم نے یہ آیت کریمہ پڑھی ہی نہیں۔ ایک دوسری جگہ فرمایا، ’’اور تیرے ربّ نے حکم دیا کہ تم صرف اس کی ہی عبادت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو۔ اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی اُف نہ کہو (یعنی ‘ہوں ‘بھی مت کرنا) اورنہ ہی ان کوجھڑکنا اور ان سے خوب اَدب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت و محبت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا ‘‘ (بنی اسرائیل: 42)۔

اس آیت کے ساتھ رسول للہ ﷺنے ہمیں یہ سلیقہ بھی سکھایاہے کہ دادا،دادی، نانا، نانی اور والدین کے ہم رتبہ خاندانی رشتہ داروں ،ضعیفوں اور بزرگوں اوراپنے استادوں کا احترام بھی اسی طرح کرو۔ جلسے میں کئی بزرگ شخصیات موجود تھیں۔صدارت محترم مولانا رابع حسنی ندوی فرما رہے تھے۔ ان کی موجودگی میں تلخ کلامی، ترشروئی اور ان کی اجازت کے بغیرسخت لب لہجہ میں مداخلت ! افسوس صدافسوس۔ اور ٹوپی،شیروانی والے باریش اہل علم کا حال پتلون بشرٹ والوں سے مختلف نہیں تھا۔ دعوٰی علمیت وفضیلت کااوررویہ نادانوں جیسا؟ پھرجلسہ عام میں مولوی سلمان کے بائیکاٹ کی اپیل نہایت نامناسب حرکت ہے۔اپنی صفوں میں انتشار کو ہوا دو اورملت سے اپیل کرو کہ متحد ہوجاؤ؟ اتحاد کا پہلا اصول اختلا ف کو برداشت کرنا اوربرسرعام اظہار اوربرا بھلا کہنے سے سختی سے بچنا ہے۔سلمان صاحب کے انداز تکلم سے کون واقف نہیں؟ابھی کچھ عرصہ قبل انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے ایک بڑے عالم کے خلاف جو ہرزہ سرائی کی تھی وہ ندوہ کے کسی استاد کی شایان شان ہرگز نہیں تھی۔ حیرت ہے کہ انہوں نے مولانا علی میاں ؒ اورمولانا رابع حسنی جیسے بزرگوں سے کیا سیکھا، جو کمال علم وفضل کے باوجود منکسرالمزاجی اورنرم گفتاری کی مثال ہیں۔ تدبیر اورتدبر کاتقاضا یہ تھا کہ کھلے اجلاس کے بجائے ایسے شعلہ صفت رکن سے جناب صدر چند سینئرذمہ داران کی موجودگی میں بند کمرے میں بات کر لیتے۔ سلمان صاحب کو بھی چاہئے تھا کہ اپنی سرگرمیوں سے صدرمحترم اور کلیدی ذمہ داروں کو باخبررکھتے۔لیکن غالباً ایسا ہوا نہیں۔ چندماہ قبل انہوں نے جو خطوط لکھے تھے یاجو پیغام ویب سائٹ پر ڈالا تھا ان کے سلسلے میں ذاتی ملاقاتیں کرتے۔

