New Age Islam
Tue Jan 18 2022, 10:53 AM

Urdu Section ( 11 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Modern Literature Includes and Can Include literary colours Part-1 جدید ادب میں بہت سے ادبی رنگ شامل ہیں اورہوسکتے ہیں

سید احتشام حسین

حصہ اوّل

9 جنوری،2022

محترمی! وقت کی کمی ہے او رآپ کا اصرار، اپنے خیالات مختصراً پیش کرتا ہوں۔

آپ نے جو عنوان دیا ہے اس کا تقریباً اہم ٹکڑا (جدید ادب، تنہا آدمی، نئے معاشرے کا ویرانہ) بہت بحث طلب ہے۔ جب تک ان الفاظ کے واقعی حدود کا تعین نہ ہو یا کم سے کم ان کے مفہوم پر ایک حد تک اتفاق رائے نہ ہوجائے، غلط فہمیاں پیدا ہوں گی اور ہر اظہار خیال نئی بحثوں کا دروازہ کھولے گا جو کچھ اس قسم کی ہوں گی کہ فلاں نے جدید ادب میں جدید کا مطلب ہی نہیں سمجھا،فلاں نے تنہا کا بہت محدود یا لغوی مفہوم لیا ہے، علامتی کو پیش نظر رکھنا چاہئے تھا، فلاں نے معاشرے کو خواہ مخواہ ملکوں میں محدود کردیا۔ فلاں نے ویرانے کے خوبصورت لفظ کے ساتھ انصاف نہیں کیا شاید انہوں نے ویسٹ لینڈ کا نام ہی نہیں سنا ہے۔ اس لئے شروع ہی میں مختلف پہلوؤں پر غور کرلینا چاہئے۔

جدید ادب سے آپ کون سا ادب مراد لیتے ہیں؟ ہندوستان میں اردو کا جدید ادب یا عالمی ادب کا وہ حصہ جسے جدید کہہ سکتے ہیں کہیں کا جدید بہت پہلے شروع ہوچکا اور کسی کا اب آغاز ہورہا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بہت سے لکھنے والے 1950 ء کے پہلے کے ادب کو جدید کہنا پسند نہیں کرتے۔ بہت سے بیسویں صدی کو جدید کہتے ہیں، کچھ پہلی جنگ عظیم کے بعد والے ادب کو جدید کہنے پر مصر ہیں، کچھ تقسیم ہند ہی کو جدید کے لئے وقت کا خط تقسیم قرار دیتے ہیں، کچھ ایٹمی عہد کو، بعض خلائی سفر والے زمانے کو، بعض حضرات گزشتہ ؤں بارہ سال کے اندر لکھی ہوئی تحریروں کو جدید مانتے ہیں، کچھ لوگ سو سال پہلے کے خیالات کو اپنے موافق پاکر جدید میں شمار کر لیتے ہیں او رچند ایسے بھی ہیں جو جدید ادب کی تاریخ وہی مانتے ہیں جس سے انہوں نے لکھنا شروع کیا ہے۔

ان میں سے بعض معیار عالمی ہیں، بعض ہندوستانی۔ میں اسے سمجھتا ہوں کہ ادب کی دنیا میں لین دین جلد جلد ہوتاہے، لیکن اگر ادیب او رشاعر کے واقعی تجربے کو بھی ضروری قرار دیا جائے تو یقینا ہمارے ہندوستانی ادیب بعض باتوں میں پچھڑے ہوئے نظر آئیں گے۔ ایک بات او رہے، کچھ لوگ جدید کو وقت او رزمانے کے پیمانے سے ناپتے ہیں، کچھ مزاج اور احساس کی کیفیاتی کسو ٹی پر کستے ہیں۔ اسے آپ بھی تسلیم کریں گے کہ احساس کی کسو ٹی تاثراتی اور داخلی ہے اور ہر فرد کو اپنی انفرادیت پر اتنا اصرار ہوسکتاہے کہ ہم اسے کسی قسم کے جمالیاتی، عقلی، اخلاقی اور فکری ماحول کی حدوں میں لاہی نہ سکیں۔ ایسی صورت میں جدید کا مفہوم ہی بے معنی ہوجائے گا۔ اگر رہے گا بھی تو اسے جدید کیا، زمان و مکان کے ہر اصول سے ماورا ماننا پڑے گا۔ جدید کو محض زمانے سے وابستہ کرنے میں یہ دھوکہ چھپا ہوا ہے کہ ہر شخص جو کچھ سال پہلے پیدا ہوا ہے، اور جس نے بیسویں صدی کی چند علمی اور سیاسی اصطلاحیں اور رائج الو قت فقرے استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، وہ جدید ہو نے کا مدعی بن سکتا ہے۔