بورڈ کا موقف

اس مسئلہ پر بورڈ نے جو موقف اخیتارکررکھاہے، وہ صحیح ہے یا غلط، اگرکسی رکن کے ذہن میں کوئی الگ تجویز ہے، اوروہ چاہتا ہے کہ بورڈ اپنے قدیم موقف کو تبدیل کرلے تواس کا طریقہ وہ نہیں تھا جو سلمان صاحب نے اختیارکیا۔ اجلاس کے دوران جب ان سے وضاحت کرنے کے لئے کہا گیا تواپنی روداد بیان کرنے بجائے ان کی دلچسپی بورڈ کے ایک دوسرے ذمہ دار کے بعض بیانات کے بخئے ادھیڑنے میں نظرآئی جس پرشوراٹھا۔ اچھا یہ ہوتا وہ سری سری روی سے ملنے بنگلور جانے سے پہلے ہی صدرمحترم کو اعتماد میں لیتے۔ یہ نہیں ہوسکا تھا تو واپس آتے ہی ان کوتفصیل سے باخبرکرنا ان پرلازم تھا۔ اپنی رائے پر دیگرذمہ داران کوبھی غوروفکرپرآمادہ کرلیتے تو شایدکچھ بات بن جاتی ۔ یہ بات توکسی کی سمجھ میں آہی نہیں سکتی کہ کسی رکن کے کہنے سے اوروہ بھی بھونڈے طریقے سے بورڈ اپنا موقف بدل لے گا۔ آخر ملت کا سامنا بھی تو ان کو کرنا ہے جس کے ذہنوں میں ایک بات جمادی گئی ہے ۔ لیکن ہم ادب کے ساتھ یہ عرض کردیں کہ سادہ لوح لوگوں کا جو جم غفیر جمع ہوجاتا ہے وہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ آپ کا ہی موقف درست،مفید اورقابل عمل ہے۔ ایک شخص نے پھوہڑپن سے سہی جو بات کہی ہے اس کو ہلکے میں ٹلا دیناکہاں کی دوراندیشی ہے؟ تدبر کا تقاضا یہ ہے کہ مولوی سلمان کی تجویز کے نفع ونقصان کے ہرپہلو پر غوروفکر کرنے کے بعد قبول یا رد کا فیصلہ کیا جاتا۔مسئلہ زیرغورصرف ایک عبادت گاہ کی زمین کی ملکیت کا ہی نہیں ۔اس سے ملک و ملت کے وسیع ترمفادات وابستہ ہیں۔اس لئے تنگ دلی نہیں کشادہ ذہنی کے ساتھ عزم وحوصلہ درکار ہے۔ بورڈ اس سے پہلے بھی بیرون عدالت مفاہمت کی تجاویز کو مسترد کرتا رہا ہے۔ اس بار توتجویز کنندہ ہی سنجیدگی اوربردباری کے جامے سے باہرآگیا، توبیل منڈھے کیسے چڑھے؟

مستقبل کا منظرنامہ

اب زرا اس کیس کے متوقعہ منظرنامے پر بھی غورکیجئے۔ بورڈ نے اپنے موقف میں کہا ہے:’’ یہ مسجد ہے اورجس جگہ ایک دفعہ مسجد قائم ہوگئی وہ قیامت تک مسجد رہتی ہے۔‘‘ لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ خود رسول اللہ ﷺنے مدینہ میں ایک مسجد (ضرار)کوگروادیا تھاجس سے شر کا اندیشہ تھا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈکا دوسرا کہنایہ ہے کہ ہمیں عدالت کا فیصلہ منظورہوگا۔یہ قطعی فضول بات ہے۔فیصلہ خلاف آگیا تو کیا کر لوگے؟ اگرکوئی یہ تصورکرتا ہے کہ مقدمہ کا فیصلہ مسلم فریق کے حق میں ہوگیاتو مسجدبحال ہوجائے گی ،تو وہ احمقوں کی دنیا میں رہتا ہے۔ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں کہ عدالتی حکم پر عمل نہیں ہوا۔ہم اپنی بے تدبیریوں سے اچھی بھلی مسجد کو توبچا نہیں سکے ، وہاں سے مندرہٹاکرمسجد کیونکر بنالیں گے؟

دوسرا نکتہ یہ بھی ہے کہ فیصلہ حق میں آگیا تو آراضی پر سنی سنٹرل وقف بورڈکااختیار ہوگا۔ پرسنل لاء بورڈ کا کوئی کنٹرول نہیں ہوگا۔ سرکارکے لئے اپنی پسند کے چیرمین اورممبران وقف بورڈ میں بٹھاکر مندرکے لئے زمین حاصل کرلینا کیا دشوارہوگا؟ عدالت کا فیصلہ اگر لوک سبھا چناؤ سے پہلے آگیا توایک کھلا امکان یہ ہے کہ مودی سرکار آنا فاناً زمین کو مندر کے لئے حاصل کرنے کا بل لے آئے گی۔ کوئی اپوزیشن اس کی مخالفت نہیں کریگی اوروہی ہوگا جا انیمی پراپرٹی ایکٹ کے معاملے میں ہوا۔ تصورکیجئے اس صورت میں ملک کے ماحول اور سیاسی صورت حال کا؟عام مسلمانوں کے لئے جینا کتنا دوبھرہوگا؟

ایک صورت عافیت کی یہ ہوسکتی ہے کہ عدالت میں زمین کی ملکیت پر اپنا حق ثابت ہوتے ہی بورڈ اس اعلان پر آمادہ رہے کہ ہمارا حق ثابت ہوگیا۔ اب ملک میں امن اوربھائی چارے کے لئے اس جگہ سے دستبردار ہوتے ہیں۔مولوی سلمان اس کے لئے بورڈ کو آمادہ کرنے میں رول ادا کر سکتے تھے، مگرانہوں نے الٹے کانٹے بکھیردئے۔ ان کو یہ بات سمجھ لینی تھی کہ اب جب کہ عدالت میں سماعت شروع ہوچکی ہے ،جو مہم انہوں نے سری سری روی کے ساتھ مل کر چھیڑی ہے ،وہ لاحاصل ہے۔اس طرح کے معاملات میڈیا کی نظروں کے سامنے طے نہیں ہوا کرتے۔بورڈ کو بھی چاہئے کہ بہترامکان کا جائزہ لینے کے چندافراد کی ایک کمیٹی بناکر اگلا قدم طے کرنے کا اختیار دیدے۔

بیرون عدالت حل

مسئلہ کو بیرون عدالت طے کرنے کا ایک موقع گزشتہ سال 21مارچ کوآیا تھا جب سابق چیف جسٹس جے ایس کھہرنے ثالثی کی پیش کش کی تھی ۔ اس سے پہلے ایک موقعہ باجپئی جی کے دور حکومت میں آیا تھا۔ جون 2003میں کانچی کے شنکرآچاریہ کے توسط سے یہ پیش کش آئی تھی کہ اگراجودھیا کی آراضی مندرکے لئے دان کردی جائے تومحکمہ آثار قدیمہ کے تحت بند پڑی ایک ہزار سے زیادہ مسجدوں کو نماز کے لئے کھو ل دیا جائے گا۔ مسلم نوجوانوں کوسرکاری ملازمتوں میں9؍ فیصد ریزرویشن دیدیا جائے گا۔ کاشی اور متھرا کی عبادت گاہوں پر سے مطالبہ ہٹا لیا جائیگاوغیرہ۔دو صفحات پر مشتمل یہ تجاویز 21؍جون2003 کو مسلم پرسنل بورڈ کودی گئی تھیں،لیکن ان کونہ تو مسلم فریق نے قبول کیا اور نہ وی ایچ پی نے ۔ (ہندستان ٹائمز22؍ جون2003)۔ وی ایچ پی کا مستردکرنا توان کی طویل مدتی پالیسی کے تحت تھا،ہم نے اگرسیاسی پہلوؤں کوپیش نظررکھا ہوتا تو اس کو قبول کرلینا اورایک ہزارمساجد کو کھلوالینا بہرحال بہتر ہوتا۔

فساد کا اندیشہ

اس تنازعہ میں یہ بات صاف نظرآتی ہے کہ اگرفیصلہ مسلم فریق کے حق میں ہو ا تو پورے ملک میں فرقہ پرست عناصر جو طوفان اٹھائیں گے وہ مابعد مسجد انہدام 1992 اورگجرات 2002سے زیادہ بھیانک ہوگا۔ ہمارا حکمت عملی اس اندیشہ کو ذہن میں رکھ کر طے ہونی چاہئے۔ اصول پراڑنے سے زیادہ دور اندیشانہ سیاسی حکمت عملی وقت کا تقاضا ہے۔ہمارے موقف میں یہ لحاظ رکھا جانا بھی ضروری ہے کہ غیرجانب دار ہندستانیوں کی ہمدردی ہمیں حاصل ہو اورخیرسگالی کاماحول پیداہو۔اس وقت ماحول یہ ہے کہ جس طرح اپوزیشن کی عیارانہ تائید سے’اینمی پراپرٹی ایکٹ‘ منظور ہوگیا، راجیہ سبھا میں اس کی مخالفت کرنے کے بجائے اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا، اسی طرح ’رام مندر ‘ کا بھی قانون پاس ہوجائے گا اورکوئی اس کی مخالفت کی ہمت نہیں کریگا۔کسی کو اصول اتناعزیز نہیں جتناالیکشن میں اکثریتی فرقہ کاووٹ۔لیکن غالباً بورڈ نے اپنی حکمت عملی میں ان پہلوؤں کی رعایت نہیں رکھی۔ نتیجہ وہی ہوگا جو تین طلاق مقدمہ کا ہوا۔اگربورڈکے ضدی رہنما اپنے اعتدال پسندارکان کی رائے کو قبول کرلیتے توشاید نہ وہ فیصلہ آتا جو عدالت سے آیا اورنہ پارلیمنٹ میں طلاق بل آتا۔

15فروری، 2018 ،بشکریہ : روز نامہ میرا وطن

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/syed-mansoor-agha/babri-masjid-dispute--read-the-writing-on-the-wall!-!بابری-مسجد-تنازعہ--نوشتہ-دیوار-بھی-پڑھ-لیجئے/d/114295

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..