آپ یہ بھی دیکھ رہے ہوں گے کہ گزشتہ چند برسوں میں کچھ ادیبوں اور خاص کر شاعروں نے جدید ادب کو بہت ہی محدود معنی میں استعمال کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ادب کی کوئی ایسی قسم یا صنف ہے جسے نہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے او رنہ اسے سمجھنا چاہئے، اس کے سمجھنے میں آج تک ادب کے پرکھنے کے جتنے طریقے استعمال کئے گئے ہیں وہ کام نہیں آسکتے۔اسی وجہ سے کوئی نقاد اس کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتا۔ اور شاید کر بھی نہیں سکتا۔ اگر وہ تین برس کی مختلف تحریریں یکجا کردی جائیں تو نئی شاعری کی نہ جانے کتنی اوربعض اوقات متضاد تعبیریں ملیں گی۔ ایسے میں جدید ادب کہہ کر کیا مرادلینا چاہئے، یہ غور طلب ہے۔ اگر آج کے تمام انسان جدید ہیں تو پھر اختلاف کیوں ہے او راگر سب جدید نہیں ہیں تو غالباً ہمیں شعور کی مختلف سطحوں کی جانچ پڑتال کرنا ہوگی اور جدید اورغیر جدید کے درمیان خط امتیاز کھینچنا ہوگا۔ یہی طریقہ ہمیشہ رہا ہے اور شاید رہے گا۔

ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ جدید ادب میں بہت سے ادبی رنگ شامل ہیں او رہوسکتے ہیں۔ ادیب اور شاعر اپنے شعور کے مطابق اپنی انفرادیت سے کام لیتے اور اپنے موضوع کا انتخاب کرتے ہیں۔ نہ تو موضوعات آسمان سے اترتے ہیں او رنہ اسلوب اور اس کا نیا پن، ہر ادیب اکثر جان بوجھ کر او رکبھی نیم شعوری طور پر انہیں اختیار کرتاہے۔ یہی اختیار ہے جسے ہم ادیب کی آزادی کہہ سکتے ہیں اور اس آزادی کے استعمال سے ان کے انفرادی اور سماجی شعور کا پتا چلتا ہے۔ بیسویں صدی کے نصف ہی میں نہیں، آج اگست 1948 ء میں بھی مختلف الخیال شاعر اور ادیب ایک ہی سماج میں یکجا ہوسکتے ہیں۔ زندگی کے متعلق ان کے مطمح نظر مختلف ہوسکتے ہیں، ان کے جمالیاتی احساسات مختلف ہوسکتے ہیں، ان کے نظریہ فن مختلف ہوسکتے ہیں اس لئے جدید ادب کے دائرے کو خاصا وسیع رکھنا ہوگا۔ جب انفرادی طور پر ادیبوں اور شاعروں کے نظریہ فکر و فن کے جانچنے کا وقت آئے گا تو ان کی گروہ بندی ہوسکے گی، ان کی انفرادیت اور جدت کو پرکھا جاسکے گا اور ان کی تخلیقات کے مواد اور اسلوب کے نئے پن کے متعلق رائے قائم کرنا ممکن ہوگا۔ اس وقت محض جدید کے کہنے سے کام نہیں چلے گا۔ اس کی کئی سطحیں ہوں گی۔

”تنہا آدمی“ بھی کوئی واضح طو ر نہیں پیش کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے وجود محض کے اعتبار سے تو ضرور تنہا ہے لیکن کسی گروہ، سماج، خاندان، مذہبی عقیدے، طبقے، علاقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے تنہا نہیں بھی ہے۔ اگر ایسا ہے تو برے بھلے وہ انہی علایق کی مدد سے پہچانا جائے گا او رمخصوص مواقع پر مخصوص روابط کے دائرے میں گنا جائے گا۔ اپنے احساس او رشعور کے اعتبار سے ہر شخص کسی قدر منفرد اور تنہا ہوسکتا ہے۔ کچھ اشخاص ایسے بھی ہوسکتے ہیں جن پر تنہائی کا احساس ایک بیماری کے رو پ میں مسلط ہوجائے۔ کچھ اپنے مزاج کے اعتبار سے تنہا ئی پسند ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو کبھی خلوت پسند کرتے ہیں۔ کبھی جلوت۔اپنے بعض کاموں کے لئے تنہائی چاہتے ہیں بعض کے لئے مجلس۔ ایسا بھی ہوتاہے کہ اپنی نفسیاتی کیفیت کے تحت ایک شخص ہجوم سے گھبرا کر تنہائی میں سکون حاصل کرتا ہے او رپھر تنہائی سے گھبرا کر محفلوں او ربازاروں میں نکل جاتاہے۔ تنہائی عام انسان کی مستقبل کیفیت نہیں ہے۔ ایسے لوگ جو عوام سے خودکو تنہا پاتے ہیں او رنفسیاتی طور پر اسے اپنی برتری قرار دیتے ہیں۔

تنہائی کا احساس، جیسا کہ کہہ چکاہوں، کوئی نئی چیز نہیں۔ اس کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں اور یہ ساری صو رتیں خارجی حالات کی تابع ہوں گی۔ بعض انفرادیت پسند اور وجودی فلسفیوں نے اس کو انسان کی تقدیر قرار دیا ہے۔ یورپ او رامریکہ کے بعض مفکروں نے اس خیال کو عام کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ ہر گز نہیں بھولنا چاہئے کہ ان میں سے اکثر وہی عیسائی مفکر ہیں جو انسان کے اولین گناہ کے احساس کو ہر انسان پر مستولی کرنا چاہتے ہیں۔یہی ان کے انتشار طبع، فکر مندی، احساس پشیمانی، تنہائی اور قنوطیت کا خالق ہے۔ اس کو ایک طرح کا فلسفیانہ لباس پہنا کر محض ماہرین تحلیل نفسی نے عام سماجی زبوں حالی، صنعتی ترقی، شہروں کی ہماہمی، سائنسی ارتقا اور حاکمانہ اقتدار کے سامنے فرد کی بے بسی اور بے چارگی سے وابستہ کردیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہی فرد کی قسمت ہے لیکن تاریخ اور روز مرہ کے واقعات اس کی نفی کرتے ہیں۔

یوں بھی انسان کا تنہا، بے بسی، بے حقیقت، بے یارومددگار ہونا ایک بات ہے اور احساس تنہائی دوسری بات۔ جب سماجی حالات فرد کو بے بس اور مجبور کردیتے ہیں، اس وقت اس کے لئے دو راستے رہ جاتے ہیں گھٹنا، کڑھنا، مایوسی کا شکار ہوکر خود کشی کرنا یا موت کا انتظار کرنا۔ دوسرا راستہ اس حالت کو بدلنے کے لئے جدوجہد کا ہے۔ پہلے طرز عمل کی حمایت رجعت پسند مفکروں کی طرف سے ہوتی ہے، جو طرح طرح سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جدوجہد کے بعد بھی کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اسی فلسفے کی مدد سے تقدیر پرستی، انسانی قوت کی بے حقیقیتی اور عمل سے گریز کی تعلیم دی جاتی ہے۔ دوسرے قسم کے فلسفیوں نے فرد کی بے بسی، تنہائی، کمزوری اور پستی کو سماجی حالات کا نتیجہ بتا کر اپنی تقدیر کو بدلنے کی راہیں بھی بتاتی ہیں اور تاریخ اس کی گواہ ہے کہ ہر انتشار اور بحران کی صورت میں ہمیشہ یہی دوسرا راستہ عام انسانوں کا راستہ رہا ہے۔ اس لئے فرد کی تنہائی کے مسئلے پر غور کرتے ہوئے ان حقائق کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔

اگر اس بات کو تسلیم بھی کرلیا جائے کہ کچھ افراد تنہا ہیں اور ان کی تنہائی ادب کا موضوع بن سکتی ہے تو پھر وہ انسان بھی شعر و ادب کا موضوع کیوں نہ بنیں اور وہ لوگ بھی شعر کیوں نہ لکھیں جو تنہائی کے شکار یا شاکی نہیں ہیں۔ دنیا کے ہر قدیم وجدید اعلیٰ ادب میں تنہائی کے موضوع پر کچھ اچھی چیزیں مل جائیں گی، لیکن ان کے مقابلے میں انسان کی سماجی حیثیت، فرد کی عملیت پسندی، تقدیر سازی او رجہد حیات کے مسائل سے بھی ادب بھرا پڑاہے او رکمتردرجے کا نہیں ہے۔جس نے تاریخ کا تھوڑا بہت بھی مطالعہ کیاہے وہ بڑی آسانی سے سمجھ لے گا کہ چند خاص ملکوں کے فلسفی او رمفکر، شاعر اور ادیب انسان کی تنہائی کے مبلغ کیوں ہیں۔

تنہائی کا موضوع اگر فرد کے عارضی احساس سے متعلق ہوتو شاید ہی کوئی شاعر ایسا ملے جس کے یہاں کسی نہ کسی شکل میں اس کی ترجمانی نہ پائی جاتی ہو لیکن یہ ایک مختصر دور ہوتا ہے جس سے شاعر باہر بھی نکل آتاہے اوردنیا کی نیز نگیوں کو سمجھنے یا ان سے لطف حاصل کرنے کا تجربہ کرتاہے۔علم او رمشاہدے کی مدد سے دوسروں کے تجربے بھی اس کے کام آتے ہیں۔ اس طرح تنہائی کا طلسم بار بار ٹوٹتا ہے اور زندگی کا  بڑا حصہ سماجی بنارہتاہے۔ اگر اس سلسلے میں اپنا ذکر معیوب نہ ہوتو چند لفظوں میں اپنے خیال کی وضاحت کرناچاہتا ہوں۔

میں طبعاً کم آمیز اور تنہائی پسند ہوں، بچپن میں یہ پہلو اتنانمایاں تھا کہ بزرگ اور دوست اس پر ٹوکا کرتے اورطنز اً فلسفی کہتے تھے۔ کبھی کبھی تو بھری محفل میں تنہائی کا احساس اتنا شدید ہوتاتھا کہ شرمندگی کامنہ دیکھنا پڑتا تھا۔ آہستہ آہستہ زندگی کے جھمیلوں، مطالعے، مشاہدے اور ہندوستان کی تحریک آزادی سے ذہنی دلچسپی نے اسے کم کیا۔ 1936 ء کی بات ہے، الہٰ آباد یونیورسٹی میں ایم۔ اے کاطالب علم تھا۔ ان دنوں یہاں ہر سال سودیشی نمائش ہوا کرتی تھی، جو ہفتوں چلتی اور مختلف حیثیتوں سے دوستوں کی گفتگو کا موضوع بنی رہتی۔اس زمانے میں وہاں جانابہت بڑی تفریح سمجھا جاتاتھا۔ کبھی کبھی میں بھی جاتا تھا۔ ایک رات وہاں پہنچا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں بالکل اجنبی ہوں اور تنہا، میرا کوئی نہیں۔ نہ جانے کتنے چکر لگا ڈالے، یہاں تک کہ تھک گیا۔ اتفاق سے نہ کوئی دوست ملا نہ ساتھی، نہ یہ محسوس ہوا کہ ایک تفریح گاہ میں ہوں۔ کبھی کبھی شعر کہہ لیتا تھا، اس رات ایک نظم ہوئی جس کا عنوان تھا ”احساس تنہائی“۔ شعبہئ اردو کے رسالہ نیساں میں یہ اب بھی دیکھی جاسکتی ہے۔(جاری)

9 جنوری،2022، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/modern-literature-literary-colours-part-1/d/126134

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..